21/09/2026
چپورسن کے عوام کے وعدے کہاں گئے؟ — الیکشن کے بعد ہنزہ قومی اتحاد کہاں ہے؟
السلام علیکم ناظرین!
آج کا پروگرام چپورسن کے ان عوام کے نام ہے جنہوں نے الیکشن کے دوران ہنزہ قومی اتحاد کی بات سنی، ان پر اعتماد کیا اور اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
لیکن آج الیکشن گزر چکا ہے اور چپورسن کے عوام ایک بنیادی سوال پوچھ رہے ہیں:
الیکشن کے دوران کیے گئے وعدے کہاں گئے؟ اور وہ لوگ کہاں ہیں جو الیکشن کے دن عوام کے درمیان موجود تھے؟
ہنزہ قومی اتحاد سے چپورسن کے عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ الیکشن سے پہلے شیلٹرز فراہم کرنے اور سردیوں کے لیے کوئلہ دینے کے جو وعدے کیے گئے تھے، ان کا کیا بنا؟
شیلٹرز کا وعدہ — آج حقیقت کیا ہے؟
چپورسن کے عوام پہلے ہی سخت موسمی حالات اور مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے میں انتخابی مہم کے دوران شیلٹرز فراہم کرنے کا وعدہ یقیناً متاثرہ اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے ایک امید تھا۔
لیکن آج عوام پوچھ رہے ہیں:
وہ شیلٹرز کہاں ہیں؟
کتنے شیلٹرز فراہم کیے گئے؟
کن خاندانوں کو دیے گئے؟
اور اگر وعدہ پورا نہیں ہوا تو اس کی وجہ کیا ہے؟
عوام کو صرف وعدہ نہیں بلکہ اس وعدے پر عملدرآمد کی تفصیل چاہیے۔
سردیوں کے لیے کوئلے کا وعدہ
چپورسن جیسے سرد علاقے میں موسم سرما کے دوران ایندھن ایک بنیادی ضرورت ہے۔
اگر الیکشن کے دوران عوام سے سردیوں کے لیے کوئلہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تو آج یہ سوال بالکل جائز ہے کہ:
کوئلہ کہاں ہے؟
کتنے خاندانوں کو فراہم کیا گیا؟
کب فراہم کیا گیا؟
اور اگر ابھی تک نہیں دیا گیا تو کب تک دیا جائے گا؟
یہ سوال کسی سیاسی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ ان خاندانوں کی طرف سے ہے جنہوں نے ان وعدوں پر اعتماد کیا تھا۔
الیکشن ختم، وعدے ختم؟
سب سے اہم سوال یہ ہے ؟؟؟
ہنزہ قومی اتحاد کی ٹیم کہاں ہے؟
کیا الیکشن کے بعد چپورسن کے عوام کے مسائل ختم ہوگئے؟
کیا سردی ختم ہوگئی؟
کیا شیلٹرز کی ضرورت ختم ہوگئی؟
کیا کوئلے کی ضرورت ختم ہوگئی؟
اگر مسائل آج بھی موجود ہیں تو پھر عوام کے درمیان وہ ٹیم کیوں نظر نہیں آ رہی جس نے الیکشن کے دوران ان مسائل کے حل کے وعدے کیے تھے؟
ہنزہ قومی اتحاد سے چند سیدھے سوالات
ہم ہنزہ قومی اتحاد کے ذمہ داران سے احترام کے ساتھ چند واضح سوالات پوچھنا چاہتے ہیں:
1. شیلٹرز کا وعدہ کب اور کیسے پورا کیا جائے گا؟
2. سردیوں کے لیے کوئلے کی فراہمی کا کیا منصوبہ ہے؟
3. اب تک کتنے خاندانوں کو اس وعدے کے تحت مدد فراہم کی گئی؟
4. اگر وعدے پورے نہیں ہوئے تو اس کی وجہ کیا ہے؟
5. کیا ہنزہ قومی اتحاد کی ٹیم چپورسن میں عوامی اجلاس کرکے اپنی کارکردگی عوام کے سامنے رکھے گی؟
6. اور سب سے اہم سوال: کیا الیکشن کے بعد بھی چپورسن ہنزہ قومی اتحاد کی ترجیحات میں شامل ہے؟
عوام کا حق ہے کہ جواب مانگیں
چپورسن کے عوام نے اپنا ووٹ دے کر اپنا فرض ادا کیا۔
اب عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے بدلے کیے گئے وعدوں کا حساب مانگیں۔
ووٹ کسی بھی امیدوار یا اتحاد کے لیے ہو، اصول ایک ہی ہونا چاہیے:
وعدہ کیا گیا ہے تو اس کی تکمیل کا پوچھا جائے۔
وعدہ پورا نہیں ہوا تو وجہ پوچھی جائے۔
اور اگر وعدہ پورا ہوگیا ہے تو اس کے ثبوت اور تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
ہم ہنزہ قومی اتحاد کے ذمہ داران کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ سامنے آئیں اور چپورسن کے عوام کو اپنا مؤقف بتائیں۔
کیونکہ سیاست صرف الیکشن جیتنے یا ووٹ لینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
اصل سیاست تو الیکشن کے بعد شروع ہوتی ہے، جب عوام اپنے مسائل لے کر سیاسی قیادت کے پاس آتے ہیں۔
چپورسن کے عوام آج بھی انتظار کر رہے ہیں۔
شیلٹرز کا وعدہ کہاں گیا؟
کوئلے کا وعدہ کہاں گیا؟
اور الیکشن کے بعد ہنزہ قومی اتحاد کی ٹیم کہاں ہے؟
یہ سوال صرف ایک سیاسی جماعت یا اتحاد سے نہیں بلکہ ہر اس سیاسی قوت سے ہونا چاہیے جو عوام سے وعدہ کرتی ہے۔
چپورسن کے عوام کو وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہیے۔
انتخابی نعرے نہیں، زمینی کام چاہیے۔
اور الیکشن کے دن کی نہیں، پورے سال کی نمائندگی چاہیے۔
Abbas Mir Qurban Careem Tojick Haider Badakhshani Rehan Shah Asif Karim