01/06/2026
’’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ زندگی میں کرنا کیا ہے؟‘
آج کے بہت سے نوجوانوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ ان کے پاس مواقع کم ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ وہ الجھن کا شکار ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر روز کوئی نہ کوئی مشورہ دیتا ہے کہ فری لانسر بن جاؤ، کاروبار شروع کرو، مصنوعی ذہانت سیکھو، کانٹینٹ کریئیٹر بنو، سرکاری ملازمت حاصل کرو، ملک چھوڑ دو یا اپنا اسٹارٹ اپ شروع کر دو۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے، مگر قدم نہیں اٹھا پاتا۔
لیکن اگر ہم نبویؐ زاویۂ نظر سے دیکھیں تو رسول اللہ ﷺ نے نوجوانی کو سب سے پہلے مقصد عطا کیا، پیشہ نہیں۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے:
’’قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی زندگی، اس کی جوانی، اس کے مال اور اس کے علم کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ یہ نہیں پوچھے گا کہ تم سافٹ ویئر انجینئر تھے یا گرافک ڈیزائنر۔
اللہ تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ تم نے اپنی جوانی کن کاموں میں صرف کی؟
یہیں سے سوچ کا رخ بدل جاتا ہے۔
نبویؐ طرزِ فکر یہ نہیں تھا کہ ’’مجھے زندگی میں کیا بننا ہے؟‘‘
بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ ’’مجھے اللہ کی مخلوق کے لیے کتنا فائدہ مند بننا ہے؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔‘‘
اسی لیے پہلا سوال کیریئر کا نہیں ہونا چاہیے۔
پہلا سوال یہ ہونا چاہیے:
’’میں کس مسئلے کا حل پیش کر سکتا ہوں؟‘‘
’’میں کس طرح اللہ کی مخلوق کے کام آ سکتا ہوں؟‘‘
آج کا نوجوان اکثر اپنے مستقبل کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنی ذمہ داری کو دریافت کرتے تھے۔
دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔
اگر آپ اٹھارہ، بیس، پچیس یا تیس سال کے ہیں اور الجھن محسوس کر رہے ہیں تو نبویؐ طریقۂ کار یہ ہے:
اپنی نماز اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کریں۔
اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔
کسی حلال اور فائدہ مند کام میں مشغول ہو جائیں۔
لوگوں کے مسائل حل کرنا شروع کریں۔
راستہ چلتے چلتے خود بخود واضح ہوتا جائے گا۔
بہت کم لوگوں کو ابتدا ہی میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی آخری منزل کیا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی آغاز میں پوری منزل کا علم نہیں دیا گیا تھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی بچپن میں مکمل نقشۂ راہ نہیں بتایا گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ اکثر پورا نقشہ نہیں دکھاتا۔
اللہ تعالیٰ صرف اگلا قدم دکھاتا ہے۔
آج کے نوجوانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ بیس سال آگے کا منصوبہ ایک ہی وقت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ صرف اگلا قدم اٹھانے کا حکم دیتا ہے۔
اس لیے اگر آپ الجھن کا شکار ہیں تو شاید آپ کو اپنی پوری زندگی کا جواب جاننے کی ضرورت نہیں۔
شاید آپ کو صرف یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے:
’’میرا اگلا درست قدم کیا ہے؟‘‘
اور جب انسان اخلاص کے ساتھ وہ درست قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اگلا دروازہ کھول دیتا ہے۔
مقصد یہ نہیں کہ آپ فوراً جان لیں کہ آپ کو زندگی میں کیا کرنا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف چلنا شروع کر دیں۔
راستے اکثر چلنے والوں پر کھلتے ہیں، صرف سوچتے رہنے والوں پر نہیں۔
آپ کی کیا رائے ہے۔ کمنٹس میں ضرور بتائیں ۔۔۔

25/05/2026
25/05/2026