LRMIS BOR Gujranwala Centre

LRMIS BOR Gujranwala Centre

Share

Land Records Management & Information System Board of Revenue Punjab Pakistan

12/07/2020
24/12/2019

Happy Birthday Father of the Nation, Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah. Can’t thank you enough for having got us Pakistan. Those who opposed then are realising now. For them it’s beginning afresh now.
Beginning of the ...

16/06/2018

Eid Mubarak with best wishes 💐💐🌹🌹🇵🇰🇵🇰👍

30/05/2018

Last date 14 June 2018

29/04/2018

: حکومت پنجاب نے ورلڈ بنک کے اشتراک سے ایک منصوبہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن شروع کیا۔ جس کے لے پورے پنجاب میں اراضی ریکارڈ سنٹر کھولے گئے۔ اور صدیوں پرانے نظام کو تبدیل کر دیا گیا۔ مگر جناب نظام تو تبدیل ہو گیا۔ لیکن کچھ نااہل لوگوں کی وجہ سے یہ نظام تبدیل ہوتا دکھائی نہ دے رہا ہے۔ ورلڈ بنک سے پیسہ لے کر اس کی اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کے سب اچھا ہے کی رپورٹ دی جاتی رہی۔
سب سے پہلے پٹوار نظام کو سکین کرنے اور ایک خاص قسم کے سافٹ وئیر میں بذریہ ڈیٹا انٹری کے لیے مختلف قسم کی کمپنیوں کو ٹھیکہ جات دیئے گئے۔ان کمپنیوں نے مڈل پاس اور میٹرک پاس نوجوانوں کو بھرتی کر کے ڈیٹا انٹری شروع کر دی۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ کم پڑھے لکھے نوجوان ہونے کی وجہ سے جو لفظ انہیں سمجھ آیا وہی فیڈ کر دیا گیا اس سے ڈیٹا انٹری کی اغلاط میں اضافہ ہو گیا۔
پہلے مرحلہ میں چار سالہ جمعبندی کو سکین کر کے اس کی انٹری کی گئی۔ دوسرے مرحلہ میں چار سالہ جمعبندی کے بعد ہونے والے انتقالات کو سافٹ وئیر میں عملدرامد کرنا تھا۔ کہ کام بھی اسی کمپنی کی ذمہ داری تھی جن کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔
اسی دوران لینڈ ریکارڈ منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم نے اس ادارہ کے لیے سروس سنٹر آفیشلز کو بھرتی کیا۔ جن کا کام بنائے گئے اراضی ریکارڈ سنٹرز پر جا کر فردات اور انتقالات کی فراہمی تھی، جو کہ صرف اور صرف سروس ڈیلوری(فردات انتقالات) کے لیئے مختص کیئے گئے تھے۔ مگر کمشن کے چکر اور نااہل لوگوں کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ سروس سنٹر آفیشلز سروس ڈیلیوری کے ساتھ ساتھ ان انتقالات کا سافٹ ویئر میں عملدرامد بھی یقینی بنائیں گے۔ جب یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تو پرائیویٹ کمپنیاں جو کہ ان انتقالات کو عملدرامد کر رہی تھیں جن کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں تھی کو ادھورا چھوڑ کر اپنا کمشن وصول کرتے ہوئے چلتے بنیں۔جس کا نقصان یہ ہوا کہ ان کا کام بھی سروس سنٹر آفیشلز کو کرنا پڑ گیا۔ جس کے لیے ادارہ ہذا کی طرف سے احکامات جاری ہو گئے کہ دفتر ٹاٹم ختم ہونے کے بعد سروس سنٹر آفیشلز ان انتقالات کو عملدرامد کریں گے۔ جس کے لیے الگ سے کوئی معاوضہ نہ دیا جائے گا۔
ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ حکومت پنجاب کی طرف سے زرعی قرضہ سکیم کا اعلان کر دیا گیا۔ اور دفتری اوقات کار صبح8 سے رات 8 بجے تک کر دیئے گئے۔ اور بذریہ نوٹیفکیشن وعدہ کیا گیا کہ اس کا الگ سے معاوضہ دیا جائے گا۔ پورے ایک سال تک صبح8 سے رات 8 بجے تک کی شفٹ کا م کرتی رہی، مگر جناب ظلم کی انتہا دیکھیے کہ ایک سال کے بعد اس سارے کام کا معاوضہ صرف اور صرف 7 ہزار روپے دیا گیا۔
جب ان سارے ظلم کرنے کے باوجود دیکھا گیا کہ بے روز گار نوجوان روز گار لگا ہونے کی وجہ سے یہ سب کام کرنے پر مجبور ہیں اور خاموش ہیں تو دفتر ٹائم صبح 8بجے کی بجائے 7بج کر 45 منٹ کر دیا گیا۔ جو کہ کسی بھی گورنمنٹ ادارے کا ٹائم نہیں تھا۔
صرف یہی نہیں اس پر بھی خاموشی کے بعد ایک اور فرمان جاری کر دیا گیا کر دفتری اوقات میں موبائل فون جمع کر لیے گئے۔
جو کہ سرا سر انسانی حقوق کی خلاف ورذی کے ذمرہ میں آتا ہے۔ کہ آپ کسی بھی شخص کو ڈرا دھمکا کر زبردستی کام کروائیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیں۔
جو کام کمپنیوں کی ڈیٹا انٹری کی اغلاط کی وجہ سے غلط ہوا جسے وہ ادھورا چھوڑ کے بھاک گئیں ان کی کی گئی کسی غلطی کی وجہ سے اگر کسی اہکار سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو اسے فوراً معطل کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ایک سال تک انکوائری کے نام پر ہیڈ آفس میں ذلیل کیا جاتا ہے۔ 6, 6 ماہ تک صرف حاضری لگوائی جاتی ہے، انکوائری سنی ہی نہیں جاتی۔ جناب والا ستم ظریفی تو دیکھیئے اگر کو ئی اہلکار اس انکوائری میں بے گناہ پایا جاتا ہے تو اسے اس کے گھر سے دور دراز ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف بے گناہ ہونے کی سزا ہے۔
اگر کوئی اہلکار اپنے جائز حق کے لیے بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر یونین کے لیڈر ہونے کا الزام لگا کر محکمے سے نکال دیا جاتا ہے۔
ظلم کی انتہا دیکھیں کہ سروس سنٹر آفیشلز پچھلے ایک سال سے بغیر کسی کنٹریکٹ کے کام کر رہے ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کی کسی سرکاری دفتر میں ایک شخص ایک ذمہ دار عہدہ پر بیٹھا ہو اور اس کے پاس کوئی قانونی جواز نہ ہو کام کرنے کا۔ جب اس کے پاس کنٹریکٹ ہی نہ ہو گا تو کیا وہ اس سرکاری ملازم ہو گا یا ایک عام آدمی۔؟؟؟؟
ورلڈ بنک سے بے تحاشہ پیسہ لے کے کھایا گیا مگر ابھی تک اس محمکے کا سروس سٹریکچر واضع نہ کیا گیا ہے،
اتنے ذمہ دار محمکے میں دیھاڑی پر لوگ بٹھائے گئے ہیں۔
اس جدید نظام کو برباد ہونے سے بچانے میں ہمارا ساتھ دیں ، ہماری آواز بنیں۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

Photos from LRMIS BOR Gujranwala Centre's post 26/04/2018
14/03/2018

Fake Notification - Attention Gujranwala
We strongly reject the notification pasted in areas of Gujranwala regarding acquisition of section of land from commercial plots between Gondelawala Phatak to Munir Chowk for construction of an underpass. This is a FAKE notification. Punjab Land Records Authority (PLRA) is not the competent authority for issuing such a notification.
This fake notice was a blatant attempt to harass the owners of the said plots and to swindle them of their earnings.
PLRA has launched an inquiry into the matter. The responsible would be fixed.
Please report any such harassment, in this regard, to ARC at Gujranwala City or you can also inbox us on FB.

Want your business to be the top-listed Government Service in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Tehsil Office Sialkot Road
Gujranwala
52250