اگہی Aagahi

اگہی Aagahi

Share

اسلام،ادب،حالات حاضرہ، کالمز، اقتباسات اور مختلف موضوعات سے مز ین" آگہی" کا اک جہاں

05/05/2026

. قیمتوں پر عوامی اختیار کی ایک مثال
ارجنٹائن میں ایک شخص انڈے خریدنے دکان پر گیا۔ دکاندار سے قیمت پوچھی تو پتا چلا کہ ریٹ پہلے سے بہت زیادہ ہے۔ وجہ پوچھی تو جواب ملا: "سپلائرز نے ریٹ بڑھا دیے ہیں۔"

اس شخص نے خاموشی سے انڈوں کا کارٹن اٹھایا، دیکھا، اور واپس رکھ دیا۔ بس اتنا کہا: "ہم انڈوں کے بغیر بھی رہ لیں گے۔"

یہ کوئی منظم تحریک نہیں تھی، نہ ہی کوئی ہڑتال۔ یہ عام لوگوں کا اجتماعی شعور تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر نے یہی رویہ اپنا لیا۔ کسی نے نعرے نہیں لگائے، احتجاج نہیں کیا۔ لوگوں نے بس انڈے خریدنے بند کر دیے۔

نتیجہ کیا نکلا؟

ایک ہفتے کے اندر سپلائرز نیا مال لے کر دکانوں پر پہنچے، لیکن دکانداروں نے لینے سے انکار کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ پرانا اسٹاک ہی شیلف پر پڑا تھا، کوئی خریدار نہیں تھا۔

پولٹری کمپنیوں کو لگا کہ یہ عارضی بات ہے، لوگ چند دن بعد واپس آ جائیں گے۔ لیکن لوگ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

نقصان بڑھتا گیا۔ ایک طرف انڈے خراب ہو کر ضائع ہو رہے تھے۔ دوسری طرف مرغیوں کی خوراک اور دیکھ بھال کا خرچہ مسلسل جاری تھا۔ نقصان دگنا ہوتا چلا گیا۔

آخر کار کمپنی مالکان نے مل کر فیصلہ کیا کہ قیمتیں واپس پرانی سطح پر لے آتے ہیں۔ مگر عوام پھر بھی نہ مانے۔

جب صورتحال قابو سے باہر ہو گئی تو کمپنیوں نے عوام سے معافی مانگی اور انڈوں کی قیمت پہلے سے بھی گھٹا کر تقریباً ایک چوتھائی کر دی۔

اس واقعے کا سبق

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ عوام اگر چاہیں تو کسی بھی چیز کی قیمت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس کے لیے نہ ہنگامہ ضروری ہے، نہ دھرنا۔

صرف تین چیزیں چاہییں:

شعور: یہ سمجھنا کہ اصل طاقت خریدار کے ہاتھ میں ہے
صبر: اپنے فیصلے پر قائم رہنا
اتحاد: اجتماعی طور پر ایک جیسا عمل کرنا
جب ہم خود بدلتے ہیں تو بازار خود بخود بدل جاتا ہے۔








05/05/2026

صحبتیں انسان کے اوپر رفتہ رفتہ نامعلوم انداز سے اثر کرتی ہیں پاکیزہ ہوں، تو انسان کی روح نکھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگر یہی صحبتیں بری ہوں تو ایمان کو کھرچ کر دل سیاه و سخت کر دیتی ہیں۔

آپ نے فرمان رسولﷺ سنا تو ہو گا؛

"انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، تو تمہیں چاہئے کہ غور کرو کس سے دوستی کر رہے ہو"۔

(سنن ابوداؤد 4833)

تو سوچ سمجھ کر صحبتیں اختیار کریں!
یہ دوست ہمیں جنت بھی لے جاتے ہیں ، اور۔۔۔ جہنم بھی۔





05/05/2026

"جب تک تم لاشعور کو شعور میں نہ بدلو، وہ تمہاری زندگی پر حکم چلائے گا اور تم اسے تقدیر کا نام دو گے۔







#سچ #حقیقت #زندگی #✨🍎🪞 #آئینہ #خودشناسی #سوچ

02/05/2026
30/04/2026

سورة الملک صرف ایک سورت نہیں۔

ذرا تصور کریں۔ آپ اس دنیا سے جاچکے ہیں۔ آپ کی نماز جنازہ ہو چکی ہے۔ لوگ آپ کو قبر میں اتار کر واپس جاچکے ہیں۔ اب آپ اکیلے ہیں اندھیرا ہے۔ خاموشی ہے۔ آپ انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے آئیں گے سوال کریں گے۔ لیکن حیرت ! اچانک آپ کو ایک خوشبو محسوس ہوتی ہے جنت کی خوشبو۔ آپ کی قبر کشادہ ہونے لگتی ہے۔ اور ایک راستہ جنت کی طرف کھل جاتا ہے۔ آپ حیران ہوتے ہیں" یہ کیا ہو رہا ہے ؟ سوال کہاں ہیں؟

جواب کہاں ہیں ؟ " پھر آپ کو یاد آتا ہے وہ عادت جو آپ نے دنیا میں اپنائی تھی، ہر رات سونے سے پہلے سورۃ الملک پڑھنا، وہی سورۃ آج آپ کی محافظ بن گئی ہے۔ وہ آپ کے لیے ڈھال بن گئی ہے ، قبر کے عذاب سے بچانے والی بن گئی ہے۔ اب آپ سکون سے ہیں، نرم ریشمی بستر پر لیٹے ہوئے ، دل مطمئن اور روح پر سکون۔ سورۃ الملک صرف ایک سورت نہیں۔ یہ آپ کی قبر کی روشنی ہے۔ یہ آپ کی محافظ ہے۔

آج ہی سورہ ملک ہر رات پڑھنے کی نیت کریں اور اس کو اپنی عادت بنائیں۔

ان شاء اللہ






#سچ #حقیقت #زندگی #✨🍎🪞 #آئینہ #خودشناسی #سوچ

30/04/2026

دعائیں وہ خزانہ ہیں
جس کی ہمیں صرف ضرورت ہی نہیں،
بلکہ ہم اس کے بغیر ادھورے ہیں۔

یہ وہ خاموش طاقت ہیں
جو بند دروازے کھول دیتی ہیں،
جو دل کے بوجھ ہلکے کر دیتی ہیں،
جو تقدیر کے راستے بدل دیتی ہیں۔

کبھی کبھی انسان کے پاس
الفاظ نہیں ہوتے،
وسائل نہیں ہوتے،
راستے نہیں ہوتے…

مگر دعا ہوتی ہے۔

اور جب دعا ہوتی ہے
تو پھر کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا۔

25/04/2026

آمین الٰہی آمین

#آمین__یا__رب__العالمین

12/04/2026

💔 سب سے بڑا دکھ: آنکھوں سے اوجھل ہو جانا
​مجھے ستر سال لگے یہ سچائی سمجھنے میں کہ سب سے گہرا دکھ خاموشی یا تنہائی نہیں ہے۔
یہ تو ان لوگوں کے درمیان جینا ہے جو اب آپ کو دیکھتے ہی نہیں۔
​میرا نام ماریہ ہے۔
اِس سال میں ستر کی ہوئی۔ ایک ایسا عدد جو اپنا وزن، اپنی تاریخ اور اپنا مطلب رکھتا ہے۔
لیکن اس نے کوئی خوشی نہیں دی۔
یہاں تک کہ میری بہو کا بنایا ہوا کیک بھی بے ذائقہ تھا۔
یا شاید یہ صرف میں ہوں… میں نے مٹھاس، توجہ، اور زندگی سے ہی رغبت کھو دی ہے۔
​ایک لمبے عرصے تک، میں سمجھتی تھی کہ بڑھاپے کا مطلب تنہائی ہے:
ایک پرسکون گھر، ایک فون جو نہیں بجتا، خالی اتوار۔
لیکن اب میں جانتی ہوں — خالی پن سے بھی بدتر یہ ہے کہ گھر تو لوگوں سے بھرا ہو، مگر آپ وہاں نظروں سے اوجھل ہو چکی ہوں۔
​میرے شوہر دس سال پہلے گزر گئے۔
ہم نے چالیس سال ایک ساتھ گزارے — سادہ، محبت بھرے، نامکمل، لیکن حقیقی۔
وہ ایک دروازہ ٹھیک کر سکتے تھے، آگ جلا سکتے تھے، یا میرے طوفانوں کو پرسکون کرنے کے لیے صحیح لفظ ڈھونڈ سکتے تھے۔
جب وہ گئے، تو میرا توازن بگڑ گیا۔
میں اپنے بچوں، کارلوس اور لورا کے پاس رہی۔
میں نے انہیں سب کچھ دیا — اس لیے نہیں کہ یہ میرا فرض تھا، بلکہ اس لیے کہ میں نے محبت کرنے کا یہی طریقہ جانا تھا۔
​میں نے سوچا تھا کہ کسی دن یہ محبت مجھے واپس ملے گی۔
لیکن ملاقاتیں کم ہو گئیں۔
"ماں، ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے۔"
"شاید اگلے ہفتے کے آخر میں۔"
اور میں انتظار کرتی رہی۔
​پھر ایک دن کارلوس نے کہا،
"ماں، ہمارے ساتھ آ کر رہو۔ آپ کو اکیلا نہیں رہنا چاہیے۔"
تو میں نے اپنا سامان باندھا، اپنا کمبل دے دیا، اپنی پرانی کافی بنانے والی مشین بیچ دی، پیانو چھوڑ دیا — اور اُن کے بڑے، روشن گھر میں آ گئی۔
​شروع میں، سب کچھ بہت شاندار تھا۔
میرے پوتے نے مجھے گلے لگایا، لورا نے مجھے کافی دی۔
لیکن دھیرے دھیرے، چیزیں بدل گئیں۔
"ماں، ٹی وی کی آواز کم کرو۔"
"بہتر ہے آپ اپنے کمرے میں رہیں — ہمارے مہمان آ رہے ہیں۔"
"کیا آپ نے پھر سے اپنے کپڑے ہمارے کپڑوں کے ساتھ ملا دیے؟"
​یہ الفاظ ہوا میں لٹکتے رہے:
"ہمیں خوشی ہے کہ آپ یہاں ہیں، لیکن حد پار نہ کریں۔"
"ماں، یہ اب آپ کا گھر نہیں ہے۔"
​میں نے مدد کرنے کی کوشش کی — کھانا پکانا، صفائی کرنا، بچے کا خیال رکھنا۔
لیکن میں خود کو ایک سائے کی طرح محسوس کرنے لگی۔
یا اس سے بھی بدتر… ایک بوجھ۔
​ایک رات، میں نے لورا کو فون پر کہتے ہوئے سنا:
"میری ساس کمرے کے ایک کونے میں رکھی مورتی کی طرح ہیں — وہ موجود ہیں، مگر جب وہ خاموش رہتی ہیں تو آسانی رہتی ہے۔"
اُس رات، میں سو نہیں پائی۔
میں چھت کو گھورتی رہی اور سمجھ گئی — میرا خاندان میرے قریب تھا، لیکن میں نے کبھی خود کو اتنا تنہا محسوس نہیں کیا تھا۔
​ایک مہینے بعد، میں وہاں سے چلی گئی۔
میں نے انہیں بتایا کہ ایک دوست نے مجھے دیہی علاقے میں ایک کمرے کی پیشکش کی ہے۔
"یہ آپ کے لیے اچھا ہو گا، ماں،" کارلوس نے سُکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا۔
​اب میں گرناڈا کے مضافات میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتی ہوں۔
میں اپنی کافی خود بناتی ہوں، پڑھتی ہوں، وہ خط لکھتی ہوں جو میں کبھی نہیں بھیجتی۔
کوئی مداخلت نہیں کرتا۔ کوئی فیصلہ نہیں سناتا۔
میں ستر کی ہوں۔
مجھے اب کسی سے کوئی توقع نہیں ہے۔
میں بس دوبارہ سے انسان کی طرح محسوس کرنا چاہتی ہوں — نہ کہ بوجھ، نہ کہ ایک سایہ۔
​میں نے سیکھ لیا ہے کہ حقیقی تنہائی کسی خالی گھر میں نہیں رہتی۔
یہ ان لوگوں کے درمیان ہونے میں ہے جن سے آپ محبت کرتے ہیں… اور ان میں سے کوئی بھی آپ کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا۔
جب وہ آپ کو برداشت کرتے ہیں، لیکن اب آپ کی بات نہیں سنتے۔
جب آپ موجود تو ہیں، لیکن نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔
​بڑھاپا جھریوں میں نہیں بستا۔
یہ اس محبت میں بستا ہے جو آپ نے کبھی پورے دل سے دی تھی —
اور جو اب کوئی مانگتا ہی نہیں۔ 💔














10/04/2026

ہمیشہ اُن محفلوں سے باغی رہو
جہاں عزت کردار سے نہیں،
بلکہ چاپلوسی سے بانٹی جاتی ہو۔

وہ احترام، احترام نہیں ہوتا
جو سچ بولنے والوں سے چھین کر
خوشامدی لوگوں کو دے دیا جائے۔

اپنی خودداری کو کبھی
کسی کے قدموں میں مت رکھنا،
کیونکہ جھک کر ملنے والی عزت
اکثر انسان کا قد چھوٹا کر دیتی ہے۔

باغی رہو اُن رسموں کے خلاف
جہاں وفاداری نہیں،
صرف مفاد پرستی کو سراہا جاتا ہو۔

اصل وقار وہی ہے
جو ضمیر کے ساتھ کھڑا رہے،
چاہے محفل میں تنہا ہی کیوں نہ ہونا پڑے
#آگہی

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Lahore