Shadow Crime Stories

Shadow Crime Stories

Share

وَتُعِزُّمَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء
علی حیدر دلبر

16/03/2026

*عید کے نماز میں یہاں وہاں دیکھنے سے بہتر ہے 5 منٹ نکال کر یہ سیکھ لے*

*عید کی نماز اور اسکا طریقہ*
*نیت.... دو رکعت نماز عیدالفطر* *واجب 6 تکبیر زائد کے ساتھ*
*اللہ اکبر........ ثناء مکمل پڑھ کر 3 تکبیر*
*اللہ اکبر..... ہاتھ چھوڑ دو*
*اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دو*
*اللہ اکبر...... ہاتھ باندھ لو*
*امام قرأت کرے گا*
*أعوذ با اللہ..... بسمہ اللہ... فاتحہ....* *سورت رکوع سجدہ*
*پہلی رکعت مکمل*
................
*دوسری رکعت*
*بسمہ اللہ.... فاتحہ..... سورت*
*اسکے بعد 3 تکبیر*
*اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دیں*
*اللہ اکبر..... ہاتھ چھوڑ دیں*
*اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دیں*
.................
*اللہ اکبر کہہ کر رکوع کریں*
*پھر سجدہ سلام*
*ماشاء اللہ جی نماز عید ادا ہو گئی*
*روزانہ 5 منٹ مشق کریں....* *دوسروں کو سکھائیں*
*نماز عید کا خطبہ پڑھنا سنت ہے اور سننا واجب ہے*،،،.

13/03/2026

Please subscribe my Youtube channel and visit Far Full Story in my Youtube horror crime investigation action and Hindi Urdu stories
مزاج لڑکی@

07/03/2026

آسیب زدہ تابوت

رائٹر:اے۔ حمید

5 Episode

”تمہاری دائیں جانب جو کھجوروں کا جھنڈ ہے اس طرف چلتے جاؤ
کھجور کے درختوں کا جھنڈ میری دائیں جانب کچھ فاصلے پر دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی شخص میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ مجھے غیبی عورت کے سانس لینے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ درختوں کے جھنڈ میں آکر عورت کی آواز آئی۔
اب میری بات غور سے سنو۔ اپنے جس تعویذ کی تمہیں تلاش ہے وہ اس ملک میں نہیں ہے۔
پھر کہاں ہے...؟ میں نے پوچھا۔ غیبی عورت نے کہا۔
"کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے جنوب میں دریائے سرسوتی اور دریائے سندھ کی وادی ہے۔ وہاں
ہڑپا منجھ داڑو نام کی ایک شہری ریاست ہے جس پر دراوڑی راجہ ماگھی حکومت کرتا ہے۔ یہ لوگ شیش ناگ کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ لوگ آگ اور سانپوں کی پوجا کرتے ہیں۔ ان کے شہر ہڑپہ منجھ داڑو میں ایک بہت بڑا مندر ہے۔ اس مندر میں پوجا کرنے کی جگہ پر ہر وقت آگ جلتی رہتی ہے۔
پورنماشی کی رات کو سانپوں کا بادشاہ مندر میں آکر سونے کی چوکی پر بیٹھ جاتا ہے۔ شاہی پجاری سونے کے پیالے میں اسے دودھ پیش کرتا ہے۔ دیوداسیاں اس کے آگے رقص کرتی ہیں۔ رات ڈھلنے تک مندر میں اگنی دیوی اور سانپوں کے بادشاہ کی پوجا پاٹھ جاری رہتی ہے۔ جناتری نام کی دیوداسی سانپوں کے بادشاہ کی خوشنودی کے لیے اس کے آگے عریاں رقص پیش کرتی ہے۔ تم یہاں سے ہڑپہ منجھ داڑو شہر کے اس مندر میں جاؤ گے اور جناتری دیوداسی سے ملو گے۔ جناتری تمہیں بتائے گی کہ تمہیں تمہارا تعویذ کہاں سے مل سکتا ہے
قدیم تاریخ کا طالب علم ہونے کی وجہ سے میں سمجھ گیا تھا کہ یہ غیبی عورت مجھے بر صغیر پاک و ہند کے شمالی علاقے کی طرف بھیج رہی ہے اور جس شہر ہڑپہ منجھ داڑو کا اس نے نام لیا ہے وہ بگڑتے بگڑتے ہڑپہ ہو گیا ہے جس کے کھنڈر پاکستان میرے وطن کے صوبہ پنجاب میں واقع ہیں مگر میں جس زمانے میں تھا اس وقت ہندوستان کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ ہزار برس پہلے کا زمانہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ابھی آریا قوم کے لوگ بھی وسط ایشیاء سے اٹھ کر وادی سندھ میں نہیں آئے تھے۔
قدیم زمانے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وادی سندھ میں آریوں کی آمد سے پہلے دراوڑی قوم کے لوگ آباد تھے جن کے دریائے سندھ دریائے سرسوتی اور جنوب میں دریائے کرشنا کی وادیوں میں بڑے بڑے شہر آباد تھے اور ان شہروں کی اپنی اپنی حکومت اور اپنے اپنے راجہ ہوتے تھے۔ یہ لوگ آگ اور شیش ناگ کی پوجا کرتے تھے اور ان میں جادو ٹونے کا بڑا رواج تھا۔ شمال میں ہڑپہ اور موہنجودا ڑو اس قوم کی دو بڑی اہم شہری ریاستیں تھیں۔
جب آریا لوگ وسط ایشیاء سے اٹھ کر وادی سندھ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان شہروں کے راجاؤں کو جنگ میں شکست دے کر جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ دراوڑی قوم کے بارے میں تاریخ ہمیں کچھ نہیں بتاتی کہ یہ لوگ حقیقت میں کون تھے اور کہاں سے آکر وادی سندھ میں آباد ہو گئے تھے۔ ان شہروں کے کھنڈرات سے ملنے والی چیزوں، اوزاروں اور مٹی کے برتنوں اور دو ایک مورتیوں سے صرف اتنا ہی پتہ چل سکا ہے کہ یہ لوگ پختہ اینٹوں سے سڑکیں اور مکان بناتے تھے۔
یہ تو زمانہ قبل از تاریخ کی باتیں تھیں لیکن غیبی عورت مجھے خود دراوڑ قوم کے ان شہروں میں سے ہاراپا (ہڑپہ) نام کے ایک شہر میں بھیج رہی تھی اور یوں میں اس ہزاروں سال پرانے شہر کو اپنی تہذیب و تمدن کے عروج کے زمانے میں دیکھنے والا تھا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ غیبی عورت کہہ رہی تھی۔
یہاں سے میں تم سے جدا ہو جاؤں گی۔ جب میں نے تمہارے کندھے پر سے ہاتھ اٹھایا تو تم دوبارہ اپنی اصلی حالت میں آجاؤ گے اور سب کو نظر آنے لگو گے لیکن تم فکر نہ کرو۔ کھجوروں کے جھنڈ سے شمال کی طرف باہر نکلو گے تو تمہیں ایک گھوڑا ملے گا۔ اس گھوڑے پر سوار ہو جانا وہ تمہیں دجلہ و فرات کی وادی سے نکال کر دریائے نیل کی وادی میں لے جائے گا۔ وادی نیل کے دارالحکومت تھییر کی بڑی کاررواں سرائے سے تمہیں وہ قافلہ مل جائے گا جو وادی سندھ کے شہر ہاراپا کی طرف جا رہا ہو گا۔
تم اس قافلے کے ساتھ ہڑپہ شہر پہنچ جاؤ گے۔ وہاں کے بڑے مندر میں جناتری نام کی دیوداسی سے ملاقات کرنا اور اسے بتانا کہ مجھے تمہاری بڑی بہن نے بھیجا ہے۔ بس اب تم جاؤ۔ اس سے زیادہ دیر میں تمہارے پاس نہیں ٹھہر سکتی۔
اور غیبی عورت کا ہاتھ میرے کندھے پر سے اٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ کے اٹھتے ہی میں ظاہر ہو گیا اور اپنے آپ کو نظر آنے لگا۔ مجھے اب یہ خوف لاحق تھا کہ میں یہاں کے لوگوں کی مقدس دیوی کی قربان گاہ سے بھاگا ہوں۔ کسی نے مجھے پہچان لیا تو پکڑ کر میری گردن اڑا دیں گے۔ غیبی عورت کے جدا ہونے کے فوراً بعد میں کھجور کے درختوں میں تیز تیز چلنے لگا۔
جھنڈ کے باہر پہنچا تو وہاں ایک طرف ایک گھوڑا کھڑا تھا جس پر زین کسی ہوئی تھی اور پانی کی چھا گل اور ایک تھیلا لٹک رہا تھا۔ میں جیسے ہی گھوڑے پر سوار ہوا گھوڑا ایک دم سے چل پڑا جیسے میرے سوار ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔
صحراؤں اور بیابانوں میں یہ بڑا لمباء دشوار گزار اور مصیبتوں اور مشکلات سے بھرا ہوا سفر تھا۔ مختصر یہ کہ میں کسی نہ کسی طرح سات آٹھ دنوں کا سفر طے کرنے کے بعد ایک دریا کے کنارے آگیا جس کی دوسری جانب مجھے دن کی روشنی اور چمکتی ہوئی گرم دھوپ میں بہت دور تین تکونے ٹیلے دکھائی دیئے۔ یہ اہرام مصر تھے۔
میں قدیم مصر کے سب سے پرانے شہر اور پرانے دارالحکومت تھیر پہنچ گیا تھا۔ یہ فرعونوں اور جادوگر کاہنوں کا ملک تھا۔ فرعون آمون اور کاہن جادوگر قابوس کا بھی اسی ملک سے تعلق تھا۔ ۔یہاں مجھے قدم قدم پر کسی مصیبت میں پھنس جانے کا خطرہ تھا۔ میں شہر کی سب سے بڑی سرائے میں اتر گیا معلوم ہوا کہ ایک قافلہ چار دن بعد وادی سندھ کو جانے والا ہے۔
مجھے اس قافلے کے ساتھ سفر کرنا تھا اور چار دن اسی شہر میں گزارنے تھے جہاں کسی بھی وقت مجھ پر کاہن جادوگر کی بد روح کا جادو چل سکتا تھا۔ میں ڈر کے مارے سرائے سے نکلتے ہوئے گھبراتا تھا۔ میں سرائے کی کوٹھڑی میں ہی پڑا رہا۔ میرے گھوڑے پر جو تھیلا الگ بندھا ہوا تھا اس میں غیبی عورت نے سونے اور چاندی کے کچھ سکے رکھ دیتے تھے، جو راستے میں بھی میرے کام آئے تھے اور آگے بھی جنہیں میرے کام آتا تھا۔
میرا لباس پھٹ چکا تھا۔ میں نے سب سے پہلے وہیں کاررواں سرائے کی ایک دکان پر سے اپنے لئے ایک نیا چغہ تہبند اور جوتے خرید کر پہنے۔ نیلے رنگ کی ایک چادر خریدی جو اس علاقے کے لوگ سخت دھوپ میں اپنے سر پر رکھ لیتے تھے۔ باقی بچے ہوئے سونے اور چاندی کے سکے میں نے کپڑے میں لپیٹ کر اپنی کمر کے ساتھ باندھ لئے تھے۔ میں دن کے وقت بھی سرائے سے باہر نہیں نکلتا تھا۔
سرائے کے احاطے کے اندر ہی رہتا تھا۔ مجھے ہر لمحے خطرہ لگا ہوا تھا کہ قابوس کی بدروح مجھ پر جادو کر کے مجھے کسی نئی مصیبت میں نہ پھنسا دے۔ تیسری رات تھی، چاند نکلا ہوا تھا۔ میں سرائے کے بڑے دروازے کے پاس بیٹھا خاموش چاندنی رات کا لطف لے رہا تھا کہ اتنے میں سرائے میں سے ایک بوڑھی عورت نکلی وہ کبڑی تھی۔
بڑی ضعیف تھی اور لاٹھی کے سہارے چل رہی تھی۔ ایک بار وہ چلتے چلتے گر پڑی۔ میں جلدی سے اس کے پاس گیا۔ اسے اٹھایا اور پوچھا۔ ”ماں جی آپ کو کہاں جانا ہے ...؟
مجھ میں بھی کسی طلسم کے اثر سے یہ صلاحیت پیدا ہو چکی تھی کہ جس طرح میں اشوری لوگوں کی زبان سمجھنے بولنے لگ گیا تھا اسی طرح میں اس زمانے کی تمام ترقی یافتہ قوموں کی زبانیں سمجھنے بولنے لگا تھا۔ اس کا پہلا تجربہ مجھے مصر کی سرائے میں ہوا تھا جہاں اس وقت کی تمام ترقی یافتہ قوموں کے تاجر سوداگر لوگ موجود تھے۔ چنانچہ میں فرعونوں کے زمانے کی مصری زبان بھی بول اور سمجھ لیتا تھا۔ بوڑھی عورت نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔
”بیٹا! میں اپنے پوتے کی تلاش میں یہاں آئی تھی۔ کسی نے مجھے بتایا تھا کہ وہ بابل شہر سے ایک قافلے کے ساتھ آ رہا ہے مگر افسوس کہ میرا پوتا مجھے نہیں ملا۔ اب گھر جا رہی ہوں، بوڑھی ہو گئی ہوں۔ پوتے کی جدائی کے غم میں نڈھال ہوں۔ بیٹا! مجھے سہارا دے کر میرے گھر تک پہنچا دو۔ میرا گھر یہاں سے دور نہیں ہے۔
مجھے اس بوڑھی عورت پر رحم آگیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا۔ چلو ماں جی ! میں تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ آتا ہوں بوڑھی عورت میرے ساتھ چل پڑی۔ وہ مجھے دعائیں دیتی جا رہی تھی۔ کاررواں سرائے سے کچھ فاصلے پر صحرا میں ایک جھونپڑا نظر آیا۔ بوڑھی عورت نے کہا۔ ” بیٹا! میں اس جھونپڑے میں رہتی ہوں۔
صحرا میں چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔ اچانک بوڑھی عورت نے لاٹھی اوپر اٹھائی تو اس کی شکل عجیب ڈراؤنی ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی اس کا قد اونچا ہونا شروع ہو گیا۔ میں ڈر کر بھاگنے لگا تو عورت نے لاٹھی میرے کندھے سے لگائی۔ میرے جسم سے جیسے جان نکل گئی۔ میں بالکل سن ہو گیا۔
اس عورت کا قد چھوٹا ہوتا گیا پھر وہ بالکل ایک دیو ہیکل بن مانس جتنی ہو گئی۔ اس کے نتھنوں سے سانس کی پھنکاریں نکل رہی تھیں۔ اس نے میری کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھایا اور اپنے کندھے پر لاد . کر صحرا میں ایک طرف چل پڑی۔ وہ بن مانس کی طرح جھک کر دوڑتی ہوئی چل رہی ۔ تھی۔ میں بے جان جسم کی طرح اس کے کندھے پر لٹک رہا تھا۔ کاہن جادوگر نے مجھ پر اپنے جادو کا حملہ کر دیا تھا اور یہ عورت اس کی بھیجی ہوئی چڑیل یا جادو گرنی تھی۔
وہ تیز تیز دوڑ رہی تھی اور ریت کے ٹیلوں پر بڑی تیزی سے چڑھ کر دوسری طرف اتر جاتی تھی۔ خدا جانے وہ مجھے کہاں لئے جا رہی تھی۔ میں نے اپنے جسم و روح کی پوری قوت ارادی کو جمع کر کے دو تین بار اس کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کی لیکن میرا جسم میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ وہ بالکل بے جان سا ہو گیا تھا۔ بن مانس نما عورت مجھے لئے جا رہی تھی۔
چاندنی رات میں صحرا روشن تھا۔ وہ کئی ایک ٹیلے عبور کرنے کے بعد صحرا میں بنی ہوئی ایک چار دیواری کے پاس آکر رک گئی۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ چار دیواری کافی اونچی تھی۔ اچانک عورت کا قد دوبارہ اونچا ہونے لگا۔ وہ پچاس فٹ اونچی دیوار سے بھی بلند ہو گئی۔ پھر اس نے مجھے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور دیوار کی دوسری جانب پھینک دیا۔
میں ریت کی ڈھیری پر گرا۔ گرنے کے تھوڑی دیر بعد میرے جسم کی طاقت واپس آنے لگی۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور ارد گرد دیکھا کہ چڑیل مجھے کہاں پھینک گئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا احاطہ تھا جہاں ایک جانب دیوار کے ساتھ کو ٹھڑیاں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو کوٹھڑی سے نکل کر رینگ رینگ کر چل رہا تھا۔
وہ چند قدم چلنے کے بعد بیٹھ گیا۔ میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس آدمی کے پاؤں میں لوہے کی موٹی زنجیر پڑی ہوئی تھی۔ اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر مردنی سی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا۔ ” تم نے اپنی زنجیر کیسے توڑ ڈالی۔۔۔۔۔؟
میں نے کہا۔ ”میرے پاؤں میں کوئی زنجیر نہیں تھی۔ ایک ڈاکو میرا پیچھا کر رہا تھا۔ میں دیوار پھاند کر اندر آگیا ہوں۔
وہ آدمی بولا۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔
اتنے میں کوٹھڑی کی جانب سے چار مصری سپاہی ہاتھوں میں ہنٹر لئے دوڑتے ہوئے ہماری طرف آئے اور انہوں نے آتے ہی ہم دونوں پر ہنٹر برسانے شروع کر دی۔ ایک سپاہی نے میری ٹانگوں کو دیکھ کر کہا۔ ” یہ فرار ہو رہا تھا۔ اس نے زنجیر کاٹ ڈالی "ہے۔
اس کے بعد انہوں نے مجھے ہنٹروں سے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو گیا۔ ہوش آیا تو میں نیم روشن کو ٹھڑی میں بند تھا۔ میرے پاؤں میں موٹی آہنی زنجیر پڑی تھی اور میرے قریب ہی چار پانچ آدمی جیسے نڈھال ہو کر فرش پر ادھر ادھر پڑے تھے۔ ان میں وہ آدمی بھی تھا جو مجھے کوٹھڑی سے باہر ملا تھا۔
وہ سر جھکائے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں آہنی زنجیر کو گھسیٹتا ہوا اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ ہنٹروں کی مار سے میرا سارا بدن پھوڑے کی طرح درد کر رہا تھا۔ میں نے اس آدمی سے پوچھا۔ ” بھائی! یہ سب کیا ہے یہ کون لوگ ہیں اور ہمیں زنجیریں ڈال کر یہاں کس لئے قید کیا گیا ہے ....؟
آدمی نے آہستہ سے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مردہ آواز میں بولا۔
میرا نام سالوس ہے۔ ہم لوگ فرعون مصر کے غلام تھے۔ فرعون مر گیا۔ ہمیں دن نکلنے پر فرعون کے ساتھ ہی اہرام میں زندہ دفن کر دیا جائے گا۔ تاکہ ہم فرعون کی اگلی زندگی میں بھی اس کی خدمت کریں۔ کیا تم بھی دربار شاہی کے کوئی غلام ہو .....؟
میں نے کہا۔ "نہیں۔ میں شاہی دربار کا غلام نہیں ہوں۔ میں تو مسافر ہوں۔ ڈاکو مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ میں ڈر کر بھاگا اور کسی طرح دیوار پھاند کر اندر آگیا۔" سالوس بولا۔
اب تم یہاں سے باہر نہیں جا سکو گے۔ تمہیں بھی ہمارے ساتھ ہی زندہ دفن کر دیا جائے گا۔ اسی لئے تمہارے پاؤں میں بھی سپاہیوں نے زنجیر ڈال دی ہے مجھے یاد آگیا۔ میں نے قدیم فرعون مصر کی تاریخ میں پڑھا تھا کہ جب کوئی فرعون مر جاتا تھا تو اس کے ساتھ اس کے غلاموں کو بھی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ فرعون کی اگلی زندگی میں اس کی خدمت کریں۔
مصر کے جن اہرام کی کھدائی ہوئی تھی وہاں اہرام کے اندر فرعون کے تابوت کے پاس کچھ انسانی ہڈیوں کے پنجر بھی دریافت ہوئے تھے۔ یہ ان غلاموں کے پنجر تھے جنہیں فرعون کے تابوت کے ساتھ ہی اہرام میں زندہ دفن کر دیا گیا تھا۔ اہرام بند ہونے کے بعد یہ بد نصیب دم گھٹنے سے مر گئے تھے۔ کاہن جادوگر کی بد روح نے اس دفعہ بڑا کاری وار کیا تھا۔ اگر میں بھی غلاموں کے ساتھ اہرام کے اندر زندہ دفن کر دیا جاتا ہوں تو میرے لئے وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
کروڑوں من پتھروں کے نیچے اہرام میں بند میرے باہر نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مجھے فرعون کی روح یا کوئی نیک دل غیبی عورت کی روح بھی وہاں سے باہر نہیں نکال سکتی تھی۔ کاہن جادو گر قابوس کی مجھے ہلاک کرنے کی یہ بڑی کارگر تدبیر تھی۔ کوٹھڑی میں صرف ایک دیا جل رہا تھا۔ دروازے پر لوہے کا تنگ سا جنگلا گرا ہوا تھا۔ وہاں سے فرار ناممکن تھا۔ ویسے بھی میرے پاؤں میں لوہے کے موٹے کڑے کے ساتھ بندھی ہوئی آہنی زنجیر پڑی ہوئی تھی۔ میں بھی انتہائی مایوسی کے عالم میں سر جھکا کر بیٹھا رہا۔
ابھی صبح نہیں ہوئی تھی کہ چار پانچ سپاہی اندر آگئے۔ انہوں نے ہنٹر برساتے ہوئے ہمیں اٹھایا اور جانوروں کی طرح ہانک کر کوٹھڑی سے باہر لے گئے۔ باہر ایک چھکڑے پر لوہے کا بہت بڑا پنجرہ لدا ہوا تھا۔ ہم چھ سات آدمیوں کو اس پنجرے میں بند کر دیا گیا اور چھکڑا چھل پڑا۔ صحرا میں کچھ دیر سفر کرنے کے بعد چھکڑا ایک اہرام کے پاس آکر رک گیا۔ ہم سب زنجیروں میں جکڑے جاچکے تھے۔
وہاں سپاہیوں کا ایک مسلح دستہ موجود تھا۔ ہمیں پنجرے میں ہی بند رکھا گیا اور سپاہی چھکڑے کے ارد گرد پہرے پر کھڑے ہو گئے۔ صبح ہو گئی تھی۔ اتنے میں ایک طرف سے ڈھول تاشوں اور نقریوں کی آوازیں آنے لگیں۔ سورج نکل آیا تھا۔ چاروں طرف روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا جلوس جو نیلے اور زرد رنگ کے جھنڈے لہرا رہے تھے ایک طرف سے اہرام کی طرف چلا آ رہا تھا۔
جلوس قریب آیا تو دیکھا کہ آگے آگے دس بارہ سر منڈھے کاہن تھے جو منتر پڑھتے قدم قدم چل رہے تھے۔ ان کے پیچھے سپاہیوں کا دستہ تھا۔ اس کے پیچھے سیاہ فام غلاموں نے ایک تابوت اٹھا رکھا تھا۔ تابوت پر سنہری چادر پڑی تھی جس پر کنول کے پھول رکھے تھے۔ یہ فرعون مصر کا تابوت تھا۔ اس کے پیچھے درباری سر جھکائے چل رہے تھے۔ اس کے پیچھے شاہی محل کی عورتیں وغیرہ تھیں۔ ان کے پیچھے بھی سپاہیوں کے دیتے تھے۔ یہ فرعون مصر کا جنازہ تھا۔
جب یہ جلوس ہمارے قریب سے گزر گیا تو سپاہیوں نے ہمیں بھی پنجرے سے باہر نکالا اور جنازے کے پیچھے چلانے لگے۔ ہماری دونوں جانب آگے اور پیچھے نیزے ہاتھوں میں لئے ، تیر کمان کندھوں سے لڑکائے سپاہی چل رہے تھے۔ ہم میں سے جو کوئی نقاہت کی وجہ سے گر پڑتا تھا سپاہی اسے ہنٹر مار مار کر اٹھا کر دوبارہ کھڑا کر دیتے تھے۔
فرعون کا جنازہ اہرام کے اندر جانے والے ڈھلوان راستے پر سے گزر رہا تھا۔ یہ راستہ اہرام کی سرنگ میں داخل ہو جاتا تھا۔ ہم غلام بھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے فرعون کے جنازے کے ساتھ ہی اہرام کی سرنگ میں داخل ہو گئے۔ سرنگ میں دونوں جانب دیواروں کے ساتھ مشعلیں جل رہی تھیں۔ کاہن منتر پڑھتے آگے آگے جا رہے تھے۔ یہ جلوس اہرام کے اندر ایک چوکور کمرے کے دروازے کے باہر ہی رک گیا۔
یہ چوکور کمرہ فرعون کا مقبرہ تھا۔ یہاں پہلے ہی سے فرعون کے استعمال میں آنے والی بے شمار چیزیں دیوار کے ساتھ لگا کر رکھی ہوئی تھیں۔ ان میں سونے کا ایک تخت سونے کا رتھ ، شراب کے پیالے فرعون کی تلواریں نیزے اور برتن اور ہیرے جواہرات کے زیورات بھی تھے۔ فرعون کے تابوت کو اندر لے جا کر چبوترے پر رکھ دیا گیا۔ ہم غلاموں کو ابھی دروازے کے باہر رکھا گیا تھا۔ دروازے کا کوئی پٹ یا کواڑ نہیں تھا۔
بھاری اور موٹی موٹی پتھر کی سلوں کی دیوار میں ایک چوکور سوراخ تھا جس میں سے فرعون کے تابوت کو اندر لے جایا گیا تھا۔ کاہن مذہبی رسومات ادا کرنے لگے۔ اونچی آواز میں منتر پڑھے جا رہے تھے۔ فرعون کے تابوت کے باہر اس کا سونے کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔ جب تمام رسومات پوری ہو گئیں تو ہم سات غلاموں کو بھی کمرے میں لے جایا گیا۔ ہمیں زنجیروں سمیت چبوترے کے باہر کو نکلے ہوئے آہنی کڑوں کے ساتھ باندھ دیا گیا۔
زنجیروں کے سر جوڑ کر بڑے بڑے ہتھوڑوں کی ضرب سے آپس میں جوڑ دیئے گئے۔ تمام کاہن کمرے سے باہر نکل گئے۔ اب اس اہرام میں ہم سات غلام تھے جو بے بسی کی حالت میں چبوترے کے ساتھ آہنی زنجیروں سے بندھے ہوئے تھے اور یا پھر فرعون کا تابوت تھا۔ جب سب لوگ کمرے سے نکل گئے تو ایک سپاہی نے باہر کی جانب دیوار کے ایک طاق میں لٹکتی ہوئی زنجیر کو پکڑ کر پوری طاقت سے نیچے کھینچ دیا۔
زنجیر کے گرتے ہی دروازے کے اوپر سے پتھر کی ایک بہت بڑی سل آہستہ آہستہ نیچے گرنا شروع ہو گئی۔ پتھر کی یہ سل ایک بہت بڑا بلاک تھا جو نیچے آ رہا تھا۔ نیچے آتے آتے وہ دروازے کی دہلیز میں جو لمبا اور گہرا سوراخ تھا اس کے اندر دو فٹ تک دھنس گیا۔ اس کے ساتھ ہی اہرام کی دیوار بند ہو گئی۔ چونکہ میرا تعلق بیسویں صدی عیسوی کے جدید ترین سائنسی دور سے تھا اس لئے میں جانتا تھا کہ اب یہ اہرام ہزاروں برس بعد ہی کھلے گا۔
میں ایک طرح سے ہزاروں برس بعد کھلنے والی قبر میں زندہ دفن ہو گیا تھا اور کوئی بھی انسان پتھر کی سلوں سے بند کی گئی قبر کے اندر ہزاروں برس تو کیا بمشکل ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہی حال اہرام کا ہوا۔ اہرام کے اندر جو آکسیجن پتھر کی سل کے گرتے ہی ہمارے ساتھ بند ہو گئی تھی وہ ہمارے سانس لینے سے آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو گئی۔ ہم سات آدمی تھے۔
ہم تابوت والے چبوترے سے بندھے ہوئے تھے۔ فرعون کے تابوت کے سرہانے زیتون کے تیل کا بڑا سا چراغ جل رہا تھا۔ سالوس مجھ سے پانچ فٹ کے فاصلے پر چبوترے سے بندھا ہوا تھا۔ اس نے چراغ کی طرف اشارہ کر کے مجھے بتایا کہ یہ چراغ پچاس برس تک جلتا رہے گا۔ اس کے بعد بجھ جائے گا۔ میں نے کہا۔ لیکن اس وقت تک ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا بلکہ ہم تو دو ایک دن میں ہی دم گھٹنے سے مرجائیں گے۔
میرے سوا سارے غلام زندگی سے مایوس ہو چکے تھے اور چبوترے کے ساتھ ٹیک لگائے سر نیچے کئے بیٹھے موت کا انتظار کرنے لگے تھے۔ صرف میں ابھی تک وہاں سے فرار ہونے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے سالوس سے پوچھا۔
جس دروازے سے گزر کر ہم اہرام کے اندر آئے ہیں اس طرف کے تو سارے راستے پتھر کی بھاری ملیں گرا کر بند کر دیئے گئے ہوں گے۔ لیکن کیا اہرام کی جنوبی دیوار کی طرف سے کوشش کر کے ہم کوئی پتھر ہٹا کر فرار کا راستہ تلاش نہیں کر سکتے۔
سالوس بولا ۔ اہرام کی جنوبی دیوار بھی پچاس پچاس مربع فٹ کے بھاری پتھروں سے چنی گئی ہے اور یہ دیوار تکونی شکل میں محراب کے اوپر پانچ سوفٹ تک چلی گئی ہے۔ یہاں سے فرار ہونے کے خیال کو دل سے نکال دو اور دیوتاؤں کو یاد کرو۔
باقی پانچوں غلاموں پر موت سے پہلے ہی موت کی کیفیت طاری ہو چکی تھی۔ انہوں نے موت کو قبول کر کے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیا تھا جو آہستہ آہستہ انہیں ختم کر رہی تھی۔ ان میں کوئی بھی نہیں بول رہا تھا۔ ان کے مردہ چہروں پر موت کا سکوت طاری تھا۔ فرعون کے تابوت کے سرہانے زیتون کے چراغ کی لو فضا ساکن ہو جانے کی وجہ سے بالکل سیدھی کھڑی تھی۔
آگ کی یہ لو بھی فضا میں سے آکسیجن کو تیزی سے ختم کر رہی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں بھی ان غلاموں کے ساتھ ہی بھوک پیاس اور آکسیجن کے نہ ہونے سے بے ہوش ہونے کے بعد بے شعوری کے عالم میں موت کی آغوش میں چلا جاؤں گا۔ کاہن جادوگر قابوس کا یہ حربہ بے حد کامیاب ثابت ہو رہا تھا
وقت کا وہاں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ہمیں سورج نکلنے کے بعد اہرام میں دفن کیا گیا تھا۔ کچھ دیر تک مجھے احساس رہا کہ اب دن کے دس بجے ہوں گے، اب گیارہ بج رہے ہوں گے۔ اس کے بعد یہ احساس بھی ختم ہو گیا اور میں موت اور زندگی کے درمیان خلا میں معلق ہو گیا۔
وہاں ہمارے لئے کھانے پینے کو کچھ بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ اگر رکھا بھی گیا ہوتا تو ہم زنجیروں میں بندھے تھے۔ چبوترے سے دونٹ بھی دور نہیں جاسکتے تھے۔ روایت کے مطابق ہمیں جلدی مار دیئے جانے کی تدابیر کی گئی تھیں تاکہ فرعون کی روح اگلی دنیا میں زیادہ آگے نہ نکل جائے اور ہماری روحیں جتنی جلدی ہو سکے ہمارے جسموں سے نکل کر فرعون کی روح کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔
انسان جہالت اور بے علمی کے کیسے کیسے اندھیروں سے نکل کر کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور خلائی مشکل کے دور تک پہنچا ہے لیکن اس وقت کمپیوٹر انٹرنیٹ اور خلائی مشکل کے دور سے نکل کر ایک انسان ہزاروں برس پرانے زمانے کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اور وہ انسان میں تھا۔ لیکن میں نے دوسرے غلاموں کی طرح موت کو قبول نہیں کیا تھا۔
میں زندہ رہنا چاہتا تھا اور اہرام سے باہر نکل کر پر سکون زندگی گزارنا چاہتا تھا اور واپس اپنے وطن پاکستان پہنچنے کو بے تاب تھا جو مجھ سے ساڑھے پانچ ہزار برس کے طویل و عریض فاصلے پر تھا۔

Sameer Alam

05/03/2026

“آسیب زدہ تابوت
اے حمید
چوتھی قسط

ان کی زبان میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ پھر اچانک ایسے ہوا کہ ان کے الفاظ کا مفہوم میری سمجھ میں آنا شروع ہو گیا۔
یہ ایک حیرت انگیز تبدیلی تھی جو میری عقل و فہم کی دنیا میں رونما ہو رہی تھی۔ پہلے ان کے فقروں کا کوئی کوئی لفظ سمجھ میں آیا، پھر فقرے کے فقرے سمجھ میں آنے لگے۔ اس کے بعد ان کی زبان پوری طرح سے میری سمجھ میں آنے لگی۔ ان میں سے ایک نے اپنے سردار سے کہا۔
یہ شاہ خورسند کا جاسوس ہے، اسے فوراً قتل کر دینا چاہئے۔ سردار نے کہا۔
اس کا لباس خورس کے لوگوں کا لباس نہیں ہے ۔ دوسرے نے کہا۔
پھر یہ کس ملک کا جاسوس ہو سکتا ہے......؟
یہ بات میرے ذہن نے قبول کر لی تھی کہ میں فرعون کی روح کے طلسم کے اثر سے اپنی ماڈرن سائنس کی دنیا سے نکل کر ماضی کے کسی قدیم عہد میں داخل ہو چکا ہوں اور یہ تاریخ کے قدیم ترین دور کے کسی بادشاہ کا محل ہے اور یہ لوگ محل کی حفاظت کرنے والے سپاہی ہیں ۔سردار مجھے برابر غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے ایک قریب کھڑے سپاہی سے کہا۔
پھر یہ ضرور کوئی جادوگر ہے، اسے پروہت اعظم کے پاس لے چلو۔ وہ اپنے طلسم سے پتہ چلا لے گا کہ یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ چلو اسے لے چلو۔
میں ان کی زبان پوری طرح سے سمجھ رہا تھا لیکن میں نے ابھی ان کی زبان میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ میں اس انتظار میں تھا کہ دیکھوں یہ میرے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ وہ مجھے محل کے احاطے سے نکال کر باہر لے آئے۔ باہر ایک طرف بہت سے گھوڑے کھڑے تھے۔ تین چار پرانے زمانے کے رتھ بھی تھے جن کے آگے چار چار گھوڑے جتے ہوئے تھے۔ یہاں بھی بہت سے سپاہی موجود تھے۔
سردار نے مجھے اپنے ساتھ ایک رتھ پر بٹھایا اور رتھ چل پڑا۔ میں کچھ دیر پہلے بیسویں صدی عیسوی کے زمانے میں بیوک گاڑی پر سفر کر کے بابل کے کھنڈر دیکھنے آیا تھا اور اب ایک ایسے رتھ پر مجھے جکڑ کر بٹھا دیا گیا تھا جو کچی سڑک پر اچھلتے ہوئے چل رہا تھا۔ ہمارے پیچھے دو اور تھ آ رہے تھے جن میں سپاہی سوار تھے۔
ابھی تک مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ میں قدیم زمانے کی تاریخ کے کسی دور میں داخل ہو چکا ہوں۔ ایک بات کی مجھے تسلی تھی کہ اگر فرعون کی روح کا قول سچا ہے تو سبز مرتبان میں سے انجیر کھانے کے بعد یہ لوگ مجھے اذیت چاہے کتنی پہنچائیں ، مجھ پر جس قسم کا چاہیں علم کریں مجھے ہلاک نہیں کر سکیں گے۔
رتھ کچی سڑک پر اچھل اچھل کر بڑی تیز رفتاری سے جا رہے تھے۔ سردار رتھ میں گھوڑوں کی باگ تھامے کھڑا تھا۔ میں اس کے پاؤں میں رسیوں سے جکڑا بیٹھا ہوا تھا اور اسی ایک سوچ میں گم تھا کہ یہ کس قسم کا انقلاب رونما ہو گیا ہے کہ میں بیسویں صدی کے زمانے سے نکل کر خدا جانے ماضی کے کس دور میں وارد ہو گیا ہوں اور اس کے آگے میرےساتھ کیا گزرنے والی ہے۔
چاروں طرف صحرائی ٹیلے تھے۔ دھوپ چمک رہی تھی، دور مجھے ایک عمارت کا دھوپ میں چمکتا ہوا مینار نظر آیا رتھ اس کے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ یہ کوئی تین ساڑھے تین فٹ اونچا اور تقریباً اتنا ہی گولائی میں چوڑا ایک مینار ہے۔ اچانک مجھے مینار بابل کا خیال آگیا۔ میں تاریخ کا طالب علم رہ چکا تھا۔ میرا خیال سپاہیوں کی داڑھیوں کی طرف چلا گیا۔
قدیم بابل پر اشوری قوم کی حکومت تھی اور اشوریوں کے بادشاہوں اور سپاہیوں کی جو تصویر میں پرانے کتبوں پر کندہ کی ہوئی ملی ہیں ان میں ان کی لمبی لمبی داڑھیاں تھیں کہیں میں قدیم بابل کے شہر میں تو نہیں آگیا......؟ رتھ مینار بابل کے تانبے کے بہت بڑے گیٹ کے پاس جا کر رک گئے۔ وہاں بھی اشوری سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ انہوں نے سردار کے رتھ کو دیکھ کر گیٹ کھول دیا۔
رتھ مینار بابل کے احاطے میں داخل ہو گئے۔ میرے خدایا! یہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا۔ میں مینار بابل کو اپنی اصلی شان و شوکت کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ میں نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا کہ مینار بابل ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح کے زمانے میں تعمیر ہوا تھا یعنی آج سے ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے اس کا مطلب تھا کہ میں اپنے زمانے سے نکل کر ساڑھے پانچ ہزار سال ماضی کے زمانے میں آگیا ہوا تھا۔
میں نے یہ بھی پڑھا تھا کہ مینار بابل میں دس گز لمبے زمینوں یعنی سیڑھیوں کا ایک راستہ تیار کیا گیا تھا جو مینار کی چوٹی تک جاتا تھا اور مینار کی چوٹی پر اشوری قوم کے سب سے زیادہ منحوس اور خونخوار دیوتا بعل مردود کا پچاس فٹ بلند زبر دست معبد تھا جس میں بعل دیوتا کا سنہری بت رکھا ہوا تھا یہ بت سونے کا تھا۔
یونانی مورخ ہیرو ڈوٹس کا بیان ہے کہ بعل دیوتا کے بت سمیت اس معبد میں چھیالیس ٹن سونا استعمال کیا گیا تھا۔ سپاہی مجھے مینار بابل کے اوپر معبد کی طرف جانے والے زینے پر لے آئے۔ واقعی یہ زینہ کافی کشادہ تھا اور یہ ساری عمارت پختہ اینٹوں کی بنی ہوئی تھی۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں چونکہ پتھر نہیں ہوتا تھا اس لئے اہل بابل مٹی کی اینٹوں کو پکا کر عمارتیں بناتے تھے۔
سپاہی مجھے مینار بابل کی چوٹی پر بنے ہوئے اپنے دیوتا بعل کے معبد کے بڑے پروہت کے سامنے لے گئے موٹا تازہ پروہت تھا اس کی بھی لمبی ڈاڑھی اور سر کے لمبے بال تھے اس نے سنہری رنگ کا ریشمی چغہ پہن رکھا تھا سپاہی پیچھے کھڑے رہے سردار مجھے پروہت کے پاس لے گیا اور اپنی زبان میں اسے بتایا کہ یہ شخص یعنی میں دشمن قوم کا جاسوس ہوں اور جادو کے زور سے میں نے عجیب و غریب لباس پہن رکھا ہے پروہت اعظم ! تم خود بہت بڑے جادو گر ہو اپنے طلسم کے ذریعے معلوم کریں کہ یہ آدمی کون ہے اور کہاں سے آیا ہے...…..؟
پروہت کی اندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں۔ اس نے اپنی زبان میں سردار سے پوچھا۔
کیا یہ ہماری زبان جانتا ہے.....؟ سردار نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔
”نہیں پروہت اعظم! یہ ہماری زبان نہیں جانتا۔ ابھی اس نے اپنی زبان میں بھی کوئی بات نہیں کی۔پروہت اعظم نے ایک ہاتھ اٹھا کر سردار سے کہا۔
”تم لوگ معبد کے صحن میں جا کر بیٹھ جاؤ۔ میں ابھی طلسم کی مدد سے معلوم کرتا ہوں کہ یہ آدمی کون ہے کس دنیا سے آیا ہے اور ہمارے ملک بابل میں کیوں آیا ہے......؟ پروہت نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ میں بابل کے زمانے میں پہنچ چکا ہوں۔
سردار سپاہیوں کو لے کر باہر چلا گیا۔ اب میں اور معبد کا پروہت ہی وہاں رہ گئے۔ یہ پروہت کا خاص کمرہ تھا جس کا فرش سنگ مرمر کا تھا اور دیواروں پر سرخ ریشم کے پردے چھت سے لے کر فرش تک گرے ہوئے تھے۔ ایک ستون کے پاس دو پجاری ادب سے کھڑے تھے۔ پروہت اعظم نے ان سے کہا۔
”اس کی رسیاں کھول دو۔ وہ فوراً میرے پاس آئے اور میری رسیاں کھول دیں۔ میں سنگ مرمر کے فرش پر بیٹھا رہا۔ پروہت ایک چاندی کے کرسی نما سٹول پر میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ایک پجاری کو اشارہ کیا۔ پجاری دیوار کے ساتھ رکھے اونچے صندوق میں سے ایک کانسی کا تھال نکال کر لے آیا، یہ بڑی تھالی کے سائز کا تھا۔ اس پر گول دائرے کندہ تھے۔
میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ پروہت اپنے طلسم کی مدد سے میرے بارے میں کیا معلوم کرتا ہے۔ پروہت نے تھال پر دو چاندی کی گولیاں ڈالیں اور انہیں ادھر ادھر گھمانے لگا۔ پھر اس نے دوسرا سٹول منگوا کر تھال اس پر رکھا اور تھال کے درمیان ایک چراغ روشن کر دیا وہ دیر تک چراغ کی لو کو تکتا رہا۔ اس کے بعد تھال جلتے ہوئے چراغ سمیت پجاریوں کی طرف بڑھا دیا۔ پجاری تھال لے کر ستون کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔
پروہت میری طرف گھور رہا تھا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے شک ہوا کہ ممکن ہے اس کو میرے بارے میں سب کچھ معلوم ہو گیا ہو کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں اور کیسے آگیا ہوں اور یہ کہ مجھے اپنے تعویذ کی تلاش ہے لیکن جب پروہت اعظم نے مجھ سے اپنی اشوری زبان میں ہی کہا۔
مجھے میرے طلسم نے بتا دیا ہے کہ تم کون ہو لیکن میں تمہارے منہ سے یہ سننا چاہتا ہوں کہ تمہیں شاہ خورسند نے یہاں جاسوسی کرنے بھیجا ہے۔
میں سمجھ گیا کہ فرعون مصر آمون کے دور کا طلسم ان اہل بابل سے زیادہ طاقتور ہے اور یہ پروہت میری اصل حقیقت سے واقف نہیں ہو سکا۔ وگرنہ اگر اس کا طلسم درست اور صحیح ہوتا تو وہ سمجھ جاتا کہ میں ساڑھے پانچ ہزار برس آگے کے زمانے سے تعلق رکھتا ہوں اور اشوری زبان نہیں سمجھتا۔
میں تو اس کی زبان سمجھنے لگا تھا اور میں اسے اشوری زبان میں کہنے ہی والا تھا کہ میں شاہ خورسند کا جاسوس نہیں ہوں بلکہ ایک ظلم کے ذریعے اپنے زمانے سے نکل کر ساڑھے پانچ ہزار برس پیچھے کے زمانے میں آگیا ہوں لیکن میں رک گیا ۔میں اس لئے بھی ان لوگوں پر ابھی یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ میں ان کی زبان سمجھتا ہوں تاکہ مجھے اپنے بارے میں ان کے ارادوں کا پتہ چلتا رہے۔
مجھے یہ معلوم ہوتا رہے کہ وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہیں اور میں اپنی جان بچانے کے لیے کوئی تدبیر کر سکوں۔ میں نے اپنی زبان اردو میں جواب دیا
تم لوگ بڑے احمق ہو۔ تمہارا طلسم بالکل ناقص ہے۔ میں شاہ خورسند کا جاسوس نہیں ہوں۔
مشرق وسطی کے ان قدیم بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ اس زمانے میں کرہ ارض پر دو بہت طاقتور حکومتیں قائم تھیں۔ ایک اشوریوں کی حکومت تھی جس کا پایہ تخت بابل تھا اور دوسری اہل ایران کی حکومت جس کا بادشاہ خورسند یار تھا۔ ان دونوں طاقتور حکومتوں کی آپس میں دشمنی تھی اور ان کے درمیان جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔
میری اردو زبان پروہت بھلا کہاں سمجھ سکتا تھا۔ اس نے پجاری کو اشارہ کر کے کہا کہ سردار بلیشر کو اندر بلاؤ۔ پجاری اسی لمحے معبد سے نکل کر باہر گیا اور سردار کو بلا لایا جس کا نام بلیشر تھا۔ سردار نے اندر آتے ہی پروہت سے پوچھا۔
پروہت اعظم نے اس جاسوس کے بارے میں کیا کھوج لگایا ہے ......؟ پروہت اعظم نے سٹول پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
میرے طلسم نے مجھے اس شخص کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ یہ جاسوس ہے جسے شاہ خورسند نے یہاں جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ سردار بلیشر نے مجھے قہر بھری نظروں سے دیکھا اور پروہت سے کہا۔
”ٹھیک ہے ہم ابھی باہر لے جا کر اس کی گردن اڑا دیتے ہیں۔پروہت اعظم نے ہاتھ اوپر اٹھایا اور بڑے جلال کے ساتھ بولا۔
نہیں، یہ ہمارا دشمن ہے۔ بعل مردود کے جشن نوروز کو صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں۔ ہم اپنے دیوتا بعل مردوخ کے آگے اسے قربان کریں گے۔ دیوتا بعل دشمنوں کی قربانی سے بہت خوش ہوگا۔ سردار بلیشر بولا۔
جیسے آپ کی مرضی ویسے ہی ہو گا۔ پروہت اعظم نے حکم دیا۔
اس جاسوس کو معبد کے تہہ خانے میں قید کر دیا جائے۔
اس وقت مجھ پر خوف کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اگرچہ فرعون کی روح نے مجھے یقین دلایا تھا کہ انجیر کھانے کے بعد مجھے کوئی قتل بھی کر دے گا تو میں مروں گا نہیں، اس کے باوجود جب پروہت نے مجھے اپنے دیوتا پر قربان کر دیئے جانے کا حکم سنایا تو مجھ پر موت کی دہشت سی طاری ہو گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب مجھے موت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
میں نے تاریخ کی کتابوں میں یہ بھی پڑھ رکھا تھا کہ اہل بابل اپنے منحوس دیوتا بعل کے آگے کس قدر بے رحمی سے انسانوں کو قربان کیا کرتے تھے۔ سپاہیوں نے مجھے پکڑا اور معبد کے ایک تنگ و تاریک تہہ خانے میں لے جا کر بند کر دیا۔ انہوں نے مجھ پر صرف اتنا رحم کیا کہ میرے بازو کھول دیئے۔ اس قسم کے تنگ و تاریک پتھر کی دیواروں والے تہہ خانے میں نے کبھی ہالی وڈ کی تاریخی فلموں میں دیکھے تھے۔
اب میری قسمت مجھے زندہ حالت میں ان تہہ خانوں میں موت کا قیدی بنا کر لے آئی تھی۔ قید خانے کی دیواریں سیاہ پتھروں کو جوڑ کر بنائی گئی تھیں۔ ایک دیوار کے طاق میں مٹی کا دیا جل رہا تھا۔ پتھر کی دیواروں والے تنگ دروازے میں لوہے کا جنگلا گرا دیا گیا تھا جس کی آہنی سلاخیں پتھریلے فرش میں آدھی دھنس گئی تھیں۔ میں وہاں تین دن تک قید میں کسمپرسی کے عالم میں پڑا رہا۔
مجھے کھانے پینے کو صرف اتنا دیا جاتا تھا کہ جس سے میرے جسم و جان کا رشتہ قائم رہے۔ تیسرے دن شام کے وقت مجھے تہہ خانے سے نکال کر ایک میدان میں لے جایا گیا جہاں ہزاروں لوگ جمع تھے۔ ڈھول تاشے بج رہے تھے۔ چھکڑوں پر لکڑی کے پنجروں میں قربانی کے جانور بند تھے۔ ایک پنجرے میں آدمی بھی بند تھے۔ انہیں دیوتا بعل پر جانوروں کے ساتھ قربان کیا جانے والا تھا۔
اس جشن نوروز کے بارے میں، میں نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہوا تھا کہ اس موقع پر اہل بابل اپنے دیوتا کے آگے انسانوں کی قربانی بھی دیا کرتے تھے۔ آج بھی ان لوگوں کا جشن نوروز تھا اور دوسرے انسانوں کے ساتھ میری بھی قربانی دی جانے والی تھی۔ فرعون آمون کا طلسم اور اس کی کھائی ہوئی انجیر کی تاثیر پر سے میرا اعتقاد مکمل طور پر اٹھ چکا تھا۔
مجھے پورا یقین ہو چکا تھا کہ موت مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر ہی ہے۔ اس کے اور میرے درمیان زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹوں کا وقفہ رہ گیا ہے۔ مجھے بھی ایک انسانی پنجرے میں ٹھونس دیا گیا۔ وہاں پہلے سے چار بد نصیب موت کے قیدی بند تھے۔ ان کے رنگ زرد ہو رہے تھے، موت کے خوف سے۔ ایک انتہائی اذیت ناک موت کے خوف سے ان کی آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں۔
جسم پر لرزہ طاری تھا اور دہشت زدہ آنکھوں سے لوگوں کے ہجوم کو دیکھ رہے تھے جو ان کو اپنے دیوتا پر قربان کئے جانے کے بارے میں نعرے لگا رہے تھے۔ ان بد نصیب قیدیوں نے میرے لباس یعنی بش شرٹ اور پتلون کو ایک نظر حیرت سے ضرور دیکھا۔
اس کے بعد منہ دوسری طرف کر کے موت کی سرد آہیں بھرنے لگے۔ یہاں سے یہ جشن نوروز کا جلوس شاہی محل کی طرف روانہ ہو گیا۔ شاہی محل سے بابل کے بادشاہ بخت نصر کی شاہی سواری نکل کر جلوس کے آگے ہو گئی۔
یہاں سے یہ جلوس مینار بابل کی جانب چل پڑا جہاں ان کے خونخوار دیوتا بعل مردوخ کا معبد تھا اور جہاں اس کے بت کے سامنے جانوروں کے ساتھ ہم انسانوں کو بھی قربان کیا جانے والا تھا۔ جلوس کے سب سے آگے معبد کے شاہی پروہت اعظم کا تخت رواں چل رہا تھا جسے چھ سات سیاہ فام حبشی غلاموں نے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ جلوس میں بابل کے جھنڈے لہرا رہے تھے، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
مینار بابل کی چوٹی تک مشعلیں روشن تھیں اور ڈھول بجائے جا رہے تھے۔ ہمیں پنجرے سے نکال کر زنجیریں پہنا دی گئیں اور سپاہی لے کر بعل مردوخ کے معبد کی طرف چلے۔ معبد کے بہت بڑے اونچی چھت اور بے شمار سنگ مرمر کے ستونوں والے ہال کمرے میں لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ بادشاہ کے لئے تخت بچھا تھا۔ بادشاہ تخت پر آکر بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ اس کی ملکہ بھی تھی۔ سامنے بہت بڑا سونے کا ڈراؤنی شکل والا بت ایستادہ تھا۔
اس کی بہت لمبی زبان بچوں کی پھسلنی کی طرح اس کے منہ سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ اس کے آگے گڑھے میں آگ روشن تھی جس میں سے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ بادشاہ کے حکم سے دیوتا پر قربان کئے جانے والے انسانوں کو بعل کے بت کے پاس لے جایا گیا۔ یہاں ہماری زنجیریں اتار دی گئیں۔ بت کی گردن تک جانے کے لیے اندر ہی اندر ایک پیچ دار زینہ بنا ہوا تھا ہمیں اس زینے کے ذریعے بعل کے بت کی گردن تک پہنچا دیا گیا۔ یہاں سے ہمیں بت کی باہر نکلی ہوئی زبان اور نیچے آگ کا جلتا ہوا جہنم دکھائی دے رہا تھا۔ تھا۔
نیچے دیوتا کے بت کے آگے شاہی رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔ سب سے پہلے جانوروں کی قربانی دی گئی۔ پروہت جانوروں کو ہاتھ لگاتا اور پجاری اس کی گردن کاٹ کر آگ کے الاؤ میں پھینک دیتے۔ جب سب جانوروں کی قربانی دی جا چکی تو شاہی پروہت نے اعلان کیا کہ اب دیوتا بعل مردوخ پر انسانوں کی قربانی دی جائے گی جو ہمارے دیوتا کی پسندیدہ قربانی تھی۔
میرے ساتھ دیوتا پر قربان کئے جانے والے چھ بد نصیب انسان تھے۔ ان کی یہ حالت ہو رہی تھی کہ ان سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا، بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا۔ وہ وہیں ڈھیری سی بن کر بیٹھے ہوئے تھے۔ پروہت اور پجاری بت کے اندر آگئے۔ پروہت نے پہلے بد نصیب انسان کو ہاتھ لگایا اور اس بد نصیب کے حلق سے خشک سی چیخ نکل گئی۔
پجاریوں نے اسے اٹھایا اور دیوتا کی باہر نکلی ہوئی زبان پر بٹھا کر ہاتھ اٹھا لئے۔ زبان پھسلنی کی طرح نیچے کو جھکی ہوئی تھی۔ پجاریوں نے جیسے ہی ہاتھ اوپر اٹھایا بد نصیب انسان ڈراؤنی چیخیں منہ سے نکالتا زبان پر سے پھسل کر نیچے آگ کے الاؤ میں گر گیا۔ آگ کے شعلوں نے فوراً اسے نگل لیا۔
اسی طرح پانچ انسانوں کو آگ میں پھینکنے کے بعد میری باری بھی آگئی۔ خوف کے مارے میری بھی حالت غیر ہو رہی تھی۔ دماغ نے جیسے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ موت منہ پھاڑے میرے سامنے کھڑی تھی۔ پروہت نے مجھے ہاتھ لگا دیا۔ اس کے بعد دو ہٹے کٹے پجاریوں نے مجھے اٹھایا اور منحوس بت کی زبان کی پھسلنی پر بٹھا کر ہاتھ چھوڑ دیئے۔
ان کے ہاتھ چھوڑتے ہی میں خونی دیوتا بعل کی زبان پر پھسل پڑا۔ اس وقت مجھے ایک چیخ کی آواز سنائی دی۔ یہ کسی دوسرے کی چیخ نہیں تھی، یہ میرے منہ سے نکلی ہوئی چیخ کی آواز تھی۔ اس کے ساتھ ہی میں زبان سے پھسل کر بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں گر پڑا۔ آگ کے شعلوں میں گرنے کے فوراً بعد مجھے شدید تپش کا احساس ہوا۔ آنکھوں کے آگے لال سرخ روشنی ہی روشنی ہو گئی اور کانوں میں تیز آندھیوں کا شور گونجنے لگا۔
حیرت اس بات کی تھی کہ میرے جسم کو تپش کی شدت ضرور محسوس ہو رہی تھی لیکن میں ابھی تک زندہ تھا۔ مجھے سوائے آگ کے سرخ شعلوں کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں کہاں پر گرا تھا شعلوں کے اوپر تھا، شعلوں کے اندر تھا یا شعلوں کے نیچے دہکتی آگ کے انگاروں پر تھا یہ مجھے بالکل پتہ نہیں لگ رہا تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے میں ہوا میں لٹکا ہوا ہوں میرے چاروں طرف شعلے ہی شعلے ہیں اور تیز شور مچاتی آندھیاں چل رہی ہیں۔
اس وقت مجھے فرعون کی روح کی بات یاد آگئی۔ اس نے کہا تھا کہ تم پر دنیا جہان کی مصیبتیں پڑیں گی۔ تمہیں
مجھے تخت پر دو زانو بٹھا کر میرے ہاتھ پیچھے باندھ دیئے گئے۔ چار سپاہی میری دائیں اور چار سپاہی نیزے بھالے لے کر میری بائیں جانب کھڑے ہو گئے ۔ ایک حبشی جلاد تلوار لے کر تخت کے پاس آگیا۔ ڈھول تاشے زور زور سے بجنے لگے۔ جلاد نے میری گردن زبردستی جھکا دی اور تلوار کا پھل میری گردن پر رکھ کر اوپر اٹھا لیا۔ میں نے دیکھا کہ گردن پر تلوار کا وار کرنے کے لیے اس نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا ہے۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
عین اس وقت مجھے اپنی پشت پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ یہ ہاتھ میری پشت پر ہی رہا۔ جلاد کی تلوار میری گردن پر پڑ جانی چاہئے تھی۔ اس نے میری گردن تن سے الگ کرنے کے لیے ہی پوری قوت سے تلوار والا ہاتھ بلند کیا تھا مگر ابھی تک تلوار میری گردن سے نہیں ٹکرائی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ تاخیر کس لئے ہوئی ہے اور میری پشت پر کسی نے اپنا ہاتھ رکھ دیا ہے۔ یہ جلاد کا ہاتھ نہیں ہو سکتا تھا۔
میری پشت پر رکھے ہوئے ہاتھ کے لمس میں بڑی شفقت تھی۔ میں نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں۔ یہ دیکھ کر میں ششدر سا ہو کر رہ گیا کہ مجھے سب لوگ دکھائی دے رہے تھے مگر اپنا جسم نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہاں پر جو سپاہی کھڑے تھے وہ گھبرا کر چبوترے سے چھلانگیں لگا گئے تھے۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ مجھے اپنا جسم بالکل نظر نہیں آ رہا تھے ۔
جیسے میرا جسم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب ہو گیا تھا۔ مجھے اپنی پیٹھ پر کسی کا ہاتھ ابھی تک محسوس ہو رہا تھا۔ اب یہ ہاتھ میری پیٹھ پر سے اوپر کو کھسک کر میرے کندھے پر آگیا تھا مگر جس کا یہ ہاتھ تھا وہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کیا یہ فرعون کی روح کے طلسم کا اثر تھا ۔ضرور ایسا ہی ہو گا۔ فرعون نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے مجھے موت کے منہ سے نکال لیا تھا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ میرے کندھے پر جس کا ہاتھ تھا، وہ کون تھا ۔
مجھے ایک دم غائب ہوتا دیکھ کر سپاہی اور دوسرے لوگ ڈر کر بھاگ گئے تھے۔ وہاں اب میرے سوا کوئی نہیں تھا اور میں بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس وقت میرے کان میں کسی عورت کی آواز آئی۔ ”مجھے کسی نے تمہاری مدد کے لیے بھیجا ہے۔ جب تک میرا ہاتھ تمہارے کندھے پر رہے گا تم کسی کو نظر نہیں آؤ گے۔ میرے ساتھ اس طرح چلو کہ میرا ہاتھ تمہارے کندھے پر ہی رہے۔" وہ سوال جواب کرنے کا وقت نہیں تھا۔
میں بڑی احتیاط کے ساتھ لکڑی کے تخت پر سے نیچے اتر آیا۔ غیبی عورت کا ہاتھ میرے کندھے پر ہی .....؟تھا۔ اگرچہ میں غائب تھا مگر مجھے ہر شے دکھائی دے رہی تھی۔ میں قدم قدم چلتا چبوترے پر سے بھی نیچے آگیا۔ میں نے غیبی عورت سے پوچھا۔
مجھے کس طرف جانا چاہئے

Want your business to be the top-listed Government Service in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Faisalabad
37000