یہ سردی…
سچ پوچھیں تو آج کی سردی ویسی بالکل نہیں رہی۔
میرا بچپن تو گیلی ہوا والی ٹھنڈ کا تھا— صبح اسکول جاتے ہوئے گالوں پر بوندوں کی طرح پڑتی تھی اور لگتا تھا جیسے میٹھی سی خ کی روح تک اتر گئی ہے۔
امی کا بنا ہوا نیلا اونی اسکارف جو یونیفارم کا حصہ تھا
ہائے، کیسی الجھن ہوتی تھی اسے لینے میں!
سوئی جیسے چبھتے تھے، گلے میں پھندا سا لگتا تھا،
اور میں روز کہتی، "امی نہیں چاہیے اور چھوٹا بھائی نیلی ٹوپی سے الجھن کرتا
مگر امی؟
وہ تو دروازے تک آکر بڑے ناز سے اسے میری ٹھوڑی کے نیچے کس کے باندھ دیتیں۔
ان کے ہاتھوں کی وہ گرمی…
آج سمجھ آتی ہے کہ امی صرف سردی نہیں، دنیا کی سختیاں بھی روک رہی تھیں۔
انہیں پتا تھا کہ گرمی ہی زندگی ہے۔
گھر آ کر صحن میں پھیلی ہوئی دھوپ…
اوہ، وہ دھوپ کیسی نعمت تھی
اس میں بیٹھ کر امی کی ابالی ہوئی شکر قندی کھانا—
کیا ہی شاہانہ اسنیک تھا!
ہاتھ جل بھی جائیں تو مزہ آتا تھا،
پھر امی دور سے آواز دیتیں:
"آہستہ کھاؤ، ابھی ابھی اتاری ہے!"
اس دھوپ میں بیٹھے بیٹھے مالٹے چھیلنا،
چھیلتے ہوئے پورا صحن خوشبو سے بھر جانا،
اور پھر آہستہ آہستہ آنکھیں بوجھل ہو کر بند ہو جانا…
وہ سستی، وہ نیند، وہ آرام—
ایسا لگتا تھا جیسے دنیا ہمارے لیے تھم گئی ہو۔
بڑے ہو کر یہ دھوپ شاید واقعی نصیب نہیں ہوئی،
یا شاید مصروفیت نے راستے میں کھڑے ہو کر چھین لی۔
اور دھند؟
جناب، وہ تو پورے سات دن جاڑے کی رانی بنی رہتی تھی۔
سورج اگر جھانکتا بھی تھا تو ایسے جیسے روٹھ کر آیا ہو۔
گلیاں، کھمبے، درخت—
سب دھند کے کمبل میں لپٹے ہوئے۔
کوئلے کی انگیٹھی کی سرخ سرخ چنگاریاں،
جس پر ہاتھ تاپتے ہوئے لگتا تھا جیسے زندگی تھوڑی دیر کو پگھل کر نرم ہو گئی ہو۔
رات کو رضائیوں کا اپنا میلہ لگتا تھا—
پھولوں والی بھاری رضائیاں،
جن میں روئی ٹکڑوں کی شکل میں جمع ہوتی رہتی تھی،
مگر ان کی گرمی؟
واہ… جیسے کوئی آپ کو گود میں اٹھا کر، سینے سے لگا کر سلائے۔
اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے بچپن کوئی زمانہ نہیں،
بلکہ ایک لمبی، مہکی ہوئی، دودھ ملائی جیسی یاد ہے
جو دل کے کسی کونے میں اب بھی گرم دہکتے کوئلے کی طرح رکھی ہے۔
اگر آپ نے یہ پڑھ کر ذرا سا بھی مسکرا لیا ہے
تو سمجھ لیں—
آپ کا بچپن کہیں نہیں گیا…
بس دھند میں لپٹا بیٹھا ہے
اور آپ نے ابھی اس کا ہاتھ تھوڑا سا پکڑ لیا ہے۔
نبیلہ ہارون کوثر
اردو ناولز ،کہانیاں ،افسانے
its all about the novels afsans
25/11/2025
ایک سابق شوہر اور سابق بیوی ٹرین میں اچانک ایک دوسرے
سے ٹکرا گئے۔ وہ پہلے سے بیٹھی ہوئی تھی جب وہ اندر داخل ہوا۔ دونوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے سے بچنے کی کوشش نہیں کی — اب وہ بچے نہیں تھے، اور ان کی علیحدگی بھی خاموشی سے ہوئی تھی، بغیر کسی ڈرامے یا اسکینڈل کے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو تیزی سے پرکھتی ہوئی نظر سے دیکھا۔ ہلکا سا مسکرائے بھی۔ ماضی تو کب کا بیت چکا تھا؛ جو ہوا، سو ہوا۔ آخرکار، وہ اپنی زندگی کے دو سال ایک ساتھ گزار چکے تھے۔
اسے لگا کہ وہ اب بھی اچھی لگ رہی تھی — وقت نے اپنے نشان ضرور چھوڑے تھے، مگر وہ اب بھی اُسی وقار سے چلتی تھی، ہمیشہ کی طرح صاف ستھری اور نفاست سے لباس پہنے ہوئے۔ اُدھر وہ دیکھ رہی تھی کہ اس کے بال پہلے سے کم ہو گئے تھے، اور گنج پن آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ چہرہ زیادہ نہیں بدلا تھا، شاید صرف آنکھوں میں ایک تھکی ہوئی سی سنجیدگی آ گئی تھی۔
"کیسی ہو؟" اس نے پوچھا۔
"ٹھیک ہوں،" وہ بولی — ہمیشہ والا جواب۔
وہ خود کو روک نہ سکا۔ "کسی سے مل رہی ہو؟"
اس نے بتایا کہ اس نے تین سال پہلے دوسری شادی کر لی تھی — اس کا شوہر ڈسٹرکٹ اٹارنی تھا۔ سنجیدہ آدمی، ذمہ دار، ہمیشہ مصروف۔ وہ اب گھریلو خاتون تھی، گھر صاف رکھتی، کھانا بناتی۔ انہوں نے وہ چھوٹا سا کونڈو بھی بیچ دیا تھا جس میں وہ دونوں رہتے تھے، اور اپنے نئے شوہر کے ساتھ دیہات میں ایک چھوٹا سا سمر ہاؤس خرید لیا تھا۔ ہفتوں کے آخر میں فرار کی جگہ۔
بات مکمل کرکے وہ شائستگی سے مسکرائی۔ "اب تم سناؤ۔"
اس نے کہا کہ اس نے بھی دوبارہ شادی کر لی ہے۔ اس کی بیوی ایک گروسری اسٹور چلاتی ہے — ہر روز اتنا کھانا لے آتی کہ کھایا بھی نہ جائے۔ وہ برسوں سے کسی سپر مارکیٹ میں قدم نہیں رکھ سکا۔ وہ سخت مگر مہربان تھی، اکثر تھکی ہوئی۔ انہوں نے چھٹیوں کا گھر نہیں خریدا؛ بہت جھنجھٹ، بہت کام۔ سفر کرنا آسان تھا — ہر گرمیوں میں ایک نیا ملک۔
چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر وہ آہستگی سے بولی، "تمہاری ماں کتنی اچھی عورت تھیں۔ کیسی ہیں؟"
اس نے نظریں جھکا لیں۔ "دو سال پہلے انتقال ہو گیا۔"
وہ ہولے سے آہ بھری۔ اس نے بھی۔ باتوں کا بہاؤ ٹوٹ گیا۔
"ہماری علیحدگی کے بعد تم نے کیسے گزارا؟" وہ اچانک پوچھ بیٹھا۔ "کبھی پچھتایا؟"
وہ ہلکے سے ہنسی، سر ذرا پیچھے جھٹکا۔
"نہیں، کبھی نہیں،" اس نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔ پھر تھوڑا رک کر آہستہ سے بولی، "شروع میں مشکل ضرور تھا…"
اس نے یہ نہ بتایا کہ "مشکل" سے اس کی مراد کیا تھی۔ بس اسے دوبارہ دیکھا۔ "اور تم؟"
اس نے گردن کے پیچھے ہاتھ پھیرا، جیسے بات کو ہلکا کرنا چاہتا ہو، مگر سچ لبوں سے پھسل گیا۔
"میں تو ٹوٹ گیا تھا،" اس نے اعتراف کیا۔ "لیکن میری بیوی نے سہارا دیا۔ اب سب ٹھیک ہے۔ زندگی اچھی گزر رہی ہے۔ بچے نہیں ہیں… اب دیر ہو گئی۔"
وہ چپ چاپ سر ہلا دی۔
ٹرین آہستہ ہوئی اور رک گئی۔ وہ دونوں اُترے، ایک آخری نظر — بس ایک چھوٹا سا اشارہ — اور الگ الگ سمتوں میں چل دیے۔
وہ اپنی کرائے کی چھوٹی سی کمرے والی جگہ پر واپس آیا۔ پڑوسی شور مچاتے تھے، کچن میں تلی ہوئی پیاز کی بو ہی بو۔ اس نے سنگل الیکٹرک برنر جلایا تاکہ منجمد ڈمپلنگ ابال لے۔ بات کرنے کا دل نہیں تھا۔ بس چپ بیٹھنے کا۔
طلاق کے بعد اس کا دل بکھر گیا تھا۔ وہ ایک کڑے دور سے گزرا — بہت پیا، قرض میں ڈوب گیا، تقریباً سب کچھ کھو دیا۔ کچھ ہی عرصے بعد اس کی ماں کا دل بھی جواب دے گیا۔ اسے اپنا اپارٹمنٹ بیچنا پڑا تاکہ قرض اُتار سکے۔ اب وہ اس چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا — ایک آدمی کے لیے بس جتنا کافی ہو۔
وہ کسی اور کے ساتھ رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ کچھ لوگوں کے دل ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کا دل بھی بند ہو گیا تھا — اور اس کے اندر وہ اب بھی رہتی تھی۔ اس کی پہلی اور آخری۔
وہ بیٹھا سوچ رہا تھا، میں نے جھوٹ کیوں بولا؟ شاید انا کی وجہ سے۔ شاید اس لیے کہ اس عمر میں تنہا ہونا شرمندگی جیسا لگتا ہے۔
وہ بھی اپنے فلیٹ میں واپس آئی۔ دروازے پر ایک سنجیدہ شکل والا بلی اس کا استقبال کر رہا تھا — اس نے اس کا نام "جج" رکھا تھا۔ وہ اداس مسکرائی۔ میں نے بھی جھوٹ کیوں بولا؟
انسانی فطرت میں ہی کچھ ایسا ہے جو ہمیں نقاب اوڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ دکھاوا کہ سب ٹھیک ہے۔ وہ چیز — انا، خوف، عادت — نادیدہ دیواریں کھڑی کرتی ہے۔ ایسی دیواریں جو ہمیں وقت پیچھے موڑنے یا وہ ٹھیک کرنے سے روکتی ہیں جو کبھی ہم نے توڑا تھا۔
وہ ایک بیڈروم والے فلیٹ میں اکیلی رہتی تھی۔ وہ — ایک کرائے کے کمرے میں۔ دو تنہا روحیں۔
فرق صرف اتنا تھا: اس کے پاس “جج” نامی بلی تھی۔
اور اس کے پاس کوئی بھی نہیں۔
12/09/2025
جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔
اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔ امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔
عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔ آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔
چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔ پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔ پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کو پٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اور مہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندر یا ریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔
بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!
ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟ ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔
کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔
تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی اور ہمیں یہیں چھوڑ گئیں۔
(وسعت اللّٰہ خان)
شادی کے دو سال بعد ہی زویا کے شوہر کا سانحہ بلدیہ ٹاٶن میں انتقال کیا ہو گیا۔۔۔ آفس میں کام کرنے والے بڑے افسران سے لے کر چپراسیوں تک کے منہ سے بھی رال ٹپکنے لگی۔
زویا کا حسن تھا ہی ایسا کہ ہوش و خرد سے بیگانہ کردے۔
وہ حسن و جمال کا ایک باکمال شاہکار تھی ، خمار آلود آنکھیں ، گھنیرے خوشبو بھرے گیسٶ اور مدہوش کن سراپا سب کے دلوں میں ہر وقت ہلچل مچاۓ رکھتا تھا۔
سانحے کے ابتداٸی دنوں میں سبھی اس کا غم بانٹتے اور صبر کی تلقین سے ڈھارس بندھاتے رہے ، تاہم تھوڑے ہی عرصے بعد زویا کو محسوس ہونے لگا کہ سبھی ہمدردی کی آڑ میں اسے اپنا ہمسفر بنانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ ساتھ ہی اسے یہ احساس بھی شدت سے ہونے لگا کہ لوگ کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن کسی سبب ابھی تک خاموش ہیں۔
ان سب احساسات کو وہ بھی جان بوجھ کر در گزر کرتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ دو ماہ کے قلیل عرصے بعد ہی دفتر میں کام کرنے والا پینتالیس سالہ کلرک ظہیر احمد اظہار ِ ہمدردی کی آڑ میں کہنے لگا۔
”زویا بی بی ! سب کچھ قسمت کا لکھا ہوتا ہے ، آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں ، کوٸی بھی کام ہو ، آپ بلاجھجھک مجھے کہہ دیا کریں۔ “
” بس۔۔ یہی کہنا تھا ۔۔۔ یا ابھی کچھ مزید کہنا ہے۔؟“ زویا نے اس کے چہرے پر نظریں ٹکا دیں۔
” نہیں زویا بی بی۔۔۔ میں اسے اپنی خوش نصیبی ہی سمجھوں گا اگر آپ کے کسی کام آیا۔“ وہ کسی حد تک مطمٸن نظر آ رہا تھا۔
” ٹھیک ہے ۔۔ “ زویا کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ یہ کہہ کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا ۔۔” میں آپ کے لیۓ اچھی سی کافی لے آتا ہوں۔ “
زویا اسے خشمگیں آنکھوں سے جاتے ہوۓ دیکھنے لگی۔
تھوڑی ہی دیر میں اس نے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا ۔ ” لیں زویا بی بی۔۔ اور کوٸی کام ؟“
” میں نے تو یہ کام بھی نہیں کہا تھا تمہیں ۔ “ زویا دھیمے انداز میں گویا ہوٸی۔
” زویا بی بی ۔۔ میں نے کہا ناں مجھے آپ کے کام آ کے خوشی ہوگی۔ “ اس کے لہجے سے اطمینان جھلک رہا تھا۔
”اچھا۔۔ “ زویا اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی۔
” دیکھیں ناں زویا بی بی ۔۔۔۔ یہ قسمت کی ستمگری نہیں تو اور کیا ہے کہ ۔۔۔ آپ کا جیون ساتھی ، ساتھ ہی چھوڑ گیا۔۔ “ وہ قدرے نظریں جھکاتے ہوۓ کہتا رہا ۔۔۔۔
اور۔۔۔۔ زویا۔۔۔
اپنی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے اسے بغور دیکھتی رہی۔
” انسان کو ایک سہارے ، ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔جس کے ساتھ مل کر ہی وہ زندگی کے نشیب و فراز کا مقابلہ کر سکے۔۔“ وہ کہتا رہا۔
زویا تو پہلے ہی اس کی باتوں کی تہہ تک پہنچ چکی تھی ۔۔
پھر بھی خود پر ضبط کرتے ہوۓ نرم لہجے میں پوچھا۔
” آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو۔۔ کم ٹو د پواٸنٹ۔ “
” زویا بی بی۔۔ “ وہ گلا کھنکارتے ہوۓ کہنے لگا۔ ” آپ یقین مانیں مجھے آپ کے دکھ کا بخوبی احساس ہے اور یہ زندگی ایسے پر پیچ راستوں سے بھری پڑی ہے ، جس پر اکیلے چلنے کا صرف تصور ہی تھکا دینے کو کافی ہے۔۔۔ اور میں نہیں چاہتا کہ آپ زندگی کے کسی دوراہے پر تھک جاٸیں۔“
” تو پھر کیا کرنا چاہیۓ ؟“ وہ بمشکل اپنے غصے پر قابو کیۓ ہوٸی تھی۔
” تو پھر اگر آپ۔۔۔۔۔۔۔۔“ وہ اس کے مدھ بھرے نینوں کو دیکھتے ہوۓ چپ ہو گیا۔
” ہاں ہاں ۔۔۔کہتے رہو۔۔ میں سن رہی ہوں ۔“ وہ جان بوجھ کر اسے موقع دے رہی تھی۔
” اگر آپ چاہیں تو۔۔ اس تنہاٸی اور اکیلے پن کے احساس کو ختم کر سکتی ہیں۔“ اسنے پتا پھینک دیا۔
” وہ کیسے۔۔۔؟؟؟“ زویا کا یہ تجسس بھرا سوال اس کے جذبات بڑھانے اور بھڑکانے کو کافی تھا۔
” مجھ سے سیٹنگ کرکے۔۔۔۔ “ وہ اپنے دل کی بات زباں پر لے ہی آیا۔
” ہممم ۔“ وہ ہممم کہتے ہوۓ چند لمحوں کے لیۓ سوچ میں پڑ گٸی ۔۔۔۔ تو۔۔۔
ظہیر کو لگا کہ اس کی کشتی پار لگ چکی۔۔۔ حسین خواب پلکوں کی زینت بننے لگے۔
” تو سیٹنگ کرنے سے احساس ِ تنہاٸی ختم ہو سکتا ہے۔۔؟“ زویا کی بات سن کر اس کے دل میں عید کا سا سماں چھانے لگا اور وہ بے اختیار کہنے لگا۔
” ہاں جی بالکل۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔ “
”ہممم۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں تمہارے مشورے پر عمل کروں۔۔۔ کچھ پوچھ سکتی ہوں ۔۔۔؟“ زویا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ سوال پوچھا۔
” جی ہاں۔۔ بالکل پوچھیں ، آپ کو پورا پورا حق ہے۔“
وہ اپنے تٸیں مطمٸن ہو چکا تھا۔
” میں نے سنا تھا کہ تمہاری بیٹی نے لو میریج کی ہے۔؟“
” جی ہاں ۔۔ آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ “ زویا کا سوال گوکہ موضوع سے ہٹ کے تھا تاہم وہ پراعتماد لہجے میں کہنے لگا۔ ” اور میں نے کبھی اس کے اس قدم سے اختلاف نہیں کیا۔ “
” لیکن تمہارے داماد کے والدین کو تو اختلاف تھا ، وہ بھی شدید۔۔۔ ہے ناں ۔؟ “ زویا نے ایک اور سوال داغا۔
” جی ہاں ، انہوں نے کبھی اس رشتے کو دل سے قبول نہیں کیا۔ “ اس نے قدرے اداس ہوتے ہوۓ جواب دیا۔
” تمہارا داماد اب کہاں ہے۔۔۔ ؟“ زویا کا یہ سوال بھی موضوع سے ہٹ کے تھا اس لیۓ اب وہ حیران ہونے لگا کہ آخر زویا یہ سب کیوں پوچھ رہی ہے۔؟
” اسے چار برس قبل دبٸی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر موقع پر ہی پولیس مقابلے میں جان گنوانی پڑی۔۔“ کہتے کہتے وہ افسردہ ہوگیا۔
” اب تمہاری بیٹی کہاں ہے۔؟“
” میرے گھر میں ہے۔ “ زویا کے سوال پر اس نے بے ساختہ جواب دیا۔
” اس کی سیٹنگ کرواٸی ہے۔۔۔؟؟“
زویا کا یہ سوال ، سوال نہيں بلکہ ایک بم تھا ۔۔۔
جس میں صرف اس کے جسم کے ہی نہيں ، ارمانوں کے بھی چیتھڑے اڑ گٸے ۔۔ Copied #
Asif Line's
یہ واقعہ مصر میں پیش آیا:
”ایک چھوٹی سی 6 سالہ معصوم بچی سڑکوں پر ٹشو پیپرز بیچ رہی تھی، چہرے پر مسکراہٹ لئے یہ اِدھر سے اُدھر پھدکتی پھر رہی ہے، گاہکوں کو آتے دیکھ کر اپنی چھوٹی سی ٹوکری ان کے سامنے کرتی ہوئی کہتی: آپ کو ٹشو پیپرز چاہئیں؟
وہ ایک خاتون کے سامنے سے گزرتی ہے تو دیکھتی ہے کہ وہ رو رہی ہے، معصوم بچی اس کے پاس رک جاتی ہے، خاتون نے بھی اشک بار آنکھوں سے اس پیاری سی بچی کو دیکھا جو چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ لیے اسے ٹشو پیپر کا پیکٹ پیش کر رہی تھی، اس نے انجانے میں ٹشو پیپر نکالا اور اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگی۔ اس نے اپنے پرس سے ٹشو پیپرز کی قیمت نکالی اور بچی کو دینے کے لیے دیکھا تو وہ جا چکی تھی۔ وہ چھوٹی سی مسکراتی ہوئی بچی اسے بہت اچھی لگی۔ تھوڑی دور ایک خالی بنچ پڑا تھا، وہ خاتون وہاں جا کر بیٹھ گئی، کچھ سوچا اور پھر اپنے موبائل سے اپنے خاوند کو میسیج کیا:
”میں اپنے کیے پر نادم ہوں، جو کچھ ہوا، مجھے اس پر افسوس ہے، آپ جانے دیں، آپ کا موٴقف درست ہے۔“
اس کا خاوند ایک ہوٹل میں پریشان حال بیٹھا تھا کہ اسے بیوی کا یہ خوشگوار پیغام ملا، اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ چھا گئی۔ ان میاں بیوی کے مابین کسی بات پر جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس خوشی میں اس نے ویٹر کو بلوایا اور بڑی خوشی سے اسے پچاس مصری پونڈ پکڑا کر کہا کہ یہ تمہارے ہیں، ویٹر کو اعتبار نہ آیا اور کہنے لگا: چائے کی قیمت تو صرف 5 پونڈ تھی؟! باقی تمہاری ٹپ ہے، وہ گویا ہوا…
اب ویٹر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ویٹر کو اتنی بڑی رقم کا ملنا کوئی معمولی بات نہ تھی، اس نے ایک فیصلہ کیا اور اس بوڑھی فقیر عورت کے پاس جا پہنچا، جو فٹ پاتھ پر کپڑا بچھائے چاکلیٹ اور ٹافیاں بیچ رہی تھی، اس نے ایک پونڈ کی چاکلیٹ خریدی اور اسے مسکراتے ہوئے دس پونڈ پکڑا دےئے۔ باقی پونڈ تمہارے لیے، اس نے کہا اور اپنے کام پر واپس چل دیا۔
بوڑھی خاتون بار بار اس 10 پونڈ کے نوٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، جو اسے بغیر کسی محنت اور صلے کے مل گئے تھے۔ اس کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ تھی۔ اس کا دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا تھا، اس نے زمین پر بچھائے ہوئے اپنے سامان کو سمیٹا اور سیدھی قصاب کی دکان پر جا پہنچی، اسے اور اس کی پوتی کو گوشت کھائے کتنی مدت گزر چکی تھی۔ ان کا گوشت کھانے کو جی چاہتا تھا، مگر ان کے وسائل اجازت نہیں دیتے تھے، آج ان کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔
اس نے مسکراتے ہوئے گوشت خریدا اور گھر چل دی۔ بوڑھی اماں نے بڑی محنت اور شوق سے گوشت پکایا اور ننھی سی پیاری سی پوتی کا انتظار کرنے لگی کہ وہی تو اس کی کل کائنات تھی، آج وہ گوشت کھا کر کتنی خوش ہوگی؟
وہ سوچوں میں گم تھی کہ ٹشو پیپرز بیچنے والی اس کی پوتی مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی، آج اس کے چہرے پر عام دنوں سے زیادہ مسکراہٹ تھی۔
قارئین کرام! کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم بھی اس ٹشو پیپر بیچنے والی بچی کی طرح مسکراہٹیں تقسیم کریں، لوگوں میں خوشیاں بانٹیں، رسول کریم کی حدیث پر غور کریں۔ رسول کریم نے ایک حدیث میں اپنی امت کی رہنمائی فرمائی اور چہرے کی مسکراہٹ کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے سے پیش آنا بھی صدقہ ہے۔“
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3085) (وانظر: مسند احمد (3/344، 360) (صحیح)»
19/04/2025
فلسطین کی کہانی چھ ہزار سال پرانی ہے جہاں دنیا کے تینوں بڑے مذاہب کی جڑیں جڑی ہوئی ہیں یہودیت سے مسحیت تک اور پھر اسلام کی آمد تک یہاں سے مذہبی عقیدت وابستہ ہے آج جو کچھ غزہ اور یروشلم میں ہو رہا ہے یہ نیا نہیں ہے تاریخ آج بھی خود کو خود لکھنے کے درپے ہے.
ہزاروں سال پہلے وہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے ایک مسافر سے، جو بابل (عراق)کی سرزمین چھوڑ کر فلسطین کی طرف نکلے۔ یہ مسافر کوئی معمولی انسان نہ تھے، یہ اللہ کے خلیل، حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ اپنے رب کے حکم پر سب کچھ چھوڑ کر نکلنے والے، جو آگ میں ڈالے گئے تو آگ ان کے لئے گلزار بنی۔
وہ قافلے کی صورت میں فلسطین پہنچے، ایک ایسی زمین پر جو صدیوں سے ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں لے رہی تھی، جہاں فطرت اپنی سادہ شکل میں جی رہی تھی، مگر ایک بڑا وعدہ اس مٹی سے جڑا تھا۔ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ یہ زمین تیری نسل کے لیے برکتوں والی ہوگی۔
ابراہیم علیہ السلام نے یہاں خیمہ زن ہو کر رب کی عبادت شروع کی۔ ان کی بیوی سارہ تھیں، مگر ان سے اولاد نہیں ہوتی تھی۔ برسوں کی دعاؤں کے بعد جب امید کے چراغ مدھم ہونے لگے، اللہ نے انہیں خوشخبری دی۔ سارہ کی باندی، حاجرہ سے ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام اسماعیل علیہ السلام رکھا گیا۔
اور پھر معجزہ ہوا، بڑھاپے کی دہلیز پر سارہ کو بھی بیٹا عطا ہوا، وہی اسحاق علیہ السلام، جن کی نسل سے آگے چل کر ایک قوم بنی، جسے ہم بنی اسرائیل کے نام سے جانتے ہیں۔
ادھر اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں حاجرہ کو اللہ کے حکم سے ابراہیم نے وادیٔ غیر ذی زرع، یعنی بے آب و گیاہ وادی مکہ میں لا کر بسایا۔ وہاں زمزم کا چشمہ جاری ہوا، اور اسماعیل کی نسل آگے بڑھنے لگی۔ یہی نسل آگے چل کر عرب کہلائی۔
تو یوں ابراہیم کی دو شاخیں ہوئیں — ایک طرف بنی اسرائیل، حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل سے، اور دوسری طرف عرب، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے۔
فلسطین کی زمین پر اس دوران حضرت اسحاق علیہ السلام اور پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کی برکتیں برسنے لگیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہوئے، جن سے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل وجود میں آئے۔
ان میں ایک تھے حضرت یوسف علیہ السلام، جو اپنے بھائیوں کی سازش سے مصر پہنچے۔ یوسف علیہ السلام کی حکمت اور رب کی نصرت سے وہ مصر کے وزیر بنے، اور یوں بنی اسرائیل بھی مصر میں جا بسے۔ وقت گزرتا گیا، نسلیں بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ مصر کے فرعونوں نے ان پر ظلم ڈھانا شروع کر دیا۔
اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا کہ اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے ٹکر لی، دریا پار کروایا، مگر جب فلسطین میں داخل ہونے کا وقت آیا، تو بنی اسرائیل نے بزدلی دکھائی۔ اللہ نے انہیں چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کی سزا دی۔
موسیٰ علیہ السلام وہیں اللہ سے جا ملے، اور ان کے بعد یوشع بن نون نے قوم کی قیادت کی۔ بڑی قربانیوں کے بعد بنی اسرائیل نے فلسطین میں قدم رکھا۔ مگر یہ قدم بھی مکمل فتح کے نہیں تھے؛ آزمائشوں اور عہد شکنیوں کی ایک لمبی داستان شروع ہوئی۔
وہی سرزمین جہاں کبھی ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے نام کی گواہی دی تھی، اب بنی اسرائیل کے درمیان اقتدار، حسد، اور دنیا داری کے کھیل کا میدان بن گئی۔ اللہ نے ان پر نیک نبی بھیجے، مگر قوم اکثر نافرمانی پر اتر آئی۔ کبھی حضرت داؤد علیہ السلام نے اس سرزمین کو عدل سے سجایا، کبھی حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت نے اسے جلال بخشا، مگر پھر بکھراؤ آیا، بت پرستی لوٹی، اور اللہ کا عذاب بھی۔
بابل سے حملہ آور آئے، یروشلم کو مسمار کیا گیا، ہیکل سلیمانی کو راکھ میں بدلا گیا۔ بنی اسرائیل کو قیدی بنا کر بابل لے جایا گیا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد وہ واپس لوٹے، مگر نہ دلوں کی صفائی ہوئی نہ وعدوں کی پاسداری۔
رومی آئے تو فلسطین ان کی سلطنت کا حصہ بنا۔ اسی دور میں اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا، جو بنی اسرائیل کو رب کی طرف پلٹنے کی دعوت دینے آئے تھے، مگر قوم نے انہیں بھی جھٹلایا، یہاں تک کہ صلیب دینے کی کوشش کی، اور اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی جانب اٹھا لیا۔
پھر وقت نے ایک نیا چہرہ دیکھا — مکہ کی گلیوں سے اٹھنے والی صدائے حق، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں۔ وہی نسل اسماعیل کی، جسے کبھی مکہ کی وادی میں چھوڑا گیا تھا، اب دنیا کو اللہ کا آخری پیغام دے رہی تھی۔
اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات سفر کیا تو بیت المقدس وہی پہلا مقام تھا جہاں آپ نے ام نبیاء کی امامت فرمائی۔ یہ مقام پھر سے روشنی میں آگیا۔
خلفائے راشدین کے دور میں، جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فلسطین میں داخل ہوئے تو عدل کے ساتھ، بغیر خونریزی کے بیت المقدس کو حاصل کیا۔ وہی سرزمین جو کبھی وعدوں کی گواہ بنی تھی، اب اسلام کے نور سے جگمگا اٹھی۔
یہ قصہ پھر آگے بڑھا، اموی آئے، عباسی آئے، فاطمی آئے، اور پھر صلیبیوں کے سائے منڈلانے لگے۔ خون کی ندیاں بہیں، مسجد اقصیٰ کو پامال کیا گیا، مگر پھر ایک دن صلاح الدین آیا۔ ایک مرد مومن جس نے اپنی تلوار کے زور پر نہیں، بلکہ اپنے حلم اور تقویٰ کے زور پر بیت المقدس کو آزاد کرایا۔
پھر عثمانیوں کا دور آیا، صدیوں تک فلسطین میں امن رہا۔ اور پھر دنیا بدلی، سازشیں ہوئیں، برطانیہ آیا، اور بالآخر وہ دن آیا جب فلسطین کی زمین کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی۔
آج تک اس مٹی پر لہو بہہ رہا ہے، مسجد اقصیٰ اب بھی سجدوں کی پیاسی ہے، اور ابراہیم علیہ السلام کے خواب اب بھی ہواؤں میں گھومتے ہیں۔ اس سرزمین نے وہ سب دیکھا ہے جو انسانیت کے ماتھے پر لکھی ہوئی تاریخ کا سب سے کربناک باب ہے۔
یہ قصہ ابھی ختم نہیں ہوا، یہ تو جاری ہے۔ جب تک رب کی زمین پر رب کا حکم غالب نہیں ہو جاتا، تب تک فلسطین کی کہانی سنائی جاتی رہے گی، نسل در نسل۔
(نوٹ: اس تحریر کو لکھتے ہوۓ اگر کہیں کوئی کمی بیشی رہ گئی ہو تو اصلاح کر سکتے ہیں)
وہ دونوں کلاس فیلو تھے‘ لڑکی پوری یونیورسٹی میں خوبصورت تھی اور لڑکا تمام لڑکوں میں وجیہہ‘ دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے اور آخر میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے‘ معاملہ رومیو جولیٹ جیسا تھا‘ دونوں کے خاندان ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے‘ شادی مشکل تھی‘ دونوں باعزت گھرانوں کے سعادت مند بچے تھے‘ یہ بھاگ کر شادی کیلئے تیار نہیں تھے اور خاندان اپنے اپنے شملے نیچے
نہیں لا رہے تھے لہٰذا معاملہ پھنس گیا‘ لڑکے اور لڑکی نے پوری زندگی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ یہ دونوں اپنے اپنے گھر میں رہتے رہے‘ پانچ سال دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا‘ والدین شادی کی کوشش کرتے مگر یہ انکار کرتے رہے یہاں تک کہ لڑکی کے والدین ہار مان گئے‘ لڑکی نے لڑکے کو فون کیا‘ لڑکے نے فون اٹھایا‘ لڑکی کی صرف ہیلو سنی اور کہا ”مجھے بتاؤ‘ میں نے بارات لے کر کب آنا ہے“ دونوں کے والدین ملے‘ شادی ہوئی اور دونوں نے اپنا گھر آباد کر لیا‘ لڑکے نے کاروبار شروع کیا‘ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور وہ خوش حال ہو گئے‘ یہ شادی بیس سال چلی‘ اس دوران تین بچے ہو گئے‘ خاتون کو اپنے حسن‘ اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا‘ وہ تھی بھی ناز کے قابل‘ وہ 45 سال اور تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود جوان لگتی تھی‘ خاوند بھی روز اول کی طرح اس پر فریفتہ تھا‘ وہ روز جی بھر کر بیوی کی تعریف کرتا تھا لیکن پھر ایک دن وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا‘ خاتون کی گردن پر چھوٹی سی گلٹی نکلی اور یہ گلٹی پھیلتے پھیلتے ناسور بن گئی‘ ڈاکٹروں کو دکھایا‘ ٹیسٹ ہوئے‘ پتہ چلا خاتون جلد کے کینسر میں مبتلا ہیں‘ خاوند صرف خاوند نہیں تھا وہ اپنی بیوی کا مہینوال تھا‘ وہ اپنی ران چیر کر بیوی کو کباب بنا کر کھلا سکتا تھا‘ وہ بیوی کو لے کر دنیا جہاں کے ڈاکٹروں کے پاس گیا‘ ایک کلینک سے دوسرے کلینک‘ ایک ڈاکٹر سے
دوسرے ڈاکٹر اور ایک ملک سے دوسرے ملک‘ وہ دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا‘ خاتون کا جسم گلٹیوں سے بھر گیا‘ یہ مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک دن دوسری آفت آن پڑی‘ خاوند کی گاڑی ٹرک سے ٹکرائی اور وہ شدید زخمی ہو گیا‘ وہ ہسپتال پہنچا‘ پتہ چلا وہ بینائی کی نعمت سے محروم ہو چکا ہے‘ آپ اس کے بعد المیہ ملاحظہ کیجئے‘ شہر کا خوبصورت ترین جوڑا‘ بدقسمتی‘ بیوی جلد کے کینسر کی مریض اور خاوند آنکھوں سے اندھا‘
لوگ انہیں دیکھتے تھے تو کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے لیکن یہ دونوں اس کے باوجود مطمئن تھے‘ یہ روز صبح باغ میں واک بھی کرتے تھے‘ سینما بھی جاتے تھے اور ریستورانوں میں کھانا بھی کھاتے تھے‘ بیوی خاوند کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ ساتھ چلتی تھی‘ وہ اسے گائیڈ کرتی تھی اور خاوند بیوی کی گائیڈینس پر چلتا جاتا تھا‘ یہ سلسلہ بھی کئی ماہ تک چلتا رہالیکن پھر بیوی نے خاوند سے ایک عجیب مطالبہ کر دیا‘ وہ اکیلی سوئٹزرلینڈ جانا چاہتی تھی‘ خاوند نے وجہ پوچھی‘ بیوی کا کہنا تھا وہ دس پندرہ دن اکیلی رہنا چاہتی ہے‘
خاوند نے اس کے ساتھ جانے کی ضد کی لیکن وہ نہ مانی‘ اصرار اور انکار بڑھتا رہا یہاں تک کہ آخر میں وہی ہوا جو ایسے معاملات میں ہوتا ہے‘ خاوند نے بیوی کو اجازت دے دی۔بیوی سوئٹزر لینڈ چلی گئی‘ خاوند نے وہ دس دن بڑی مشکل سے گزارے‘ وہ شادی کے 20 برسوں میں ایک دن کیلئے بھی اکیلے نہیں ہوئے تھے‘ یہ ان کی جدائی کے پہلے دس دن تھے‘ یہ دس دن پہاڑ تھے‘ خاوند اس پہاڑ تلے سسکتا رہا‘ دس دن بعد بیوی نے آنا تھا‘ خاوند ائیرپورٹ پہنچا لیکن بیوی نہ آئی‘
خاوند کو دنیا ڈولتی ہوئی محسوس ہوئی‘ وہ سارا دن بیوی کو فون کرتا رہا‘ بیوی سے رابطہ نہ ہوا لیکن شام کو بیوی کا خط آ گیا‘ وہ خط ان کے بیٹے نے پڑھا‘ وہ خط صرف خط نہیں تھا‘ وہ ایک تحریری قیامت تھی اور پورا خاندان اس تحریری قیامت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں اس قیامت کی طرف آنے سے قبل آپ کو دنیا کی ایک خوفناک لیکن دلچسپ حقیقت بتاتا چلوں۔دنیا میں ایسے بے شمار سینٹرز ہیں جہاں آپ اپنی مرضی سے مر سکتے ہیں‘ یہ سینٹرزلاعلاج مریضوں کیلئے بنائے گئے ہیں‘
دنیا میں یہ لوگ جب امراض کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں اور یہ چین کی موت مرنا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان سینٹرز میں جاتے ہیں‘ اپنی میڈیکل رپورٹس دکھاتے ہیں‘ ڈاکٹرز ان کی حالت اور رپورٹ چیک کرتے ہیں‘ ان سے یہ حلف نامہ لیتے ہیں ”ہم اپنی مرضی سے دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں“ ان کی مرضی سے ان کی موت کا دن اور وقت طے کرتے ہیں‘ ان کی آخری خواہش پوری کرتے ہیں اور پھر انہیں زہر کا ٹیکہ لگا کر دنیا سے رخصت کر دیتے ہیں‘ یہ عمل طبی زبان میں یوتھانیزیا(euthanasia)یعنی آسان موت کہلاتا ہے‘یہ دنیا کے 7 ممالک میں قانونی ہے اور اتنے ہی ملکوں میں اس کی اجازت کیلئے بحث چل رہی ہے‘
سوئٹزر لینڈ بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں یوتھانیزیا کو قانونی سٹیٹس حاصل ہے‘ زیورخ شہرمیں یوتھانیزیا کا سینٹر بنا ہے‘ یہ سینٹر انتہائی خوبصورت جگہ پر قائم ہے‘ سینٹر کے کمرے پہاڑوں‘ آب شاروں اور جھیلوں کے کنارے بنائے گئے ہیں‘ مریض بیڈ پر لیٹ کر زندگی کی آخری صبحیں اور شامیں دیکھتے ہیں اور آخر میں مہربان ڈاکٹروں اور نرسوں کے ہاتھوں میں زندگی کی سرحد پار کر جاتے ہیں‘ وہ خاتون بھی یوتھانیزیاکیلئے سوئٹزر لینڈ گئی تھی‘ وہ کینسر کا دکھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی چنانچہ اس نے آسان موت لینے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ زیورخ گئی‘
زندگی کے آخری دس دن گزارے اور عین اس وقت اپنے لئے موت کا تعین کر لیا جب اس کی فلائیٹ نے وطن کی مٹی کو چھونا تھا‘ ادھر فلائیٹ اتری اور ادھر وہ زندگی کی سرحد پار کر گئی‘ خاتون کا آخری خط بیٹے کے ہاتھ میں تھا‘ وہ سسکیاں لے لے کر خط پڑھ رہا تھا اور خاوند سر جھکا کر اپنی بیگم کا ایک ایک لفظ سن رہاتھا۔بیوی نے اپنی پوری زندگی کا احاطہ کیا‘ اس نے بتایا‘ وہ جب پہلی بار یونیورسٹی میں ملے تھے تو اس نے کیا محسوس کیا تھا‘ وہ یونیورسٹی میں لڑتی کیوں تھی اور وہ کون سا دن تھا جب لڑتے لڑتے اسے اس سے محبت ہو گئی تھی‘ اس نے فراق کے وہ پانچ سال کیسے گزارے تھے اور اس نے شادی کے بعد اپنے بچوں کو ملازموں کے رحم وکرم پر کیوں چھوڑے رکھا تھا ”میں اپنی محبت کو تقسیم نہیں کر سکتی تھی‘ میں تمہارا حصہ اپنے بچوں کو بھی نہیں دے سکتی تھی“
اس نے 20 سال کی ازدواجی زندگی کس مسرت اور سرشاری میں گزاری اور پھر جب اسے پہلی گلٹی نکلی تو اس نے کیا محسوس کیا‘ وہ خود کو روز بروز بدصورت ہوتا ہوا دیکھتی تھی تو اس کے دل پر کیا گزرتی تھی‘ وہ قدرت کا یہ فیصلہ بھی سہتی چلی گئی لیکن پھر عجیب واقعہ ہوا”آپ نے پہلے بچے بورڈنگ سکول میں بھیج دیئے‘ میں جانتی تھی آپ نے یہ فیصلہ کیوں کیا‘ آپ نہیں چاہتے تھے میرے بچے مجھے اس حالت میں دیکھیں اور پھر میں ان کی آنکھوں میں اپنے لئے ترس دیکھوں‘
پھر آپ ملازموں کو رشوت دیتے تھے اور وہ روزانہ کوئی نہ کوئی شیشہ توڑ دیتے تھے‘ میں آپ سے شیشے لگوانے کا کہتی تھی‘ آپ ہنس کر ٹال جاتے تھے یوں آہستہ آہستہ گھر سے سارے آئینے غائب ہو گئے‘ آپ نہیں چاہتے تھے میں اپنی آنکھوں سے اپنی بدصورتی دیکھوں‘ بات اگر یہاں تک رہتی توبھی میں برداشت کر جاتی لیکن آپ نے آخر میں عجیب کام کیا‘ آپ نے ایکسیڈنٹ کیا اور خود کو اندھا ڈکلیئر کر دیا‘ میں جانتی ہوں آپ کی آنکھیں ٹھیک ہیں‘ آپ مسلسل چھ ماہ سے اندھے پن کی ایکٹنگ کر رہے ہیں اور میں یہ بھی جانتی ہوں آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نہیں چاہتے تھے
میرے دل میں ایک لمحے کیلئے بھی یہ خیال آئے میں آپ کو بدصورت دکھائی دے رہی ہوں یا میں آپ کی آنکھوں میں اپنی بدصورتی کو پڑھ لوں چنانچہ آپ اندھے بن گئے‘ آپ کا یہ مصنوعی اندھا پن محبت کی انتہا تھی‘ میں یہ انتہا برداشت نہ کر سکی چنانچہ میں نے دنیا سے رخصت ہونے کا فیصلہ کر لیا‘ میں دنیا سے جا رہی ہوں‘ آپ اب پلیز اندھے پن کی یہ ایکٹنگ بند کر دیں‘ یہ خط پکڑیں اور خود پڑھنا شروع کر دیں“ یہاں پہنچ کر بیٹے کے منہ سے چیخ نکل گئی‘
باپ نے اس کے ہاتھ سے خط لیا اور اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دیا ”آپ پلیز میرے بعد اپنا خیال رکھئے گا‘ سارے تولئے الماری میں رکھے ہیں‘ میں درزی کو پانچ سال کے کپڑے دے آئی ہوں‘ وہ سال میں دس جوڑے سی کر دے جائے گا‘ آپ نے وہ سارے کپڑے پھٹنے گھسنے تک پہننے ہیں‘ دانت چیک کراتے رہا کریں اور صبح کی سیر کبھی نہیں بھولنی اور آخری بات چڑیوں کو روز دانا ڈالنا ہے اور میری بلیوں کا ہمیشہ خیال رکھنا ہے‘ اللہ حافظ۔ آپ کی جمیلہ“۔خاوند نے خط تہہ کر کے جیب میں رکھا اور چڑیوں کے دانے کا ڈبا تلاش کرنے لگا ۔
#منقول
12/11/2024
ایک وہ مرد ہیں جو بیویوں کو جانوروں کی طرح پیٹتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ بیوی کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟
یہ تو مرد کی فطرت ہے۔
ایک وہ مرد ہیں جو کبھی خرچہ نہیں دیتے اور حیران ہیں کہ اسے کیا تکلیف ہے؟
میں نے اسے کبھی مارا بھی نہیں ۔
پھر بھی یہ خوش نہیں
ایک وہ مرد ہیں جو گھر سے زیادہ باہر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور حیران ہیں کہ اسے کیا تکلیف ہے
کبھی مارا نہیں
راشن ڈلوا کے رکھا ہے
پھر بھی یہ خوش نہیں
ایک وہ مرد ہیں جو باہر افیئر چلاتے ہیں ۔ گھر پہنچتے ہیں فون میں غرق ہو جاتے ہیں اور حیران ہیں کہ بیوی کو کس بات کی تکلیف ہے
آفس سے سیدھا گھر آتا ہوں
کبھی مارتا نہیں
راشن ڈلواتا ہوں
پھر بھی یہ خوش نہیں
ایک وہ مرد ہے جو محبت کے نام پہ کیے تمام وعدے اور دعوے پرانے سامان کے ساتھ کباڑ خانے میں ڈال کر نئی لے آتا ہے اور حیران ہے کہ اسے کس بات کی تکلیف ہے
میں نے افیئر تو نہیں چلایا نیکی کی ہے
۔
۔
۔
۔
پھر بھی یہ خوش نہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سبھی اقسام کے مردوں کو لگتا ہے کہ وہ دوسرے جیسے نہیں
یہ تمہید ہے ایک لمبی گفتگو کی
مارنے کی خوبصورتی اس کی زبان میں ہے جو وعدوں کا پکا ہو اور ارادوں پر اٹل ہو جو صحیح راستے پر چلے محبت سے پیش ائے
(جو بیوی کی عزت کرتے ہیں رشتوں کا احترام کرتے ہیں ذمہ داریاں نبھاتے ہیں ان پہ ہمیشہ لکھتی ہوں ۔ ان کی تعریف و توصیف کرتی ہوں۔ یہ پوسٹ ان کے لئے نہیں)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Faisalabad
