Library's of Novels

Library's of Novels

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Library's of Novels, Library, Faisalabad.

06/01/2026

پیرِ_کامل_ﷺ
از_عمیرہ_احمد
قسط_نمبر_05
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی نہر کے پل سے کچھ فاصلے پر کھڑی کردی پھر ڈگی سے ایک بوری اور رسی لی ۔ وہ بوری کو کھینچتے ہوئے اس پل کی طرف بڑھتا رہا ۔ پاس سے گزرنے والے کچھ راہ گیروں نے اسے دیکھا مگر وہ رکے نہیں۔ اوپر پہنچ کر اس نے اپنی شرٹ اتار کر نہر میں پھینک دی ۔ چند لمحوں میں اسکی شرٹ بہتے پانی کے ساتھ غائب ہوچکی تھی ۔ ڈارک بلوکلر کی تنگ جینز میں اس کا لمبا قد اور خوبصورت جسم بہت نمایاں تھا ۔
اس وقت اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا تاثر تھا جسے پڑھنا دوسرے کسی بھی شخص کے لیے ناممکن تھا ۔ اس کی عمر انیس بیس سال ہوگی ، مگر اس کے قدوقامت اور حلیے نے اسکی عمر کو جیسے بڑھا دیا تھا ۔ اس نے رسی پل سے نیچے نہر میں لٹکانی شروع کردی ۔ جب رسی کا سرا پانی میں غائب ہوگیا تو اس نے رسی کا دوسرا سرا بوری کے منہ پر لیپٹ کر سختی سے گرہیں لگانی شروع کردی اور اس وقت تک لگاتا رہا جب تک کوائل ختم نہیں ہوگیا ۔ پھر پانی میں پڑا سرا واپس کچھنچ کر اس نے اندازے سے تین فٹ کے قریب رسی چھوڑی اور اپنے دونوں پیر ساتھ جوڑتے ہوئے اس نے اپنے پیروں کے گرد رسی کو بہت مضبوطی سے دوتین بل دیئے اور گرہ لگا دی ۔ اب اس تین فٹ کے ٹکڑے کے سرے پر بڑی مہارت سے اس نے دو پھندے بنائے پھر اچک کر پل کی منڈیر پر بیٹھ گیا ۔ اپنا دایاں ہاتھ کمرکے پیچھے لے جاتے ہوئے پھندے میں سے گزارا اور پھر بائیں ہاتھ سے کھینچ کر کس دیا ۔ پھر یہ کچھ اس نے بائیں ہاتھ کے ساتھ کیا ۔
اس کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔ ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے پشت کے بل خود کو پل کی منڈیر سے نیچے گرا دیا ۔ ایک جھٹکے سے اس کا سر پانی سے ٹکرایا اور کمر تک کا حصہ پانی میں ڈوب گیا ۔ پھر رسی ختم ہوگئی ۔ اب وہ اس طرح لٹکا ہوا تھا کہ اس کے بازو پشت پر بندھے ہوئے تھے اور کمر تک کا دھڑ پانی کے اندر تھا ۔ بوری کا وزن یقینا" اس کے وزن سے زیادہ تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ بوری اس کے ساتھ نیچے نہیں آئی اور وہ اس طرح لٹک گیا ۔ اس نے اپنا سانس روکا ہوا تھا ۔ پانی کے اندر اپنا سر جاتے ہی اس نے آنکھیں بند کرلیں ۔ اس کے پھیپھڑے اب جیسے پھٹنے لگے تھے ۔ اس نے یک دم سانس لینے کی کوشش کی اور پانی منہ اور ناک سے اس کے جسم کے اندر داخل ہونے لگا ۔ وہ اب بری طرح پھڑپھڑا راہا تھا مگر نہ وہ اپنے بازوؤں کو استعمال کرکے خود کو سطح پر لا سکتا تھا اور نہ ہی اپنے جسم کو اٹھا سکتا تھا ۔ اس کے جسم کی پھڑپھڑاہٹ آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھی ۔
چند لوگوں نے اسے پل سے نیچے گرتے دیکھا اور چیختے ہوئے اس طرف بھاگے ۔ رسی ابھی تک ہل رہی تھی ۔ ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں ۔ پانی کے نیچے ہونے والی حرکت اب دم توڑ گئی تھی ۔ اس کی ٹانگیں اب بالکل بے جان نظر آرہی تھیں ۔ پل پر کھڑے لوگ خوف کے عالم میں اس بے جان وجود کو دیکھ رہے تھے ۔ پل پر موجود ہجوم بڑھ رہا تھا ۔ نیچے پانی میں موجود وجود ابھی بھی ساکت تھا ۔ صرف پانی اسے حرکت دے رہا تھا ۔ کسی پینڈولم کی طرح ۔۔۔۔۔ آگے پیچھے ۔۔۔۔۔ آگے پیچھے ۔۔۔۔۔ آگے پیچھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ ! جلدی سے تیار ہوجاؤ ۔ رابعہ نے اپنی الماری سے اپنا ایک سوٹ نکال کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے کہا ۔
امامہ نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا ۔ کس لئے تیار ہوجاؤں ؟
بھئی شاپنگ کے لئے جارہے ہیں ، ساتھ چلو ۔ رابعہ نے اسی تیز رفتاری کے ساتھ استری کا پلگ نکالتے ہوئے کہا
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا ۔ اس نے ایک بار پھر اپنی آنکھوں پر اپنا بازو رکھتے ہوئے کہا ۔ وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی ۔
کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔۔ تم سے پوچھ کون رہا ہے ۔۔۔۔۔ تمہیں بتا رہے ہیں ۔ رابعہ نے اسی لہجے میں کہا ۔
اور میں نے بتا دیا ہے ، میں کہیں نہیں جا رہی ۔ اس نے آنکھوں سے بازو ہٹائے بغیر کہا ۔
زینب بھی چل رہی ہے ہمارے ساتھ ، پورا گروپ جارہا ہے ، فلم بھی دیکھیں گے واپسی پر ۔ رابعہ نے پورا پروگرام بتاتے ہوئے کہا ۔
امامہ نے ایک لحظہ کے لئے اپنی آنکھوں سے بازو ہٹا کر اسے دیکھا ۔ زینب بھی جارہی ہے ۔
ہاں ، زینب کوہم راستے سے پک کریں گے ۔ امامہ کسی سوچ میں ڈوب گئی ۔
تم بہت ڈل ہوتی جارہی ہو امامہ ۔ رابعہ نے قدرے ناراضی کے ساتھ تبصرہ کیا ۔ ہمارے ساتھ کہیں آنا جانا ہی چھوڑ دیا ہے تم نے ، آخر ہوتا کیا جا رہا ہے تمہیں ۔
کچھ نہیں ، بس میں آج کچھ تھکی ہوئی ہوں ، اس لئے سونا چاہ رہی ہوں ۔ امامہ نے بازو ہٹا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
تھوڑی دیر بعد جویریہ بھی اندر آگئی اور وہ بھی اسے ساتھ چلنے کے لئے مجبور کرتی رہی ، مگر امامہ کی زبان پر ایک ہی رٹ تھی ۔ نہیں مجھے سونا ہے ، میں بہت تھک گئی ہوں ۔ وہ مجبورا" اسے برا بھلا کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں ۔
رستے سے انہوں نے زینب کو اس کے گھر سے پک کیا اور زینب کو پک کرتے ہوئے جویریہ کو یاد آیا کہ اس کے بیگ کے اندر اس کا والٹ نہیں ہے ۔ وہ اسے ہاسٹل میں ہی چھوڑ آئی تھی ۔
واپس ہاسٹل چلتے ہیں ، وہاں سے والٹ لے کر پھر بازار چلیں گے ، جویریہ کے کہنے پر وہ لوگ دوبارہ ہاسٹل چلی آئیں ۔ مگر وہاں آکر انہیں حیرانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ کمرے کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا
یہ امامہ کہاں ہے ۔ رابعہ نے حیرانی سے کہا ۔
پتا نہیں ۔ کمرہ لاک کرکے اس طرح کہاں جاسکتی ہے ۔ وہ تو کہہ رہی تھی کہ اسے سونا ہے ۔ جویریہ نے کہا ۔
ہاسٹل میں تو کسی کے روم میں نہیں چلی گئی ۔ رابعہ نے خیال ظاہر کیا ۔ وہ دونوں اگلے کئی منٹ ان واقف لڑکیوں کے کمروں میں جاتی رہیں ، جن سے انکی ہیلو ہائے تھی مگر امامہ کا کہیں پتا نہیں تھا ۔
کہیں ہاسٹل سے باہر تو نہیں گئی ۔ رابعہ کو اچانک خیال آیا ۔
آؤ وارڈن سے پوچھ لیتے ہیں ۔ جویریہ نے کہا ۔ وہ دونوں وارڈن کے پاس چلی آئیں ۔
ہاں ، امامہ ابھی کچھ دیر پہلے باہر گئی ہے ۔ وارڈن نے انکی انکوائری پر بتایا ۔ جویریہ اور رابعہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں ۔
وہ کہہ رہی تھی شام کو آئے گی ۔ وارڈن نے انہیں مزید بتایا ۔ وہ دونوں وارڈن کے کمرے سے نکل آئیں ۔ یہ گئی کہاں ہے ؟ ہمارے ساتھ تو جانے سے انکار کردیا تھا کہ اسے سونا ہے اور وہ تھکی ہوئی ہے اور اسکی طبعیت خراب ہے ۔ اب وہ اس طرح غائب ہوگئی ہے ۔ رابعہ نے الجھے ہوئے انداز میں کہا ۔
رات کو وہ قدرے لیٹ واپس آئیں اور جس وقت وہ واپس آئیں امامہ کمرے میں موجود تھی ۔ اس نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا ۔
لگتا ہے ۔۔۔۔۔ خاصی شاپنگ ہوئی ہے آج ۔ اس نے ان دونوں کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے شاپرز کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
ان دونوں نے اسکی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا ۔ بس شاپرز رکھ کر اسے دیکھنے لگیں ۔
تم کہاں گئی ہوئی تھی ؟ جویریہ نے اس سے پوچھا ۔ امامہ کو جیسے جٹھکا لگا ۔
میں اپنا والٹ لینے واپس آئی تھی تو تم یہاں نہیں تھیں ، کمرہ لاکڈ تھا ۔ جویریہ نے اسی انداز میں کہا
میں تم لوگوں کے پچھے گئی تھی
کیا مطلب ؟ جویریہ نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں کہا ۔
تمہارے نکلنے کے بعد میرا ارادہ بدل گیا ۔ میں یہاں سے زینب کی طرف گئی کیونکہ تم لوگوں کو اسے پک کرنا تھا ۔ مگر اس کے چوکیدار نے بتایا کہ تم لوگ پہلے ہی وہاں سے نکل گئے ہو ۔ پھر میں وہاں سے واپس آگئی، بس رستے میں کچھ کتابیں لی تھیں میں نے ۔ امامہ نے کہا
دیکھا ۔ تم سے پہلے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ چلو مگر اس وقت تم نے فورا" انکار کردیا ، بعد میں بےوقوفوں کی طرح پیچھے چل پڑیں ۔ ہم لوگ تو مشکوک ہوگئے تھے تمہارے بارے میں ۔ رابعہ نے کچھ اطمینان سے ایک شاپر کھولتے ہوئے کہا ۔
امامہ نے کوئی جواب نہیں دیا ، وہ صرف مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھتی رہی ۔ وہ دونوں اب اپنے شاپر کھولتے ہوئے خریدی ہوئی چیزیں اسے دکھا رہی تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا نام کیا ہے ؟
پتا نہیں
ماں باپ نے کیا رکھا تھا ؟
یہ ماں باپ سے پوچھیں ۔ ۔۔۔۔ خاموشی
لوگ کس نام سے پکارتے ہیں تمہیں ؟
لڑکے یا لڑکیاں ؟
لڑکے
بہت سارے نام لیتے ہیں
زیادہ تر کون سا نام پکارتے ہیں
Daredevil
اور لڑکیاں
وہ بھی بہت سے نام لیتی ہیں
زیادہ تر کس نام سے پکارتی ہیں ؟
یہ میں نہیں بتاسکتا ۔ یہ بالکل ذاتی ہے
گہری خاموشی ۔۔۔۔ طویل سانس ۔۔۔۔ پھر خاموشی ۔
میں آپکو ایک مشورہ دوں ؟
کیا ؟
آپ میرے بارے میں وہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے جو نہ آپ پہلے جانتے ہیں نہ میں ۔
آپ کے دائیں طرف ٹیبل پر جو سفید فائل پڑی ہے اس میں میرے بارے میں ساری تفصیل موجود ہے پھر آپ وقت ضائع کیوں کر رہے ہیں
سائیکوانالسٹ نے اپنے پاس موجود ٹیبل لیمپ کی روشنی میں سامنے کاؤچ پر دراز اس نوجوان کو دیکھا جو اپنے پیر مسلسل ہلا رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر گہرا اطمینان تھا اور یوں لگ رہا تھا جیسے وہ سائیکلوانالسٹ کے ساتھ ہونے والی اس ساری گفتگو کو بے کار سمجھ رہا تھا ۔ کمرے میں موجود ٹھنڈک ، خاموشی اور نیم تاریکی نے اسکے اعصاب کو بالکل بھی متاثر نہیں کیا تھا ۔ وہ بات کرتے ہوئے وقتا" فوقتا" کمرے میں چاروں طرف نظریں دوڑا رہا تھا ۔ سائیکو انالسٹ کے لئے سامنے لیٹا ہوا نوجوان عجیب کیس تھا ۔ وہ فوٹو گرافک میموری کا مالک تھا ۔ اس کا آئی کیو لیول 150 کی رینج میں تھا ۔ وہ تھرو آوٹ ، آوٹ اسٹینڈنگ اکیڈمک ریکارڈ رکھتا تھا ۔ وہ گالف میں پریزیڈنٹس گولڈ میڈل تین بار جیت چکا تھا ۔ اور وہ ۔۔۔۔۔ وہ تیسری بار خودکشی کی ناکام کوشش کرنے کے بعد اس کے پاس آیا تھا ۔ اس کے والدین ہی اسے اس کے پاس لے کر آئے تھے اور وہ بے حد پریشان تھے ۔
وہ ملک کے چند بہت اچھے خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتا تھا ۔ ایسا خاندان جس کے پاس پیسے کی بھرمار تھی ۔ چار بھائیوں اور ایک بہن کے بعد وہ چوتھے نمبر پر تھا ۔ دو بھائی اور ایک بہن اس سے بڑے تھے ۔ اپنی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے وہ اپنے والدین کا بہت زیادہ چہیتا تھا ۔ اس کے باوجود پچھلے تین سال میں اس نے تین بار خودکشی کی کوشش کی ۔ پہلی دفعہ اس نے سڑک پر بائیک چلاتے ہوئے ون وے کی خلاف ورزی کی اور بائیک سے ہاتھ اٹھا لیے ۔ اس کے پیچھے آنے والے ٹریفک کانسٹیبل نے ایسا کرتے ہوئے اسے دیکھا تھا ۔ خوش قسمتی سے گاڑی سے ٹکرانے کے بعد وہ ہوا میں اچھل کر ایک دوسری گاڑی کی چھت پر گرا اور پھر زمین پر گر گیا ۔۔ اس کے بازو اور ایک ٹانگ میں فریکچرز ہوئے ، تب اس کے والدین کانسٹیبل کے اصرار کے باوجود بھی اسے ایک حادثہ ہی سمجھے ، کیونکہ اس نے اپنے ماں باپ سے یہی کہا تھا کہ وہ غلطی سے ون وے سے ہٹ گیا تھا
دوسری بار اس نے پورے ایک سال بعد لاہور میں خود کو باندھ کر پانی میں ڈبونے کی کوشش کی ۔ ایک بار پھر اسے بچا لیا گیا ۔ پل پر کھڑے لوگوں نے اسے رسی سمیت باہر کھینچ لیا تھا۔ اس بار اس بات کی گواہی دینے والوں کی تعداد زیادہ تھی کہ اس نے خود اپنے آپ کو پانی میں گرایا تھا مگر اس کے ماں باپ کو ایک بار پھر یقین نہیں آیا ۔ سالار کا بیان یہ تھا کہ کچھ لڑکوں نے اسکی گاڑی کو پل کے پاس روکا اور پھر اسے باندھ کر پانی میں پھینک دیا ۔ جس طرح وہ بندھا ہوا تھا اس سے یوں ہی لگتا تھا کہ واقعی اسے باندھ کر گرایا گیا تھا ۔ پولیس اگلے کئی ہفتے اس کے بتائے ہوئے حلیے کے لڑکوں کو پورے شہر میں تلاش کرتی رہی ۔ سکندر عثمان نے خاص طور پر ایک گارڈ اس کے ساتھ تعینات کردیا تھا جو چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ رہتا تھا ۔
مگر وہ تیسری بار اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتا تھا ۔ خواب آور گولیوں کی ایک بڑی تعداد کو پیس کر اس نے دودھ میں ڈال کر پی لیا تھا ۔ گولیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ معدہ واش کرنے کے باوجود اگلے کئی دن وہ بیمار رہا تھا ۔ اس بار کسی کو بھی کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی ۔ اس نے خانساماں کے سامنے وہ گولیاں دودھ میں ڈال کر پی تھیں ۔
سکندر عثمان اور طیبہ شاکڈ رہ گئے تھے ۔ پچھلے دونوں واقعات بھی انہیں پوری طرح یاد آگئے تھے اور وہ پچھتانے لگے کہ انہوں نے پہلے اسکی بات پر اعتبار کیوں کیا ۔ پورا گھر اس کی وجہ سے پریشان ہوگیا تھا ۔ اس کے بارے میں اسکول ، کالونی اور خاندان ہر جگہ خبریں پھیل رہی تھیں ۔ وہ اس بار اس بار سے انکار نہیں کرسکتا تھا کہ اس نے خود کشی کی کوشش نہیں کی تھی ۔ مگر وہ یہ بتانے پر تیار نہیں تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تھا ۔ بھائی ، بہن ، ماں یا باپ اس نے کسی کے سوال کا بھی جواب نہیں دیا تھا ۔
سکندر اے لیولز کے بعد اس کے بڑے دو بھائیوں کی طرح اسے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھجوانا چاہتے تھے ، وہ جانتے تھے اسے کہیں بھی نہ صرف بڑی آسانی سے ایڈمیشن مل جائے گا بلکہ اسکالرشپ بھی ، لیکن ان کے سارے پلانز جیسے بھک کرکے اڑ گئے تھے ۔
اور اب وہ اس سائیکوانالسٹ کے سامنے موجود تھا ، جس کے پاس سکندر کے اسے اپنے ایک دوست کے مشورہ پر بھیجا تھا ۔
ٹھیک ہے سالار ۔ بالکل ٹو دی پوائنٹ بات کرتے ہیں ۔ مرنا کیوں چاہتے ہو تم ؟
سالار نے کندھے اچکائے ۔ آپ سے کس نے کہا میں مرنا چاہتا ہوں
خودکشی کی تین کوششیں کرچکے ہو تم
کوشش کرنے اور مرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے
تینوں دفعہ تم اتفاقا" بچے ہو ورنہ تم نے خود کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔
دیکھیں ۔ جس کو آپ خودکشی کی کوشش کہہ رہے ہیں ، میں اسے خودکشی کی کوشش نہیں سمجھا ، میں صرف دیکھنا چاہتا تھا کہ موت کی تکلیف کیسی ہوتی ہے ۔
وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگا جو بڑے پرسکون انداز میں انہیں سمجھانے کی کوشش کررہا تھا ۔
اور موت کی تکلیف تم کیوں محسوس کرنا چاہتےتھے ۔
بس ایسے ہی تجسس سمجھ لیں ۔
سائیکوانالسٹ نے ایک گہرا سانس لے کر اس 150 آئی کیو لیول والے نوجوان کو دیکھا جو اب چھت کو گھور رہا تھا ۔
تو ایک بار خود کشی کی کوشش سے تمہارا یہ تجسس ختم نہیں ہوا ۔
اور تب ۔۔۔۔۔ تب میں بے ہوش ہوگیا تھا ۔ اس لئے میں ٹھیک سے کچھ بھی محسوس نہیں کرسکا ۔ دوسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار بھی اسیا ہی ہوا ۔ وہ مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے بولا ۔
اور اب تم چوتھی بار کوشش کرو گے ؟
یقینا" میں محسوس کرنا چاہتا ہوں کہ درد کی انتہا پر جاکر کیسا لگتا ہے ۔
کیا مطلب ؟
جیسے خوشی کی انتہا سرور ہوتا ہے ۔ مگر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خوشی کی اس انتہا کے بعد کیا ہے ۔ اسی طرح درد کی بھی تو کوئی انتہا ہوتی ہوگئی ۔ جس کے بعد آپ کچھ بھی سمجھ نہیں سکتے ، جیسے سرور میں آپ کچھ بھی نہیں سمجھ سکتے ۔
میں نہیں سمجھ سکا ۔
فرض کریں آپ ایک بار میں ہیں ۔ بہت تیز میوزک بج رہا ہے ، آپ ڈرنک کررہے ہیں ، آپ نے کچھ ڈرگزبھی لی ہوئی ہیں ، آپ ناچ رہے ہیں پھر آہستہ آہستہ آپ اپنے ہوش و حواس کھو دیتے ہیں ۔ آپ سرور میں ہیں ، کہاں ہیں ؟ کیوں ہیں ؟ کیا کررہے ہیں ؟ آپ کو کچھ بھی پتا نہیں لیکن آپ کو یہ ضرور پتا ہوتا ہے کہ آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ آپ کو اچھا لگ رہا ہے ۔ میں جب باہر چھٹیاں گزارنے جاتا ہوں تو اپنے کزنز کے ساتھ ایسے بارز میں جاتا ہوں ۔ میرا پرابلم یہ ہے کہ ان کی طرح میں مدہوش نہیں ہوتا ۔ میں نے کبھی خوشی محسوس نہیں کی ۔ مجھے ان چیزوں سے اتنی خوشی نہیں مل پاتی جتنی باقی لوگوں کو ملتی ہے اور یہی چیز مجھے مایوس کرتی ہے ۔ میں نے سوچا کہ اگر سرور کی انتہا پر نہیں پہنچ سکتا تو شاید میں درد کی انتہا پر پر پہنچ سکوں لیکن وہ بھی نہیں ہوسکا ۔ وہ خاصا مایوس نظر آرہا تھا
تم اس طرح کی چیزوں میں وقت ضائع کیوں کرتے ہو ۔ اتنا شاندار اکیڈمک ریکارڈ ہے تمہارا ۔
سالار نے اس بار انتہائی بیزاری سے جواب دیا ۔ پلیز پلیز اب میری ذہانت کے راگ الاپنا شروع مت کیجئے گا ۔۔ مجھے پتا ہے میں کیا ہوں ۔۔۔۔ تنگ آگیا ہوں میں اپنی تعریفیں سنتے سنتے ، اس کے لہجے میں تلخی تھی ، سائیکوانالسٹ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔
اپنے لئے کوئی گول کیوں نہیں سیٹ کرتے تم ؟
میں نے کیا ہے ؟
کیا
مجھے خودکشی کے ایک اور کوشش کرنی ہے ۔ مکمل اطمینان تھا ۔
کیا تمہیں کوئی ڈپریشن ہے ؟
ناٹ ایٹ آل ۔
تو پھر مرنا کیوں چاہتے ہو ؟ ایک گہرا سانس
کیا آپ کو ایک بار پھر سے بتانا شروع کروں کہ میں مرنا نہیں چاہتا ۔ میں کچھ اور کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ وہ اکتایا۔
بات گھوم پھر کرپھر وہیں آگئی تھی ۔ سائیکلوانالسٹ کچھ دیر سوچتا رہا ۔
کیا تم یہ سب کسی لڑکی کی وجہ سے کررہے ہیں ؟
سالار نے گردن موڑ کر حیرانی سے اسے دیکھا ۔ لڑکی کی وجہ سے ؟
ہاں ۔ کوئی ایسی لڑکی جو تمہیں اچھی لگتی ہو جس سے تم شادی کرنا چاہتے ہو ۔ اس نے بے اختیار قہقہہ لگایا اور پھر ہنستا ہی گیا ۔
مائی گاڈ ۔ آپ کا مطلب ہے کہ کسی لڑکی کی محبت کی وجہ سے میں خودکشی ۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر بات ادھوری چھوڑ کر ہنسنے لگا ۔ لڑکی کی محبت ۔۔۔۔۔ اور خود کشی ۔ ۔۔۔۔ کیا مذاق ہے ۔
وہ اب اپنی ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا ۔
سائیکوانالسٹ نے اس طرح کے کئی سیشنز اس کے ساتھ کئے تھے اور ہر بار نتیجہ وہی ڈھاک کے وہی تین پات رہا ۔
آپ اسکو تعلیم کے لئے بیروں ملک بجھوانے کی بجائے یہیں رکھیں اور اس پر بہت زیادہ توجہ دیں ۔ ہوسکتا ہے یہ توجہ حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتا ہو ۔
اس نے کئی ماہ کے بعد سالار کے ماں باپ کو مشورہ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے باہر بجھوانے کے بجائے اسلام آباد کے ایک ادارے میں ایڈمیشن دلوا دیا گیا ۔ سکندر کو یہ اطمینان تھا کہ وہ اسے اپنے پاس رکھیں گے تو شاید وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے ۔ سالار نے ان کے فیصلے پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ بالکل اسی طرح جس طرح اس نے ان کے اس فیصلے پر کسی خوشی کا اظہار نہیں کیا تھا کہ اسے بیرون ملک تعلیم کے لئے بجھوایا جائے گا ۔
سائیکوانالسٹ کے ساتھ آخری سیشن کے بعد سکندر اسے گھر لے آئے اور انہوں نے طیبہ کے ساتھ مل کر اس سے ایک لمبی چوڑی میٹنگ کی ۔ وہ دونوں اپنے بیڈ روم میں بٹھا کر اسے ان تمام آسائشوں کے بارے میں بتاتے رہے جو وہ پچھلے کئی سالوں میں اسے فراہم کرتے رہے تھے ۔ انہوں نے اسے ان توقعات کے بارے میں بھی بتایا جو وہ اس سے رکھتے تھے ۔ اسے ان محبت بھرے جذبات سے بھی آگاہ کیا جو وہ اس کے لئے محسوس کرتے تھے ۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ چیونگم چباتا باپ کی بے چینی اور ماں کے آنسو دیکھتا رہا ۔ گفتگو کے آخر میں سکندر نے تقریبا" تنگ آکر اس سے کہا ۔
تمہیں کس چیز کی کمی ہے ۔ کیا ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے یا جو تمہیں چاہیے ۔ مجھے بتاؤ سالار سوچ میں پڑگیا
اسپورٹس کار ۔ اگلے لمحے اس نے کہا
ٹھیک ہے میں تمہیں اسپورٹس کار باہر سے منگوادیتا ہوں مگر دوبارہ ایسی کوئی حرکت مت کرنا جو تم نے کی ہے ۔ اوکے ۔ سکندر عثمان کو کچھ اطمینان ہوا ۔
سالار نے سر ہلا دیا ۔ طیبہ نے ٹشو سے اپنے آنسو صاف کرنے ہوئے جیسے سکون کا سانس لیا ۔
وہ کمرے سے چلا گیا تو سکندر نے سگار سلگاتے ہوئے ان سے کہا
طیبہ ! تمہیں اس پر بہت توجہ دینی پڑے گی ۔ اپنی ایکٹیوٹیز کچھ کم کرو اور کوشش کرو کہ اس کے ساتھ روزانہ کچھ وقت گزار سکو ۔ طیبہ نے سر ہلادیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسیم نے امامہ کو دور سے ہی لان میں بیٹھے دیکھ لیا۔ وہ کانوں پر ہیڈ فون لگائے واک مین پر کچھ سن رہی تھی۔ وسیم دبے قدموں اس کی پشت کی جانب سے اس کے عقب میں گیا اور اس کے پاس جاکر اس نے یکدم امامہ کے کانوں سے ہیڈفون کے تار کھینچ لیے۔ امامہ نے برق رفتاری سے واک مین کا اسٹاپ کا بٹن دبایا تھا۔
"کیا سنا جارہا ہے یہاں اکیلے بیٹھے؟" وسیم نے بلند آواز میں کہتے ہوئے ہیڈ فون کو اپنے کانوں میں ٹھونس لیا مگر تب تک امامہ کیسٹ بند کرچکی تھی۔ کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوکر اس نے ہیڈ فون کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے وسیم سے کہا۔
"بدتمیزی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے وسیم! بی ہیو یور سلیف۔" اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا۔ وسیم نے ہیڈفون کے سروں کو نہیں چھوڑا، امامہ کے غصے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
"میں سننا چاہتا ہوں، تم کیا سن رہی تھیں۔ اس میں بدتمیزی والی کیا بات ہے، کیسٹ کو آن کرو۔"
امامہ نے کچھ جھنجھلاتے ہوئے ہیڈفون کو واک مین سے الگ کردیا۔ "میں تمہارے سننے کے لئے واک مین لے کر یہاں نہیں بیٹھی، دفع ہوجاؤ یہ ہیڈ فون لے کر۔"
وہ ایک بار پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی، اس نے واک مین کو بڑی مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں جکڑا ہوا تھا۔
وسیم کو لگا جیسے وہ کچھ گھبرائی ہوئی ہے مگر وہ گھبرائے گی کیوں؟ وسیم نے سوچا اور اس خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے سامنے والی کرسی پر جاکر بیٹھ گیا۔ ہیڈفون کو اس نے میز پر رکھ دیا۔
"یہ لو، اپنا غصہ ختم کرو۔ واپس کررہا ہوں میں، تم سنو، جو بھی سن رہی ہو۔" اس نے بڑے صلح جویانہ انداز میں ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔
"نہیں، اب مجھے نہیں سننا کچھ، تم ہیڈفون رکھو اپنے پاس۔" امامہ نے ہیڈفون کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔
"ویسے تم سن کیا رہی تھیں؟"
"کیا سنا جاسکتا ہے؟" امامہ نے اسی کے انداز میں کہا۔
"غزلیں سن رہی ہوگی؟" وسیم نے خیال ظاہر کیا۔
"تمہیں پتا ہے وسیم! تم میں بہت ساری عادتیں بوڑھی عورتوں والی ہیں؟"
"مثلاً۔"
"مثلاً بال کی کھال اتارنا۔"
"اور۔"
"اور دوسری کی جاسوسی کرتے پھرنا اور شرمندہ بھی نہ ہونا۔"
"اور تمہیں پتا ہے کہ تم آہستہ آہستہ کتنی خودغرض ہوتی جارہی ہو۔" وسیم نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا۔ امامہ نے اس کی بات پر برا نہیں مانا۔
"اچھا۔۔۔۔۔ تمہیں پتا چل گیا کہ میں خودغرض ہوں۔" اس بار اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"حالانکہ تم جتنے بے وقوف ہو میں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ یہ نتیجہ اخذ کرلو گے۔"
"تم اگر مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش کررہی ہو تو مت کرو، میں شرمندہ نہیں ہوں گا۔" وسیم نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
"پھر بھی ایسے کاموں کی کوشش تو ہر ایک پر فرض ہوتی ہے۔"
"آج تمہاری زبان کچھ زیادہ نہیں چل رہی؟" وسیم نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہوسکتا ہے۔"
"ہوسکتا ہے نہیں، ایسا ہی ہے۔ چلو اچھا ہے، وہ چپ شاہ کا روزہ تو توڑ دیا ہے تم نے جو اسلام آباد آنے پر تم رکھ لیتی ہو۔" امامہ نے غور سے وسیم کو دیکھا۔
"کون سا چپ شاہ کا روزہ؟"
"تم جب سے لاہور گئی ہو خاصی بدل گئی ہو۔"
"مجھ پر اسٹڈیز کا بہت بوجھ ہوتا ہے۔"
"سب پر ہوتا ہے امامہ! مگر کوئی بھی اسٹڈیز کوا تنا سر پر سوار نہیں کرتا۔" وسیم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
"چھوڑو اس فضول بحث کو، یہ بتاؤ تم آج کل کیا کررہے ہو؟"
"عیش۔" وہ اسی طرح کرسی جھلاتا رہا۔
"یہ تو تم پورا سال ہی کرتے ہو، میں آج کل کی خاص مصروفیت کا پوچھ رہی ہوں۔"
"آج کل تو بس دوستوں کے ساتھ پھر رہا ہوں۔ تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ پیپرز کے بعد میری مصروفیات کیا ہوتی ہیں۔ سب کچھ بھولتی جارہی ہو تم۔" وسیم نے افسوس بھری نظروں سے کہا۔
"میں نے اس امید میں یہ سوال کیا تھا کہ شاید اس سال تم میں کوئی بہتری آجائے مگر نہیں، میں نے بے کار سوال کیا۔" امامہ نے اس کے تبصرے کے جواب میں کہا۔
"تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ میں تم سے ایک سال بڑا ہوں، تم نہیں، اس لئے اب اپنی ملامتی تقریر ختم کردو۔" وسیم نے اسے کچھ جتاتے ہوئے کہا۔
"یہ ساتھ والوں کے لڑکے سے تعلقات کا کیا حال ہے؟" امامہ کو اچانک یاد آیا۔
"چُو چُو سے؟ بس کچھ عجیب سے ہی تعلقات ہیں۔" وسیم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ "بڑا عجیب سا بندہ ہے، موڈ اچھا ہے تو دوسرے کو ساتویں آسمان پر بٹھا دے گا، موڈ خراب ہے تو سیدھا گٹر میں پہنچا دے گا۔"
"تمہارے زیادہ تر دوست اسی طرح کے ہیں" امامہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔"
"نہیں، خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ کم از کم میری عادتیں اور حرکتیں چُوچُو جیسی تو نہیں ہیں۔"
"وہ تو باہر جانے والا تھا نا؟" امامہ کو اچانک یاد آیا۔
"ہاں جانا تو تھا مگر پتا نہیں میرا خیال ہے اس کے پیرنٹس نہیں بھجوا رہے۔"
"حلیہ بڑا عجیب سا ہوتا ہے اس کا۔ مجھے بعض دفعہ لگتا ہے ہپیوں کے کسی قبیلے سے کسی نہ کسی طرح اس کا تعلق ہوگا یا آئندہ ہوجائے گا۔"
"تم نے دیکھا ہے اسے؟"
"کل میں باہر سے آرہی تھی تو دیکھا تھا۔ وہ بھی اسی وقت باہر نکل رہا تھا، کوئی لڑکی بھی تھی ساتھ۔"
"لڑکی؟ جینز وغیرہ پہنی ہوئی تھی اس نے؟ وسیم نے اچانک دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔
"ہاں۔"
"مشروم کٹ بالوں والی۔۔۔۔۔فئیر سی؟"
"ارسہ۔"" وسیم چٹکی بجاتے ہوئے مسکرایا۔ "اس کی گرل فرینڈ ہے۔"
"پچھلی دفعہ تو تم کسی اور کا نام لے رہے تھے۔" امامہ نے اسے گھورا۔
"پچھلی دفعہ کب؟" وسیم سوچ میں پڑ گیا۔
"سات آٹھ ماہ پہلے شاید تم سے اس کی گرل فرینڈ کی بات ہوئی تھی۔"
"ہاں تب شیبا تھی۔ اب

06/01/2026

پیرِ_کامل_ﷺ
از_عمیرہ_احمد
قسط_نمبر_04
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امامہ آپا ۔ آپ لاہور کب جائیں گی ؟
وہ اپنے نوٹس کو دیکھتے ہوئے چونکی۔ سر اٹھا کر اس نے سعد کو دیکھا ۔ وہ سائیکل کی رفتار کو اب بالکل آہستہ کئے اس کے گرد چکر لگا رہا تھا ۔
کل ۔۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔۔ ؟ تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ امامہ نے اپنی فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
جب آپ چلی جاتی ہیں تو میں آپ کو بہت مس کرتا ہوں ۔ وہ بولا
کیوں ۔۔۔۔۔ ؟ امامہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
کیونکہ آپ مجھے بہت اچھی لتی ہیں اور آپ میرے لئے بہت سے کھلونے لاتی ہیں اور آپ مجھے سیر کروانے لے کر جاتی ہیں ۔ اور آپ میرے ساتھ کھیلتی ہیں اس لئے۔ اس نے تفصیلی جواب دیا ۔
آپ مجھے اپنے ساتھ لاہور نہیں لے جاسکتیں ؟ امامہ اندازہ نہیں کرسکی یہ تجویز تھی یا سوال
میں کیسے لے جاسکتی ہوں ۔۔۔۔۔ میں تو خود ہاسٹل میں رہتی ہوں ، تم کیسے رہو گئے وہاں ؟ امامہ نے کہا
سعد سائیکل چلاتے ہوئے کچھ سوچنے لگا پھر اس نے کہا ۔ تو پھر آپ جلدی یہاں آیا کریں
اچھا ۔۔۔۔۔ جلدی آیا کروں گی ۔ امامہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ تم ایسا کیا کرو مجھ سے فون پر بات کرلیا کرو۔ میں فون کیا کروں گی تمہیں
ہاں یہ ٹھیک ہے ۔ سعد کو اسکی تجویز پسند آئی ۔ سائیکل کی رفتار میں اضافہ کرتے ہوئے وہ لان کے لمبے لمبے چکر کاٹنے لگا ۔ امامہ بے دھیانی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی
وہ اسکا بھائی نہیں تھا ۔ دس سالہ سعد پانچ سال پہلے ان کے گھر آیا تھا ، کہاں سے آیا تھا اس بارے میں وہ نہیں جانتی تھی کیونکہ اسے اس بارے میں اس وقت کوئی تجسس نہیں ہوا تھا مگر کیوں لایا گیا تھا ۔ یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔ سعد اب دس سال کا تھا اور وہ گھر میں بالکل گھل مل گیا تھا ۔ امامہ سے وہ سب سے زیادہ مانوس تھا ۔ امامہ کو اکثر اس پر ترس آتا ۔ ترس کی وجہ اسکا لاوارث ہونا نہیں تھا۔ ترس کی وجہ اس کا مستقبل تھا۔ اس کے دو چچاؤں اور ایک تایا کے گھر بھی اس وقت اسی طرح کے گود لئے ہوئے بچے پل رہے تھے ۔ وہ ان کے مستقبل پر بھی ترس کھانے پر مجبور تھی ۔
فائل ہاتھ میں پکڑے سائیکل پر لان میں گھومتے سعد پر نظریں جمائے وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ اسی طرح کی بہت سی سوچوں میں الجھ جاتی تھی مگر اس کے پاس کوئی حل نہیں تھا وہ اس کے لئے کچھ نہیں کرسکتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں اس وقت لاہور کے ریڈ لائٹ ایریا میں موجود تھے۔ ان کی عمریں اٹھارہ ، انیس سال کے لگ بھگ تھیں اور اپنے حلیے سے وہ چاروں اپر کلاس کے لگتے تھے مگر وہاں پر نہ انکی عمر کوئی نمایاں کردینے والی چیز تھی نہ ہی انکی اپر کلاس سے تعلق رکھنے کی امتیازی خصوصیت ۔۔۔۔ کیونکہ وہاں پر ان سے بھی کم عمر لڑکے آتے تھے اور اپر کلاس اس علاقے کے مستقل کسٹمرز مین شامل تھی۔
چاروں لڑکے ریڈ لائٹ ایریا کی ٹوٹی ہوئی گلیوں سے گزرتے جارہے تھے ۔ تین لڑکے آپس میں باتیں کررہے تھے جبکہ صرف چوتھا قدرے تجسس اور دلچسپی سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پہلی بار وہاں آیا تھا اور ان تینوں کے ساتھ تھوڑی دیر بعد ہونے والی اسکی گفتگو سے یہ ظاہر ہوگیا تھا کہ وہ واقعی وہاں پہلی بار آیا تھا ۔
گلی کے دونوں اطراف میں کھلے دروازوں میں بناؤ سنگھار کئے نیم عریاں کپڑوں میں ملبوس ہر عمر اور ہر شکل کی عورت کھڑی تھی ۔ سفید ۔۔۔۔۔ سانولی ۔۔۔۔۔ سیاہ ۔۔۔۔۔ گندمی ۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔ درمیانی۔۔۔۔۔۔ اور معمولی شکل و صورت والی ۔
گلی میں سے ہر شکل اور عمر کا مرد گزر رہا تھا ۔ وہ لڑکا وہاں سے گزرتے ہوئے ہر چیز پر غور کر رہا تھا ۔ تم یہاں کتنی بار آئے ہو ۔ چلتے چلتے اس لڑکے نے اچانک اپنے ساتھ والے لڑکے سے پوچھا
وہ لڑکا جوابا" ہنسا کتنی بار ۔۔۔۔۔؟ یہ تو پتا نہیں ۔۔۔۔۔ اب تو گنتی بھی بھول چکا ہوں ۔ اکثر آٹا ہوں یہاں پر ۔ اس لڑکے نے قدرے فخریہ انداز میں کہا
ان عورتوں میں مجھے تو کوئی اٹریکشن محسوس نہیں ہورہی
ان میں تو کچھ بھی خاص نہیں ۔ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
اگر کہیں رات ہی گزارنی ہو تو کم از کم ماحول تو اچھا ہو ۔ یہ تو بہت گندی جگہ ہے اس نے گلی میں موجود گڑھوں اور کوڑے کے ڈھیروں کو دیکھتے ہوئے کچھ ناگواری سے کہا
پھر گرل فرینڈز کے ہوتے ہوئے یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس نے اس بار اپنی بھنوئیں اچکاتے ہوئے کہا
اس جگہ کا اپنا ایک چارم ہے ۔ گرل فرینڈز اور یہاں کی عورتوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ گرل فرینڈز اس طرح کے ڈانس تو نہیں دکھا سکتیں جو ابھی کچھ دیر بعد تم دیکھو گے ۔ تیسرا لڑکا ہنسا۔ اور پھر پاکستان کی جس بڑی ایکٹریس کا ڈانس ہم تمہیں دکھانے لے جارہے ہیں وہ تو بس ۔۔۔۔۔۔
دوسرے لڑکے کی بات کو پہلے لڑکے نے کاٹ دیا ۔ اس کا ڈآنس تو تم پہلے مجھے دکھا چکے ہو ۔
ارے وہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ بھائی کی شادی پر ایک مجرا کیاتھا ۔۔۔۔۔ مگر یہاں پر تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ وہ ایکٹرس تو ایک پوش علاقے میں رہتی ہے پھر یہاں کیوں آتی ہے ۔ پہلے لڑکے نے کچھ غیر مطمئن انداز میں اس سے پوچھا
یہ تم آج خود اس سے پوچھ لینا میں کبھی اس سے اس طرح کے سوال نہیں کرتا، دوسرے لڑکے کی بات پر باقی دونوں لڑکے ہنسے مگر تیسرا لڑکا اسی طرح چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتا رہا
ان کا سفر بالآخر اس گلی کے آخر میں ایک عمارت کے سامنے ختم ہوگیا ۔ عمارت کے نیچے موجود دکان سے تینوں لڑکوں نے موتیے کے بہت سے ہار خریدے اور اپنی کلائیوں میں لپیٹ لیے ۔ ایک ہار دوسرے لڑکے نے اس لڑکے کی کلائی میں بھی لپیٹ دیا جو وہاں آنے پر اعتراض کررہا تھا ۔ پھر ان لوگوں نے وہاں سے پان خریدے۔ تمباکو والا پان دوسرے لڑکے نے اس لڑکے کو بھی دیا جو شاید زندگی میں پہلی بار پان کھا رہا تھا ۔ پان کھاتے ہوئے وہ چاروں اس عمارتے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے ۔ اوپر پہنچ کر پہلے لڑکے نے ایک بار پھر تنقیدی نظروں سے چاروں طرف دیکھا اور پھر اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک جھلک نمودار ہوئی ۔ وہ جہ بہت صاف ستھری اور خاصی حد تک آراستہ تھی ۔
گاؤ تکیے اور چاندنیاں بچھی ہوئی تھیں اور باریک پردے لہرا رہے تھے ۔ کچھ لوگ پہلے ہی وہاں موجود تھے ۔ رقص ابھی شروع نہیں ہوا تھا ۔ ایک عورت لپکتی ہوئی انکی طرف آئی ۔ اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مصنوعی مسکراہت سجی ہوئی تھی اس نے دوسرے لڑکے کو مخاطب کیا پہلے لڑکے نے غور سے اس عورت کو دیکھا ۔ ادھیڑ عمر کی وہ عورت اپنے چہرے پر بے تحاشا میک اپ تھوپے اور بالوں میں موتیے اور گلاب کے گجرے لٹکائے ، شیلون کی ایک چنگھاڑتی ہوئی سرخ ساڑھی میں ملبوس تھی ۔ جس کا بلاؤزر اس کے جسم کو چھپانے میں ناکام ہورہا تھا مگر وہ جسم کو چھپانے کے لئے پہنا بھی نہیں گیا تھا۔ ان چاروں کو وہ ایک کونے میں لے گئی اور وہاں اس نے انہیں بٹھادیا ۔
پہلے لڑکے نے وہاں بیٹھتے ہی منہ میں موجود پان اس اگلدان میں تھوک دیا جو انکے قریب موجود تھا ۔ کیونکہ پان منہ میں ہوتے ہوئے اس سے بات کرنا مشکل ہورہا تھا ۔ پان کا ذائقہ بھی اس کے لئے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔ تینوں لڑکے وہاں بیٹھے مدہم آوازمیں باتیں کرنے لگے جب کہ پہلا لڑکا اس ہال کے چاروں طرف موجود گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے لوگوں کو دیکھتا رہا جن میں سے کچھ اپنے سامنے شراب کی بوتلیں اور نوٹوں کی گڈیاں رکھے بیٹھے تھے ۔ ان میں سے اکثریت سفید لٹھے کے کلف لگے کپڑوں میں ملبوس تھی ۔ اس نے عید کے اجتماعات کے علاوہ آج پہلی بار کسی اور جگہ پر سفید لباس پہننے والوں کا اتنا بڑا اجتماع دیکھا تھا۔ خود وہ اپنے ساتھیوں کی طرح سیاہ چینز اور اسی رنگ کی آدھے باروؤں والی ٹی شرٹ میں ملبوس تھا ۔ انکی عمر کے کچھ اور لڑکے بھی وہاں انہی کی طرح جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھے تھوڑی دیر میں ایک اور عورت وہاں آکر ہال کے درمیان میں بیٹھ کر ایک غزل سنانے لگی تھی ۔ اس کے ساتھ کچھ سازندے بھی تھے ۔ وہ غزلیں سنانے اور اپنے اوپر اچھالے ہوئے نوٹ اٹھا کر وہ خاصی خوش اور مطمئن واپس چلی گئی ۔ اور اس کے جانے کے فورا" بعد ہی فلم انڈسٹری ہال میں داخل ہوئی اور ہال میں موجود ہر مرد کی نظر اس سے جیسے چپک کر رہ گئی تھی ۔ اس نے ہال میں باری باری چاروں طرف گھوم کر ہر ایک کو سر کے اشارے سے خوش آمدید کہا تھا ۔
سازندوں کو اس بار کسی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑآ تھا ۔ کیسٹ پلیئر پر باری باری چند ہیجان انگیز گانے لگائے گئے تھے جن پر اس عورت نے اپنا رقص پیش کرنا شروع کیا تھا ۔ اور کچھ دیر پہلے کی خاموشی یک دم ختم ہوگئی تھی چاروں طرف موجود مرد اس عورت کو دادو تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ شراب نوشی میں مصروف تھے۔ ان میں سے کچھ جو زیادہ جوش میں آرہے تھے وہ اٹھ کر اس ایکٹرس کے ساتھ ڈانس میں مصروف ہوجاتے ۔
ہال میں واحد شخص جو اپنی جگہ پر کسی حرکت کے بغیر بے تاثر چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا وہ وہی لڑکا تھا مگر اس کے باوجود یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ اس ایکٹریس کے رقص سے خاصا محظوظ ہورہا تھا
تقریبا دو گھنٹے بعد جب اس ایکٹریس نے اپنا رقص ختم کیا تو وہاں موجود آدھے سے زیادہ مرد انٹا غفیل ہوچکے تھے واپس گھر جانا ان کے لئے زیادہ مسئلہ اس لیے نہیں تھا کہ ان میں سے کوئی بھی گھر جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔ وہ سب ہی وہاں رات گزارنے آئے تھے ۔ ان چاروں نے بھی رات وہاں گزاری ۔
اگلے دن وہاں سے واپسی پر گاڑی میں اس دوسرے لڑکے نے جمائی لیتے ہوئے پہلے لڑکے سے پوچھا جو اس وقت لاپرواہی سے گاڑی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھا۔
کیسا رہا یہ تجربہ ؟
اچھا تھا ۔۔۔۔ پہلے لڑکے نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
بس اچھا تھا ۔۔۔۔ اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ تم بھی بس ۔۔۔۔ اس نے قدرے ناراضی کے عالم میں بات ادھوری چھوڑ دی
کبھی کبھار جانے کے لئے اچھی جگہ ہے ۔ اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتا ہوں ۔ مگر بہت خاص والی کوئی بات نہیں ہے ۔ میری گرل فرینڈ اس لڑکی سے بہتر ہے جس کے ساتھ میں نے رات گزاری ہے ۔ اس لڑکے نے دو ٹوک انداز میں کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈائنگ ٹیبل پر ہاشم مبین کی پوری فیملی موجود تھی ۔ کھانا کھانے ہوئے وہ سب آپس میں خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے ۔ موضوع گفتگو اس وقت امامہ تھی جو اس ویک اینڈ پر بھی اسلام آباد میں موجود تھی ۔
بابا ۔۔۔۔۔ آپ نے یہ بات نوٹ کی کہ امامہ دن بدن سنجیدہ ہوتی جارہی ہے ۔ وسیم نے قدرے چھیڑنے والے انداز میں امامہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
ہاں ۔۔ یہ تو میں بھی پچھلے کئی ماہ سے نوٹ کررہا ہوں ۔ ہاشم مبین نے وسیم کی بات پر بیٹی کے چہرے کو غور سے دیکتھے ہوئے کہا ۔
امامہ نے چاولوں کا چمچہ منہ میں رکھتے ہوئے وسیم کو گھورا ۔
کیوں امامہ ۔ کوئی مسئلہ ہے ؟
بابا یہ بڑی فضول باتیں کرتا ہے اور آپ بھی خوامخواہ اس کی باتوں میں آرہے ہیں ۔ میں اپنی اسٹڈیز کی وجہ سے مصروف اور سنجیدہ ہوں ۔ اب ہر کوئی وسیم کی طرح نکما تو نہیں ہوتا ۔ اس نے اپنے ساتھ بیٹھے وسیم کے کندھے پر کچھ ناراضی سے ہلکا سا ہاتھ مارتے ہوئے کہا
بابا ۔ آپ اندازہ کریں میڈیکل کے شروع کے سالوں میں اس کا یہ حال ہے تو جب یہ ڈاکٹڑ بن جائے گی تو اس کا کیا حال ہوگا ۔ وسیم نے امامہ کی تنبیہ کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔ سالوں گزر جایا کریں گے مس امامہ ہاشم کو مسکراتے ہوئے ۔
ڈآئنگ ٹیبل پر موجود لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ ان دونوں کے درمیان یہ نوک جھوک ہمیشہ ہی رہتی تھی ۔ بہت کم مواقع ایسے ہوتے تھے جب وہ دونوں اکٹھے ہوں اور انکے درمیان آپس میں جھگڑا نہ ہو ۔ مستقل بنیادوں پر ہوتے رہنے والے ان جھگڑوں کے باوجود امامہ کی سب سے زیادہ دوستی وسیم کے ساتھ ہی تھی ۔ اس کی وجہ شاید انکی اوپر تلے کی پیدائش بھی تھی ۔
اور آپ تصور کریں کہ ۔۔۔۔ اس بار امامہ نے اسے اپنی بات مکمل کرنے نہیں دی ۔ اس نے اس کے کندھے پر پوری طاقت سے مکا مارا ۔ وسیم پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا ۔
ہمارے گھر میں ایک ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا کے سوا اور کیا کیا ہوسکتا ہے ۔ آپ اس کا مظاہرہ دیکھ رہے ہیں ۔ اس سے آپ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ آج کل کے ڈاکٹڑز وارڈ میں مریضوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہونگے ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی شرح اموات کی ایک وجہ ۔۔۔۔۔۔
بابا اس کو منع کریں ۔ امامہ نے بالآخر ہتھیار ڈالتے ہوئے ہاشم مبین سے کہا ۔
وسیم ۔۔۔۔۔ ہاشم نے اپنے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے وسیم کو جھڑکا ۔ وہ بڑی سعادت مندی سے فورا" خاموش ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پورے لفافے کو گرائنڈر میں خالی کردیا اور پھر اسے بند کرکے چلایا۔ خانساماں اسی وقت اندر آیا ۔
چھوٹے صاحب لائیں میں آپکی مدد کردوں ۔ وہ اسکی طرف بڑھا مگر اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا ۔ نہیں نہیں میں خود کرلیتا ہوں ۔ تم مجھے دودھ کا ایک گلاس دے دو ۔ اس نے گرائنڈر آف کرتے ہوئے کہا ۔ خانساماں ایک گلاس میں دودھ لے کر اس کے پاس چلا آیا ۔ دودھ کے آدھے گلاس میں اس نے گرائینڈ میں موجود تمام پاؤڈر ڈال دیا اور ایک چمچہ سے اچھی طرح ہلانے لگا پھر ایک ہی سانس میں وہ دودھ پی گیا۔
کھانے میں آج کیا پکایا ہے تم نے ۔ اس نے خانساماں سے پوچھا
خانساماں نے کچھ ڈشز گنوانی شروع کردیں ۔ اس کے چہرے پر کچھ ناگواری ابھری
میں کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ سونے جارہا ہوں ۔ مجھے ڈسٹرب مت کرنا ۔ اس نے سختی سے کہا اور کچن سے نکل گیا ۔
پیروں میں پہنی ہوئی باٹا کی چپل کو وہ فرش پر تقریبا" گھسیٹ رہا تھا ۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور آنکھیں سرخ تھیں ۔ شرٹ کے چند ایک کے سوا سارے ہی بٹن کھلے ہوئے تھے ۔
اپنے کمرے میں جاکر اس نے دروازے کو لاک کرلیا اور وہاں موجود جہازی سائز کے میوزک سسٹم کی طرف گیا اور کمرے میں بولٹن کا گانا بلند آواز میں بجنے لگا ۔ وہ ریموٹ لیکر اپنے بیڈ پر آگیا اور اوندھے منہ بے ترتیبی کے عالم میں لیٹ گیا۔
اس کا ریموٹ والا بایاں ہاتھ بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا اور مسلسل ہل رہا تھا۔ اس کے دونوں پاؤن بھی میوزک کے ساتھ گردش میں تھے ۔
کمرے میں بیڈ اور اس کے اپنے حلیے کے علاوہ ہر چیز اپنی جگہ پر تھی ۔ کہیں پر کچھ بھی بے ترتیب نہیں تھا ۔ کہیں پر گرد کا ایک ذرہ تک نظر نہیں آرہا تھا ۔ میوزک سسٹم کے پاس موجود دیواری شیلف میں تمام آڈیو اور ویڈیو کیسٹس بڑے اچھے طریقے سے لی ہوئی تھیں ۔ ایک دوسری دیوار میں موجود ریکس پر کتابوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ کونے میں پڑی ہوئی کمپیوٹر ٹیبل سے عیاں تھا کہ اسے استعمال کرنے والا بہت آرگنائزڈ ہے ۔ کمرے کی مختلف دیواروں پر ہالی وڈ کی ایکٹریسز کے پوسٹر لگے ہوئے تھے ۔ باتھ روم کے دروازے اور کمرے کی کھڑکیوں کے شیشوں کو پلے بوائے میگزین سے کاٹی گئی کچھ ماڈلز کی تصویروں سے سجایا گیا تھا۔ کمرے میں پہلی بار داخل ہونے ولا دروازہ کھولتے ہی بہت بری طرح چونکتا کیونکہ بالکل سامنے کھڑکیوں کے شیشوں پر موجود چند لمحوں کے لئے دیکھنے والوں کو تصویریں نہیں بلکہ اصل لڑکیاں نظر آتی تھیں ۔ میوزک سسٹم جس دیوار میں موجود تھا اسی دیوار کے ایک کونے میں دیوار پر ایک الیکٹرک گٹار لٹکایا گیا تھا اور اسی کونے میں اسٹینڈ پر ایک کی بورڈ رکھا ہوا تھا ۔ بیڈ کے سامنے والی دیوار میں بنی کیبنٹ میں ٹی وی موجود تھا ۔ اور اسی کیبنٹ کے مختلف خانوں میں مختلف شیلڈز اور ٹرافیز پڑی ہوئی تھیں۔
کمرے کا چوتھا کونا بھی خالی نہیں تھا وہاں دیوار پر مختلف ریکٹس لٹکے ہوئے تھے ان میں سے ایک ٹینس کا تھا اور دو اسکواش کے ۔ ان ریکٹس کو دیوار پر لٹکانے سے پہلے نیچے پوسٹر لگائے گئے تھے اور پھر ریکٹس اس طرح لٹکائے گئے تھے کہ یوں لگتا تھا وہ ریکٹس ان کھلاڑیوں نے پکڑے ہوں ٹینس کے ریکٹ کے نیچے گبریلا سباٹینی کا پوسٹر تھا جبکہ اسکواش کے ایک ریکٹ کے نیچے جہانگیرخان کا پوسٹر تھا اور دوسرے کے نیچے روڈنی مارٹن کا ۔
کمرے میں واحد جگہ جہاں بے ترتیبی تھی وہ ڈبل بیڈ تھا ۔ جس پر وہ لیٹا ہوا تھا ۔ سلک کی بیڈ شیٹ بری طرح سلوٹ زدہ تھی اور اس پر ادھر ادھر چند غیر ملکی میگزین پڑے ہوئے تھے جن میں پلے بوائے نمایاں تھا ۔ بیڈ پر ایک پیپر کٹر اور کاغذ کی کچھ چھوٹی چھوٹی کترنیں بھی پڑی ہوئی تھیں ۔ یقینا" کچھ دیرپہلے وہ ان میگزینز سے تصاویر کاٹ رہا تھا ۔ چیونگمز کے کچھ ریپرز بھی تڑے مڑے بیڈ پر ہی پڑے ہوئے تھے۔ ڈن ہل کا ایک پیکٹ اور لائٹر بھی ایش ٹرے کے ساتھ بیڈ پر ہی پڑا ہوا تھا ۔ جبکہ سلک کی سفید چمک دار بیڈ شیٹ پر کئی جگہ ایسے نشانات تھے جیسے وہاں پر سگریٹ کی راکھ گری ہو ۔ کافی کا ایک خالی مگ بھی بیڈ پر پڑا ہوا تھا اوراس کے پاس ایک ٹائی اور رسٹ واچ بھی تھی ۔ ان سب چیزوں سے کچھ فاصلے پر سرہانے ایک موبائل فون پڑا تھا جس پر یک دم کوئی کال آنے لگی تھی ۔ بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا ہوا وہ نوجوان اب شاید نیند کے عالم میں تھا کیونکہ موبائل کی بیپ پر اس نے سر اٹھائے بغیر اپنا دایاں ہاتھ بیڈ پر ادھر سے ادھر پھیرا مگر موبائل اسکی رسائی سے بہت دور تھا ۔ اس پر مسلسل کال آرہی تھی ۔ کچھ دیر اسی طرح ادھر ادھر ہاتھ پھیرنے کے بعد اسکا ہاتھ ساکت ہوگیا ۔ شاید وہ اب سو چکا تھا ۔ موبائل پر اب بھی کال آرہی تھی ۔ پھر یک دم کسی نے دروازے پر دستک دی اور پھر دستک کی آواز بڑھتی گئی ۔ موبائل پر کال ختم ہوچکی تھی لیکن دروازے پر دستک دینے والے ہاتھ بڑھتے گئے اور وہ بیڈ پر اوندھے منہ بے حس و حرکت لیٹا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈونٹ ٹیل می ، امامہ ۔ کیا تم واقعی انگیجڈ ہو
زینت کو جویریہ کے انکشاف پر جسیے کرنٹ لگا ۔ امامہ نے ملامتی نظروں سے جویریہ کو دیکھا جو پہلے ہی معذرت خواہانہ انداز میں اسے دیکھ رہی تھی ۔
اسے نہیں ، مجھے دیکھ کر بتاؤ کیا تم واقعی انگیجڈ ہو ؟ زینب نے اس بار اسے کچھ جھڑکتے ہوئے کہا
ہاں مگر یہ اس قدر غیر معمولی اور حیرت انگیز واقعہ تو نہیں کہ تم اس پر اس طرح ری ایکٹ کرو
امامہ نے بڑی رسانیت سے کہا ۔ وہ سب لائبریری میں بیٹھی ہوئی تھیں اور اپنی طرف سے حتی المقدور سرگوشیوں میں باتیں کررہی تھیں
مگر تمہیں ہمیں بتانا تو چاہیے تھا، آخر راز میں رکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس بار رابعہ نے کہا
راز میں نے تو نہیں رکھا ، بس یہ کوئی اتنا اہم واقعہ نہیں تھا کہ تمہیں بتاتی اور پھر تم لوگوں سے میری دوستی تو اب ہوئی ہے جبکہ اس منگنی کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ امامہ نے وضاحت کرنے ہوئے کہا ۔ کئی سال سے تمہاری کیا مراد ہے ؟ میرا مطلب ہے دو تین سال
پھر بھی امامہ بتانا تو چاہیے تھا تمہیں ۔۔۔۔۔ زینب کا اعتراض ابھی بھی اپنی جگہ قائم تھا ۔ امامہ نے مسکراتے ہوئے زینب کو دیکھا
اب کروں گی تو اور کسی کو بتاؤں یا نہ بتاؤں تمہیں ضرور بتاؤں گی
ویری فنی ۔ زینب نے اسے گھورتے ہوئے کہا
اور کچھ نہیں تو تم ہمیں کوئی تصویر وغیرہ ہی لاکر دکھا دو موصوف کی ۔۔۔۔ ہے کون؟ ۔۔۔۔۔۔ نام کیا ہے ؟ کیا کرتا ہے ؟
رابعہ نے ہمیشہ کی طرح ایک ہی سانس میں سوال در سوال کر ڈالے ۔
فرسٹ کزن ہے ۔۔۔۔۔ اسجد نام ہے ۔ امامہ نے رک رک کر کچھ ہوچتے ہوئے کہا ۔ ایم بی اے کیا اس نے اور بزنس کرتا ہے ۔
شکل و صورت کیسی ہے ۔ اس بار زینب نے پوچھا ۔ امامہ نے غور سے اسکے چہرے کو دیکھا
ٹھیک ہے
ٹھیک ہے ؟ میں تم سے پوچھ رہی ہوں ۔۔۔ لمبا ہے ؟ ڈارک ہے ؟ ہینڈسم ہے ؟ اس بار امامہ مسکراتے ہوئے کچھ کہے بغیرزینب کو دیکھتی رہی ۔
امامہ نے اپنی پسند سے منگنی کی ہے ۔۔۔۔۔ وہ اچھا خاصا گڈلکنگ ہے ۔۔۔ جویریہ نے اس بار امامہ کی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہا ۔
ہاں ہمیں اندازہ کرلینا چاہیے تھا ۔ آخر وہ امامہ کا فرسٹ کزن ہے ۔۔۔۔ اب امامہ تمہارا اگلا کام یہ ہے کہ تم ہمیں اس کی تصویر لا کر دکھاؤ ۔ زینب نے کہا
نہیں ، اس سے پہلے کا ضروری کام یہ ہے کہ تم ہمیں کچھ کھلانے پلانے لے چلو ۔ رابعہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔
فی الحال تو یہاں سے چلیں ، ہاسٹل جانا ہے مجھے ۔۔۔۔۔ امامہ یک دم اٹھ کر کھڑی ہوگئی تو وہ بھی اٹھ گئیں
ویسے جویریہ تم نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی ، ساتھ چلتے ہوئے زینب نے جویریہ سے پوچھا۔
بھئی امامہ نہیں چاہتی تھی اس لیے میں نے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی ۔ جویریہ نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا ۔ امامہ نے مڑکر ایک بار پھر جویریہ کو گھورا ، اس کی نظروں میں تنبیہ تھی
امامہ کیوں نہیں چاہتی تھی ۔ میری منگنی ہوئی ہوتی تو میں تو شور مچاتی ہر جگہ ، وہ بھی اس صورت میں جب یہ میری اپنی مرضی سے ہوتی ۔ زینب نے بلند آواز میں کہا ۔
امامہ نے اس بار کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کا بیٹا آبادی کے اس 2.5 فیصد حصے میں شامل ہے جو 150 سے زیادہ کا آئی کیو لیول رکھتے ہیں۔ اس آئی کیو لیول کے ساتھ وہ جو کچھ کررہا ہے وہ غیر معمولی سہی لیکن غیر متوقع نہیں ہے ۔
اس غیر ملکی اسکول میں سالار کو جاتے ہوئے ابھی صرف ایک ہفتہ ہوا تھا جب سکندر اور اسکی بیوی کو وہاں بلوایا گیا تھا ۔ اسکول کے سائیکالوجسٹ نے انہیں سالار کے مختلف آئی کیو ٹیسٹ کے بارے میں بتایا تھا ، جس میں اس کی پرفارمنس نے اس کے ٹیچرز اور سائکالوجسٹ کو حیران کردیا تھا ۔ اس اسکول میں وہ 150 آئی کیو لیول والا پہلا اور واحد بچہ تھا اور چند ہی دنوں میں وہ وہاں سب کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا ۔
سکندر اور انکی بیوی سے ملاقات کے دوران سائیکالوجسٹ کو اس کے بچپن کے بارے میں کچھ اور کھوج لگانے کا موقع ملا ۔ وہ کافی دلچسپی سے سالار کے کیس کو اسٹڈی کررہا تھا اور دلچسپی کی یہ نوعیت پروفیشنل نہیں ذاتی تھی ۔ اپنے کیرئیر میں وہ پہلی بار اس آئی کیوکے بچے کا سامنا کررہا تھا ۔
سکندر کو آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد تھا ۔ سالار اس وقت صرف دو سال کا تھا اور غیر معمولی طور پر وہ اس عمر میں ایک عام بچے کی نسبت زیادہ صاف لہجے میں باتیں کرتا تھا ۔ اور باتوں کی نوعیت ایسی ہوتی تھی کہ وہ اور انکی بیوی اکثر حیران ہوتے ۔
ایک دن جب وہ اپنے بھائی سے فون پر بات کرنے کے لئے فون کررہے تھے تو سالار ان کے پاس کھڑا تھا ۔ وہ اس وقت ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے اور فون پر باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی بھی دیکھ رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد انہوں نے فون رکھ دیا ۔ ریسیور رکھنے کے فورا" بعد انہوں نے سالار کو فون کا ریسیور اٹھاتے ہوئے دیکھا ۔
ہیلو انکل ، میں سالار ہوں ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔ انہوں نے چونک کر اسے دیکھا ۔ وہ اطمینان سے ریسیور کان سے لگائے کسی سے باتوں میں مصروف تھا۔
میں ٹھیک ہوں ۔ آپ کیسے ہیں ؟ سکندر نے حیرت سے اسے دیکھا ۔ پہلے انکے ذہن میں یہی آیا کہ وہ جھوٹ موٹ فون پر باتیں کررہا ہے ۔
پاپا میرے پاس بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے ہین ۔ نہیں ۔ انہوں نے فون نہیں کیا ۔ میں نے خود کیا ہے ۔ وہ اسکے اگلے جملے پر چونکے
سالار کس سے باتیں کررہے ہو ۔ سکندر نے پوچھا
انکل شاہنواز سے۔ سالار نے سکندر کو جواب دیا ۔ انہوں نے ہاتھ بڑھا کرریسیور اس سے لے لیا ۔ انکا خیال تھا کہ اس نے غلطی سے کوئی نمبر ملا لیا ہوگا یا پھر لاسٹ نمبر کو ری ڈائل کردیا ہوگا ۔ انہوں نے کان سے ریسیور لگایا ۔ دوسری طرف انکے بھائی ہی تھے ۔
یہ سالار نے نمبر ڈائل کیا ہے ۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا
سالار نے کیسے ڈائل کیا ۔ وہ تو بہت چھوٹا ہے ۔ ان کے بھائی نے دوسری طرف کچھ حیرانی سے پوچھا
میرا خیال ہے اس نے آپکا نمبر ری ڈائل کردیا ہے ۔ اتفاق سے ہاتھ لگ گیا ہوگا ۔ ہاتھ مار رہا تھا سیٹ پر ۔ انہوں نے فون بند کردیا اور ریسیور نیچے رکھ دیا ۔ سالار جو خاموشی سے ان کی گفتگو سننے میں مصروف تھا ریسیور نیچے رکھتے ہی اس نے ایک بار پھر ریسیور اٹھالیا ۔ اس بار سکندر اسے دیکھنے لگے ۔ وہ بالکل کسی میچور آدمی کی طرح ایک بار پھر شاہنواز کا نمبر ڈائل کررہا تھا اور بڑی روانی کے ساتھ ۔ وہ ایک لمحہ کے لئے دم بخود رہ گئے ۔ دو سال کے بچے سے انہیں یہ توقع نہیں تھی ۔ انہوں نے ہاتھ بڑھا کر کریڈل دبا دیا ۔
سالار تمہیں شاہنواز کا نمبر معلوم ہے ۔ انہوں نے حیرانی کے اس جھٹکے سے سنبھلتے ہوئے کہا ۔
ہاں ۔ بڑے اطمینان سے جواب دیا گیا ۔
کیا نمبر ہے ۔ اس نے بھی روانی سے وہ نمبر دہرادیا ۔ وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگے ۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ گنتی کے اعداد سے واقف ہوگا اور پھر وہ نمبر ۔۔۔۔۔
تمہیں یہ نمبر کس نے سکھایا ؟
میں نے

Want your business to be the top-listed Government Service in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Faisalabad