Sheikh Badin National Park Khyber Pakhtunkhwa

Sheikh Badin National Park Khyber Pakhtunkhwa

Share

This is The Official Page Of Sheikh Badin National Park You Find Our Officials Pages @Sheikhbadinkpk

This Is Official Page Of Sheikh Badin National Park in Our Area. The Purpose Of Creating This Platform is The Main Problems Of Our Area And Tourists Get Real Info. Used Only This Hashtage # #Sheikhbadinkpk
We Have No More Social Media Account Other Then This Social Media Platforms
SHEIKH BADIN NATIONAL PARK
Official Social Media Platform's
FACEBOOK
https://www.facebook.com/Sheikhbadinkpk/
TWITT

21/03/2026

شیخ بدین نیشنل پارک کی طرف سے آپ سب کو عید الفطر 1447 ہجری دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو!

اس دن رحمت، شکر اور محبت کا پیغام عام کریں۔
🌙 عید مبارک ✨
الحمدللّٰہ! رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں اپنے اختتام کو پہنچیں اور اپنے ساتھ رحمتوں، مغفرت اور بے شمار دعائیں چھوڑ گئیں۔ آج یکم شوال 1447 ہجری کی یہ خوشگوار صبح ہم سب کے لیے عید الفطر کی مسرتیں لے کر آئی ہے۔ یہ ایک ایسا دن ہے جو شکر، محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔

شیخ بدین نیشنل پارک کی دلکش وادیوں، سرسبز پہاڑوں، ٹھنڈی ہواؤں اور قدرتی حسن کے درمیان یہ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللّٰہ تعالٰی کی ہر نعمت ایک امانت ہے۔ اس خوبصورت علاقے کی حفاظت، صفائی اور بہتری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس حسن سے لطف اندوز ہو سکیں۔

اس بابرکت دن کا پیغام یہ ہے کہ ہم اللّٰہ تعالٰی کا شکر ادا کریں، دلوں میں محبت، اخوت اور معافی کو جگہ دیں، اپنی خوشیوں میں ضرورت مندوں کو شامل کریں اور اپنے ماحول کا خاص خیال رکھیں

آئیں اس عید پر ہمارے ساتھ عہد کریں کہ ہم اپنے پیارے شیخ بدین نیشنل پارک کو صاف، محفوظ اور ایک مثالی سیاحتی مقام بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، جہاں حسنِ فطرت کے ساتھ ساتھ ہماری مہمان نوازی بھی پہچان بنے۔
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی ہماری عبادات اور روزے قبول فرمائے، ہماری دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے، اور ہمارے ملک پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین 🤲

19/03/2026

السلام و علیکم آج ہم شیخ بدین نیشنل پارک میں حکومت کے نامکمل منصوبوں اور نظراندازی کی تکلیف دہ داستان سناتے ہیں۔

شیخ بدین نیشنل پارک خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کا واحد اور نہایت اہم سیاحتی مقام ہے، جو اپنی قدرتی خوبصورتی، خوشگوار موسم اور تاریخی اہمیت کے باعث ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود یہ علاقہ طویل عرصے سے حکومتی عدم توجہی، نامکمل ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی حقوق دینے میں سست روی کا شکار ہے۔
حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے 2020–2021 میں شیخ بدین کو سیاحتی مرکز بنانے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت پنیالہ اور پیزو سائیڈ سے شیخ بدین تک سڑکوں کی تعمیر شامل تھی، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 30 کلومیٹر اور لاگت تقریباً 3.4 ارب روپے بتائی گئی۔ اس منصوبے کو سی پیک (CPEC) سے بھی منسلک کیا گیا، جس کا مقصد نہ صرف سیاحت کو فروغ دینا تھا بلکہ علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور وہاں تک مقامی لوگوں اور سیاحوں کی رسائی کو بہتر بنانا بھی تھا۔ ابتدائی طور پر عوام کو امید دلائی گئی کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔ 2021 میں متعدد بار کہا گیا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور یہ سڑک موٹر وے سے بھی منسلک ہوگی۔
تاہم، زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا اور اب کام رکا ہوا ہے۔ اس صورتحال نے مقامی افراد اور عوام میں شدید مایوسی اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
مسلسل تاخیر، کام کا رک جانا اور منصوبوں کا ادھورا رہ جانا انتظامی ناکامی (Governance Failure) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے فنڈز کی عدم دستیابی، کمزور نگرانی، ترجیحات کا فقدان، اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث منصوبوں کا متاثر ہونا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ شیخ بدین کے ساتھ ایسا ہوا ہو۔ ماضی میں بھی کئی منصوبے شروع کیے گئے مگر وہ مکمل نہ ہو سکے۔
یاد دہانی کیلئے پہلا مثال 2005 میں ترقیاتی منصوبہ منظور ہوا تھا جس میں (سڑک، پانی، بجلی اور ریسٹ ہاؤس) کی بحالی شامل تھی، مگر یہ منصوبہ مکمل ترقی میں تبدیل نہ ہو سکا۔
دوسری مثال 2001 کا پیزو بارانی ڈیم جو کئی سالوں تک تاخیر کا شکار رہا اور بارہا رکاوٹوں کا سامنا کرتا رہا۔ اخر کار سال 2022 تک پیزو بارانی ڈیم جزوی طور پر تو مکمل ضرور ہوا اور اس کے کچھ آثار بھی نظر آتے ہیں۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی بھی حکومت کے توجہ کا منتظر ہے۔
تیسری مثال 2020 کا ایکو ٹورزم منصوبہ کا اعلان کیا گیا۔ جس میں کیمپنگ پوڈز، پانی اور سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا، مگر اب ٹورزم کیمپ اپنے کیمپنگ پوڈز کے ذریعے سروس دے رہی ہے لیکن باقی سہولیات کا آج تک مکمل انفراسٹرکچر کہیں نظر نہیں آتا۔

ان تمام مثالوں سے ایک واضح پیغام سامنے آتا ہے کہ منصوبے تو بنتے ہیں، فنڈز بھی مختص کیے جاتے ہیں، مگر منصوبے تکمیل تک نہیں پہنچ پاتے۔ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
کیا یہ منصوبہ بھی دیگر منصوبوں کی طرح ادھورا چھوڑ دیا گیا؟
کیا فنڈز کی کمی یا کرپشن اس کی وجہ بنی؟
یا پھر جنوبی اضلاع کے واحد پُرفضا مقام کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا؟
یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ جہاں خیبرپختونخوا کے شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام مکمل کیے جا رہے ہیں، وہیں جنوبی اضلاع، خصوصاً شیخ بدین جیسے اہم مقام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
شیخ بدین نہ صرف ایک قدرتی سیاحتی مقام ہے بلکہ یہ علاقے کی معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار پیدا کرنے اور ملک میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مگر بنیادی سہولیات کی کمی اور نامکمل منصوبے اس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

لہٰذا ہم حکومت پاکستان اور بالخصوص حکومت خیبرپختونخوا سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ
شیخ بدین نیشنل پارک کے تمام زیر التواء منصوبوں کا فوری جائزہ لیا جائے
پنیالہ اور پیزو روڈ منصوبے پر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر دوبارا سے کام شروع کیا جائے
مختص شدہ فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے
جنوبی اضلاع کو بھی ترقی اور سیاحت کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں
اور مکمل رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے

یہ صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ اس علاقے کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ اگر حکومت واقعی سیاحت کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو شیخ بدین جیسے قیمتی اثاثے کو نظر انداز کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔
آئیے مل کر آواز اٹھائیں اور پوسٹ کو جتنا ہو سکے سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ شیخ بدین نیشنل پارک کو اس کے بنیادی حقوق مل سکے۔

14/03/2026

الحمدللّٰہ شیخ بدین نیشنل پارک میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا 🔥
شیخ بدین نیشنل پارک میں لگنے والی آگ پر ڈی ایف او ڈیرہ اسماعیل خان جناب خان ملوک خان اور نیشنل پارک کے ڈی ایف او جناب نعمت اللّٰہ کی ہدایات پر محکمہ وائلڈ لائف کے عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مکمل قابو پا لیا۔
ہم محکمہ وائلڈ لائف کے تمام افسران اور اہلکاروں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے فوری اقدام کرکے قیمتی جنگلات، جنگلی حیات اور اس خوبصورت قدرتی ورثے کو بڑے نقصان سے بچایا۔
آپ کی محنت اور فرض شناسی قابلِ تحسین ہے
شیخ بدین ہمارا فخر ہے۔ اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

14/03/2026

ایمرجنسی اطلاع دی جاتی ہے شیخ بدین نیشنل پارک میں کسی نے آگ لگائی ہے۔🔥
آپ یہ دیکھ سکتے ہیں تصویر میں نشان زدہ مقامات (1) اور (2) جہاں پر اگ لگی ہے۔
یہ آگ اگر بروقت نہ بجھائی گئی تو آگ مزید پیل سکتی ہے اور قیمتی جنگلات، جنگلی حیات اور پورے علاقے کے قدرتی حسن کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
متعلقہ اداروں (فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ، وائلڈ لائف اور ضلعی انتظامیہ) سے فوری کارروائی کی اپیل ہے۔

شیخ بدین ہمارا فخر اور قدرتی ورثہ ہے — اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے

11/03/2026

السلام و علیکم تمام معزز دوستوں امید ہے کہ آپ سب ٹھیک ہونگے۔ آج ہم شیخ بدین نیشنل پارک میں موجود زندگی کے بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی پر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ بدین کے عوام کو بنیادی حقوق دیں۔
شیخ بدین نیشنل پارک خیبرپختونخوا کا ایک تاریخی، قدرتی اور سیاحتی لحاظ سے نہایت ہی اہم پہاڑی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ قدرتی حسن، ٹھنڈے موسم، جنگلی حیات اور خوبصورت مناظر کی وجہ سے ہمیشہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی اہمیت رکھنے کے باوجود آج بھی شیخ بدین نیشنل پارک اور یہاں کے مقامی باشندے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مقامی آبادی اور یہاں پر آنے والے سیاح دونوں کئی بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جن پر فوری توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔

سب سے پہلے جو سنگین مسئلہ ہے وہ صحت کی سہولیات کی عدم موجودگی ہے۔ صحت کی سہولیات کا مکمل فقدان ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ حکومتِ خیبرپختونخوا اور متعلقہ اداروں کی توجہ اس طرف فوری طور پر مبذول کروانا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ شیخ بدین نیشنل پارک جیسے دور افتادہ پہاڑی علاقے میں آج تک ایک مناسب سرکاری ڈسپنسری یا بنیادی صحت مرکز قائم نہیں کیا گیا۔ اگر کسی مقامی شخص یا سیاح کو اچانک طبی مسئلہ پیش آ جائے تو انہیں دور دراز علاقوں تک کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے۔ جو کہ ہنگامی صورتحال میں کسی بھی وقت انسانی جانوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
لہٰذا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ شیخ بدین نیشنل پارک میں فوری طور پر ایک سرکاری ڈسپنسری یا بنیادی صحت مرکز قائم کیا جائے۔ جہاں پر بنیادی طبی سہولیات، ادویات اور تربیت یافتہ طبی عملہ موجود ہو۔ تاکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں کو بروقت طبی سہولت فراہم ہو سکے۔

اس کے بعد جو سب سے اہم مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ آج کل کے جدید دور میں بھی شیخ بدین نیشنل پارک کے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو صاف پینے کا پانی میسر نہیں۔ یہ مسئلہ بہت سنگین ہے۔ آج بھی مقامی لوگ پرانے زمانے کے روایت کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بنائے گئے زیر زمین بڑے تالابوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں
اگرچہ ہمیں بارش کے پانی کے استعمال سے کوئی اعتراض اور کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن اس جدید دور میں حکومت کو چاہیے کہ یہاں ایک بڑا جدید فلٹریشن پلانٹ نصب کرے۔ کیونکہ ان بارشوں کے پانی کو بغیر فلٹریشن کے پینا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ ایک نیشنل پارک ہونے کے باوجود یہاں کے عوام اور آنے والے سیاحوں کو بھی صاف پینے کا پانی میسر نہیں۔

اس کے بعد ایک اور اہم مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ ماضی میں علاقے کے امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے حکومت نے پولیس چوکی قائم کی تھی، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر چند سال بعد وہ پولیس چوکی ختم کر دی گئی۔ مقامی لوگ حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ شیخ بدین نیشنل پارک میں فوری طور پر پولیس چوکی کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ یا غیر قانونی سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ کیونکہ پہاڑی اور دور افتادہ علاقے میں پولیس کی موجودگی نہایت ضروری ہوتی ہے۔ تاکہ علاقے میں قانون و نظم برقرار رہے۔

اسی طرح روڈ کا سنگین مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔ شیخ بدین نیشنل پارک تک پہنچنے والی سڑک موجود ہے۔ لیکن کچی حالت میں ہے اور انتہائی خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ پختہ سڑک کا ہونا سیاحت اور مقامی لوگوں کی زندگی کیلئے انتہائی اہم ہے، اس کے علاوہ بدقسمتی یہ ہے کہ سالہا سال سے شیخ بدین نیشنل پارک میں منصوبے تو شروع کیے جاتے ہیں، فنڈز بھی منظور ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ آج تک کوئی بڑا سرکاری منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔ کبھی فنڈز میں بدعنوانی کی شکایات سامنے آتی ہیں، کبھی منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں اور کبھی کام ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں منظور ہونے والا روڈ کا منصوبہ بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اس سڑک کی دیکھ بھال کے لیے بیداران (نگہبان) بھرتی کیے گئے ہیں، مگر مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 20 سالوں سے ان کارکنوں کو کسی نے علاقے میں موجود سڑک پر کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ گھروں میں بیٹھ کر حرام کی تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس صورتحال سے بے خبر یا خاموش نظر آتے ہیں۔
جب بھی یہ روڈ خراب یا بند ہو جاتا ہے تو ڈرائیور حضرات اور مقامی لوگ چندہ اکٹھا کرکے اپنی مدد آپ کے تحت روڈ کو قابلِ استعمال بناتے ہوئے عوام کیلئے آمدروفت کھول لیتے ہیں تاکہ آمدورفت جاری رہ سکے۔ یہ صورتحال حکومت کی کارکردگی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر سنگین سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ شیخ بدین نیشنل پارک کی سڑک کو مکمل طور پر تعمیر اور پختہ کیا جائے تاکہ سیاحوں اور مقامی لوگوں کو آسانی ہو۔

اسی طرح بجلی کا مسئلہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ حکومت نے کھمبے اور بجلی کی لائنیں تو لگا دی ہیں، مگر بجلی کی آمد و رفت انتہائی غیر یقینی اور کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ اکثر اوقات بجلی کئی گھنٹوں یا دنوں تک بند رہتی ہے۔ کچھ دن پہلے چند شرپسند عناصر یا منشیات کے عادی افراد نے بجلی کی لائنوں کو کاٹ کر نقصان پہنچایا، اور تاریں کاٹ کر لے گئے۔ جس سے علاقے میں شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کی کوششوں سے ان مجرموں کو پکڑ کر پیزو پولیس کے حوالے کیا گیا۔
مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ بجلی کے فالٹ ٹھیک کرنے کے لیے سرکاری لائن مین تعینات ہیں، مگر مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 20 سالوں سے وہ شیخ بدین میں بجلی لائن پر کام کرتے نظر نہیں آئے۔ اور گھروں میں بیٹھ کر حرام تنخواہیں لے رہے ہیں اور حکومت گہری نیند میں سو رہی ہے۔ جب بھی بجلی میں خرابی آتی ہے یا کوئی فالٹ آ جائے تو پیزو سے کسی پرائیویٹ لائن مین کو بلا کر مسئلہ حل کیا جاتا ہے اور اس کی اجرت مقامی لوگوں سے چندہ جمع کرکے ادا کی جاتی ہے۔
لہٰذا مقامی لوگ حکومت وقت سے پرزور اپیل ہے کہ ان تمام مسائل کے فوری حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ اور ذمہ دار عملے کی نگرانی کی جائے۔

اس کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کا ہے۔ شیخ بدین نیشنل پارک قدرتی جنگلات اور قیمتی جنگلی حیات کا مسکن ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ مقامی اور غیر مقامی عناصر ہمیشہ سے ان قدرتی وسائل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے آرہے ہیں۔ اگرچہ متعلقہ ادارے وائلڈ لائف اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کچھ حد تک اپنی سرگرمیاں سرانجا دے رہے ہیں، لیکن مقامی لوگوں کا اپنا ایک مؤقف اور مطالبہ ہے کہ وائلڈ لائف اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی مستقل چوکیاں شیخ بدین نیشنل پارک کے اندر مین ٹاپ پر قائم کی جائیں۔ تاکہ وہ موثر نگرانی کر سکیں۔ اور قدرتی وسائل کا بہتر تحفظ ممکن ہو سکے۔
قانون بھی یہی کہتا ہے کہ اداروں کے اہلکاروں کو اسی علاقے میں تعینات ہونا چاہیے جہاں ان کی ذمہ داریاں ہوں، تاکہ قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کا مؤثر تحفظ ممکن ہو سکے۔
متعلقہ اداروں سے اپیل ہے کہ شیخ بدین نیشنل پارک کے جنگلات و جنگلی حیات کے مسائل کو فوری ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ شیخ بدین نیشنل پارک اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ حقیقی معنوں میں ایک مثالی سیاحتی مقام بن سکے۔

اس کے علاوہ شیخ بدین نیشنل پارک میں مواصلاتی رابطے کا فقدان ہے۔ اس سلسلے میں موبائل کمپنی ٹیلی نار نے اپنا ٹاور کئی سال پہلے لگایا تھا تاکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں کو رابطے کی سہولت فراہم کی جا سکے، مگر افسوس کہ اس نیٹ ورک کا مواصلاتی سہولت انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ اکثر اوقات سگنلز غائب ہو جاتے ہیں، انٹرنیٹ مکمل بند ہو جاتا ہے یا نیٹ ورک انتہائی کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ بدین کے کئی جگہوں میں ابھی بھی مکمل نیٹ ورک کوریج کی سہولت موجود نہیں ہے جس سے لوگوں کو رابطے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
سب سے تشویشناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ٹاور میں کوئی بڑا مسئلہ آ جائے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ایسی صورت میں جب ٹاور میں کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو ٹیلی نار کمپنی کی ٹیم کئی دنوں تک مسئلہ ٹھیک کرنے کیلئے نہیں آتیں۔ نتیجتاً ٹاور کئی دنوں تک بند رہتا ہے اور پورا علاقہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس سے محروم ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں موبائل اور انٹرنیٹ صرف سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، اس لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ٹیلی نار کمپنی کو پابند کریں کہ وہ شیخ بدین میں اپنے نیٹ ورک کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنائے اور ٹاور کی فوری مرمت و دیکھ بھال کو یقینی بنائے۔

مقامی لوگوں کی لکی سیمنٹ فیکٹری سے مطالبہ کرتے ہیں۔ کہ شیخ بدین نیشنل پارک کے پہاڑوں سے لکی سیمنٹ فیکٹری بڑی مقدار میں خام مال حاصل کرکے ایک بہت بڑا بین الاقوامی سطح پر (لکی سیمنٹ) کے نام سے کاروبار کر رہی ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی علاقے کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اور ان کو کوئی فکر ہی نہیں ہورہی اس لئے مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت لکی سیمنٹ فیکٹری کو پابند کرے کہ وہ شیخ بدین کے عوام کو بنیادی سہولیات (صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات) فراہم کرنے میں عملی کردار ادا کرے۔ وسلا

تحریر؛ سید ابصار حسین شاہ گیلانی
دستوں اس پوسٹ کو جتنا ممکن ہو سکے اپنے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کریں تاکہ ہماری آواز حکومتی اعوانوں تک پہنچ سکے۔

09/03/2026

السلام و علیکم تمام معزز فالوورز آج ایک بہت ہی روحانی مسجد کے حوالہ سے بات کریں گے۔ اس لئے آپ سب اس پوسٹ کے تحریر کو غور سے پڑھیں۔ اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ شکریہ

شیخ بدین نیشنل پارک میں موجود ایک بہت ہی تاریخی روحانی مسجد کی تاریخی اہمیت پر بات کرتے ہیں۔
یہ تاریخی مسجد ایک یادگار ورثہ ہے۔ یہ کوئی عام عمارت نہیں بلکہ یہ سید محبوب شاہ گیلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ (معروف شیخ بہاؤالدینؒ) کی ایک روحانی یادگار ہے۔
جب 18ویں صدی عیسوی کے درمیان میں برطانوی حکومت آئی تو اس نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر آپ کے احترام میں یہ مسجد تعمیر کیا تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک زمانے میں اللّٰہ تعالٰی کا نام گونجتا تھا، جہاں برطانوی دور کے افسر بھی احترام سے سر جھکاتے تھے، آج ہم افسوس کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ اب یہ مسجد ویران، پھٹی دیواروں، ٹوٹی چھت اور پھٹے فرش کے ساتھ کھڑی ہے…

جب کوئی زائر اس مسجد میں داخل ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ تاریخی دروازے جس پر بہت خوبصورت نقش و نگار کیا گیا ہے یہ دروازے اب بھی کھڑے ہیں، مگر ان پر وقت کے زخم صاف نظر آتے ہیں۔ سب کچھ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں "ہمیں بھول نہ جاؤ… ہمیں زندہ کرو!"
یہ مسجد صرف پتھروں اور اینٹوں کی نہیں… یہ شیخ بدین میں موجود باشندوں اور باقی عوام کیلئے روحانی تاریخی مرکز ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت شیخ بہاؤالدینؒ لوگوں کو اللّٰہ تعالٰی کا پیغام دیا کرتے تھے، کافی کرامات دکھائیں اور اس علاقے کو اپنا نام دیا۔ ان کے مزار پر سبز جھنڈے لہراتے ہیں، آج بھی ہزاروں عقیدت مند ہر سال دور دور سے آتے ہیں۔ مگر جب وہ اس مسجد کی حالت دیکھتے ہیں تو ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔

ایک اور دردناک حقیقت جو دل کو چیرتی ہے
اس تاریخی مسجد کے عین سامنے پہاڑ کی ڈھلوان (ڈالان) پر بنائی گئی پتھروں کی مضبوط دیوار تھی۔ یہ دیوار نہ صرف مسجد کو تحفظ دیتی تھی بلکہ پورے پہاڑی ڈھلوان کو گرنے سے روکتی تھی۔ برسوں کی بارشوں، زلزلے اور وقت کے ہاتھوں وہ دیوار اب مکمل طور پر گر چکی ہے۔ اب وہ ڈھلوان(ڈالان) پہاڑی مٹی اور پتھر بے قابو ہو کر نیچے گر رہے ہیں۔ مسجد کی بنیادوں تک خطرہ پہنچ چکا ہے۔ ایک چھوٹی سی بارش یا معمولی زلزلہ بھی کافی ہے کہ یہ مقدس جگہ ہمیشہ کے لیے پہاڑ کے ساتھ دفن ہو جائے۔

اے حکومتِ خیبر پختونخوا!، اے وفاقی حکومت!، اے تمام تاجر حضرات، فلاحی اداروں اور اللہ کے مقامی نیک بندوں!
کیا ہم اس مسجد کو اسی حال پر چھوڑ دیں؟
کیا ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اسے پہاڑ کے ساتھ بہتے ہوئے دیکھتے رہیں گے؟

ہم اس تاریخی مسجد کو دوبارا زندہ کرنا چاہتے ہیں! ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسجد پھر سے وہی خوبصورت شکل اختیار کر لے۔ پرانی دیواروں کو محفوظ رکھتے ہوئے، گر چکی ڈالان کی دیوار کو دوبارا مضبوط پتھروں سے بنایا جائے، مسجد کو سرے سے دوبارا نئے نقشے پر تعمیر کیا جائے، بجلی، پانی، ٹوائلٹ اور زائرین کے لیے جدید سہولیات بنائی جائیں۔ تاکہ ہمارے بچے بھی یہاں آ کر دعا کریں، فاتحہ پڑھیں اور اپنے دل میں بزرگوں کی یاد تازہ کریں۔
آپ سب حضرات سے اپیل کی جاتی ہے… اگر آپ کے دل میں بھی یہ درد ہے تو آج ہی آگے بڑھیں۔ چندہ دیں ، مواد مہیا کریں، حکومت سے سفارش کریں اور یا خود آ کر کام میں ہاتھ بٹائیں
حکومت سے خاص درخواست
2021-22 میں شیخ بادل نیشنل پارک کی بحالی کے لیے 64 کروڑ 90 لاکھ روپے کا پروجیکٹ منظور ہوا تھا۔ اس میں سے صرف چند کروڑ بھی اس تاریخی مسجد اور گر چکی ڈھلوان (ڈالان) کی دیوار کی تعمیر پر لگا دیں تو یہ جنت نما پارک واقعی ایک مکمل سیاحتی اور مذہبی مقام بن جائے گا۔
ہمیں پورا یقین ہے کہ ایک دن یہ تاریخی مسجد دوبارا کھلے گی… ان شاءاللّٰہ
اس کے علاوہ یہ صرف ایک عمارت نہیں، یہ ہماری عقیدت، تاریخ اور عزت کی علامت ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اے اللّٰہ! اپنے محبوب بندوں کی یادگار کو ہمارے ہاتھوں سے دوبارا آباد فرما۔
آپ بھی شامل ہوں اس نیک کام میں! ابھی رابطہ کریں۔ پوسٹ کو مزید دستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ شکریہ


19/02/2026

محترم جنید خان صاحب
سیکرٹری، کلائمیٹ چینج، جنگلات، ماحولیات و وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا

السلام علیکم!
آپ کی قیادت میں محکمہ کی جانب سے Spring Plantation Campaign 2026 کا آغاز ہونے جا رہا ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور سبز پاکستان کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ 🌳🌲🌴
اس سلسلے ہم شیخ بدین نیشنل پارک (ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا) میں بہار کی پلانٹیشن کرنے کی اور اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔
خاص طور پر ہماری گزارش ہے کہ چھوٹے پودوں یا (seedlings) کی بجائے درمیانے عمر کے پودے ( تقریباً 3-5 فٹ یا اس سے زیادہ اونچے) لگائے جائیں تاکہ درخت جلدی بڑھ سکیں اور ماحول پر تیزی سے مثبت اثر ڈال سکیں۔ یہ حکمت عملی ماحولیاتی فوائد کو جلد حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
یہ مہم ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔💚💚
ہم آپ کی رہنمائی اور منظوری کا منتظر ہیں۔

Thank you. Junaid Khan (Secretary)
Climate Change, Forests, Environment and Wildlife, Khyber Pakhtunkhwa

والسلام دعا گو سادات گیلانی آف شیخ بدین نیشنل پارک

اس کے علاوہ ہم کچھ پلانٹیشن کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ کہ چھوٹے پودے لگانا اچھا ہے، لیکن اگر ہم جلدی ماحولیاتی تبدیلی لانا چاہیں یا سر سبز پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں چھوٹے پودوں کی پلانٹیشن کو ترک کر کے درمیانے عمر کے درختوں کی پلانٹیشن کرنی ہوگی تاکہ درختوں کے درمیانے عمر کے لحاظ سے اور کم دیکھ بھال کی وجہ سے ہمیں ماحول پر جلد بہتر اثرات مل سکے۔

ہمارا مشورہ ہے کہ چھوٹے پودوں کی پلانٹیشن کی اس سوچ کو ہمیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور درمیانے عمر کے درختوں 🌲 کی پلانٹیشن لگانے کے شعور کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم جلد کلائمٹ چینج کے اثرات سے اپنے ملک اور لوگوں کو بچا سکیں۔ تاکہ لوگ دیکھیں کہ ماحولیات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے!

بڑے یا درمیانے عمر کے پودوں کی پلانٹیشن کے فوائد اور ماحول پر اثرات:
بڑے درخت 🌲 کاربن ڈائی آکسائیڈ جلدی جذب کرتے ہیں۔ درمیانے عمر کے درخت لگانے سے جلدی regeneration ممکن ہے، خاص طور پر نیشنل پارکس جیسے شیخ بدین نیشنل پارک میں جہاں ماحولیات حساس اور پانی کی قلّت ہوتی ہے۔ اسلئے ہمیں بڑے پودوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ درمیانے بڑے عمر کے درخت پہلے سے ہی بڑے ہوتے ہیں، ان کی شاخیں اور پتے زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے وہ فوری طور پر ماحول پر اثر انداز ہو جاتے ہیں۔

بڑے درخت ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیلاب، گرمی کی لہریں اور خشک سالی بڑھ رہی ہے، جلدی بڑے درخت لگانے سے تیز کلائمیٹ ریلیف مل سکتا ہے۔ درمیانے عمر کے درخت پہلے سے مضبوط جڑیں رکھتے ہیں تناور اور پتے زیادہ رکھتے ہیں، درمیانے عمر کے درخت لگانے سے انسان و حیوانات کو فوری سایہ مل جاتا ہے، صاف ہوا کا رحجان بڑھ جاتا ہے، زمینی کٹھاو رک جاتی ہے اور پرندوں/جانوروں کے لیے habitat بن جاتا ہے۔ اس لیے بڑے درخت زیادہ resilient ہوتے ہیں۔ وہ جلدی establish ہو جاتے ہیں۔

درمیانے یا بڑے درختوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کم محنت کی بدولت پودے بہت کم ضائع ہوتے ہیں۔ بڑے پودوں کی خرید سے پیسوں کی بچت ہوتی ہے۔ اور اصل میں زیادہ درخت زندہ رہتے ہیں۔ بڑے پودوں کی ابتدائی لاگت زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بڑے پودے مہنگے ہوتے ہیں، لیکن ماحول کے لحاظ سے طویل مدتی میں بچت ہوتی ہے۔ بڑے پودوں کے فوری فوائد سے معاشی فوائد بڑھ جاتے ہیں یعنی (سیاحت، لکڑی، پھل وغیرہ) پاکستان کی پچھلی
Billion Tree Tsunami & 10 Billion Tree Tsunami
پروگرامز میں بھی دیکھا گیا کہ جہاں حفاظت اور بہت پودے استعمال ہوئے، وہاں پر ماحولیاتی نظام میں بہتری آئی جس کی بدولت زیادہ کامیابی ملی۔

چھوٹے پودوں کی ماحول میں اہمیت اور بجٹ پر اثرات:

چھوٹے پودے کو بڑا ہونے میں 5-10 سال یا اس سے زیادہ لگتے ہیں۔ چھوٹے پودیں زیادہ بقا کی شرح کے لحاظ سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ یعنی جانوروں کی چرائی، خشک سالی، شدید گرمی، یا پانی کی کمی سے آسانی سے مر جاتے ہیں۔ پاکستان کے پہاڑی اور نیم خشک علاقوں (جیسے شیخ بدین نیشنل پارک) میں چھوٹے پودوں کی پلانٹیشن کی بقاء کم ہوتی ہے۔ چھوٹے پودے کم دیکھ بھال یا ماحولیاتی سختی کی وجہ سے زیادہ تر پودے مر جاتے ہیں جس سے پیسوں کا ضیاع اور وقت کا ضیاع دونوں ہو جاتے ہیں اصل میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے پودے لگانے کے بعد 5-10 سال تک علاقہ بالکل خالی نظر آتا ہے، لوگوں کو لگتا ہے کہ مہم ناکام ہو گئی ہے۔


Want your business to be the top-listed Government Service in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Sheikh Badin Hill Station
Dera Ismail Khan
29050