20/06/2023
Things to live for :
- The sky
- Road trips
- The city at 5am
- Quite nights
- Raindrops on your skin
- Movie nights
- Warm showers
- The first bite of your favorite meal
- Getting flowers
- The shape of clouds
- Trees
- Birds
- Eye contact with someone you love
- THE FIRST TIME OF EVERYTHING!
- Cute dates
- Hugs when you really need them
- Holding hands
- Your bed after a long day
- City lights
- Sunsets
- Sunrises
- Waking up after a good nap
- The sea
- Working hard on something you really want
- Praying and wishing
- Bookstores
- The smell of popcorn in theaters
- Old coffeeshops
- The feeling you get when you buy new clothes
- Rainy roads
- Empty streets
- When you cry because of laughing too hard
- The butterflies in your stomach when you talk to someone you're in love with
- Nature
- Music
- Random dancing
- Concerts
- People smiling at you
- Packing for a vacation
- Happy dreams
- A cup of warm tea when you feel cold
- Falling leaves at Autumn
- The stars
- The moon
- Being loved by your favorite person
- Deep talks
- Long walks
- Having your own place as you like
- The smell of coffee
- Yourself.
Maybe you feel sad and stuck right now, but you're still breathing, you have more time, and there's always a chance to experience everything.
19/06/2023
ڈاکٹر_نذیر_تبسم اپنی کتاب میں اپنی شریک حیات جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، کے بارے میں لکھتے ہیں۔
ایک بار ایسا ہوا کہ ہم دونوں میں چھوٹی سی بات پر بڑی لڑائی ہو گئی، گھر کی بیسمنٹ میں، میں بیڈ پر سوتا اور وہ نیچے زمین پر، گرمیوں کی رات تھی، ہم دونوں اپنی اپنی جگہ سو گئے۔ آدھی رات کو مجھے پیاس لگی، واٹر کولر پاس ہی میز پر پڑا تھا میں نے خود اٹھ کر گلاس بھر پانی پیا، اچانک مڑ کے دیکھا تو وہ اٹھ کر بیٹھی ہوئی تھی اور عجیب نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، غصے سے بولی۔آپ نے پانی خود کیوں پیا؟
میں نے بھی غصے اور اکڑپن سے کہا، ہاتھ پاؤں سلامت ہیں، مفلوج نہیں ہوں، خود اٹھ کر پانی پی سکتا ہوں، قریب آ کر میرا گریبان پکڑ لیا:
بولی۔ایک بات غور سے سنو! لڑائی جھگڑا اپنی جگہ پر لیکن تمہیں میں اپنا حق اور خوشی نہیں چھیننے دوں گی، پتہ ہے آپ کو پانی دیتے ہوئے مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے، بھلے سے بات چیت بند کیوں نہ ہو، پانی آپ خود نہیں پئیں گے، اس کی آنکھیں نم ناک تھیں، میں نے اسے گلے سے لگا لیا اور لڑائی ختم ہوگئی، اور اب روزانہ رات کو تین چار بار اٹھ کر جب میں خود پانی پیتا ہوں تو سامنے دیوار پر لگی اس کی قد آدم تصویر میں بھی اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یا پھر شاید میں اس کی تصویر ہی بھیگی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہوں تب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے اسے کہا تھا کہ
"محبت مر نہیں سکتی"
02/03/2023
“One hundred years of solitude”
A classical marvellous novel by Gabriel García Márquez. The story presented in the novel revolves around a family in Macondo, a fictional village in Colombia. In this novel, all characters are interconnected and belong to the same family, and the story extended from one generation to another generation. Every new generation forgets family’s art and craft about alchemy and magic.
Symbolically, this novel tells us how we all are forgetting universal messages of religions by passing generations. Every generation interprets and explains universal messages of religion in its own way.
( The greatest novel in any language of the last fifty years said by Salman Rushdie)
02/03/2023
A Belgian playwright words
اگر کوئی شخص جنت میں بھی اکیلا ہو تو
اسے مزہ نہیں آئے گا لیکن جو شخص کتابوں
یا تحقیق میں دلچسپی رکھتا ہو جب وہ مطالعہ
یا سوچ میں مصروف ہو تو اس کے لیے تنہا دوزخ
بہترین جنت ہے!
19/01/2023
(دوسرا حصہ)
The subtle art of not giving a f*ck
اس کتاب کا مقصد یہ نہیں کہ آپ دوسروں سے بالکل بے نیاز زندگی گزاریں اور دوسروں کو اپنی زندگی میں بالکل اہمیت نہ دیں بلکہ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اپنے رشتوں کو اہمیت کس طرح سے دی جاسکتی ہے۔اس کتاب میں مصنف یہ سیکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر زندگی میں آپ کے پاس چند لمحات ہیں اور ان لمحوں میں آپ ساری دنیا کو بالکل بھی ٹھیک نہیں کرسکتے۔ چند رشتے ہیں جن کی آپ فکر کریں ،ان کا خیال رکھیں اور ان کو اہمیت دیں۔ایک انسان ساری دنیا کے رشتے نہ تو نبھا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے بس ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے ہر انسان کو خوش کر سکے ۔اس لیے رشتوں کو ان کی اہمیت کے مطابق prioritise کیا جاۓ۔
14/01/2023
He did not have to make any effort to hide his tension, because that woman, whose explosive laugh frightened off the doves, had nothing to do with the invisible power that taught him how to breathe from within and control his heartbeats, and that permitted him to understand why men are afraid of death.
~Gabriel Garcia Marquez
14/01/2023
(پہلا حصہ)
The subtle art of not giving a f*ck
By Mark Manson
یہ کتاب New York Times اور Globe and mail کی بیسٹ سیلر بک ہے۔
یہ self improvement کے psychological and philosophical پہلوؤں کا خوبصورتی سے احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ اپنی زندگی کو کیسے خوبصورت انداز میں جی سکتے ہیں۔
اس کتاب کے نو چیپٹرز ہیں اور اس کتاب کے پہلے چیپٹر کا نام Don’t try ہے۔ اس کتاب کا آغاز ایک انگلش لکھاری Charles Bukowski کے حالات زندگی میں ہونے والے واقعات سے ہوتا ہے۔جس نے اپنی جوانی ایک ناکام شخص کے طور پر گزاری ۔وہ ایک لکھاری بننا چاہتا تھا لیکن اس کی لکھی گئ تحریریں ہر میگزین ،جرنل،اخبار اور پبلیشر نے شائع کرنے سے انکار کر دیں۔ چارلس ایک پوسٹ آفس میں دن کے وقت نوکری کرتا تھا اور جتنی بھی اس کی آمدن ہوتی تھی وہ رات کے وقت شراب پینے میں خرچ کردیتا تھا۔ اگر کچھ حصہ بچ جاتا تو وہ اس سے جوا کھیلتا۔
تیس سال تک یہی چلتا رہا جس میں زیادہ تر وقت شراب،نشے،جوۓ اور زنا میں گزر گیا۔ جب چارلس پچاس سال کا ہوا تو ایک پبلیشنگ ادارے نے اس میں انٹرسٹ لینا شروع کردیا ۔پبلیشر نے چارلس کو کہا کہ وہ اس کو زیادہ پیسہ یا سیل کی آفر تو نہیں دے سکتا لیکن اس کو ایک چانس دے سکتا ہے۔ یہ چارلس کی زندگی کا سب سے پہلا موقع تھا کہ وہ ایک لکھاری بن سکتا تھا۔ اس نے اپنے پبلیشر کو جواباً لکھا کہ
“I have one of two choices—stay in the post office and go crazy…… or stay out here and play at writer and starve. I have decided to starve.”
اس نے اپنا پہلا ناول “پوسٹ آفس”کے نام سے تین ہفتوں میں لکھ لیا۔ اِس ناول کے dedication والے حصے میں اس نے لکھا کہ
“Dedicated to nobody”.
چارلس ایک مشہور ناولسٹ اور شاعر کے طور پر مشہور ہوۓ۔ اس نے چھ ناول اور سینکڑوں نظمیں لکھیں جن کی لاکھوں کاپیاں بکی۔ یہ شہرت لوگوں کے علاوہ خود اس کےلیے حیران کن ثابت ہوئ۔
اس طرح کی کہانیاں ہر کلچر میں سنائ جاتی ہیں اور ہم سب یہی سوچتے ہیں کہ اس نے کبھی بھی محنت نہیں چھوڑی ۔اس نے اپنی کوشش جاری رکھی اور آخر کار اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔
حیران کرنے والی بات یہ کہ اس کے مقبرے کے کتبے پر لکھا ہے کہ
“Don’t try”.
اس کی شہرت و مشہوری کے باوجود وہ ایک ہارا ہوا انسان تھا۔وہ یہ بات جانتا تھا اور اس کی ترقی کا راز یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہونے کی لگن رکھتا تھا اس لیے کامیاب ہوا بلکہ اس نے اپنے آپ کو مانا کہ وہ ایک looser ہے اور اس نے اس بات کو قبول کیا اور ایمانداری سے اس بارے میں لکھا۔وہ ہمیشہ اپنے بارے میں ایماندار رہا اور اپنی ناکامی کے ساتھ مخلص رہا ۔اپنے آپ کو اچھا آدمی یا کامیاب آدمی کہنے کی بجاے وہ خود کو looser کہنا پسند کرتا تھا۔
مینسن لکھتا ہے کہ
“This is the real story of Bukowoski’s success: his comfort with himself as a failure. Bukowski didn’t give a f**k about success.
Fame and success did not make him a better person. Nor was it by becoming a better person that he became famous and successful.
Self-improvement and success often occur together. But that does not necessarily mean they’re the same thing.”
آج کل کے دور میں be happier، be healthier، be the best, , be smarter جیسے مقولے مشہور ہو چکے ہیں جو ہمیں یہ بار آوار کرواتے ہیں کہ ہم میں کسی چیز کی کمی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ویسا قبول نہیں کرتے جیسے ہم ہیں۔ یہی بات ہمیں اندر ہی اندر کھاۓ جارہی ہوتی ہے کہ ہم میں یہ کمی ہے ،وہ کمی ہے۔یہ احساس ہمیں جینے نہیں دیتا۔
14/01/2023
Somethings that I have learned from book “Walden”
۱)-موجودہ وقت میں مادی چیزیں اتنی اہم ہوگئ ہیں کہ ہر انسان ختم نہ ہونے والی لالچ میں مبتلا ہے ۔دور حاضر کا حضرت انسان خواہشات کے پیچھے دوڑ رہا ہے لیکن انسان کی ضروری خواہشات جو اس کو زندہ رہنے میں مدد فراہم کرتی ہیں وہ بہت ہی مختصر ہیں۔ہم اپنی خواہشات میں اس قدر مگن ہیں کہ ہم اپنی زندگی کو سکون سے گزارنے کی بجاۓ زیادہ کے چکروں میں پھنسے ہوۓ ہیں۔
۲)- جو چیز آپ اپنے بارے میں سوچتے ہیں وہ لوگوں کی نظر میں غلط ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنی نظر سے دیکھیں ۔بجاۓ اس کے کہ لوگ آپ کی زندگی کے فیصلے کریں اور معاشرتی اصول آپ پر لاگو کرنے کی کوشش کریں آپ اپنی زندگی کو اپنے اصولوں پر گزاریں۔
۳)-اپنے آپ کو ہمیشہ اپنے قریب رکھیں۔اپنے سکون کو دوسروں کی وجہ سے برباد نہ کریں۔
۴)-قدرت اور قدرتی مناظر کے ساتھ گہرا تعلق رکھیں۔ خود کو قدرت کے بہت قریب رکھیں اور قدرت سے سیکھیں کہ کس طرح سکون و شانتی سے رہا جاتا ہے۔
(اس کتاب نے سیکھایا کہ ہمیں تھوڑا بہت خود غرض ہونا چاہیے)
11/01/2023
Atomic habits by
James Clear
یہ self development پر بہت ہی متاثر کن کتاب ہے۔ یہ New York Times بیسٹ سیلر بک ہے اور چار ملین سے زیادہ اس کی کاپی فروخت ہو چکی ہیں۔جیمز نے 2012 میں اپنی ایک ویب سائیٹ بنائ اور اس پر آرٹیکل لکھنے لگا اور کچھ مہینوں میں آرٹیکل پڑھنے والوں کی تعداد بڑھتی گئ ۔2015 میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جیمز کے آرٹیکل پڑھنے لگے اور اسی عرصے میں مصنف نے یہ کتاب لکھنا شروع کی۔اس دوران مصنف اتنا مشہور ہوگیا کہ امریکا اور یورپ میں ہونے والی کانفرینسیز میں ان کو بلایا جانے لگا اور دنیا کے بڑے میگزینز میں اس کے آرٹیکل پبلیش ہونا شروع ہوگۓ ۔مصنف کو habits کے بارے میں ایکسپرٹ رائٹر مانا جاتا ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے بہت ہی کار آمد طریقہ کار بتایا ہے کہ ہماری زندگی میں چھوٹی چھوٹی عادات کس حد تک ہماری شخصیت کو بنانے یا بگاڑنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔اس میں رائٹر نے بہت ساری ریئل لائیف مثالوں کے ذریعے اپنی تھیوری کوسمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں یہ بات سمجھائ گئ ہے کہ عموماً ہم لوگ اپنی زندگی میں بڑے بڑے ٹارگٹ سیٹ کر لیتے ہیں اور ایک ہی دن میں کوئ عادت اپنانے یا چھوڑنے پر زور دے رہے ہوتے حالانکہ ہماری سائیکالوجی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم زیادہ دیر کسی بھی کام کو کرتے رہیں تب ہی اس کام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
اگر آپ کسی بھی اچھی عادت کو اپنانا چاہتے ہیں یا کسی بری عادت کو چھوڑنا چاہتے ہیں تو آپ ضرور اس کتاب کو پڑھیں اور مصنف کے بتاۓ گۓ طریقوں پر عمل کریں۔
11/01/2023
"I have this strange feeling that I'm not myself anymore. It's hard to put into words, but I guess it's like I was fast asleep, and someone came, disassembled me, and hurriedly put me back together again. That sort of feeling."
-Haruki Murakami
10/01/2023
Walden
by Henry David Thoreau
یہ فلاسفی کی کتاب ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہم زندگی کو کس طرح سادہ بنا کر آسانی سے گزار سکتے ہیں۔ اس میں فلاسفیکل حقائق سے پردہ چاک کیا گیا ہے اور بڑے اچھے طریقے سے سمجھایا گیا ہے کہ ہم نے غیر ضروری کام اور غیر ضروری اخراجات کی وجہ سے اپنے جینے کو بوجھ بنایا ہوا ہے۔
سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں نے یہ کتاب کیوں پڑھی؟
میری گریجویشن ہونے کو ہے اور جوں جوں ڈگری مکمل ہونے کا وقت قریب آتا جارہا ہے اسی طرح میری پریشانی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ پریشانی مستقبل کو لے کر ستاتی رہتی ہے حالانکہ میں goal oriented انسان ہوں اور مجھے پہلے دن سے پتا ہے کہ میں نے ڈگری کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔ مجھے کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ شاید یہ پریشانی sense of responsibility کی وجہ سے ہے کیونکہ میں ہمیشہ سے ممکنہ طور پر ذمہ داری سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں اور اب اس ذمہ داری سے دور بھاگنا میرے بس میں نہیں ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کا مقصد یہ تھا کہ میں جان سکوں کہ ہم اپنے مستقبل و ماضی کو سوچے بغیر کس طرح اپنے present (حال)کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس کتاب کے مصنف نے اپنی زندگی کے دو سال، دو مہینے اور دو دن انسانی آبادی سے دور ویلڈن تالاب کے کنارے ایک کیبن سے بنے گھر میں گزارے ہیں اور اس نے اپنی زندگی کے اس دورانیے میں قدرتی مناظر کو جس طرح محسوس کیا ہے اس کا احوال اس نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے۔
مصنف کا ماننا ہے کہ فلاسفر وہ ہے جو اپنی زندگی کو اپنے خیالات کے مطابق گزارتا ہے۔ فلاسفر زندگی کے مسائل کے حل کو تھیوریز کے ذریعے نہیں بلکہ پریکٹیکلی عمل کر کے ہی بنا جاسکتا ہے۔
To be a philosopher is not merely to have subtle thoughts, nor even to found a school, but so to love wisdom as to live, according to its dictates, a life of simplicity, independence, magnanimity, and trust. It is to solve some of the problems of life, not only theoretically, but by practically.
یہ کتاب میرے ذہن پر ایسے نقش چھوڑ کر گئ ہے کہ اگر کوئ مجھ سے پوچھے کہ اس وقت میری سب سے بڑی fantasy کیا ہے تو میں بے دھڑک ہو کر کہوں گا کہ
“ کوہسلیمان کے پہاڑ ہوں اور میں آبادی سے بہت دور کسی چوٹی پر اپنی بقایا زندگی بسر کر دوں”۔