Islamic photos

Call Directions Website

Islamic photos Islam is the greatest religion in the world . so islamic photos related to great and tru Islam and p

10/09/2026

‏قران حکیم کے 100 مختصر پیغامات
1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو
2 غصے کو قابو میں رکھو
3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘
4 تکبر نہ کرو‘
5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو
6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘
7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو
8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘
9 والدین کی خدمت کیا کرو‘
10 منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘
11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
12 حساب لکھ لیا کرو‘
13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘
14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
15 سود نہ کھاؤ‘
16 رشوت نہ لو‘
17 وعدہ نہ توڑو‘
18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘
19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘
20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘
21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو
23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں,
24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
25یتیموں کی حفاظت کرو‘
26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو,
27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘
28 بدگمانی سے بچو‘
29 غیبت نہ کرو‘
30 جاسوسی نہ کرو‘
31 خیرات کیا کرو‘
32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
34 فضول خرچی نہ کیا کرو‘
35 خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
36 مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
43 مذہب میں کوئی سختی نہیں
44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘
47 جنسی بدکاری سے بچو‘
48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو,
49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
50 نفاق سے بچو‘
51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے,
53 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو
54 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
55 بخیل نہ بنو‘
56 حسد نہ کرو,
57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
59 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘
60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
62 صحیح راستے پر رہو‘
63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
65 مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
67 جواء نہ کھیلو‘
68 ہیرا پھیری نہ کرو‘
69 چغلی نہ کھاؤ،
70 کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
73 طہارت قائم رکھو‘
74 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
79 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
80 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
83 زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
84 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو,
86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
87 صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘
88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘
89 عورتیں غیر محرم کے سامنے اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
90 اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
91 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
95 مذہب میں رہبانیت نہیں‘
96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
98 خود کو لالچ سے بچاؤ‘
99 اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے
100 ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔
اللہﷻ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
80% انسانیت کا پیغام ہے اور
%20 عبادات کا سوچئیے سوچنا جرم نہیں !!
دعا میں یاد رکھنا۔

04/09/2026

قرآن کریم حفظ کرنے والے ایک مدرسے میں استاد نے ایک طالب علم سے سبق سنتے وقت پوچھا کہ وہ ان سورتوں کے نام بتائے جن میں یہ آیت ( أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ ) آئی ہے۔
طالب علم نے کچھ سورتیں بتا دیں مگر باقی میں اٹک گیا۔
✒️ استاد نے کہا: یہ جملہ یاد کر لو:
"غَفَرَ اللهُ لِلْحَجِّ مُحَمَّد یوسف"
پھر وضاحت کی:
غَفَرَ اللهُ ...... سورۃ غافر
لِلْحَجِّ ........ سورۃ الحج
مُحَمَّد ....... سورۃ محمد
یوسف ...... سورۃ یوسف
یہ وہ چار سورتیں ہیں جن میں ( أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ ) کا ذکر آیا ہے۔
حفاظِ قرآن کے لیے ایک اہم نکتہ:
اکثر حفاظ کو تلاوت کے دوران الفاظ میں التباس (کنفیوژن) ہو جاتا ہے، مثلاً کوئی یوں پڑھ دیتا ہے:
"وَفَاكِهَةً مِمَّا يَشْتَهُونَ" کی جگہ
"وَفَوَاكِهُ مِمَّا يَشْتَهُونَ"
اور اسی طرح کے دیگر متشابہ الفاظ کی کثرت سے حافظ مایوس ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کا حل ایک قاعدہ ہے جو پورے قرآن کی سورتوں پر لاگو ہوتا ہے:
▪️ 1. اگر سورت کا نام واحد (سنگل) ہو، جیسے: یٰسٓ، صٓ، الزخرف، الطور، الرحمٰن، الواقعہ وغیرہ — تو لفظ "فاکہہ" (واحد) آئے گا۔
▪️ 2. اگر سورت کا نام جمع ہو، جیسے: المؤمنون، الصافات، المرسلات وغیرہ — تو لفظ "فواکہ" (جمع) آئے گا۔
ایک اور قرآنی معلومات:
سورت کے آغاز میں "یُسَبِّحُ" اور "سَبِّحْ" میں فرق کیسے کریں؟
اگر سورت کے نام کا پہلا حرف نقطے والا ہو تو ابتدا "یُسَبِّحُ" سے ہوگی۔
اور اگر سورت کے نام کا پہلا حرف بغیر نقطے کے ہو تو ابتدا "سَبِّحْ" سے ہوگی۔
مثال کے طور پر:
سورۃ الحدید "ح" سے شروع ہوتی ہے، جس میں نقطہ نہیں — لہٰذا آغاز "سَبِّحْ" سے ہے۔
سورۃ التغابن "ت" سے شروع ہوتی ہے، جس میں نقطہ ہے — لہٰذا آغاز "یُسَبِّحُ" سے ہے۔
قرآن کریم کی سات "خماسیات" (پانچ پانچ کے مجموعے) کیا ہیں؟
جواب:
سورتوں کے آغاز کو آسانی سے یاد رکھنے کے لیے، اور یہ قرآن کریم کی دقتِ نظر کی ایک مثال بھی ہے کہ اس میں یہ "خماسیات" (پانچ پانچ سورتوں کے گروپ) پائے جاتے ہیں:
5 — 5 — 5 — 5 — 5 — 5 — 5
جو درج ذیل سات زمروں پر مشتمل ہیں:
1️⃣ پہلا زمرہ:
حمد سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ الفاتحہ
▪ الانعام
▪ الکہف
▪ سبا
▪ فاطر
یہ سب مکی ہیں۔
2️⃣ دوسرا زمرہ:
تسبیح سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ الحدید
▪ الحشر
▪ الصف
▪ الجمعہ
▪ التغابن
یہ سب مدنی ہیں۔
3️⃣ تیسرا زمرہ:
"الٓر" (الف لام را) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ یونس
▪ ہود
▪ یوسف
▪ ابراہیم
▪ الحجر
یہ سب مکی ہیں۔
4️⃣ چوتھا زمرہ:
ندا (پکار) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ النساء
▪ المائدہ
▪ الحج
▪ الحجرات
▪ الممتحنہ
یہ سب مدنی ہیں۔
5️⃣ پانچواں زمرہ:
نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے پکارنے سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ الاحزاب
▪ الطلاق
▪ التحریم
▪ المزمل
▪ المدثر
یہ سب مدنی ہیں۔
6️⃣ چھٹا زمرہ:
استفہام (سوال) سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ الانسان
▪ الغاشیہ
▪ الشرح
▪ الفیل
▪ الماعون
یہ سب مکی ہیں۔
7️⃣ ساتواں زمرہ:
لفظ "قُلْ" (کہہ دو) کے حکم سے شروع ہونے والی پانچ سورتیں:
▪ الجن
▪ الکافرون
▪ الاخلاص
▪ الفلق
▪ الناس
یہ سب مکی ہیں۔
دوسروں تک یہ معلومات پہنچائیں۔
اللہ تعالیٰ اس کے لکھنے والے، شائع کرنے والے، پڑھنے والے اور آگے بھیجنے والے سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور ان کے والدین اور ہمارے و آپ کے والدین اور تمام مسلمانوں، زندہ و مردہ، کی مغفرت فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اپنی کتاب کو متقن انداز میں پڑھنے، تلاوت کرنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی موت کے بعد بھی اس کا عمل جاری رہے، اسے چاہیے کہ علم کو پھیلائے۔

دل گھبرا رہا ہو؟ بے چینی حد سے بڑھ جائے؟تو بس یہ دعا ایک بار پڑھ لو…  جب ہر طرف اندھیرا لگے اور دل ٹوٹنے لگے — یہ دعا زن...
02/09/2026

دل گھبرا رہا ہو؟ بے چینی حد سے بڑھ جائے؟
تو بس یہ دعا ایک بار پڑھ لو…

جب ہر طرف اندھیرا لگے اور دل ٹوٹنے لگے — یہ دعا زندگی بدل دیتی ہے

پریشانی، بے چینی اور دل کی گھبراہٹ کا مسنون حل

اَللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ
وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ
لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
جب کوئی پریشانی یا بے چینی ہو تو یہ دعا پڑھیں:ترجمہ
اے اللہ! میں تیری رحمت کی امید کرتا ہوں،
تو مجھے پل بھر بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر،
اور میرا سارا حال درست کر دے،
تیرے سوا کوئی معبود نہیں.

*آٹھ ایسے اصول… جو پوری زندگی بدل دیں* ایک روز حضرت شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد حضرت حاتم رحمہ اللہ سے دریافت ...
18/08/2026

*آٹھ ایسے اصول… جو پوری زندگی بدل دیں*

ایک روز حضرت شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد حضرت حاتم رحمہ اللہ سے دریافت کیا:
"حاتم! تم کتنے عرصے سے میرے ساتھ ہو؟"

انہوں نے ادب سے عرض کیا:
"بتیس سال سے…"

شیخ نے فرمایا:
"اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟"

حاتم نے جواب دیا:
"حضور! میں نے صرف آٹھ مسئلے سیکھے ہیں۔"

یہ سن کر شیخ بول اٹھے:
"انا للہ وانا الیہ راجعون! میرے اتنے سال تم پر صرف ہوئے اور تم نے صرف آٹھ باتیں سیکھیں؟"

حاتم نے نہایت عاجزی سے کہا:
"استادِ محترم! اس سے زیادہ نہ سیکھ سکا، اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔"

شیخ نے فرمایا:
"اچھا، سناؤ وہ آٹھ باتیں کیا ہیں؟"

حضرت حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا:

1:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہر کسی کا کوئی نہ کوئی محبوب ہوتا ہے، جو قبر تک ساتھ رہتا ہے۔ مگر قبر میں پہنچتے ہی سب جدا ہو جاتے ہیں۔
اس لیے میں نے اپنی “نیکیوں” کو اپنا محبوب بنا لیا، تاکہ وہ میرے ساتھ قبر میں بھی رہیں۔

2:
میں نے دیکھا کہ لوگ قیمتی چیزوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں۔
پھر میں نے اللہ کا فرمان پڑھا:
"جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔" (النحل: 96)
تو میں نے ہر قیمتی چیز اللہ کی راہ میں دے دی، تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔

3:
میں نے غور کیا کہ اللہ فرماتا ہے:
"جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا، جنت اسی کا ٹھکانہ ہے۔" (النازعات: 40)
تو میں نے اپنے نفس کو قابو میں کیا اور اسے اطاعتِ الٰہی کا پابند بنا لیا۔

4:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مال، حسب نسب اور دنیاوی مرتبوں پر فخر کرتے ہیں۔
پھر اللہ کا فرمان دیکھا:
"اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔" (الحجرات: 13)
تو میں نے تقویٰ اختیار کیا تاکہ حقیقی عزت حاصل ہو۔

5:
میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں۔
پھر اللہ کا یہ فرمان پڑھا:
"ہم نے دنیا میں ان کی روزی ان کے درمیان تقسیم کی ہے۔" (الزخرف: 32)
تو میں نے حسد چھوڑ دیا اور دل کو سکون ملا کہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔

6:
میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں، لڑتے جھگڑتے ہیں۔
پھر اللہ کا فرمان یاد آیا:
"بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، تم بھی اسے دشمن جانو۔" (فاطر: 6)
تو میں نے صرف شیطان کو اپنا دشمن سمجھا اور اسی سے بچنے کی کوشش کی۔

7:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ رزق کے لیے خود کو ذلیل کرتے ہیں، ناجائز راستے اختیار کرتے ہیں۔
پھر اللہ کا ارشاد دیکھا:
"زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔" (ہود: 6)
تو میں نے رزق کی فکر چھوڑ کر اپنے فرائض پر توجہ دی۔

8:
میں نے دیکھا کہ ہر شخص کسی نہ کسی چیز پر بھروسہ کرتا ہے — کوئی دولت پر، کوئی کاروبار پر، کوئی اپنی طاقت یا علم پر۔
پھر اللہ کا فرمان پڑھا:
"جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہ اس کے لیے کافی ہے۔" (الطلاق: 3)
تو میں نے صرف اللہ پر توکل کیا، اور وہی میرے لیے کافی ہو گیا۔

یہ سن کر شیخ شفیق بلخی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اے میرے پیارے شاگرد حاتم! اللہ تمہیں ان پر عمل کی توفیق دے۔ میں نے قرآن کے علوم کا گہرا مطالعہ کیا، تو پایا کہ ان سب کی بنیاد انہی آٹھ اصولوں میں ہے۔ جو ان پر عمل کرے، گویا اس نے تمام آسمانی کتابوں کا نچوڑ حاصل کر لیا۔"

"دعاء انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیق"یہ دعاء مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ رسول اللہ صلی ا...
13/08/2026

"دعاء انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیق"
یہ دعاء مشہور صحابی حضرت انس
بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں، آپ نے دس سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔
دعاء کا واقعہ یہ ہےکہ: ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، حجاج نے اپنے اصطبل خانہ کے گھوڑوں کا معاینہ کرواکے تفاخرا ً حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بھی ایسے گھوڑے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے تو جہاد کے لئے تھے، فخر وغرور ونمائش کے لئے نہیں تھے۔
اس جواب پر حجاج آپ پر غضب ناک ہوگیا اور اس نے کہا کہ: اے انس (رضی اللہ عنہ) اگر تو نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیرالمومنین عبدالملک بن مروان کا خط تمہاری سفارش میں نہ آیا ہوتا کہ اس نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کے بارے میں لکھا ہے، تو میں تمہارے ساتھ وہ کچھ کرتا جو میرا دل چاہتا ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم تو ہرگز میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتا، اور میری جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ بلاشبہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے چند کلمات کو سن رکھا ہے، میں ہمیشہ ان کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کے طفیل میں کسی بادشاہ کے غلبہ اور شیطان کی برائی سے نہیں ڈرتا ۔
حجاج یہ سن کر ہیبت زدہ ہوگیا اور ایک ساعت کے بعد سر اٹھا کر کہا: اے ابوحمزہ! وہ کلمات مجھے سکھادو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: نہیں میں ہرگز وہ کلمات تمہیں نہیں سکھاؤں گا کیوں کہ تم اس کے اہل نہیں ہو ۔
جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے خادم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے استفسار پر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کلمات سکھائے. اور کہا کہ انہیں صبح و شام پڑھاکر اللہ تعالیٰ تجھے ہر آفت سے حفاظت میں رکھے گا۔

دعاء کے کلمات مختلف کتابوں میں کمی بیشی کے ساتھ موجود ہے:
خلاصہ:
دعاء انس صحیح ہے، اس کے پڑھنے کی اجازت ہے، متن میں کوئی ایسے الفاظ نہیں ہیں جن پر شرعا کوئی گرفت ہو، والعلم عند اللہ۔

19/07/2026
7 اذکار مسلمان کے نفس  کو انسانوں، جنات کے شر اور حسد سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے  اہم ترین اذکار ہیں!۔1۔ بسمِ اللَّهِ ا...
24/06/2026

7 اذکار مسلمان کے نفس کو انسانوں، جنات کے شر اور حسد سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے اہم ترین اذکار ہیں!۔

1۔ بسمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَع اسمِهِ شَيءٌ...
عربی متن: «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ، جس کے نام کی برکت سے زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز جاننے والا ہے۔

حدیث کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام تین تین مرتبہ یہ دعا پڑھے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی (اور نہ اچانک کوئی بلا آئے گی)۔ (جامع ترمذی: 3388، سنن ابی داؤد)

2۔ أَعوذ بِكَلماتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ...
عربی متن: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: میں اللہ کے پورے اور کامل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔

حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شام کے وقت یہ تین بار پڑھ لے، تو اس رات اسے کوئی زہریلا جانور (جیسے بچھو وغیرہ) نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (صحیح مسلم: 2709، جامع ترمذی)

3۔ تَحصنّت بذِي العِزّة والجَبروت...
عربی متن: «تَحَصَّنْتُ بِذِي الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ، وَاعْتَصَمْتُ بِرَبِّ الْمَلَكُوتِ، وَتَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، اِصْرِفْ عَنَّا الْأَذَى، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: میں نے عزت اور جبروت (بزرگی و طاقت) والے کی پناہ لی، اور ملکوت (بادشاہی) کے رب کا دامن تھام لیا، اور میں نے اس ہمیشہ زندہ رہنے والے پر توکل کیا جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (اے اللہ!) ہم سے تکلیف اور اذیت کو دور فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

وضاحت: یہ ایک بہترین دعائیہ کلمات ہیں جو بزرگانِ دین اور اہل علم سے منقول ہیں، جن میں اللہ کی توحید اور پناہ کا اعتراف ہے۔

4۔ اللَّهُمّ عَافِني فِي بَدَنِي...
عربی متن: «اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: اے اللہ! میرے بدن میں مجھے عافیت دے۔ اے اللہ! میری سماعت (سننے کی طاقت) میں مجھے عافیت دے۔ اے اللہ! میری بصارت (دیکھنے کی طاقت) میں مجھے عافیت دے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ اے اللہ! میں کفر اور فقر (محتاجی) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔

حدیث کی فضیلت: صحابیِ رسول حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہؓ نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صبح و شام یہ دعا تین تین بار پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اس لیے میں آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا پسند کرتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد: 5090)

5۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَن...
عربی متن: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ» (تین مرتبہ)

اردو ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں فکر و غم سے، عاجزی (بے بسی) اور سستی سے، بخل (کنجوسی) اور بزدلی سے، اور قرض کے بوجھ تلے دب جانے سے اور لوگوں کے دباؤ/مغلوب کر دینے سے۔

حدیث کی فضیلت: یہ رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ ترین دعاؤں میں سے ہے، جسے آپ ﷺ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ دنیاوی و ذہنی پریشانیوں کا بہترین علاج ہے۔ (صحیح بخاری: 2893)

6۔ سورتیں (الفاتحة + الإخلاص + الفَلَق + الناس)
(ان سورتوں کو تین تین بار پڑھنا ہے)

سورۃ الفاتحہ:
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۝١ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝٢ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۝٣ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۝٤ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝٥ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝٦ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۝٧﴾

ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ بہت مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ جزا و سزا کے دن کا مالک ہے۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان کے راستے پر جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کے۔

سورۃ الإخلاص:
﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۝١ اللَّهُ الصَّمَدُ ۝٢ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝٣ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۝٤﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کے برابر کا کوئی ایک بھی نہیں ہے۔

سورۃ الفلق:
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝١ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۝٢ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبitems ۝٣ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ۝٤ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ۝٥﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں (جادوگرنیوں) کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

سورۃ الناس:
﴿قُل *أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۝١ مَلِكِ النَّاسِ ۝٢ إِلَهِ النَّاسِ ۝٣ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝٤ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ۝٥ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۝٦﴾

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے: میں انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے سچے معبود کی۔ وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔

حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "صبح اور شام سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس تین تین بار پڑھ لیا کرو، یہ تمہیں ہر چیز (کے شر) سے کافی ہوں گی۔" (سنن ابی داؤد، ترمذی)

7۔ آية الكُرسيّ + سورہ بقرہ کی آخری دو آیات
(ایک مرتبہ)

آية الكُرسيّ (سورہ بقرہ: 255):
﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ۝٢٥٥﴾

ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، کائنات کو سنبھالنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے نہیں تھکاتی، اور وہ بہت بلند، بہت بڑا ہے۔

حدیث کی فضیلت: جو شخص اسے صبح پڑھے گا وہ شام تک، اور جو شام کو پڑھے گا وہ صبح تک شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں رہے گا۔ (صحیح ابن حبان)

سورہ بقرہ کی آخری دو آیات (285-286):
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ۝٢٨٥ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ۝٢٨٦﴾

ترجمہ: رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کیا گیا، اور مومن بھی۔ سب اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس نے جو نیکی کمائی وہ اسی کے لیے ہے اور جو برائی سمیٹی وہ اسی پر ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہمارا مواخذہ نہ فرما۔ اے ہمارے رب! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہم میں طاقت نہیں۔ اور ہمیں معاف کر دے، ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کی قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

حدیث کی فضیلت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، وہ اس کے لیے (ہر آفت اور شر سے بچاؤ کے لیے) کافی ہو جائیں گی۔" (صحیح بخاری: 5009)

اللہ تعالیٰ آپ کو، ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔ اپنی بے دعاؤں میں ضرور یاد رکھیے گا۔

ثناءاللہ حسین: 17/6/26... اسلام آباد ۔۔۔ یوم الاربعاء ۔۔

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا" (القرآن) اور اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، یقیناً تم ہماری آنکھوں کے سا...
23/06/2026

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا" (القرآن) اور اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، یقیناً تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہو۔ جب انسان خود کو اکیلا محسوس کرے، تو یہ آیت دل کو سکون دیتی ہے۔ اللّٰہ آپ کی ہر تکلیف اور صبر کے ایک ایک سیکنڈ کو دیکھ رہا ہے اور وہ بہترین جزا دے گا۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ" (القرآن) بیشک اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ آزمائش میں سب سے بڑی طاقت صبر ہے۔ جب آپ مشکل وقت میں شکوہ کرنے کے بجائے صبر کا راستہ چنتے ہیں، تو کائنات کے مالک کی معیت اور مدد آپ کے ساتھ ہو جاتی ہے۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا" (القرآن) اور اللّٰہ پر توکل کرو، اور اللّٰہ ہی کارساز کافی ہے۔ اپنے تمام معاملات اللّٰہ کے سپرد کر کے بے فکر ہو جائیں۔ انسان عاجز ہے اور راستے بنانے کی طاقت صرف اللّٰہ کے پاس ہے، جو آپ کے حق میں بہترین ثابت ہو گا۔

وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ" (القرآن) اور اللّٰہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔ کبھی کبھی ہم کسی چیز کے چھن جانے پر بہت روتے ہیں، مگر اللّٰہ ہمارے مستقبل سے واقف ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں شر سے بچا کر خیر کی طرف لے جاتا ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ" (القرآن) پس ہم نے اس کی دعا قبول کر لی اور اسے غم سے نجات دی۔ آزمائش کا بہترین حل دعا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کی پکار کو کبھی رد نہیں کرتا اور ہر غم کو خوشی میں بدلنے پر قادر ہے۔

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" (القرآن) غم نہ کرو، بیشک اللّٰہ ہمارے ساتھ ہے۔ زندگی کے اندھیروں اور خوف کے لمحات میں یہ آیت ایک روشن امید ہے۔ جب اللّٰہ ساتھ ہو، تو دنیا کی کوئی بھی طاقت یا پریشانی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ" (القرآن) اور یہ اللّٰہ پر کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ آپ کی جو بھی حاجت یا پریشانی ہے، وہ اللّٰہ کے لیے بہت معمولی ہے۔ اپنے دل میں یقین رکھیں کہ اللّٰہ ایک "کُن" سے آپ کے حالات بدل سکتا ہے۔

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ" (القرآن) اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ یہ آیت دل ٹوٹے ہوئے انسان کے لیے مرہم ہے۔

سورۃ قریش کی فضیلت اور  تشریحسورۃ قریش! سکون، رزق اور شکر کا پیغام۔تعارف.سورۃ قریش قرآنِ مجید کی 106ویں سورت ہے، جو مکی ...
16/06/2026

سورۃ قریش کی فضیلت اور تشریح
سورۃ قریش! سکون، رزق اور شکر کا پیغام۔
تعارف.
سورۃ قریش قرآنِ مجید کی 106ویں سورت ہے، جو مکی سورت ہے۔
اس میں 4 آیات ہیں۔
اس سورت کا بنیادی پیغام اللہ کی نعمتوں کا شعور، شکرگزاری اور عبادت ہے۔
سورۃ قریش کی فضیلت
🔹 یہ سورت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن، رزق اور تحفظ اللہ کی خاص نعمتیں ہیں۔
🔹 مفسرین کے مطابق جو شخص اس سورت کو غور سے پڑھتا ہے، اس کے دل میں شکر، قناعت اور توکل پیدا ہوتا ہے۔
🔹 بعض اکابر علماء کے نزدیک اس سورت کی تلاوت رزق میں برکت اور خوف سے حفاظت کا سبب بنتی ہے (بشرطِ نیت و عمل)۔
🔹 یہ سورت قوموں کی کامیابی کا راز بتاتی ہے کہ نعمتوں کا شکر عبادت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
سبق:
نعمتیں ملنا امتحان ہے، اور ان نعمتوں پر شکر ادا کرنا کامیابی۔

سورۃ قریش کا شانِ نزول
یہ سورت قریش کے اس خاص مقام کو بیان کرتی ہے جو اللہ نے انہیں عطا کیا تھا:
سردیوں میں یمن اور
گرمیوں میں شام
تجارت کے محفوظ سفر
یہ تمام سہولتیں کسی طاقت یا تدبیر کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اللہ کے فضل سے تھیں۔
آیات کی تشریح آسان انداز میں

1️⃣ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ
قریش کو جو باہمی محبت، اتحاد اور تجارتی سہولتیں حاصل ہوئیں، وہ اللہ کی عطا تھیں۔
سبق: قوموں کی طاقت اتحاد میں ہے، اور اتحاد اللہ کی نعمت ہے۔

2️⃣ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ
قریش کے تجارتی سفر سردی اور گرمی میں محفوظ رہے، حالانکہ عرب بدامنی کا شکار تھا۔
سبق: جب اللہ حفاظت فرمائے تو راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔

3️⃣ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ
اتنی نعمتوں کے بعد اللہ حکم دیتا ہے کہ اسی رب کی عبادت کرو جو کعبہ کا مالک ہے۔
سبق: نعمت کا حق عبادت ہے، غفلت نہیں۔

4️⃣ الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ
اللہ نے انہیں بھوک سے بچایا اور خوف سے امن دیا۔
سبق: رزق اور امن صرف دنیاوی انتظامات سے نہیں، بلکہ اللہ کے حکم سے ہیں۔
موجودہ دور کے لیے پیغام
آج بھی اگر ہمارے گھروں میں
رزق ہے
امن ہے
سفر آسان ہیں
تو یہ سب اللہ کی عطا ہے۔
سورۃ قریش ہمیں سکھاتی ہے کہ:
نعمتوں کی حفاظت شکر سے ہوتی ہے،
اور شکر عبادت سے۔
عملی نصیحت!
روزانہ کم از کم ایک بار سورۃ قریش پڑھ کر
اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں
اور اس بات پر غور کریں کہ ہم نے نعمت ملنے کے بعد عبادت میں اضافہ کیا یا کمی؟

تمہیں سورۂ قریش کا ایک ایسا
کمال بتاؤں جوزندگی میں تمہیں کہیں نہیں
ملا تھا وہ یہ ہےکہ اگر چاہتے ہو کہ ساری کائنات کے
خزانے جو زمین کے نیچے دفن ہیں
اوروہ اللہ کے علم میں ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے
تو پھر سورۂ قریش کو اپنی زندگی کا ایسا ساتھی بنائیں جو کبھی جدا نہ ہو۔۔۔ سفر ہو‘ زندگی ہو‘ موت کا آخری وقت ہو‘ کھانا ہو ‘پینا ہو‘ اولاد ہو‘ گھر ہو‘ جھونپڑی ہو‘ محل ہو۔۔۔

خاص وقت کا خاص عمل اور نسلیں کامیاب: اگر کوئی شخص سورۂ قریش کو اس وقت پڑھے جس وقت میاں بیوی کے ملنے کا وقت ہوتا ہے یعنی اس سے پہلے جب انسان اپنے لباس سے جدا نہ ہو اور صرف تین بار‘سات بار یا گیارہ بار پڑھ لے اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی‘ وہ اولاد کبھی ننگی نہیں ہوگی اللہ ان کو
اچھا لباس دے گا‘کبھی بھوک نہیں ہوگی یعنی ان کو اللہ پاک بہترین کھانے دے گا کبھی خوفزدہ نہ ہوگی نہ غم سے نہ دشمن سے نہ کسی درندے سےنہ کسی جادو سے اور نہ ہی کسی مشکل سے اور ان کو بھوک کا خوف‘ غم کاخوف‘ چھننے کا خوف‘ لٹنے کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف اور مسائل کا خوف ان کو نہیں ہوگا اور زندگی ان کی آسودہ گزرے گی۔رزق ‘برکت لائی اور تنگدستی گئی۔۔

میرے رزق میں برکت’ میرے مسائل حل مجھے زندگی میں ترقیاں ملیں‘ حالات سنورے‘ زندگی سنوری میں نے غربت تنگدستی سے اپنے آپ کو نکلتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ میں نہیں نکل سکتا تھا‘ بہت کوشش کی لیکن نہیں نکل سکا اور اب ایسا نکلا کہ آج لوگ مجھے مالدار کہتےہیں۔۔۔ کوئی مجھے تنگدست نہیں کہتا‘ کوئی فقیر نہیں کہتا اور میں اپنی زندگی میں اسی تنگدستی اورفقیری سے نکلا ہوں اور ایسا نکلا ہوں کہ میں آگے سے آگے بڑھا۔۔۔ حالات نے مجھے بہتر سےبہتر بنا دیا۔ کہ سورۂ قریش کو جب چودھویں رات کاچاند ہو اور موسم گرما کا ہواور صحن میں سورہےہوں تو چاند کو دیکھتے ہوئے یہ سورۂ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ اور اپنی چار مرادوں کو دل میں لے کر پڑھتے رہیں۔۔۔ مراد نمبر ایک: فاقہ ،تنگدستی ،غربت، معاشی مسائل،کاروباری مسائل، روزگار کے مسائل، تنگدستی کے مسائل۔ مراد نمبر دو: خوف کسی انسان سے‘ کسی جانور سے اور کسی جن سے یا لٹنے کا خوف‘ گمراہ ہونے کا خوف‘ فتنوں کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف‘ زندگی کی ناکامیوں کا خوف۔۔۔ تیسری مراد : آپ کو کہیں سے امن چاہیے اور اپنے آپ کو ہر حال میں تنگدست اور بے حال محسوس کرتے ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ زندگی کے اس گوشے میں پہنچے جہاں کوئی آپ کا ساتھی اور مدد گار نہیں اور آپ کو کوئی حاصل کرنے والا اور ساتھ دینا والا نہیں اورآپ سمجھتے ہیں کہ آپ تنہا ہوگئے ہیں۔۔۔ چوتھی مراد: آپ گناہوں کی گمراہی میں اور زندگی کی ذلتوں میںیا پھر بد سے بدتر زندگی میں آپ چلے گئے ہیں اور ولایت چاہتے ہیں‘ فقیری چاہتےہیں‘تعلق چاہتے ہیں‘ نسبت احسان چاہتے ہیں آپ رات کی تنہائیوں میں آنسو چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا لفظ چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا اہتمام چاہتےہیں۔۔۔ دعا کی طاقت چاہتے ہیں اور دعا کی تاثیر چاہتے ہیں بس۔۔۔ میرا گھر‘ میرا تن‘ میرا من بے روشن:سورۂ قریش بلاتعداد چاند کو دیکھتے ہوئے پڑھیں اور بس ایک تصور ضرور کریں کہ مولا چاند کچھ نہیں‘ مخلوق ہے ۔۔۔تو خالق ہے اور تو نے اس چاند میں روشنی ڈالی۔۔۔ مولا !میرا گھربے روشن۔۔۔ میرا تن بےروشن۔۔۔ میرا من بے روشن۔۔۔ میری زندگی میں اندھیرا‘ میری راہوں میں اندھیرا‘ میری آنکھوں میں اندھیرا۔۔۔ میری نسلوں میں اندھیرا۔۔۔ مجھےغربت کا اندھیرا۔۔۔ مجھے تنگدستی کا اندھیرا۔۔۔ مجھے گناہوں کا اندھیرا۔۔۔ مشکلات کا اندھیرا۔۔۔ خوف کا اندھیرا۔۔۔ ذلتوں کا اندھیرا۔۔۔ ظلمتوں کا اندھیرا۔۔۔ ناکامیوں کا اندھیرا۔ میرے اوپر چھا گیا ہے تو جس طرح اپنی تجلی سے چاند کو روشن کرتا ہے اس سورۃ کی برکت سے اپنی تجلی بھیج اور میرا سب کچھ روشن کردے اور مجھے روشنی دے دے ۔ عمل کا طریقہ:ہر چاند کی بارہ، تیرہ اور چودہ کو اگر یہ عمل کرتے رہیں تین دن کریں یا ہر چاند جب بھی روشن ہو دس دن کریں یا کم از کم چودھویں کی چاند کی رات کو کریں اور یہ باتیں کرتے کرتے سوجائیں اور اگر آپ چاند کو نہیں دیکھ پاتے آپ کے پاس وہ ماحول نہیں کہ جس میں چھت یا صحن میسر ہو لیکن چودھویں کا چاند ہے اور تاریخ چودھویں کی ہے تو پھر تصور تصور میں یہ عمل کرتے کرتے لیٹ جائیں چاہےچاند نظر نہ بھی آئے لیکن یہی تصور ہو اور یہی عمل آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا: اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا کیونکہ آپ تو پاگئے اگر نسلیں نہ پائیں تو پھر آپ بھی پاکر آخر کتنا پائیں گے۔۔۔ نسلیں آپ کی شادو آباد ہوجائیں گی اور اس کو اگر زندگی بھر کا معمول بنالیں تو آپ پر وہ خیروبرکت کی ر اہیں کھلیںگی اور آپ پروہ رحمت کی اور برکت کے راستے کھلیں گے جنہیں آپ نے کبھی سوچا اور پایا نہ ہوگا۔

رات کے کسی خاموش پہر...جب سب سو جائیں...اور تم تنہائی میں بیٹھے ہو...تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا...میں کون ہوں؟یہ جسم؟...
12/06/2026

رات کے کسی خاموش پہر...
جب سب سو جائیں...
اور تم تنہائی میں بیٹھے ہو...
تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا...
میں کون ہوں؟
یہ جسم؟
یہ چہرہ؟
یہ آنکھیں؟
یہ ہاتھ؟
یا ان سب کے اندر موجود کوئی اور حقیقت؟
ذرا غور کرو...
جب ایک انسان مرتا ہے...
تو اس کے جسم میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔
وہی آنکھیں۔
وہی دل۔
وہی دماغ۔
وہی ہاتھ۔
وہی پیر۔
پھر آخر ایسی کون سی چیز نکل جاتی ہے...
کہ بولنے والا خاموش ہو جاتا ہے؟
چلنے والا رک جاتا ہے؟
دیکھنے والا بے حس ہو جاتا ہے؟
وہ چیز...
روح ہے۔
روح...
انسان کی اصل حقیقت ہے۔
جسم تو صرف ایک لباس ہے۔
ایک عارضی مکان ہے۔
ایک سواری ہے۔
اصل مسافر تو روح ہے۔
قرآن نے روح کو رب کا ایک عظیم راز قرار دیا۔
اور انسان کو بتا دیا...
کہ تمہیں اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
سائنس نے سمندر ناپ لیے۔
آسمانوں کی وسعتیں جان لیں۔
چاند پر قدم رکھ دیا۔
انسان کے جسم کے اندر موجود خلیات تک پہنچ گئی۔
لیکن...
روح کیا ہے؟
آج بھی سائنس اس سوال کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔
نہ کوئی خوردبین روح کو دیکھ سکی۔
نہ کوئی مشین روح کو ناپ سکی۔
نہ کوئی لیبارٹری روح کو قید کر سکی۔
کیونکہ روح...
مٹی کی دنیا کی چیز نہیں۔
غیب کی دنیا کا راز ہے۔
جب ماں کے پیٹ میں ایک بے جان جسم پڑا ہوتا ہے...
اللہ کے حکم سے روح اس میں داخل ہوتی ہے۔
اور اچانک زندگی شروع ہو جاتی ہے۔
دل دھڑکنے لگتا ہے۔
جسم حرکت کرنے لگتا ہے۔
آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہونے لگتی ہیں۔
اور پھر...
زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
لیکن افسوس...
انسان ساری زندگی جسم کو سنوارتا رہتا ہے۔
روح کو بھول جاتا ہے۔
جسم کو دھوتا ہے۔
روح کو نہیں دھوتا۔
جسم کو خوشبو لگاتا ہے۔
روح کو معطر نہیں کرتا۔
گھر کو صاف رکھتا ہے۔
دل کو صاف نہیں رکھتا۔
کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتا۔
لیکن روح پر گناہوں کے داغ دیکھ کر بھی بے فکر رہتا ہے۔
ذرا سوچو...
تم روز نہاتے ہو۔
اپنے جسم کو چمکاتے ہو۔
اپنے بال سنوارتے ہو۔
اپنے کپڑے بدلتے ہو۔
لیکن آخری بار اپنی روح کو کب صاف کیا تھا؟
آخری بار سچے دل سے توبہ کب کی تھی؟
آخری بار تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں پر روئے کب تھے؟
حقیقت یہ ہے...
بہت سے لوگ صاف جسم لے کر چل رہے ہیں۔
مگر ان کی روحیں گندگی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
بہت سے چہرے روشن ہیں۔
لیکن دل تاریک ہیں۔
بہت سے لوگ خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں۔
لیکن ان کی روحیں گناہوں کی بدبو میں لپٹی ہوئی ہیں۔
حسد...
روح کو کھا جاتا ہے۔
تکبر...
روح کو سیاہ کر دیتا ہے۔
جھوٹ...
روح کو زخمی کر دیتا ہے۔
غیبت...
روح کو بدبودار کر دیتی ہے۔
نافرمانی...
روح کو بیمار کر دیتی ہے۔
اور سب سے خطرناک بیماری...
غفلت ہے۔
وہ غفلت...
جو انسان کو اپنی روح کا حال ہی بھلا دیتی ہے۔
پھر ایک دن...
موت آ جاتی ہے۔
وہ لمحہ...
جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔
اس وقت...
فرشتے آتے ہیں۔
اور روح کو جسم سے الگ کر دیتے ہیں۔
اس لمحے...
ساری دولت ختم۔
ساری طاقت ختم۔
ساری شہرت ختم۔
صرف روح باقی۔
اور اس کے اعمال باقی۔
لوگ جسم کے پاس کھڑے ہوتے ہیں۔
رو رہے ہوتے ہیں۔
لیکن روح...
ایک نئے سفر پر نکل چکی ہوتی ہے۔
عالمِ برزخ کی طرف۔
وہاں نہ بینک بیلنس کام آتا ہے۔
نہ عہدہ۔
نہ شہرت۔
وہاں صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔
سوچو...
اگر آج تمہاری روح تمہارے سامنے لا کھڑی کی جائے...
تو کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گے؟
کیا وہ روشن ہوگی؟
یا گناہوں کے دھبوں سے بھری ہوئی ہوگی؟
کیا وہ اللہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوگی؟
یا خوف سے کانپ رہی ہوگی؟
اے انسان!
جسم کی صفائی اچھی بات ہے۔
اسلام نے بھی صفائی سکھائی ہے۔
مگر جسم سے زیادہ قیمتی تمہاری روح ہے۔
جسم چند سال بعد مٹی میں مل جائے گا۔
لیکن روح...
ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اس لیے جسم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے...
روح کے آئینے کے سامنے بھی کھڑے ہو جاؤ۔
اپنے دل کا جائزہ لو۔
اپنے گناہوں کو دیکھو۔
اپنی غفلت کو پہچانو۔
اپنی روح کو توبہ سے دھو لو۔
اپنی روح کو قرآن سے روشن کر لو۔
اپنی روح کو ذکر سے زندہ کر لو۔
اپنی روح کو سجدوں سے پاک کر لو۔
اس سے پہلے کہ لوگ تمہارے جسم کو غسل دیں...
اپنی روح کو خود پاک کر لو۔
اس سے پہلے کہ تمہارا نام صرف ایک یاد بن جائے...
اپنی روح کو اللہ کے قریب کر لو۔
کیونکہ ایک دن...
یہ جسم مٹی میں سو جائے گا۔
یہ آنکھیں بند ہو جائیں گی۔
یہ زبان خاموش ہو جائے گی۔
یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔
مگر روح...
اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔
اور اُس دن...
سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ تمہارا جسم کتنا خوبصورت تھا۔
بلکہ یہ ہوگا...
تمہاری روح کس حال میں تھی؟ 🤍
اور کیا وہ اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار تھی؟

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 11:30 - 22:00
Tuesday 11:30 - 22:00
Wednesday 11:30 - 22:00
Thursday 11:30 - 22:00
Saturday 11:30 - 22:00
Sunday 11:30 - 22:00

Telephone

+923216633997

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic photos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category