20/09/2026
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی اضلاع خیبر پختونخواہ بشمول شمالی و جنوبی وزیرستان اور ملحقہ علاقے پنجاب (سرائیکی بیلٹ) کی علمی، تحقیقی اور تہذیبی شناخت کا ایک اہم مرکز ہے۔ 1974 میں قائم ہونیوالا یہ عظیم تعلیمی اور تحقیقی ادارہ آج نہ صرف ہزاروں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کر رہا ہے بلکہ خطے میں جدید تحقیق، زراعت، فارمیسی، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر کئ شعبوں میں دہائیوں سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسوقت یہ ادارہ 8 فیکلٹیز اور 70 سے زائد پروگرامز کیساتھ وسیع تعلیمی خدمات کا مرکز ہے۔
مجھ سمیت ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، لکیمروت، بنوں اور پنجاب کے ملحقہ علاقوں کے لاکھوں لوگوں کے بچوں کیلیئے جامعہ گومل کی خدمات کسی نعمت سے کم نہیں۔
جون 2026 میں حکومت خیبر پختونخواہ نے چند فرضی الزامات کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ سے میرٹ پر تعینات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کو 90 دن کیلیئے جبری رخصت پر بھیج دیا تھا
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کے دور میں گومل یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر الحاق شدہ کالجز کے 514 جعلی ڈگریوں اور بعض مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ مذید تحقیقات اور فارنزک آڈٹ کی تیاری کر رہی تھی کہ اس دوران اچانک وائس چانسلر کو جبری رخصت پر گھر روانہ کر دیا گیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ جب یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے بڑے سکینڈل کی تحقیقات جاری تھیں تو پھر اس عمل کو ہر صورت شفاف اور آزادانہ طریقے سے نتیجہ خیز کیوں نہیں بننے دیا گیا؟
اسی تناظر میں میں نے، ڈیرہ اسماعیل خان کی سول سوسائٹی، یونیورسٹی ملازمین، اساتذہ اور ریٹائرڈ پنشنرز نے بارہا Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa جناب Muhammad Sohail Afridi، وزیرِ تعلیم Meena Khan Afridi اور Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa شہاب علی شاہ سے گومل یونیورسٹی کے حوالے سے پالیسی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ دامان وسیب کی نمائیندگی کرتے ہوئے میں نے بار ہا یہ مطالبہ کیا کہ ہماری یونیورسٹی میں غیر ضروری انتظامی مداخلت اس ادارے کی خودمختاری اور ساکھ کیلیئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے، گومل یونیورسٹی کا مالی اور انتظامی بحران ایک مرتبہ پھر طلبہ، اساتذہ، ملازمین اور پنشنرز تک پہنچ چکا ہے۔ ستمبر 2026 میں ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ تنخواہ اور پنشن کیلیئے اگر ملازمین کو احتجاج کرنا پڑ رہا ہے تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ Imran Khan کا نظریہ اور ہماری ترجیحات کہاں کھڑی ہیں۔۔۔؟
میرا مطالبہ کسی فرد کو بچانا یا کسی فرد کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں۔ میرا موقف صاف اور واضح ہے کہ گومل یونیورسٹی کے معاملات میں دوٹوک پالیسی اختیار کیجائے۔ جہاں بدعنوانی یا بے ضابطگی ثابت ہو وہاں بلاامتیاز کارروائی کیجائے اور جہاں کوئی شخص بے قصور ہو وہاں اسے غیر ضروری طور پر متنازع نہ بنایا جائے۔
گومل یونیورسٹی کو مالی اور انتظامی بحران سے نکالنے کیلیئے حکومت خیبر پختونخوا، Higher Education Archives & Libraries Department Khyber Pakhtunkhwa، یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ، ملازمین، طلبہ، پنشنرز اور منتخب نمائندوں کو ایک مشترکہ لائحۂ عمل بنانا ہوگا۔ جنوبی اضلاع کے اس تاریخی اثاثے کو مذید سیاسی تجربات سے بچانا ہماری اجتماعی زمہ داری ہے۔
میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیرِ تعلیم، چیف سیکرٹری، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ گومل یونیورسٹی کے تمام معاملات کو ترجیحی بنیادوں اور میرٹ پر دیکھا جائے، ادارے کے مستقل وائس چانسلر کو فوری طور پر بحال کیا جائے، ملازمین اور پنشنرز کے واجبات فوری پر ادا کیئے جائیں اور یونیورسٹی کے مستقبل کیلیئے ایک واضح اور طویل المدتی مالی و انتظامی منصوبہ مرتب کیا جائے۔
داور خان کنڈی MNA
Pakistan Tehreek-e-Insaf