SyedAbad Phekar Nagar Valley

SyedAbad Phekar Nagar Valley

Share

Land of Martyrs (شہداء) and "Sadaat" Syed family, Called as SyedAbad Phekar Nagar valley..

28/01/2026

قمار بازی کے ڈیجیٹل جال اور گلگت بلتستان کا نوجوان

تحریر: انجینئر ساجد شرالیات
فری لانسنگ کا 10 سالہ تجربہ | CEO، Technity Solutions

آج کے ڈیجیٹل دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ نے جہاں بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں کچھ خطرناک رجحانات بھی خاموشی سے ہماری نوجوان نسل کو اپنی گرفت میں لے رہے ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک اور تباہ کن رجحان آن لائن جوا (Gambling Games) ہے، جو گیمز کے نام پر پیش کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی لت ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

گلگت بلتستان کے لوگ سادہ دل، محنتی اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والے ہیں۔ یہی سادگی آج فراڈی عناصر اور جوا کھیلنے والی ایپس بنانے والوں کے لیے آسان ہدف بن چکی ہے۔ “آسان کمائی”، “روزانہ ہزاروں روپے” اور “چند منٹ میں پیسہ” جیسے جھوٹے دعووں کے ذریعے نوجوانوں کو آہستہ آہستہ اس دلدل میں اتارا جاتا ہے۔ ابتدا میں تھوڑی بہت رقم جیت کر اعتماد قائم کیا جاتا ہے، پھر یہی کھیل زندگی بھر کی کمائی کو نگل جاتا ہے۔

میں یہاں ایک حقیقی واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ایک دن میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا، جو ایک سرکاری اسکول میں استاد ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کی بیوی شدید بیمار ہے اور فوری آپریشن کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ باتوں میں ایسی بے بسی تھی کہ عام آدمی فوراً مدد کے لیے تیار ہو جاتا۔ مگر مجھے اس کی باتوں میں کچھ تضاد محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ شام تک دوبارہ آئیں، میں پیسوں کا بندوبست کر لیتا ہوں۔

جب وہ دفتر سے نکلا تو میں نے احتیاطاً اس کے چند دوستوں کو فون کر کے حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ جو حقیقت سامنے آئی وہ انتہائی افسوسناک تھی۔ نہ تو اس کی بیوی بیمار تھی اور نہ ہی کوئی آپریشن ہونا تھا۔ دراصل وہ خود آن لائن جوا اور گیمنگ ایپس کی شدید لت میں مبتلا تھا۔ اپنی اس لت کو پورا کرنے کے لیے وہ بیوی کی بیماری کا بہانہ بنا کر مختلف لوگوں سے لاکھوں روپے پہلے ہی لے چکا تھا۔

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب جوا انسان پر غالب آ جاتا ہے تو وہ سچ، جھوٹ، حلال اور حرام میں فرق کھو بیٹھتا ہے۔ ایک استاد، جو معاشرے کا معمار سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اس لت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دھوکہ دہی پر اتر آیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صرف فرد نہیں بلکہ پورا معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان میں ہم نے حالیہ برسوں میں ذہنی دباؤ، خاندانی بربادی اور خودکشی جیسے واقعات بھی دیکھے ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ یہی آن لائن جوا اور مالی تباہی ہے۔

والدین کے لیے یہ ایک سنجیدہ لمحۂ فکر ہے۔ اگر آپ کا بچہ موبائل یا لیپ ٹاپ پر گھنٹوں مصروف رہتا ہے تو یہ جانچنا بے حد ضروری ہے کہ وہ حقیقی فری لانسنگ سکلز سیکھ رہا ہے یا کسی جوے کی ایپ کا عادی بنتا جا رہا ہے۔ بچوں کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی مناسب نگرانی، اور ان سے مسلسل بات چیت اب ایک مجبوری بن چکی ہے۔

اسی طرح ائمہ جمعہ اور خطباء کرام پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات میں جوے کی حرمت، اس کے معاشرتی نقصانات اور اس کے انجام پر واضح گفتگو کریں تاکہ لوگ اس فتنۂ دوراں سے محفوظ رہ سکیں۔

آخر میں، میں نوجوانوں سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ عزت، سکون اور کامیابی کا راستہ کبھی بھی شارٹ کٹ سے نہیں گزرتا۔ حلال کمائی صرف علم، ہنر اور مستقل محنت سے حاصل ہوتی ہے۔ آن لائن جوا وقتی لالچ تو دے سکتا ہے، مگر انجام ہمیشہ تباہی ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، باوقار اور روشن مستقبل کی طرف لے جائیں۔

09/12/2025

ڈپٹی کمشنر نگر کا قابلِ تحسین اقدام — تمباکو ایکٹ کے تحت سیدآباد پھکر نگر میں سگریٹ کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور سزاؤں کا انتباہ بھی جاری کر دیا گیا۔
Deputy Commissioner, Nagar
SyedAbad Phekar Nagar Valley
Ihtabassum Nagari
Daily Rehbar
پھکر یوتھ آرگنائزیشن
نگر یوتھ آرگنائزیشن

Photos from SyedAbad Phekar Nagar Valley's post 27/09/2025

Walnut season 🌳🍂
SyedAbad Phekar Nagar Valley Daltas Nagar.

15/09/2025

یہ ایک ہزار گرام لوہے کا ایک بسکٹ ہے اس کی خام قیمت تقریباً 65 روپے ہے۔ اگر آپ اس سے گھوڑے کے نعل بنائیں گے تو یہ بڑھ کر تقریباً پانچ سو کا ہو جائے گا ۔ اگر آپ اس سے سلائی کی سوئیاں بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس ہزار روپے ہو جائے گی ۔ اگر آپ اس سے گھڑی کے سپرنگ اور گیئر بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس لاکھ روپے تک ہو جائے گی اور اگر آپ اس سے لتھوگرافی میں استعمال ہونے والے پریسیژن لیزر پارٹس بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ تک جا پہنچے گی ۔
آپ کی اصل ویلیو وہ نہیں جو آپ کو وراثت میں ملی ہے بلکہ وہ ہے جو آپ خود کو بہترین انداز میں ڈھال کر بناتے ہیں۔
شویتا مہیشوری

26/07/2025

اعلان
پھکر نگر کے تمام تنظیمات پھکر مرکزی تنظیم سید آباد سہارا ویلفیئر آرگنائزیشن، سید آباد ، پھکر یوتھ، آئی ایس او پھکر اور آئی او پھکر — نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ سید آباد پھکر نگر میں سگریٹ نوشی، مضر صحت ڈرنکس اور پاپٹ کی ترسیل، خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔
اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

21/04/2025

سید آباد پھکر نگر سے تعلق رکھنے والے پہلوان رستم گلگت کے نام ❤️
گلگت این ایل آئی چھاؤنی 1979 (موجودہ این ایل آئی مارکیٹ) میں پہلوانوں کا ایک مقابلہ ٹورنامنٹ رکھا گیا تھا جس میں پورے گلگت بلتستان لیول پر معروف پہلوان " مہربان شروٹ" اور رستم گلگت نے حصہ لے رکھا تھا غالباً ان کے سوا یہاں علاقے میں تیسرا کوئی پہلوان موجود نہیں تھا اس مقابلے میں ملک کے دیگر حصوں سے بھی معروف پہلوانوں نے شرکت کی تھی مقابلہ کے دوران رستم گلگت اور پہلوان مہربان شروٹ والے نے تمام پہلوؤں کو شکست دے کر ٹورنامنٹ اپنے نام کیا تھا آگے بڑھنے کے لئے رستم گلگت کو سرکاری سطح تعاون نہ ہونے پر مجبوراً اپنی صحت و فن کو برقرار رکھنے کے لئے طاقتور خوراک کی خاطر روزگار کے معاملے 1984 میں وہ کراچی گئے اور انھوں نے اپنے فن کو جاری رکھنے اور دیگر شاگردوں کو پیدا کرنے کے لئے "رستم گلگت جیم" کے نام سے کراچی لیاری کے مقام پر ایک تربیت گاہ کا قیام عمل میں لایا جہاں سے سینکڑوں پہلوان ان کی شاگردی میں پیدا ہوئے بعد ازاں 1990 میں کراچی کے اندر پہلوانوں کے مقابلے میں سندھ سطح ٹورنامنٹ دوران تمام پہلوانوں کو شکست دینے کا اعزاز حاصل کیا تو انھیں فلم انڈسٹری کی طرف سے آفر کی گئی جسے قبول کرتے ہوئے رستم گلگت نے 1991 میں مشہور سندھی فلم " پھل ماچھی" میں نمایاں کردار ادا کیا اور فلم اتنی مشہور ہوئی تھی کہ سینما گھروں میں تین تین ماہ تک مسلسل دیکھنے والوں کا رش جاری رہتا تھا 1994 کو انھیں انگریزی فلم میں کام کرنے بیرونِ ملک سے ڈیمانڈ کیا لیکن انھوں نے اپنے ملک کے سوا کہیں کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ آفر مسترد کر دی رستم گلگت کے اس وقت 28 شاگرد پہلوان جن کا تعلق بلوچ و مکرانی طبقہ سے ہے جن کو نامور پہلوانوں کے طور نیشنل و انٹرنیشنل سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے کا اعزاز حاصل ہے لیکن رستم گلگت جسے اس خطے کا ایک عظیم پہلوان کے طور پر مانے جاتے تھے افسوس اس بات کی ہے کہ یہاں حکومتی سطح پر مالی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے وہ صوبہ سندھ کو پیارے ہو گئے اور ساری زندگی انھوں نے وہاں گزاری تاہم وہ جہاں بھی گئے رستم گلگت کے نام سے خطے کو ہی عزت دی اللہ پاک ان کے درجات میں بلندی عطا فرمائے آمین
(جہانگیر ناجی)

20/09/2024
18/09/2024

ہواؤں میں جتنا مرضی اڑ لیں آخر آپ نے آنا زمین پر ہی ہے اور وہ بھی کسی کے سہاروں پر...

12/08/2024

اپنے ہی پیسوں کا انٹرنیٹ پیکج لگوا کر جو قوم اپنی مرضی سے اسے استعمال نہیں کرسکتی وہ قوم 14 اگست کو جشنِ آزادی کس منہ سے منائے گی۔۔ 🙏

23/07/2024

A man working late, to earn a honest living for his family. ♥️🥺

Want your business to be the top-listed Government Service in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Nagar
Gilgit
15001