YaadeiNیادیں

YaadeiNیادیں

Share

تیرے عشق نے سیکھایا تجھے محسوس کرنے کا سلیقہ

04/01/2026

اُن کے اندازِ کرم ، اُن پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت،وہ باتیں،وہ زمانہ دل کا

نہ سُنا اُس نے توجہ سے فسانہ دل کا
زِندگی گُزری ، مگر درد نہ جانا دل کا

کُچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پُرانا دل کا

وہ مُحبت کی شروعات ، وہ بے تھاہ خوشی
دیکھ کر اُن کو وہ پُھولے نہ سمانا دل کا

دل لگی، دل کی لگی بن کے مِٹا دیتی ہے
روگ دُشمن کو بھی یارب! نہ لگانا دل کا

ایک تو میرے مُقدر کو بِگاڑا اُس نے
اور پِھر اُس پہ غضب ہنس کے بنانا دل کا

مرے پہلو میں نہیں،آپ کی مُٹھی میں نہیں
بے ٹِھکانے ہے بہت دن سے ، ٹِھکانا دل کا

وہ بھی اپنے نہ ہوئے،دل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا ، نہ آنا دل کا

خوب ہیں آپ بہت خوب ، مگر یاد رہے
زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا

بے جِھجک آ کے مِلو، ہنس کے مِلاؤ آنکھیں
آؤ ہم تُم کو سِکھاتے ہیں مِلانا دل کا

نقش بر آب نہیں ، وہم نہیں ، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مِٹانا دل کا

حسرتیں خاک ہوئیں، مِٹ گئے ارماں سارے
لُٹ گیا کُوچہِ جاناں میں خزانہ دل کا

لے چلا ہے مرے پہلو سے بصِد شوق کوئی
اب تو مُمکِن ہی نہیں لوٹ کے آنا دل کا

اُن کی محفِل میں نصیرؔ اُن کے تبسُم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا...!

✍️...نصیرُالدین نصیرؔ (پیمانِ شب📚)

01/01/2026

جِس کو اکثر سوچا تھا تنہائی میں
شامِل ہے وہ شخص مری رُسوائی میں

مُجھ سے مت پُوچھو وہ چہرہ کیسا تھا
ڈُوب گیا میں ، آنکھوں کی گہرائی میں

جاگتے رہنے کی کتنی ترغیبیں تھیں
اُس کی بوجھل تھکی ہوئی انگڑائی میں

تُجھ سے آنکھ مِلانا کِتنا مشکل ہے
ورنہ سورج گھل جائیں بینائی میں

پیار بھی کرتا ہے وہ بے پروائی سے
نادانی کا رنگ بھی ہے دانائی میں

کاش کوئی مہمل کے اندر سُن سکتا
میری چیخ بھی شامل تھی شہنائی میں

وہ ایک پل کو رُوٹھا تو محسوس ہوا
جیسے بیت گیا ایک سال جُدائی میں

جاؤ اپنے جیسے لوگ تلاش کرو
کیا پاؤ گے محسن سے ہر جائی میں...!

✍️...محسنؔ نقوی ( عذابِ دید📚 )

31/12/2025

تُمہارا ہِجر،وابستگی قُربت کے لمحے اور دسمبر
تُمہارا لمس،وابستگی دل و جان کے لمحےاور دسمبر

تُمہاری دُوری ہِجر کے ماروں کے لیے وحشت
تُمہاری یاد وابستگی رونقِ محفِل کے لمحے اور دسمبر

تُمہارا اِنتظار باقی رھے گا تا دمِ مرگ!!
تُمہارے لوٹ آنے کی جُستجُو کے لمحے اور دسمبر

اِک اور برس تیرے نام رھا شب و روزِ زِندگانی کا
جابجا مرے لفظوں میں تری یاد کے لمحے اور دسمبر

سرد موسم کی سرد شامیں اور دشتِ تنہائی کا سفر
ہر موڑ پہ ترے ساتھ گُزری باتوں کے لمحے اور دسمبر

دورِ حیات، اور تیرا ذِکر ، یاد رھے گا ساتھ رھے گا
جب تلک ھیں وقاصؔ،سانسوں کی آھٹ کے لمحے اور دسمبر...!

✍️...ایم وقاصؔ ( میں تنہا تھا📚 )

30/12/2025

ہم اپنی طرف اُن کی نظر دیکھ رہے ہیں
حیرت ہے کہ وہ آج اِدھر دیکھ رہے ہیں

محفِل میں نہیں اور کوئی شُغل ہمارا
ہم آپ کے اندازِ نظر دیکھ رہے ہیں

نیرنگیِ عالم کا یہ عالم ، ارے توبہ
کیا کہیے،جو ہم شام و سحر دیکھ رہے ہیں

ہم کو نظر آتا نہیں کُچھ اور کہیں بھی
جلوے تیرے تاحدِ نظر دیکھ رہے ہیں

بیٹھا ہُوا چُپ چاپ یہ میں دیکھ رہا ہُوں
دزدیدہ نظر سے وہ اِدھر دیکھ رہے ہیں

وہ لوگ نصیرؔ! اپنے گریباں میں بھی جھانکیں
جو لوگ میرے عیب و ہُنر دیکھ رہے ہیں...!

✍️...نصیرُالدین نصیرؔ (دستِ نظر📚)

29/12/2025

دریچے سے دیا جا کر ہٹا دو
مت اپنے ساتھ اس کو بھی سزا دو

وہ لوٹ آئے اگر تو چونک اُٹھے
نشاں تک گھر کا اس جا سے مٹا دو

بہت یکسانیت لگتی ہے اس میں
کہانی میں نیا اب موڑ لا دو

بظاہر درمیاں کُچھ بھی نہیں تھا
مُقدر ہو گیا حائل بتا دو

چُھپا کر اب اُنہیں رکھنے سے حاصل
سب اس کے خط وہ تصویریں جلا دو

مُحبت اِبتدا سے امتحاں لے
تُم اب اس امتحاں کو انتہا دو

کوئی موہوم سے امید لے کر
ذرا منزل کو رستے سے ملا دو

چمن کی زِندگی اب ہے اسی میں
گُلابوں کی جگہ پتھر اُگا دو

مُحبت کو تجارت نام دے کر
خُدا کے قہر کو تو مت صدا دو

اذیت دل کو دیتا ہے مسلسل
میری آنکھوں سے وہ چہرہ ہٹا دو...!

✍️...فاخرہ بتولؔ ( بُھلا دیا نا📚؟ )

28/12/2025

تیرا خیال رہے ، تیری آرزو بھی رہے
یہ دل ترا ہے کبھی اس میں آ کے تُو بھی رہے

وُفورِ شوق میں چاہت کی آبرو بھی رہے
تلاشِ یار بھی ہو،اپنی جستجو بھی رہے

یہ دو گھڑی کی رفاقت نہیں ، مُحبت ہے
حیا تو حُسن کا زیور ہے،گفتگو بھی رہے

جمالِ حق مری آنکھوں کا نور بن کے رہا
اگرچہ مری آنکھوں میں خوبرو بھی رہے

ترے بغیر کبھی مَے کا نام تک نہ لیا
ہزار جام چلے،سامنے سبُو بھی رہے

خُدا کرے کہ تُجھے بھی غم محبت ہو
تمام عُمر گِرفتارِ عِشق ، تُو بھی رہے

مُجھے یہ دُھن ہے کہ محفل میں کوئی غیر نہ ہو
اُسے یہ ضِد ہے کہ میں بھی رہوں،عدو بھی رہے

سُنا ہے اُن کی مُلاقات کو گئے تھے نصیرؔ
ملے وہ آپ سے،آپ ان کے روبرو بھی رہے...!

✍️...نصیرُالدین نصیرؔ (پیمانِ شب📚)

27/12/2025

تُو نہیں تیرا استعارا ، نہیں
آسماں پر کوئی ستارا نہیں

وہ میرے سامنے سے گُزرا تھا
پِھر بھی میں چُپ رہا پُکارا نہیں

وہ نہیں مِلتا ایک بار ہمیں
اور یہ زِندگی دوبارا نہیں

ہر سمندر کا ایک ساحل ہے
ہِجر کی رات کا کِنارا نہیں

ہو سکے تو نِگاہ کر لینا
تُم پہ کُچھ زور تو ہمارا نہیں

ناو اُلٹی تو یہ ہوا معلوم
زِندگی موج ہے کنارا نہیں...!

✍️...امجد اِسلام امجدؔ (ذرا پِھر سے کہنا📚)

25/12/2025

یُوں وہ محفِل میں بصِد شان بنے بیٹھے ہیں
میرا دل ، اور میری جان بنے بیٹھے ہیں

اُن کی صُورت نِکھر آئی پسِ زینت کیا کیا
دیدۂِ خلق کا ارمان بنے بیٹھے ہیں

جن کو آداب تک آتے نہیں دربانی کے
آج اُس در پہ وہ دربان بنے بیٹھے ہیں

مُجھ کو دیکھا تو غضب ناک ہوئے، ٹوٹ پڑے
کیا خبر تھی کہ وہ طوفان بنے بیٹھے ہیں

جو ہیں سُلطان، وہ پھرتے ہیں گداؤں کی طرح
جو گدا گر ہیں، وہ سُلطان بنے بیٹھے ہیں

محفلِ ناز میں بُلوا بھی لیا ہے مُجھ کو
اور پِھر مُجھ سے وہ انجان بنے بیٹھے ہیں

اہلِ دل پر نہ وہ غصہ ہے، نہ وہ قہر و ستم
خیر سے آج وہ انسان بنے بیٹھے ہیں

دیکھتے ہی نہیں قصدًا وہ ہماری جانب
جان کر ہم سے وہ انجان بنے بیٹھے ہیں

اے نصیرؔ اُن کی اداؤں کے کرشمے دیکھو
ہر تماشے کا وہ عنوان بنے بیٹھے ہیں...!

✍️...نصیرُالدّین نصیرؔ (دستِ نظر📚)

24/12/2025

‏اپنوں کے سِتم، اُن کی جفا یاد کریں گے
ہم جُرمِ مُحبت کی سزا یاد کریں گے

تُو آگئی، آنا تھا جنہیں وہ نہیں آئے
ہم بھی تُجھے کیا کیا نہ صبا یاد کریں گے

میں نے دمِ رُخصت جو کہا بُھول نہ جانا
یہ سُن کے رُکے، اور کہا یاد کریں گے

اب حرفِ تسلی کا تکلف نہ کریں وہ
جو دل سے بُھلا بیٹھے، وہ کیا یاد کریں گے

ہم بُھول کے اب نام بھی لیں گے نہ وفا کا
وہ چوٹ لگی ہـے کہ سدا یاد کریں گے

ہم چشمِ تصور میں سجا لیں گے وہ آنکھیں
یُوں پینے پِلانے کا مزا یاد کریں گے

یاروں پہ نصیرؔ آپ دل و جاں سے فِدا تھے
وہ پِھر گئے سب، آپ بھی کیا یاد کریں گے...!

✍️...نصیرالدین نصیرؔ (پیمانِ شب📚)

23/12/2025

مہرباں تھا جو روز و شب ، کوئی
اُس کو لے آئے کاش ! اب کوئی

چشمِ ساقی میں اِلتفات نہیں
اب کہاں جائے تِشنہ لب کوئی

ہوتی آئی ہے یہ زمانے میں
کام آیا کسی کے کب کوئی

تذکرہ اہلِ دل کا چل نِکلا
چھیڑتا مری بات اب کوئی

یوں ہیں خاموش عرضِ حال پہ وہ
سی کے بیٹھا ہو جیسے لب کوئی

اُن سے مِل! بات کر! نِگاہ مِلا
دل لُٹانے کا ہو سبب ، کوئی

ہم سے وہ چل چُکے بہت چالیں
چال ہم بھی چلیں گے اب کوئی

آپ کو جب کسی کی چاہ نہیں
کیوں کرے آپ کی طلب کوئی

میکدہ ہے ، شراب پی ، زاہد
سیکھ لے زندگی کا ڈھب کوئی

ان پہ کہنے کو لوگ مرتے ہیں
جان دیتا ہے اپنی کب کوئی

بے وفا بھی رہے ، خفا بھی رہے
آپ بھی ہیں بڑے عجب کوئی

آپ آتے ، کوئی پیام آتا
یوں بسر ہوتی اپنی شب کوئی

جاں بلب ہے نصیرؔ سوختہ جاں
کاش لے آئے ان کو اب کوئی...!

✍️...نصیرُالدین نصیرؔ (دستِ نظر📚)

19/12/2025

عِشق نے جکڑا ہے مُجھ کو اُس کڑی زنجیر سے
جس کے حلقے کُھل نہیں سکتے کِسی تدبیر سے

اور ہی کُچھ ہو شبِ فُرقت کے کٹنے کی سبیل
دِل تصور سے بہلتا ہے ، نہ اب تصویر سے

خط اِسے مت کہہ، یہ لِکھا ہے مِری تقدیر کا
دِل کو ہے اِک ربط تِری شوخیِ تحریر سے

زِندگی بھر اِک سُہانہ خواب ہم دیکھا کیے
تیری صُورت مِل گئی اُس خواب کی تعبیر سے

اُس نِگاہِ ناز پر صدقے دِل و جاں ہو گئے
آپ نے دیکھا؟ نشانے دو اُڑے، اِک تیر سے

اب تو بس دو ہِچکیوں کی بات باقی رہ گئی
آپ نے پوچھا مُجھے، لیکن بڑی تاخیر سے

غم کی تنہائی کے سناٹے میں تنہا تھا نصیرؔ
وہ تو کھو جاتا، مگر تُم مِل گئے تقدیر سے...!

✍️...نصیرُالدین نصیرؔ (پیمانِ شب📚)

18/12/2025

بہ صد خُلوص، بہ صد اِفتخار گُزری ہے
وہ زِندگی ، جو سرِ کُوئے یار گُزری ہے

گُلوں کا رنگ لیے شکلِ یار گُزری ہے
مِری نظر سے مکمل بہار ، گُزری ہے

غم و الَم کے، اذیت کے، کُرب زاروں میں
تڑپ تڑپ کے شبِ اِنتظار گُزری ہے

نَفَس نَفَس میں چُبھن تھی، قدم قدم پہ خلِش
تمام عُمر سرِ نوکِ خار گُزری ہے

قفس میں حال نہ پوچھا صبا نے آ کے کبھی
مِرے قریب سے بیگانہ وار گُزری ہے

سُکونِ دل نہ میسر ہُوا زمانے میں
ہماری زیست بڑی بے قرار گُزری ہے

وہ ایک بار جِدھر سے گُزر گئے ہیں نصیرؔ
ہزار بار اُدھر سے بہار گُزری ہے...!

✍️...نصیرُالدین نصیرؔ (دستِ نظر📚)

Want your business to be the top-listed Government Service in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Gujranwala