Anjuman e Araian -Regd. Faisalabad
Anjuman-e-Araian (Regd.) Faisalabad is a dedicated social organization committed to fostering unity, progress, and community welfare.
05/06/2026
https://youtu.be/Z-x1tqTumIQ?si=WRP2aM83szYJ-PZS
تیری یاد ہی زندگی مولیٰ | آنکھیں نم کر دینے والا کلام | Heart Touching Sufi Qawwali 2026 یہ ایک انتہائی روح کو چھو لینے والا صوفی کلام ہے جو دل کی گہرائیوں ...
05/06/2026
اداریہ
ری سائیکلنگ، سرکلر اکانومی اور یونیورسٹی آف کمالیہ کا قابلِ تحسین قدم
دنیا آج جس مرحلے سے گزر رہی ہے، وہاں ترقی کا تصور صرف پیداوار، صنعت اور تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اصل سوال یہ ہے کہ انسانی معاشرہ وسائل کو کس حد تک ذمہ داری، دانش مندی اور پائیداری کے ساتھ استعمال کر رہا ہے۔ ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ اور سرکلر اکانومی آج کے دور کے وہ اہم موضوعات ہیں جن پر پوری دنیا میں سنجیدہ غور و فکر، تحقیق، پالیسی سازی اور عملی اقدامات جاری ہیں۔
اسی تناظر میں یونیورسٹی آف کمالیہ کی جانب سے انٹرنیشنل کانفرنس آن ری سائیکلنگ 2026 کا انعقاد ایک نہایت شاندار، بروقت اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ خاص طور پر یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ کانفرنس 10 جون 2026 کو سیرینا ہوٹل فیصل آباد جیسے اہم مقام پر منعقد کی جا رہی ہے، جہاں ملکی اور غیر ملکی ماہرین، محققین، صنعت کار، پالیسی ساز اور طلبہ ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے۔ یہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، ماحولیات، زراعت، صنعت اور معاشرتی پائیداری سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ علمی مکالمہ ہے۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب اس اقدام پر بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی بصیرت، جدید موضوعات کے انتخاب کی صلاحیت، اور اکیڈیمیا کو صنعت و معاشرے کے عملی مسائل سے جوڑنے کا وژن قابلِ تحسین ہے۔ ایک نو قائم شدہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی کی جانب سے اس نوعیت کی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قیادت باصلاحیت، متحرک اور وژنری ہو تو تعلیمی ادارے محدود وسائل کے باوجود قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے کوئی مادہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ انسان ہو، حیوانات ہوں، چرند پرند ہوں، پودے ہوں یا زمین کے اندر موجود وسائل، ہر چیز نظامِ فطرت کا حصہ ہے۔ فطرت کا اپنا ایک پائیدار نظام ہے جس میں کچھ بھی مکمل طور پر ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک مرحلہ ختم ہو کر دوسرے مرحلے کا آغاز بن جاتا ہے۔ پتوں کا زمین میں مل کر کھاد بن جانا، جانوروں کے فضلے کا زمین کی زرخیزی میں کردار، پانی کا بخارات بن کر دوبارہ بارش کی صورت واپس آنا، یہ سب قدرتی ری سائیکلنگ کے روشن نمونے ہیں۔
انسانی معاشرے نے صنعتی ترقی کے سفر میں جب اس فطری توازن کو نظر انداز کیا تو آلودگی، فضلے، موسمیاتی تبدیلی، زمین کی کمزوری، پانی کی آلودگی اور خوراک کے عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ آج دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ ترقی کا پرانا ماڈل، جس میں وسائل کو استعمال کر کے ضائع کر دیا جاتا تھا، زیادہ دیر تک قابلِ عمل نہیں رہ سکتا۔ اب ترقی یافتہ ممالک کی معیشت سرکلر اکانومی کے فلسفے پر آگے بڑھ رہی ہے، جہاں فضلہ بوجھ نہیں بلکہ ایک نیا خام مال، نئی صنعت، نئی تحقیق اور نئی معیشت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ موضوع اور بھی اہم ہے۔ ہمارے شہروں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایک بڑا مسئلہ ہے، صنعتوں کا فضلہ ماحول اور پانی کے لیے خطرہ بن رہا ہے، زرعی باقیات کو اکثر ضائع یا جلا دیا جاتا ہے، جبکہ فوڈ ویسٹ بھی ایک سنگین معاشی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔ اگر ہم ری سائیکلنگ، بائیو ڈی گریڈیشن، ویسٹ ویلیورائزیشن، بائیو انرجی، ایگرو فوڈ ویسٹ مینجمنٹ اور اسمارٹ ویسٹ سسٹمز پر سنجیدہ کام کریں تو یہی فضلہ قومی معیشت، زراعت، توانائی اور صنعت کے لیے ایک قیمتی وسیلہ بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کی یہ کانفرنس اسی سوچ کو آگے بڑھانے کی ایک مضبوط علمی کوشش ہے۔ اس میں ٹیکسٹائل ویسٹ، پلاسٹک ویسٹ، فوڈ ویسٹ، زرعی فضلے، بائیو میٹریلز، بائیو انرجی، ماحولیاتی بحالی اور سرکلر اکانومی پالیسی فریم ورکس جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جن پر پاکستان کو فوری اور منظم تحقیق کی ضرورت ہے۔ فیصل آباد جیسے صنعتی و زرعی مرکز میں اس موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور لائیوسٹاک سیکٹر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی دیگر یونیورسٹیاں بھی یونیورسٹی آف کمالیہ کے اس اقدام کی تقلید کریں۔ ہماری جامعات کو صرف ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں قومی مسائل کے حل، پالیسی سازی، صنعت کی رہنمائی، کسان اور عام شہری کی آگاہی، اور پائیدار ترقی کے لیے عملی تحقیق کے مراکز بننا ہوگا۔ ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی جیسے موضوعات کو نصاب، تحقیق، انڈسٹری لنکیج، اسٹارٹ اپس اور پبلک پالیسی کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ویٹرنری، لائیوسٹاک اور زرعی شعبوں کے لیے بھی یہ موضوع نہایت اہم ہے۔ جانوروں کا فضلہ، پولٹری لیٹر، ڈیری فارم ویسٹ، سلاٹر ہاؤس ویسٹ، فیڈ انڈسٹری کے ضمنی اجزا، اور زرعی باقیات اگر سائنسی بنیادوں پر استعمال کیے جائیں تو یہ بائیو گیس، نامیاتی کھاد، فیڈ اجزا، توانائی اور ماحول دوست مصنوعات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے ری سائیکلنگ صرف شہری فضلے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ خوراک، زراعت، لائیوسٹاک، ماحولیات اور دیہی معیشت سے براہِ راست وابستہ ایک جامع قومی ایجنڈا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب اور ان کی ٹیم نے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا ہے جو آنے والے وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ کانفرنس علم، تحقیق، صنعت اور پالیسی کے درمیان ایک بامعنی پل ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے نتائج کو صرف کانفرنس ہال تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی سفارشات، پالیسی تجاویز، صنعتی اشتراک، طلبہ کے تحقیقی منصوبوں اور مقامی سطح کے پائلٹ پراجیکٹس میں تبدیل کیا جائے۔
قدرت کا نظام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہر شے کا ایک مقصد، ایک کردار اور ایک تسلسل ہے۔ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کو سمجھے، اس سے سیکھے اور اپنی ترقی کو فطرت کے اصولوں کے مطابق ڈھالے۔ ری سائیکلنگ کا فلسفہ دراصل فطرت کے اسی سبق کی جدید سائنسی تعبیر ہے۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کا یہ قدم قابلِ ستائش ہے۔ امید ہے کہ یہ کانفرنس پاکستان میں ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ، سرکلر اکانومی اور پائیدار ترقی کے حوالے سے ایک نئی علمی و عملی تحریک کا آغاز ثابت ہوگی۔ 🌱♻️
28/05/2026
آرائیں قوم سے منسوب پاکستان/برصغیر کی 100 نمایاں شخصیات کی فہرست دی جا رہی ہے۔ ایک احتیاط ضروری ہے: کسی شخصیت کی برادری/قوم کی نسبت ہمیشہ سرکاری بایوگرافی میں درج نہیں ہوتی، اس لیے اس فہرست میں زیادہ تر نام کمیونٹی ذرائع، تاریخی حوالوں اور معروف عوامی نسبت کی بنیاد پر شامل کیے گئے ہیں۔ اشاعت سے پہلے حساس یا متنازع ناموں کی الگ تصدیق بہتر رہے گی۔ آرائیں برادری کو عمومی طور پر پنجاب و سندھ کی بڑی زرعی/زمین دار برادری کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جبکہ کئی کمیونٹی ذرائع نے مختلف شعبوں کی نمایاں شخصیات کی فہرستیں بھی دی ہیں۔ � �
Wikipedia
arainsociety.com
پاکستان میں آرائیں قوم کی 100 نمایاں شخصیات
نمبر
نام
شعبہ / تعارف
1
جسٹس میاں شاہ دین
پہلے مسلمان جج، تحریکِ مسلم لیگ سے وابستہ اہم شخصیت
2
سر میاں محمد شفیع
آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رہنماؤں میں شامل
3
جسٹس سر میاں عبدالرشید
پاکستان کے پہلے چیف جسٹس
4
میاں محمد شاہنواز
پنجاب کے معروف سیاسی رہنما
5
بیگم جہاں آرا شاہنواز
تحریکِ پاکستان، خواتین کی سیاسی نمائندگی
6
ممتاز شاہنواز
سیاسی کارکن، مصنفہ
7
میاں افتخار الدین
سیاست دان، پاکستان ٹائمز اور امروز سے وابستہ
8
میاں عبدالباری
آزادی پسند رہنما، پنجاب و قومی اسمبلی سے وابستہ
9
چوہدری محمد علی
پاکستان کے سابق وزیر اعظم
10
محمد ضیاء الحق
سابق صدرِ پاکستان، سابق چیف آف آرمی اسٹاف
11
میاں محمد اظہر
سابق گورنر پنجاب، سابق میئر لاہور
12
حماد اظہر
سابق وفاقی وزیر
13
محمد حنیف رامے
سابق وزیر اعلیٰ و گورنر پنجاب
14
میاں شجاع الرحمن
سابق لارڈ میئر لاہور
15
چوہدری محمد فاروق
سابق اٹارنی جنرل پاکستان
16
سردار آصف احمد علی
سابق وزیر خارجہ پاکستان
17
چوہدری محمد سرور
سابق گورنر پنجاب، سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ
18
میاں زاہد سرفراز
سابق وفاقی وزیر داخلہ
19
میاں محمد عطا اللہ
سابق وفاقی وزیر، فیصل آباد سے سیاسی شخصیت
20
میاں رضا ربانی
سابق چیئرمین سینیٹ، سینئر پارلیمنٹرین
21
میاں محمد اسلم
سابق رکن قومی اسمبلی
22
چوہدری زاہد اقبال
سابق رکن قومی اسمبلی، ساہیوال
23
محمد اقبال گھرکی
سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب
24
عزیز احمد
سابق وزیر خارجہ پاکستان
25
میاں عامر محمود
سابق ناظم/میئر لاہور، میڈیا و تعلیم سے وابستہ
26
ثمینہ خالد گھرکی
سابق وفاقی وزیر
27
جہانگیر بدر
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سابق وفاقی وزیر
28
میاں محمد شفیع
سابق رکن قومی اسمبلی، سیالکوٹ
29
چوہدری محمد ریاض
سابق صوبائی وزیر پنجاب
30
میاں محمد رشید
سابق رکن پنجاب اسمبلی، نارووال
31
چوہدری محمد اشرف
سابق میئر کنری، سندھ
32
خالد انور
سابق وفاقی وزیر قانون
33
میاں شمیم حیدر
سابق وفاقی وزیر ریلوے/کھیل
34
چوہدری طارق مسعود آرائیں
سندھ سے سیاسی شخصیت
35
سردار احمد علی
انجمن آرائیاں پاکستان سے وابستہ، سیاسی شخصیت
36
شاہ عنایت قادری
صوفی بزرگ، بابا بلھے شاہ کے استاد کے طور پر معروف
37
قُدرت اللہ شہاب
ادیب، بیوروکریٹ، سفارت کار
38
نسیم حجازی
معروف اردو ناول نگار
39
زاہد اکرام
شاعر و مصنف
40
حسن نثار
کالم نگار، تجزیہ کار
41
مجیب الرحمن شامی
صحافی، مدیر، روزنامہ پاکستان سے وابستہ
42
ضیا شاہد
صحافی، خبریں گروپ سے وابستہ
43
سلطان راہی
پنجابی فلموں کے معروف اداکار
44
طارق عزیز
ٹی وی میزبان، اداکار، سابق رکن قومی اسمبلی
45
حبیب
پاکستانی فلمی اداکار
46
وسیم اکرم
سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم، فاسٹ باؤلر
47
عبدالحفیظ کاردار
پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان
48
محمد آصف
ورلڈ اسنوکر چیمپئن
49
عمران نذیر
سابق پاکستانی کرکٹر
50
عبدالرزاق
سابق پاکستانی آل راؤنڈر
51
سلیم الٰہی
سابق پاکستانی کرکٹر
52
منظور الٰہی
سابق پاکستانی کرکٹر
53
ظہور الٰہی
سابق پاکستانی کرکٹر
54
سرفراز نواز
سابق ٹیسٹ کرکٹر، سیاست دان
55
میاں محمد سعید
سابق کپتان پاکستان کرکٹ
56
میاں محمد اسلم
کرکٹر اور ٹیسٹ امپائر
57
شہباز احمد
سابق کپتان پاکستان ہاکی ٹیم
58
طاہر زمان
سابق ہاکی کپتان
59
وسیم احمد
پاکستانی ہاکی کھلاڑی
60
وائس ایڈمرل احمد تسنیم
پاک بحریہ، ستارہ جرأت
61
ایڈمرل محمد صدیق
پاک بحریہ کے سابق سربراہ
62
ایڈمرل محمد افضل طاہر
سابق چیف آف نیول اسٹاف
63
جنرل محمد ضیاء الحق
سابق صدر و آرمی چیف
64
لیفٹیننٹ جنرل سلیم احمد میاں
عسکری شخصیت
65
بریگیڈیئر خورشید ربانی
ستارہ جرأت
66
بریگیڈیئر ریاض حیدر
عسکری افسر، مصنف
67
لیفٹیننٹ جنرل زاہد احسان
سابق چیئرمین نادرا
68
لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد افضل
سابق چیف آف جنرل اسٹاف
69
لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی
سابق کور کمانڈر
70
لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر
سابق کور کمانڈر
71
لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفی
عسکری قیادت، اسٹریٹجک کمانڈ سے وابستہ
72
ایڈمرل حاجی محمد صدیق چوہدری
پاکستان نیوی کے اولین کمانڈر ان چیف
73
وائس ایڈمرل فاروق رشید
سابق چیف آف اسٹاف پاکستان نیوی
74
ایئر مارشل ظفر احمد چوہدری
پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ
75
ایئر وائس مارشل ناصر وقار
پاک فضائیہ سے وابستہ
76
جسٹس میاں ثاقب نثار
سابق چیف جسٹس آف پاکستان
77
جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے
سابق جج سپریم کورٹ
78
ملک محمد قیوم
سابق اٹارنی جنرل پاکستان
79
میاں اسرار الحق
سابق صدر سپریم کورٹ بار
80
چوہدری شہرام سرور
ہائی کورٹ بار سے وابستہ قانونی شخصیت
81
میاں عبد القدوس
سابق صدر ہائی کورٹ بار
82
شاہد حفیظ کاردار
سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان
83
ڈاکٹر محمد یعقوب
سابق گورنر اسٹیٹ بینک
84
انور علی
سابق چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
85
ڈاکٹر ظفر الطاف
سابق چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل
86
میاں محمد شریف
سابق سروئیر جنرل آف پاکستان
87
لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم
سابق چیئرمین پاکستان اسٹیل/پی او ایف
88
جنرل محمد نواز
سابق ڈی جی رینجرز پنجاب
89
چوہدری ذوالفقار احمد
سابق چیئرمین سی بی آر
90
پروفیسر محمد رفیع انور
سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج ملتان
91
پروفیسر حاجی نعمت علی
سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج بہاولنگر
92
پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد
سابق پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج
93
ڈاکٹر محمود رضا
سابق پرنسپل بولان میڈیکل کالج
94
پروفیسر ڈاکٹر محمود علی ملک
سابق پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج
95
پروفیسر مقصود اقبال آرائیں
مصنف، تاریخِ آرائیں پر کام
96
ڈاکٹر محمد نواز
استادِ نباتیات، مصنف
97
میاں محمد لطیف
صنعتی شخصیت، چناب گروپ
98
چوہدری محمد صدیق
صنعت کار، صابرو گروپ
99
چوہدری محمد پرویز
کاروباری شخصیت، شاد انٹرپرائزز
100
میاں فرزند علی
لکی ایرانی سرکس سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت
اہم نوٹ برائے اشاعت 📝
اس فہرست کو “آرائیں قوم سے منسوب نمایاں شخصیات” کے عنوان سے شائع کرنا زیادہ محفوظ اور پیشہ ورانہ ہوگا، نہ کہ قطعی طور پر “آرائیں قوم کے افراد” لکھنا۔ وجہ یہ ہے کہ کچھ نام کمیونٹی ویب سائٹس اور روایتی نسبتوں میں آتے ہیں، مگر ہر شخصیت کی اپنی سرکاری سوانح میں برادری کی تصدیق موجود نہیں ہوتی۔
Arain Society – Arain Sociaty Registered Arain Society Islamabad is a registered Welfare Organization belonging to Arain Community living in across the world, which was established in 1971.
آرائیں قوم: زراعت، محنت، ہجرت اور ترقی کی داستان
آرائیں قوم: تاریخ، شناخت،
کردار اور خدمات
آرائیں برادری برصغیر پاک و ہند، خصوصاً پنجاب اور سندھ کی ایک معروف، محنتی اور زراعت سے وابستہ قوم کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ اس قوم کی شناخت میں محنت، زمین سے وابستگی، کاروباری سمجھ بوجھ، سماجی تنظیم، دینی رجحان اور تعلیمی ترقی نمایاں خصوصیات سمجھی جاتی ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں آرائیں برادری کی بڑی تعداد آباد ہے، جبکہ تقسیمِ ہند کے بعد اس برادری کے کئی خاندان مشرقی پنجاب، جالندھر، امرتسر، لدھیانہ، انبالہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہوئے۔
تاریخی پس منظر
آرائیں قوم کی اصل اور ابتدا کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض روایات اس قوم کو قدیم زرعی طبقات سے جوڑتی ہیں، بعض اسے مقامی پنجابی زرعی برادری قرار دیتی ہیں، جبکہ کچھ روایات میں بیرونی نسبتیں بھی بیان کی جاتی ہیں۔ تاہم محتاط اور تحقیقی انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ آرائیں برادری کی مضبوط تاریخی شناخت پنجاب کی زمین، زراعت اور دیہی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔
برطانوی دور کی مردم شماریوں اور گزیٹیئرز میں آرائیں برادری کو ایک محنتی، منظم اور زراعت پیشہ قوم کے طور پر بیان کیا گیا۔ پنجاب کے نہری نظام کی ترقی، نئی زرعی بستیوں کے قیام اور زمینوں کی آبادکاری میں بھی آرائیں کا کردار اہم رہا۔ اسی محنت اور زرعی مہارت کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں اس برادری نے معاشی اور سماجی مقام حاصل کیا۔
زراعت سے وابستگی
آرائیں قوم کی سب سے نمایاں پہچان زراعت رہی ہے۔ اس برادری کے افراد روایتی طور پر کھیتی باڑی، باغبانی، سبزیوں کی کاشت، پھلوں کی پیداوار، بیج، زمین داری اور زرعی کاروبار سے وابستہ رہے۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں آرائیں کسانوں نے زمین کو آباد کرنے، پیداوار بڑھانے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہی وجہ ہے کہ آرائیں قوم کو محنت، نظم و ضبط، کفایت شعاری اور زمین سے محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کاشت کاری کے ساتھ ساتھ اس قوم کے افراد نے منڈی، تجارت، زرعی اجناس، آڑھت، ٹرانسپورٹ، خوراک، سبزی و فروٹ سپلائی اور دیگر کاروباری شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
سماجی اور خاندانی نظام
آرائیں برادری کا خاندانی نظام عموماً مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ خاندان، برادری، رشتے داری اور باہمی تعاون کو اس قوم میں خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں پنچایتی مزاج، باہمی مشاورت، خاندان کی عزت، بزرگوں کا احترام اور اجتماعی فیصلوں کی روایت نمایاں رہی ہے۔
شہری زندگی میں آنے کے بعد بھی آرائیں خاندانوں نے اپنی سماجی جڑوں کو برقرار رکھا۔ تعلیم، کاروبار، ملازمت اور سیاست میں آگے بڑھنے کے باوجود برادری کی سطح پر باہمی تعلقات اور تعاون کا رجحان موجود رہا۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی
وقت کے ساتھ آرائیں قوم نے صرف زراعت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ تعلیم، سرکاری ملازمت، کاروبار، صنعت، قانون، طب، تدریس، صحافت، سیاست اور سماجی خدمت کے میدانوں میں بھی نمایاں ترقی کی۔ بہت سے آرائیں خاندانوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور نئی نسل کو جدید شعبوں کی طرف راغب کیا۔
آج آرائیں برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، بیوروکریٹ، سیاست دان، صنعت کار، تاجر، صحافی، زرعی ماہر اور سماجی رہنما کے طور پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ قومیں صرف اپنے روایتی پیشوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھتی ہیں۔
سیاست اور عوامی کردار
پاکستان کی سیاست، بلدیاتی نظام اور سماجی قیادت میں بھی آرائیں برادری کا کردار قابل ذکر رہا ہے۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں آرائیں خاندان مقامی سیاست، شہری اداروں، مارکیٹ کمیٹیوں، انجمنوں، تعلیمی اداروں، فلاحی تنظیموں اور کاروباری فورمز میں فعال رہے ہیں۔ ان کی سیاسی طاقت کی بنیاد عموماً مقامی سطح پر سماجی روابط، برادری نظم، کاروباری اثر و رسوخ اور عوامی تعلقات پر رہی ہے۔
تاہم کسی بھی قوم یا برادری کی کامیابی صرف نسب یا شناخت سے نہیں بلکہ کردار، تعلیم، محنت، دیانت، خدمت اور اجتماعی شعور سے وابستہ ہوتی ہے۔ آرائیں قوم کی اصل طاقت بھی اس کے محنتی مزاج اور عملی زندگی سے وابستگی میں نظر آتی ہے۔
دینی اور فلاحی رجحانات
آرائیں برادری میں مذہبی وابستگی، مساجد، مدارس، فلاحی کاموں، غریب پروری اور سماجی خدمت کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ کئی علاقوں میں آرائیں خاندانوں نے مساجد، تعلیمی اداروں، رفاہی تنظیموں، جنازہ گاہوں، واٹر فلٹریشن پلانٹس اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں میں حصہ ڈالا۔
یہ پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قوم کی ترقی صرف معاشی خوشحالی سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ سماجی خدمت، اخلاقی تربیت اور انسان دوستی بھی کسی برادری کی اصل پہچان بن سکتی ہے۔
تقسیمِ ہند اور ہجرت
1947 کی تقسیمِ ہند نے آرائیں برادری کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ مشرقی پنجاب اور بھارت کے دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں آرائیں خاندان پاکستان آئے۔ ہجرت کے بعد ان خاندانوں نے نئے شہروں اور دیہات میں آباد ہو کر دوبارہ زندگی شروع کی۔ لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، اوکاڑہ، بہاولپور، گوجرانوالہ، قصور، شیخوپورہ، پاکپتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سندھ کے شہری علاقوں اور دیگر مقامات پر آرائیں خاندانوں نے محنت کے ذریعے معاشی اور سماجی مقام بنایا۔
یہ ہجرت صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ قربانی، جدوجہد اور نئی شناخت کی داستان بھی تھی۔ جن خاندانوں نے سب کچھ چھوڑ کر پاکستان میں نئی زندگی شروع کی، انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے محنت اور حوصلے کی مثال قائم کی۔
موجودہ دور میں آرائیں قوم
آج آرائیں برادری پاکستان کی ایک فعال، تعلیم یافتہ، کاروباری اور سماجی طور پر منظم برادری کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس قوم کے افراد زراعت کے ساتھ ساتھ جدید کاروبار، رئیل اسٹیٹ، صنعت، تعلیم، میڈیا، طب، قانون، سرکاری خدمات اور سیاست میں بھی موجود ہیں۔
موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ آرائیں قوم اپنی تاریخی محنتی شناخت کو جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروباری اخلاقیات، سماجی خدمت اور قومی یکجہتی کے ساتھ جوڑے۔ برادری کی ترقی اسی وقت بامعنی ہو گی جب اس کے نوجوان علم، ہنر، کردار اور خدمت کو اپنی اصل پہچان بنائیں گے۔
نتیجہ
آرائیں قوم کی تاریخ محنت، زراعت، ہجرت، جدوجہد، تنظیم اور ترقی کی تاریخ ہے۔ یہ قوم زمین سے وابستہ رہی، مگر وقت کے ساتھ اس نے تعلیم، کاروبار، سیاست اور سماجی خدمت کے میدانوں میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ اصل فخر کسی قوم کے نام یا نسب میں نہیں بلکہ اس کے کردار، دیانت، محنت، خدمت اور انسانیت میں ہوتا ہے۔
آرائیں برادری کے لیے آج سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ اپنی تاریخی شناخت کو مثبت انداز میں محفوظ رکھتے ہوئے نئی نسل کو تعلیم، اخلاق، ہنر، برداشت، قومی خدمت اور سماجی ذمہ داری کی طرف راغب کیا جائے۔ یہی کسی بھی قوم کی حقیقی کامیابی اور پائیدار عزت کا راستہ ہے۔
ویکیپیڈیا
تلاش
آرائیں
آرائیں ایک عربی قوم ہے جو تہذیب کو اپنا دوست بنائے ہوئے ہے
دیگر زبانیں
ڈاؤنلوڈ بشکل پیڈیایف
زیر نظر کریں
ماخذ
آرائیں ذات کے متعلق روایات ہیں کہ ان کے آباؤاجداد شامی عَرَب تھے، جو 712ء ميں مُحَمَّد بِن قَاسِم کے ہمراہ برصغير ميں داخل ہوئے۔ اس وقت فوج کی کل تعداد تقریباً 12,000 تھی۔
آرائیں
الرائیں Raeen, Alrain or Arai
آرائیں
مذاہب
اسلام
زبانیں
پنجابی زبان، اردو زبان، عربی
ملک
بنیادی طور پر پاکستان، بھارت اور شام
علاقہ
خطۂ پنجاب، سندھ، اتر پردیش
آرائیں لفظ کی تشریح
بعض تاریخی روایات کے مطابق مُحَمَّد بِن قَاسِم کے لشکر کی تنظیم چار حصوں پر مشتمل تھی۔ ہراول دستے کا نام 'مُقَدَّمَةُ الْجَيْش' تھا جو راہنمائی کا فریضہ انجام دیتا تھا۔ باقی لشکر دائیں (مَيْمَنَة)، بائیں (مَيْسَرَة) اور درمیانی حصے (قَلْب) پر مشتمل تھا۔ اسلامی لشکر کے پرچم کو 'الرَّايَة' کہا جاتا تھا، جس کی اہمیت جنگوں میں مسلمہ تھی۔ اس پرچم کو تھامنے والوں کو 'الرَّايَة' کی نسبت سے 'الرَّايِي' کہا جانے لگا۔ [1]
عربی زبان کے تلفظ میں 'الرَّايِي' رفتہ رفتہ مقامی زبانوں کے زیرِ اثر 'آرائیں' میں تبدیل ہو گیا۔ یہ قوم برصغیر پاک و ہند میں آمد کے بعد رفتہ رفتہ یہیں مستقل طور پر رہائش پزیر ہو گئی۔
قومی مذہب
لفظِ مہر
چوہدری
قوم کی گوتیں
سلیمی
اصحابِ رسول کی اولادوں کی شرکت کی روایات
تحریکِ آزادی میں کردار
نمایاں شخصیات
علاقے
حوالہ جات
آخری ترمیم 20 دن قبل بدست Banish Kashif
متعلقہ صفحات
میاں عبدالرشید
میاں خاندان، باغبانپورہ
جالندھر آرائیں (267 آر بی)
ویکیپیڈیا
Wikimedia Foundation
Powered by MediaWiki
صفحہ کو Parsoid کی مدد سے پیش کیا گیا ہے۔
تمام مواد CC BY-SA 4.0 کے تحت میسر ہے، جب تک اس کی مخالفت مذکور نہ ہو۔
اخفائے راز کے اصول حفاظتی اور قانونی روابط ضابطۂ اخلاق ترقی دہندگان شماریات کوکیز کی تفصیلات شرائط استعمال ڈیسک ٹاپ
28/05/2026
انگریز کی مغل دربار میں پہلی حاضری
10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک
انگریز سفیر، چند تحائف، ایک درخواست، اور مغل دربار کی شان و شوکت۔ مگر تاریخ کے لمبے سفر میں یہی لمحہ برصغیر کی تقدیر بدلنے والے سب سے سنگین موڑوں میں شمار ہوا۔
اس پینٹنگ میں تخت پر بیٹھا شخص نورالدین محمد جہانگیر ہے، اکبر اعظم کا بیٹا اور مغل سلطنت کا چوتھا بادشاہ۔ سامنے کھڑا انگریز سفیر سر تھامس رو ہے، جو برطانیہ کے بادشاہ جیمز اول کا نمائندہ بن کر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست ہے، لیکن حقیقت میں وہ درخواست نہیں، آنے والے دو سو برسوں کی غلامی کا ابتدائی پروانہ تھا۔
یہ پینٹنگ مغل دور کی منی ایچر روایت سے متاثر بعد کے زمانے کی تاریخی مصوری مانی جاتی ہے۔ اصل ملاقات کی کئی تصویری تشریحات بعد میں یورپی اور ہندوستانی مصوروں نے بنائیں، اس لیے اس مخصوص تصویر کا حتمی مصور متعین کرنا مشکل ہے، لیکن اس کا منظر تاریخی حوالوں سے مشہور ہے: سر تھامس رو کا جہانگیر کے دربار میں حاضر ہونا۔
سر تھامس رو 1615 میں ہندوستان پہنچا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے پہلے بھی کوششیں کر چکی تھی کہ مغل سلطنت سے باقاعدہ تجارتی اجازت حاصل کی جائے، مگر پرتگیزی اثر و رسوخ، درباری سازشیں اور مغل دربار کی پیچیدہ رسومات انگریزوں کے راستے میں رکاوٹ تھیں۔ رو کو مہینوں انتظار کرنا پڑا۔ کبھی درباری اسے اندر نہ جانے دیتے، کبھی ملاقات ملتوی ہو جاتی۔ مغل سلطنت اس وقت دنیا کی امیر ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، جبکہ انگلستان ایک ابھرتی ہوئی بحری طاقت تھا۔ جہانگیر کے لیے یہ چند تاجروں کی درخواست تھی، لیکن ان تاجروں کی پشت پر ایک ایسی سلطنت کھڑی ہو رہی تھی جو سمندروں پر قبضہ جما رہی تھی۔
آخرکار 10 جنوری 1616 کو یہ ملاقات ہوئی۔ جہانگیر کو تحائف پیش کیے گئے۔ انگریزوں نے عاجزی دکھائی، دوستی کی بات کی، تجارت کی اجازت مانگی۔ مغل دربار نے شاید اسے ایک معمولی سفارتی واقعہ سمجھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ ساحلوں پر تجارتی کوٹھیاں مانگنے والے یہی لوگ ایک دن توپوں کے دہانے پر پورا ہندوستان کھڑا کر دیں گے۔
پہلے انہوں نے صرف تجارت کی۔ سورت، مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں فیکٹریاں قائم ہوئیں۔ پھر انہوں نے مقامی سیاست میں مداخلت شروع کی۔ ایک ریاست کو دوسری کے خلاف استعمال کیا۔ مقامی نوابوں اور درباریوں کو خریدا گیا۔ اور پھر وہ وقت آیا جب تجارت کرنے والی کمپنی نے فوج کھڑی کر لی۔
1757 میں پلّاسی کی جنگ ہوئی۔ بنگال کے نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کی غداری کے ذریعے شکست دی گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی پہلی بار صرف تاجر نہیں رہی بلکہ حکمران بن گئی۔ بنگال کی دولت انگریز خزانے میں بہنا شروع ہوئی۔ ہندوستان کے وسائل نے برطانیہ کے صنعتی انقلاب کو ایندھن فراہم کیا۔
1616 سے 1757 تک تقریباً 141 سال لگے کہ ایک تجارتی کمپنی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو جائے۔ اور پھر 1757 سے 1857 تک مزید سو برس میں پورا برصغیر انگریز اقتدار کے شکنجے میں چلا گیا۔
1857 کی جنگِ آزادی دراصل اسی ملاقات کا آخری باب تھی۔ وہی کمپنی جس نے جہانگیر کے دربار میں اجازت مانگی تھی، دو صدیوں بعد دہلی کے لال قلعے پر قبضہ کر چکی تھی۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلا وطن کر دیا گیا۔
تاریخ کے عجیب منظر ہوتے ہیں۔ جہانگیر کے دربار میں شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ ایک معمولی سا انگریز سفیر، جو دربار میں داخلے کے لیے ترس رہا ہے، آنے والے وقت میں ایسی طاقت کی بنیاد رکھ رہا ہے جو تاجِ مغلیہ ہی نہیں، پورے برصغیر کی قسمت بدل دے گی۔
یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی۔
یہ ہندوستان میں انگریز اقتدار کے پہلے قدم کی دستک تھی۔
ایک خاموش دستک… جس کی گونج دو سو سال تک سنائی دیتی رہی۔
28/05/2026
کتاب میں شامل شخصیات کا تعارف
اس کتاب میں فیصل آباد اور گرد و نواح کی علمی، سماجی، دینی، سیاسی، صحافتی، کاروباری، وکالتی اور طبی خدمات سے وابستہ متعدد نمایاں شخصیات کے تعارف اور مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ کتاب میں ڈاکٹر میاں محمد عارف سلیم، میاں اسد حفیظ، چوہدری کرم دین، مہر محمد خالد، چوہدری اقبال، چوہدری محمد فاروق قادری، چوہدری خالد غنی، حافظ مہر تنویر الحق، چوہدری محمد شبیر المعروف ننھا مرحوم، چوہدری عبد الستار مرحوم، ایم اے حمزہ مرحوم، میاں شہزاد احمد، محمد حنیف انجم، میاں زاہد پرویز ہیلیا، میاں ظہیر احمد، میاں حمزہ بن امجد ایڈووکیٹ، امتثال احمد چوہدری سلیم پوری ایڈووکیٹ، میاں عبد الباسط ایڈووکیٹ، میاں محمد عارف، مجاہد ختم نبوت ڈاکٹر بشیر احمد رحمہ، الحاج چوہدری غازی محمد عمر، میاں طاہر ایوب، وحید خالق رامے، میاں محمد ضیاء الحق، چوہدری محمد نفیس، میاں محمد عمران، میاں محمد عتیق، میاں جاوید اقبال ایڈووکیٹ، میاں اشفاق حسین، چوہدری مدثر شاہین، حاجی بشیر احمد، میاں محمد آصف، محمد عاطف نسیم، میاں علی رضا، میاں نوید ثقلین، ظہیر احمد تنویر، میاں پرویز اختر گوہیر، میاں محمد صدیق وارثی، چوہدری عبد الطیف، محمد کاشف فاروق، چوہدری محمد مسلم، میاں محمد عقیل، میاں فراز عالم، میاں بلال احمد، مشتاق احمد، ڈاکٹر محمد رزاق مرحوم، چوہدری محمد زمان، چوہدری مختار احمد مرحوم، میاں محمد افتخار، میاں عارف علی، میاں آصف، میاں شمائل انور، محمد اشرف چوہدری، میاں محمد عرفان، میاں خالد شہزاد، میاں بشیر احمد، میاں زاہد اسلام، میاں عبد المجید، ڈاکٹر رسول احمد چوہدری، میاں آصف محمود، میاں کاشف فرید، محمد طارق چوہدری، میاں کاشف محمود، ڈاکٹر محمد جاوید اختر، میاں عامر محمود، بابو خالد سعید، ڈاکٹر ندیم مقبول، محمد شاہد زکریا، چوہدری ریاض احمد نور، حافظ اظہر محمود، محمد صدیق خالد، میاں محمد ضیاء اللہ، ڈاکٹر کاشف سلیمی، ڈاکٹر احسان محی الدین، ڈاکٹر شفقت جاوید، میاں امتیاز احمد، میاں طاہر ندیم، میاں محمد ارشاد، میاں علی رضا کلاسک ٹیکسٹائل، میاں طارق محمود ایڈووکیٹ، میاں منیر احمد، میاں تنویر احمد، میاں طاہر سلیم، میاں عبد الرؤف ایڈووکیٹ، ڈاکٹر خالد محمود شوق، ڈاکٹر محمد احسان الحق، ڈاکٹر کشف ریاض، میاں طاہر جمیل ایم پی اے، محمد خالد سردار، پروفیسر مولانا محمد یٰسین ظفر، ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر عامر نوید، میاں محمد رفیق سابق ایم پی اے، چوہدری جنید انوار وفاقی وزیر، چوہدری اسد الرحمن سابق وفاقی وزیر، میاں عبد المنان سابق ایم این اے، حاجی رزاق احمد ضیاء، میاں تنویر ریاض، ڈاکٹر ثاقب رحمان، صابر علی صابری اور میاں محمد اشرف قادری سمیت متعدد شخصیات کے بارے میں مضامین موجود ہیں۔
یہ کتاب ایک لحاظ سے مقامی تاریخ، برادری کی خدمات، سماجی کردار، علمی روایت، سیاسی وابستگیوں اور کاروباری و پیشہ ورانہ کامیابیوں کا ایک اہم ریکارڈ بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس میں شامل شخصیات کا تنوع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کتاب کو صرف ایک محدود دائرے تک نہیں رکھا گیا بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو جگہ دی گئی ہے۔
ایک چھوٹی خبر کے لیے یہ لائن بھی استعمال ہو سکتی ہے:
کتاب میں 100 سے زائد معروف علمی، سماجی، سیاسی، دینی، کاروباری، طبی، صحافتی اور قانونی شخصیات کے تعارف اور مضامین شامل کیے گئے ہیں، جو فیصل آباد کی مقامی تاریخ اور سماجی خدمات کا ایک اہم دستاویزی حوالہ ہیں۔
کتاب میں شامل شخصیات کا تعارف
اس کتاب میں فیصل آباد اور گرد و نواح کی علمی، سماجی، دینی، سیاسی، صحافتی، کاروباری، وکالتی اور طبی خدمات سے وابستہ متعدد نمایاں شخصیات کے تعارف اور مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ کتاب میں ڈاکٹر میاں محمد عارف سلیم، میاں اسد حفیظ، چوہدری کرم دین، مہر محمد خالد، چوہدری اقبال، چوہدری محمد فاروق قادری، چوہدری خالد غنی، حافظ مہر تنویر الحق، چوہدری محمد شبیر المعروف ننھا مرحوم، چوہدری عبد الستار مرحوم، ایم اے حمزہ مرحوم، میاں شہزاد احمد، محمد حنیف انجم، میاں زاہد پرویز ہیلیا، میاں ظہیر احمد، میاں حمزہ بن امجد ایڈووکیٹ، امتثال احمد چوہدری سلیم پوری ایڈووکیٹ، میاں عبد الباسط ایڈووکیٹ، میاں محمد عارف، مجاہد ختم نبوت ڈاکٹر بشیر احمد رحمہ، الحاج چوہدری غازی محمد عمر، میاں طاہر ایوب، وحید خالق رامے، میاں محمد ضیاء الحق، چوہدری محمد نفیس، میاں محمد عمران، میاں محمد عتیق، میاں جاوید اقبال ایڈووکیٹ، میاں اشفاق حسین، چوہدری مدثر شاہین، حاجی بشیر احمد، میاں محمد آصف، محمد عاطف نسیم، میاں علی رضا، میاں نوید ثقلین، ظہیر احمد تنویر، میاں پرویز اختر گوہیر، میاں محمد صدیق وارثی، چوہدری عبد الطیف، محمد کاشف فاروق، چوہدری محمد مسلم، میاں محمد عقیل، میاں فراز عالم، میاں بلال احمد، مشتاق احمد، ڈاکٹر محمد رزاق مرحوم، چوہدری محمد زمان، چوہدری مختار احمد مرحوم، میاں محمد افتخار، میاں عارف علی، میاں آصف، میاں شمائل انور، محمد اشرف چوہدری، میاں محمد عرفان، میاں خالد شہزاد، میاں بشیر احمد، میاں زاہد اسلام، میاں عبد المجید، ڈاکٹر رسول احمد چوہدری، میاں آصف محمود، میاں کاشف فرید، محمد طارق چوہدری، میاں کاشف محمود، ڈاکٹر محمد جاوید اختر، میاں عامر محمود، بابو خالد سعید، ڈاکٹر ندیم مقبول، محمد شاہد زکریا، چوہدری ریاض احمد نور، حافظ اظہر محمود، محمد صدیق خالد، میاں محمد ضیاء اللہ، ڈاکٹر کاشف سلیمی، ڈاکٹر احسان محی الدین، ڈاکٹر شفقت جاوید، میاں امتیاز احمد، میاں طاہر ندیم، میاں محمد ارشاد، میاں علی رضا کلاسک ٹیکسٹائل، میاں طارق محمود ایڈووکیٹ، میاں منیر احمد، میاں تنویر احمد، میاں طاہر سلیم، میاں عبد الرؤف ایڈووکیٹ، ڈاکٹر خالد محمود شوق، ڈاکٹر محمد احسان الحق، ڈاکٹر کشف ریاض، میاں طاہر جمیل ایم پی اے، محمد خالد سردار، پروفیسر مولانا محمد یٰسین ظفر، ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر عامر نوید، میاں محمد رفیق سابق ایم پی اے، چوہدری جنید انوار وفاقی وزیر، چوہدری اسد الرحمن سابق وفاقی وزیر، میاں عبد المنان سابق ایم این اے، حاجی رزاق احمد ضیاء، میاں تنویر ریاض، ڈاکٹر ثاقب رحمان، صابر علی صابری اور میاں محمد اشرف قادری سمیت متعدد شخصیات کے بارے میں مضامین موجود ہیں۔
یہ کتاب ایک لحاظ سے مقامی تاریخ، برادری کی خدمات، سماجی کردار، علمی روایت، سیاسی وابستگیوں اور کاروباری و پیشہ ورانہ کامیابیوں کا ایک اہم ریکارڈ بھی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس میں شامل شخصیات کا تنوع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کتاب کو صرف ایک محدود دائرے تک نہیں رکھا گیا بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو جگہ دی گئی ہے۔
ایک چھوٹی خبر کے لیے یہ لائن بھی استعمال ہو سکتی ہے:
کتاب میں 100 سے زائد معروف علمی، سماجی، سیاسی، دینی، کاروباری، طبی، صحافتی اور قانونی شخصیات کے تعارف اور مضامین شامل کیے گئے ہیں، جو فیصل آباد کی مقامی تاریخ اور سماجی خدمات کا ایک اہم دستاویزی حوالہ ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
Faisalabad
38000
