اس دھرتی پر تمہاری واحد محبوبہ تمہاری ماں ہے، اگر وہ مر جائے تو تمہاری محبت کی کہانی ختم ہو جاتی ہے...!!!
Izhaar - اظہار
ہم کو مالی کی مشقت کا بھرم رکھنا تھا
سو جہاں کوئی بھی نہ مہکا ، وہاں ہم مہکے Alhamdulillah Muslim. Alhamdulillah I am the ummah of Prophet Muhammad ﷺ.
کیسی آہ و بکا مچی ہے، کتنا تکلیف دہ منظر ہے، کیسے تڑپ کر سب والدین سکول کو بھاگے ہوں گے ۔۔۔۔ جن کے ننھے منے جگر گوشے اور جن کے گھروں کی معصوم کلیاں اس سکول میں پڑھنے کو گئی ہوں گی۔۔۔ کہیں ماؤں نے ٹھنڈے پانی کی بوتل بھر کر دی ہو گی، کہیں ٹفن کا ڈبہ کہ آدھی چھٹی کے وقت ان کے جگر گوشے کھانا کھا سکیں، اور کتنے ہی صبح کو ہاتھ پکڑ کر کھیلتے کودتے انہیں سکول کے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آئے ہوں گے، اور پھر اچانک سے خبر پہنچی ہو گی کہ ان کے جگر گوشوں پر سکول کی چھت گر پڑی اور ملبے تلے آ کر چار بچے شہید ہو گئے اور بیس کے قریب زخمی!
آخر کون سے لوگ ہوتے ہیں جو ایسے اداروں کو بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ مہیا کرتے ہیں؟ کیسے یہ ادارے بنا سرٹیفکیٹ کے بلڈنگ کو مزید تعمیر کر رہے تھے اور اگر تعمیر کر ہی رہے تھے تو گرمیوں کی چھٹیاں آنے والی تھیں تب کر لیتے، کیوں ایسی احتیاطی تدابیر نہیں اپنائی گئیں کہ بچوں کو دورانِ تعمیر کسی دوسری عمارت میں پڑھانے کی غرض سے شفٹ کر دیتے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ پرائیویٹ ادارہ ہے تو جیسے چاہیں گے دے دلا کر فٹنس سرٹیفکیٹ لے لیں گے؟ کون ہیں وہ لوگ جو چند پیسوں کی لالچ میں یا سفارش میں دب کر اس پرائیویٹ مافیا کو بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ کس کی شہہ پر ہوتا ہے یہ سب۔۔۔اور اگر کسی نے نہیں دیا تو کس طرح اور کیوں یہ ادارہ "دی لٹل اسکالرز سکول" چلتا رہا، اب کس کے ہاتھوں پر والدین اپنے معصوم بچوں کا لہو تلاش کریں؟
سرکاری سکول میں تعمیر چل رہی ہو تو دس طرح کی ٹیمیں انسپکشن کے لیے پہنچی ہوتی ہیں، سکول کونسل کمیٹی، تعمیراتی کام میں حفاظتی کمیٹی، درجنوں کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اور اگر کام کسی وجہ سے یا فنڈز کی عدم دستیابی سے بیچ میں رک جائے تو اساتذہ اور ملازمین کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے، کہ دھیان کریں کوئی بچہ ایسی عمارت میں نہ جائے ۔۔۔خطرناک جگہوں پر "داخلہ منع ہے" کے پینا فلیکس لگائے جاتے ہیں، کہیں رسیوں سے اور کہیں تاروں سے گزر گاہ کو بند کر کے کپڑا لگا دیا جاتا ہے کہ کوئی بچہ وہاں سے نہ گزرے، بارہا کمیٹیاں اور افسران سرکاری سکولوں کو چیک کرتے اور یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں کہ بچوں کی حفاظت سب سے مقدم رکھیں۔ مگر مسئلہ وہاں آتا ہے جب جس کے ذمے جو کام لگا وہ نہ کرے یا اس کام کو ٹال دے، اس لیے بارہا یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ اگر کوئی عمارت خطرناک ہے تو فوری طور پر بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اتھارٹی کو لکھ بھیجیں کہ آئیے اور آ کر فیصلہ کیجیے کہ بلڈنگ بچوں کے بیٹھنے کے قابل ہے بھی کہ نہیں، لیکن بہت سے ادارے یہ شکوہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہم خط لکھ لکھ تھک جاتے ہیں ہمیں جوابی خط نہیں ملتا۔ ارے بھائی اگر جواب نہیں ملا تو کیا ہوا؟ خود جائیے اور جا کر کسی سے مل لیجیے یہ بھی نہیں کر سکتے تو اللہ نے آپ کو بھی تو اس ادارے کا بڑا بنایا ہے، آنکھیں اور ذہن دیا ہے تو خود فیصلہ کیجئے، کسی کے بچے کی جان کیوں لیتے ہیں یہ سوچ کر کہ باہر گرمی ہے اور کمرے نہیں ہیں تو بچے کہاں بیٹھیں گے، یا یہ سوچ کر کہ یہاں تو بس ضروری سامان رکھا ہے کون سا کوئی بچہ آتا ہے اِدھر، صرف اساتذہ ہی آتے ہیں، تو کیا استاد کی زندگی زندگی نہیں ہے یا قیمتی نہیں ہے؟
خدارا سارے ادارے اپنا اپنا کام وقت پر کیجئے، جو خطرناک عمارتیں ہیں بروقت انہیں مسمار کروائیے اور جو بلڈنگ سرکاری یا پرائیویٹ بن رہی ہو بلڈنگ انجنئیر اسے صحیح طریقے سے چیک کریں۔ ہوتا کیا ہے کہ انجنئیر صاحبان آتے ہیں، وزٹ کرتے ہیں، زبانی کلامی کچھ احکامات دئیے اور یہ جا وہ جا! کتنے انجنئیر ہیں جو کوالٹی آف ورک لکھ کر جاتے ہیں کہ کام درست ہو بھی رہا ہے کہ نہیں؟ نہیں بھئی، اگر کہیں کوئی سربراہ اڑ جائے اور کہہ دے کہ دو لفظ لکھ جائیے تو کہیں گے کام ختم ہوگا تو ایک ہی بار لکھیں گے،۔۔۔۔ یا پھر لکھ دیں گے کہ کام صحیح سے کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، بس ایک لائن اور جان چھوٹی! ذمہ داری؟ ۔۔ ارے بھئی زمہ داری تو کسی کی نہیں، یہ سسٹم کب تک ایسے چلے گا؟ ہوش میں آئیے ۔ ذرا سب دیکھیے، اپنے اردگرد نظر دوڑائیے اور سوچیے کہ کتنے اداروں میں خطرناک عمارتیں ہیں جنہیں مسمار کرنا ضروری ہے، کہیں اپنی ضد میں ادھر بچے بٹھا کر آپ کوئی جان لیوا کام تو نہیں کرنے جا رہے۔ دیکھیے کہ کتنی عمارتیں ادھوری ہیں جن میں کام چل رہا ہے، کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں مگر کتنے ڈاکومنٹس مکمل ہیں اور کتنوں پر بس ایک لائن لکھی ہے؟ کتنے انجنئیر جان چھڑاتے ہیں، کہیں کوئی جان کر تو جان نہیں چھڑا رہا، کہیں کوئی ذرا سی کرپشن اور لالچ کے چکر میں بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے پر تو نہیں تلا؟ سوچیے اور جاگ جائیے!
سانحہ ڈیرہ غازی خان
دی لٹل اسکالرز سکول
ہم وہ دور دیکھ رہے ہیں جس دور میں زیادہ تر لوگ مظلوم و مجبور ہیں، زیادہ تر چہرے پریشان حال ہیں، دل تہہ در تہہ گہرائیوں میں کہیں شدید تکلیف کا شکار ہیں...!!!
کبھی دیکھیں ہیں ایک مزدور باپ کی آنکھیں؟
ان میں خواب کم، فکر زیادہ ہوتی ہے
خواب اپنے نہیں، بچوں کے ہوتے ہیں
کہ بیٹا بڑا ہو کر میرے جیسے نہ بنے…
اور بیٹی کو جہیز کے نام پر سر نہ جھکانا پڑے...!!!
ہاتھ پاؤں یہ بتاتے ہیں کہ مزدور ہوں میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
زاہد کو اگر فخر ہے سجدے کے نشاں پر
مزدور کے چھالے بھی بڑے غور طلب ہیں!
قلعہ دیدار سنگھ گوجرانولہ کے معروف شاعر رمضان تائب نے سب کو رلا دیا...!!! 😢😭
حسن کچھ دیر کا تماشا، وفا ساری عمر کا قصہ...!!!
اگر سارے کندھے باپ کے کندھوں کی طرح ہوتے تو یقیناً زمین بہت
خوبصورت جگہ ہوتی...!!!!
21/04/2026
ہر حفاظت کے پیچھے اِک محبت ہوتی ہے۔
اس لیے جو ہمیں سنبھال کر رکھتا ہے وہ ہمیں کھونا نہیں چاہتا، پھر چاہے وہ ہمارا رب ہو یا پھر کوئی انسان۔
16/04/2026
"جب جنگ ختم ہوگی تو ہم دونوں شادی کرینگے، پوری دنیا ہماری راہ میں پھول لیے کھڑی ہوگی ، اور تمہاری کُوکھ سے دُنیا کی سب سے خوبصورت بیٹی جنم لے گی".
دوسری جنگ عظیم(۱۹۳۹) کے دوران ایک مُردہ سپاہی کی جیب سے ملنے والا ایک خط.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Gujranwala
