قرآنِ مجید میں ارشاد ہوا کہ نمرود سے ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اگر تُو خدائی کے دعوے میں سچا ہے تو میرا خُدا سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے مغرب میں غروب کرتا ہے تو اِسے مغرب سے طلوع کر کے دِکھا
یاد کیجیئے آپ نے ضرور سُنا یا پڑھا ہوگا کہ جب حضرت علی علیہ السلام کی نمازِ عصر قضا ہوگئی بوجہ حضورﷺ آپ کی گود مبارک میں سر رکھ کے سوئے ہوئے تھے تو حضورﷺ کو پتہ چلا تو حضورﷺ نے سورج کو مغرب سے طلوع کیا وقتِ عصر پہ لے آئے اور حضرتِ علی علیہ السلام نے نمازِ عصر ادا کی
واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کو قرآن کے حِساب سے اور ابراہیم علیہ السلام کی گواہی سے جو سورج کو مغرب سے طلوع کرے وہ خُدا ہوسکتا ہے اب آپ خود اندازہ لگا لیں حضور ﷺ کی شان تو قرآن نے واضع کردی مثال دے کر اور ہاں حضرت علی وہ ہیں جن کے لیے سورج مغرب سے بھی طلوع کیا جا سکتا ہے اور اس میں نہ خدا کو اعتراض ہوا اور نہ حبیبِ خُدا کو اور ہاں قرآن کے حساب سے اس سے بڑھ کے کوئی حجت نہیں
بقلم خود غلامانِ غلام درگاہ کھرڑیانوالہ شریف خاکسار عبدالقادر قادری
پَیغامِ عِشق پَیغامِ مَعرفَت
عشق حقیقی
الف دے مُکھڑے تے میم دا گھونگھٹ
20/05/2022
12/02/2022
خود بھی بچیے اور اپنے دوستوں عزیزوں کو بھی بچائیے
فراڈ . . فراڈ . . فراڈ
پاک سیٹ ڈش سیٹلائٹ پر نجی پاکستانی چینلز موبائیل فون کیش آن ڈیلیوری کے نام پہ فراڈ کر رہے ہیں پوسٹ آفس والے پارسل دینے سے پہلے روپے وصول کر لیتے ہیں اور پارسل میں سیمسنگ ۔انفی نیکس اور ٹیکنو ٹچ موبائیل کی جگہ درج ذیل چیزیں برآمد ہوئیں پارسل نمبر1 موبائیل فون کا خالی ڈبہ پارسل نمبر 2 موبائیل کیسنگ اور ایک چارجر پارسل نمبر 3 کیو موبائیل بٹنوں والا بغیر بیٹری سکرین ٹوٹی ہوئی پارسل نمبر 4 باریک پن والے دو چارجر پارسل نمبر 5 ڈیڈ کیو موبائیل بٹنوں والا یہ ہم پانچ دوستوں نے ٹی وی پہ اشتہاری ویڈیوز دیکھ کے ٹچ موبائیلز سیمسنگ۔ انفی نیکس 8 اور ٹیکنو موبائیل کی خریداری کی تھی ڈاک خانہ کھرڑیانوالہ نے فی پارسل 6300 روپے وصول کر کے پارسل دیے پہلے چیک کرنے کی اجازت نہیں دی اور واپسی بھی کسی صورت نہیں ہوئی حالانکہ پارسل ڈاکخانہ میں ہی کھولے گئے ڈاک خانہ سٹاف کے سامنے ہمارے پینتیس ہزار ڈوب گئے لہٰذا آپ مزید لوگوں کو لُٹنے سے بچانے میں ہماری مدد کریں اس پوسٹ کو آگے شئیر کر کے آپ کو پیارے محمدﷺ کا واسطہ اسے اپنے جاننے والوں سے ضرور شئیر کریں
27/11/2021
خودی کی پہچان۔۔۔
کنت کنزاً مخفیاً فأحببت أن اُعرف فخلقتُ الخلق لکَی اُعرف...
" میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا''
اس حدیثِ قدسی سے واضح ہو گیا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کیسے حاصل ہو گی۔
اللہ کی پہچان کا طریقہ اس حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے:
مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ
ترجمہ: '' جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناًاپنے ربّ کو پہچانا۔''
اوپر پیش کیے جانے والے پہلی حدیث میں اللّہ پاک اپنی پہچان کروانے کے لیے مخلوک کی تخلیق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے اس نے کیوں مخلوق کو بنایا ۔
اپنی پہچان کی ضرورت اللّہ پاک کو تھی اس نے مخلوقات بنائی ، زمین چرند، پرند، جن، ملائک، جانور۔
سب سے آخر میں انسان کا بت بنایا یعنی آدم علیہ اسلام، اور آدم کی تخلیق اپنی ہی صورت پر کی،
خَلَق اللهُ آدَمَ على صورتِه
اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پہ پیدا کیا۔۔
اور اس آدم میں اپنی روح ڈالا۔۔
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ.
29: جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا...
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ک آدم کو سجدہ اپنی روح ڈالنے کہ بعد کیوں کروایا، اس سے پہلے بھی تو کروا سکتا تھا،
سجدہ دراصل بت آدم کو نہیں اپنے آپ کو کروایا، آدم میں آ کہ آپ سمایا، آدم کی تخلیق کا مقصد اپنے آپ کو اس میں چھپا کہ آنا تھا،
سورہ الزاریات آیت 21..
ترجمہ: اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔.
ترجمہ:اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔(سورۃ ق۔16)
نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سماجاتا ہوں۔
قلب المومن عرش اللّہ تعالٰی ..
ترجمہ: مومن کادل اﷲ تعالیٰ کا عرش ہے۔
حدیث قدسی۔۔
میرا بندہ جب نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے تم میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں )
فتح الباری حدیث نمبر (6502)
چھپے ہوئے خزانے سے لے کر آدم کی تخلیق تک کے سفر میں مقصد صرف ایک وہ اپنے آپ کی پہچان،
اور پہچان کے لیے کسی خاص صورت کی ضرورت، اور وہ صورت صرف آدم، آدم میں صورت سرکار مدینہ حضور ﷺ کی۔۔۔۔
سرکار مدینہ حضور ﷺ نے فرمایا۔۔۔
"مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ،
جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا .........
صَل الله عليه وآله واصحابِ وسلم وبارك عليه 💓
26/11/2021
حضورِ اکرم ﷺ کی صورت کی تعریف میں 114 سورتیں نازل ہوئی مصطفٰی کی تعریف دراصل خُدا ہی کی تعریف ہے مگر یہ بات صرف عشق والوں کی سمجھ میں آتی ہے کیا آپ کی سمجھ میں آتی ہے کمنٹ میں ضرور بتائیے
انسان ہو احکام الٰہی کا پابند نہ کہ افعالِ الٰہی کا چھیڑ خار
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Faisalabad
EVERYTHINGFORTHEFREEDOMOFINDIANOCCUPIEDKASHMIR
