تشخیص موٹاپا
1۔۔۔اعصابی موٹاپا میں پیٹ بہت بڑا اور نیچے کی طرف لٹک جاتا ھے اور چھونے سے چربی نما محسوس ھوتا ھے
شوگر اور مردانہ کمزوری لاحق ھوتی ھے
علاج کجھور کشمش بادام انجیر پستہ اخروٹ پپیتہ اور گوشت کاشوربہ
ادرک اجوائن دیسی پودینہ کا قہوہ
عضلاتی موٹاپا
عضلاتی موٹاپا میں پیٹ سامنے کی جانب بڑھتا ھے ڈھول کی مانند اور چھونے سے سخت محسوس ھوتا ھے اگر ایک ھاتھ رکھ کر دوسرے ھاتھ سے ٹھونکا جائے تو ڈھول کی مانند آواز آتی ھے
گیس قبض بواسیر ھو جاتی ھے
علاج گائے کادودھ گاجر کا حلوہ کشمش بادام دیسی گھی سے تیار کردہ سبزی +گوشت بکرا چھترا یا دیسی مرغ شوربہ دیسی گھی یا زیتون تیل میں تیار کردہ
امرود انگور پپیتہ سفید انار
ادرک سونف اور سفید زیرہ کا قہوہ شھد ملا کر پیئیں
غدی موٹاپا
غدی موٹاپا میں پیٹ دائیں بائیں کی طرف بڑھتا ھے اور چھونے سے نرم گوندھے ھوئے آٹے کی طرح محسوس ھوتا ھے
دبانے سے گڑھا بن سکتا ھے
پورے جسم پر سوجن ھوتی ھے
ھائی بلڈ پریشر اور سرعت انزال ھو گا
عورتوں میں عسرالطمٹ لیکوریا بھی ھو گا ورم رحم ھو گا
علاج گائے کادودھ + گھی دیسی دلیہ جو دودھ والا الائچی سبز ملا کر دودھ والی سویاں مکھن بریڈ
سبزیاں شوربے والیں سبزی گوشت بطخ یا خرگوش
سونف الائچی سبز کا قہوہ
ھذا ما عندی
D.r Madni
Bhtreen posts k liay mujay like krain plz
۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ".
صحيح البخاري | كِتَابُ الطِّبِّ. | بَابٌ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔
20/10/2020
الحمدللہ ھم نے لہسن کے قہوہ اور
ادرک لہسن کے شوربہ سے دل کے بند وال کا علاج کیا ھے۔
الحمدللہ الحمدللہ الحمدللہ
23/01/2018
14/11/2017
الحمدللہ
ھمارا طرہقہ ء علاج اسی فطرت کے مطابق ہے۔
12/10/2017
محترم قارئین کرام!
ایک مشہور ضعیف روایت بیان کی جاتی ہے کہ نبیﷺ سے منسوب کر کے کہ نہار منہ پانی پینے کے فلاں فلاں فائدہ ہیں اور فلاں فلاں نقصان ہیں
محترم قارئین کرام!
یہ روایت ضعیف ہے، نبیﷺ سے منسوب کی گئی ہے پلیززززز پوسٹ سے پہلے تحقیق کر لیا کریں
کہیں نبیﷺ کی اس حدیث کیذد میں نہ آجائیں
Sahih Bukhari Hadees # 109
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ""مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"".
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
کیا نہار منہ پانی حدیث میں منع ہے؟
یہ تو ڈاکٹرز اور حکماء واطباء ہی بتا سکتے ہیں، لیکن نہار منہ پانی پینے کے نقصانات کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کی جاتی ہے، اس کی استنادی حیثیت کیا ہے؟ ملاحظہ ہو؛
نہار منہ پانی پینے کے نقصانات
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«مَنْ شَرِبَ الْمَاءَ عَلَى الرِّيقِ انْتَقَصَتْ قُوَّتُهُ»
”نہار منہ پانی پینا جسمانی قوت کے لیے نقصان دہ ہے۔“
(المعجم الأوسط للطبراني : ۴۶۴۶)
تبصرہ: اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیوں کہ
۱: محمد بن مخلد ابو اسلم الرعینی الحمصی منکر الحدیث ہے۔
٭ امام ابن عدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : وَهو منكر الحديث عن كل من يروي عنه ۔
”یہ جس سے بھی روایت کرے، منکر الحدیث ہے۔“ (الکامل في ضعفاء الرجال : ۱۷۳۴)
٭ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ (موسوعة أقوال الدارقطني : ۳۳۴۴)
۲: عبد الرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔
٭ اسے امام علی ابن مدینی، امام احمد بن حنبل، امام یحی بن معین، امام ابو زرعہ، امام ابو داود، امام نسائی، امام ابن حبان، امام ابن عدی، امام ابو حاتم رازی اور امام حاکم وغیرہ نے ضعیف ومجروح قرار دیا ہے۔
۳: عبید اللہ بن محمد بن خنیس ابو علی الدمیاطی نا معلوم افراد (مجہول) میں سے ہے۔
٭ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
”یہ معجم الاوسط للطبرانی کی روایت ہے، اس میں محمد بن مخلد الرعینی راوی ضعیف ہے۔“ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : ۸۶/۵)
نوٹ : اس حدیث کا ایک شاہد (المعجم الأوسط للطبراني : ۶۵۵۷، تاريخ دمشق لابن عساكر : ۴۵۶/۲۴) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ لیکن اس کی سند بھی سخت ضعیف ہے۔ محمد بن ابی غسان، ابو نعیم عبد الاول المعلم، ابو امیہ الایلی اور زفر بن واصل کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔
٭ چنانچہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد امام ابن عساکر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
غريب الإسناد والمتن ۔ ”اس کی سند اور متن عجیب ہیں۔“
٭ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
” اسے امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس میں کئی راویوں کو میں نہیں پہچان سکا۔“(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : ۳۰۲/۱۰)
پس ثابت ہوا کہ نہار منہ پانی پینے کے نقصانات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
نہار منہ پانی پینے کے نقصانات کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن میں نہار منہ پانی پینے کے فائدے بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں وہ روایات درج کی جاتی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے طور پر نہار مُنہ یعنی صبح صبح خالی پیٹ پانی پینا کے فائدے ذکر ہیں۔
نہار منہ پانی پینے کے فائدے
۱: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن سے فرمایا:
” اے ابن عباس کیا میں تمہیں تحفے میں وہ (چیز یا بات ) نہ دوں جو مجھے جبرئیل (علیہ السلام ) نے جادُو ہونے کی صورت میں بچاو کے لیے سکھائی ، تم کسی برتن پر زعفران کے ساتھ (سورت)الفاتحہ ، اور دونوں پناہ طلب کرنے والی (یعنی سورت الفلق اور سورت الناس )اور سورت الاِخلاص اور سورت یس اور (سورت) الواقعہ اور (سورت) الجُمعہ اور (سورت)المُلک لکھو اور پھر اس (لکھے ہوئے ) پر زمزم کا پانی یا بارچ کا پانی ڈالو اور اس میں تین مثقال دودھ ملا کر پہار مُنہ پی لو“
(الفردوس بمأثور الخطاب: ج۵ ص ۳۵۹، ح ۸۴۳۶)
تبصرہ: یہ روایت ایک ایسی کتاب میں ہے جس میں صرف ناقابل حجت ، ضعیف اور من گھڑت یعنی موضوع روایات کو جمع کیا گیا ، یعنی یہ روایت ناقابل اعتماد و نا قابل حجت ہے ،
۲: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
شرب الماء على الريق يفقد الشحم
نہار مُنہ پانی پینے سے چربی ختم ہوتی ہے
(الکامل فی ضعفاء الرجال: باب من اسمہ عاصم کا ترجمہ: ج۵، ص ۲۳۷، رقم: ۶)
تبصرہ: یہ روایت بھی ایک اسی قسم کی کتاب میں ہے ، جس میں کمزور اور جھوٹے راویوں کی رویات کا ذکر ہے اور اس روایت کو بھی ایک راوی ” عاصم بن سلیمان الکوزی“ کی وجہ سے اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے ، کیونکہ اس راوی کو أئمہ حدیث نے جھوٹا ، روایات گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔
حاصل کلام یہ ہوا کہ اس موضوع یعنی "نہار منہ پانی پینے ” کے متعلق رسول اللہﷺ کی طرف سے کسی فائدے یا نقصان کی کوئی خبر بظاہر نہیں ملتی۔ لہذا اسکو شریعت سے جوڑنے کے بجائے طبیعت سے جوڑا جائے اور جس انسان کو اسکے مخصوص مرض کے احوال اجازت نہ دیں وہ نہار منہ پانی سے اجتناب کرے۔
اور اطباء کی رائے سے صبح نھار منہ پانی انتہائ نقصان دہ ہے۔
10/10/2017
D.r Madni
23/03/2017
ڈیٹ شیٹ2017
16/03/2017
لو کر لو گل
کل کوئ ھور چن چڑھ جائے گا۔
27/02/2017
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Gujranwala
GUJRANWALA
