25/07/2025
تانگیر
تانگیر میں 22 جولائی 2025 کو شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے خطرناک سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس سیلاب کے باعث اسسٹنٹ کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ تھانہ تانگیر، قریبی اسکول اور بازار کی بیشتر دکانوں میں پانی داخل ہونے سے املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سید آباد کے مختلف علاقوں میں بھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے زرعی زمینیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، اور وہاں کی سڑکیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
تانگیر میں موجود مرکزی پاور ہاؤس کا چینل بھی سیلاب کی نذر ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ چار دنوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ نیا پاور ہاؤس بھی اس سیلاب کی زد میں آ کر متاثر ہوا ہے۔
پورے تانگیر میں جگہ جگہ سیلاب کے باعث لوگوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
تاحال حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ صرف چند مقامات پر سڑکوں کو کھولا گیا ہے، جبکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔
حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر سیلاب متاثرہ افراد کو امداد فراہم کی جائے، زرعی زمینوں پر ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے، اور بجلی کی بحالی کے لیے پاور ہاؤس کے چینلز کو جلد از جلد مرمت کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ خوابِ خرگوش سے جاگ کر بروقت اقدامات کرے تاکہ متاثرہ عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
منجانب گلی بالا یوتھ مؤمنٹ
02/07/2025
گرلز پرائمری اسکول گلی بالا تانگیر
مورخہ 28 جون 2025 کو ورک ڈیپارٹمنٹ کے انجینئر یاسر نے گرلز پرائمری اسکول گلی بالا تانگیر کا دورہ کیا۔ معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دیواروں میں بیم اور کھڑکیوں کے کناروں پر شیٹرنگ اور سریا درست طریقے سے نہیں ڈالا گیا تھا، جس کی وجہ سے دیواروں میں کمزوری پیدا ہو گئی تھی۔
آج انجینئر یاسر نے ایک بار پھر کام کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ان مقامات پر، جہاں پہلے سریا شامل نہیں کیا گیا تھا، دوبارہ مکمل اور درست انداز میں سریا ڈالنے کے عمل کا جائزہ لیا۔ انجینئر صاحب نے کام پر اعتماد کا اظہار کیا اور ٹھیکیدار طاہر کی کارکردگی کو سراہا کہ انہوں نے ہدایات کے مطابق درستگی سے کام کیا۔ انہوں نے ٹھیکیدار کو ہدایت دی کہ وہ اسی معیار کے ساتھ باقی کام بھی جاری رکھیں۔
انجینئر یاسر نے واضح طور پر کہا کہ تمام تعمیراتی کام سرکاری نقشے اور معیار کے عین مطابق ہونا چاہیے، اور کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا انحراف کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں ہے۔
منجانب: گلی بالا یوتھ مؤمنٹ تانگیر
23/06/2025
پبلک سکول تانگیر
کافی عرصے سے پبلک سکول تانگیر کے چھوٹے بچے بس کی چھت پر بیٹھ کر اسکول آ رہے ہیں، جو کہ ایک نہایت خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ یہ بس گَبَر کے خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑک سے گزرتی ہے، جہاں راستے میں بجلی کی ننگی تاریں اور درختوں کی نیچی شاخیں موجود ہیں، جو بچوں کی جان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
یہ بات بھی قابل افسوس ہے کہ ہر بچہ باقاعدگی سے اسکول کی جانب سے فراہم کردہ ٹرانسپورٹ کی ماہانہ فیس ادا کرتا ہے، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو بس کے اندر بٹھانے کے بجائے چھت پر کیوں بٹھایا جا رہا ہے؟ اسکول انتظامیہ فوری طور پر ایک اور بس کا انتظام کرے تاکہ بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بس کا موجودہ ڈرائیور دراصل ایک ٹریکٹر کا ڈرائیور تھا، جو اب اسکول بس چلا رہا ہے۔ یہ امر بچوں کی جان کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے، کیونکہ ایسا شخص پیشہ ورانہ تربیت کے بغیر بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اگر خدانخواستہ کوئی جانی نقصان ہوا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری پبلک سکول تانگیر کی انتظامیہ اور تانگیر کی ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ہم ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ پبلک سکول تانگیر کی انتظامیہ کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے، اور یہ تحقیقات کی جائیں کہ گزشتہ تین چار مہینوں سے بچوں کو بس کی چھت پر بٹھانے کا حکم آخر کس نے دیا۔
تمام والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر خاموشی اختیار نہ کریں، اور اسکول انتظامیہ سے یہ سوال ضرور کریں کہ ہمارے بچوں کو بس کی چھت پر کیوں بٹھایا جا رہا ہے؟
ہم تانگیر کی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور بچوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
منجانب: گلی بالا یوتھ مؤمنٹ
Assistant Commissioner/ SDM Tangir Additional Deputy Commissioner Tangir
15/04/2025
کل گلی بالا یوتھ موومنٹ نے تحصیلدار کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔
اس میں سب سے اہم ایشو ناقص تعمیرات اور واٹر سپلائی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔
میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ کام سرکاری معیار کے مطابق نہیں کیا گیا، بلکہ ٹھیکیدار نے اپنی من مانی سے کام کیا۔
تحصیلدار نے یقین دہانی کرائی کہ مزید کام فی الحال روک دیا جائے گا، اور یہ بھی واضح کیا کہ سرکاری معیار کے علاوہ کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
منجانب: گلی بالا یوتھ موومنٹ
Assistant Commissioner/ SDM Tangir
19/09/2024
آ ج GBYM گلی بالا یوتھ مومنٹ کے کچھ میمبرز نے ہائی سکول گلی بالا تانگیر کا دورہِ کیا اور DDO تانگیر اور ہیڈ ماسٹر فضل خالق صاحب کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور سکول سے منسلک بنیادی اشوز پر گفت و شنید کی موصوف کو اللہ تعالیٰ نے کئی خدادا صلاحیتوں سے نوازا ہے اور خاص کر ان کی قائدانہ صلاحیتیں کسی تعارف کی محتاج نہیں اور اس کے علاؤہ استاد محترم کی سکول کے لیے لویلٹی بچوں کی فکر اور ان پر شفقت اور سٹاف کے ساتھ اچھی خاصی understanding دیکھنے کو ملی
موصوف انتھائی مخلص شفیق خوش اخلاق اور خوش باش انسان ہیں موصوف کے ساتھ کافی لمبی گفت و شنید ہوی جس میں
میٹنگ کے دوران ہیڈ ماسٹر فضل خالق صاحب نے کہا کہ ہائی اسکول گلی بالا میں کم وبیش چھ سو کے قریب طلباء زیرِ تعلیم ہیں اور سکول کے تمام اساتذہ ان طلباء کو اچھے سے اچھے ماحول مہیا کرنے کے لیے انتھک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور الحمد اللہ اساتذہ کی انتھک کوششوں اور ہیڈ ماسٹر کی قائدانہ صلاحیتوں کے باعث گزشتہ دو سالوں سے کافی اچھا رزلٹ بھی موصول ہوا ہے جب رزلٹ تک بات پہنچی تو ہیڈ ماسٹر فضل خالق صاحب نے انتھائی افسوس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے کی یہ حالت ہے کہ اس سکول میں چھ سو بچے پورا سال زیرِ تعلیم رہتے ہیں اور اس پورے سال کے دوران کسی ایک بچے کے بھی گھر سے کسی خاص قسم کی نگرانی نہیں ہوتی یعنی مجال ہے کہ اس پورے سال کے دوران کسی ایک بچے کے گھر سے اس کا کوی ولد محترم بھائی چاچا چاچا زاد ماموں یا کوئی بھی آئے اور پوچھے کہ ہاں بھائی بچے کی پراگریس رپورٹ کیا ہے کہ آ یا بچہ سکول آ رہا ہے کچھ پڑھ لکھ بھی رہا ہے یا بس صرف ٹائم ہی ضائع کر رہا ہے اسکے بعد موصوف کا مزید کہنا تھا کہ رزلٹ کے دن بھی آ کر ایک آ دھ گھنٹہ سکول میں بیٹھ کر رزلٹ سننا بھی مناسب نہیں سمجھتے کہ جو بچے پورا سال محنت کرکے کامیاب ٹہرے ہیں ان کو شاباشی دیتے اور جو ناکام ہوۓ ان کی حوصلہ افضائی کرے تاکہ وہ دل برداشتہ نہ ہوں اور جو بچے پوزیشن ہولڈرز ہیں ان کو انعامات سے نوازا جاتا تاکہ ان میں مزید محنت کرنے کا جذبہ پیدا ہو استاد محترم کا کہنا تھا کہ جب گھر سے اور والدین کی طرف سے زیرو پر سنٹ دلچسپی ہو گی تو ایسے میں ان بچوں کا مستقبل کیا ہوگا اور اکیلا سکول یا ایک استاد اس بچے کا مستقبل سنوارنے میں کیا کردار اداکریگا
اس کے علاوہ مزید بات کرتے ہوۓ ہیڈ ماسٹر فضل خالق صاحب نے کہا کہ ہمارے سکول کے ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا پرائمری سیکشن الگ نہیں ہے جسکی وجہ سے باقی ہائی اسکولوں کی نسبت اس سکول میں آ ٹھ کلاسز زیادہ ہیں جن میں دو ECD کے کلاسز کے ساتھ نرسری اول دوئم سوئم چھارم اور پنجم جس کی وجہ سے اساتذہ کی تعداد بھی مناسب نہیں ہے اسلئے بچوں کو کنٹرول کرنا خاصا مشکل ہے
ہیڈ ماسٹر فضل خالق صاحب کے ساتھ کافی اچھی گفتگو جاری رہی جس میں اس نے طلباء کے یونیفارم کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی اور جو بچے فاینینشلی کمزور ہیں اور یونیفارم افورڈ نہیں کر سکتے ان کیلئے اچھے خاصے فکر مند بھی نظر آ ۓ
اسکے علاؤہ مندرجہ ذیل بنیادی اشوز پر بات چیت ہوئی
پرایمری سیکشن کا الگ کرنا
ہائی سکول گلی بالا میں ابھی تک کوئی بھی سائنس ٹیچر نہیں ہے جسکی وجہ سے طلباء کو سائنس کے سبجیکٹس میں اچھی خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
طلباء کیلئے موزوں فرنیچر نہیں ہونے کی وجہ سے اکثر کلاسز میں چٹائی بچھائی گئی ہے جسکی وجہ سے طلباء کو کافی شکایات کا سامنا ہے
سکول کے کمپاؤنڈ اور چار دیواری کے کام کوبھی جلد از جلد مکمل کرنے کا وعدہ کیا