30/09/2026
حافظ نعیم جس طرح نوجوانوں پر محنت کررہے ہیں اور ان کو جین زی کا جو رسپانس آرہا ہے وہ نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے حافظ نعیم کا بنوقابل ایک انقلابی پروگرام ہے جس سے ہزاروں نوجوان ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جن کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر صرف یہی نوجوان حافظ نعیم سے جڑ گئے تو کم از کم جین زی پر کسی ایک لیڈر کی اجارہ داری نہیں رہے گی نوجوانوں کی سوچ مقناطیس کی طرح ہوتی ہے جو عام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو کام سیاسی جماعتیں اور ان کے سرپرست اربوں روپے خرچ کرکے اور ریاستی طاقت کے بدترین استعمال سے نہ کرسکے وہ کام حافظ نعیم کا ایک پروگرام “بنو قابل “ کر گزرے گا اس کے علاوہ جس طرح وہ عام آدمی کے مسائل پر آواز اٹھارہے ہیں نوجوان اس آواز کی سمت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں بس حافظ نعیم نے ایک کام کرنا ہے اپنی گروتھ اسی طرح آرگینگ رکھنی ہے کسی قیمت پر اسٹیبشلمنٹ کی سپورٹ نہیں لینی چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے کیونکہ اب اس ملک میں اسی کی سیاست ہوگی وہی عوام میں شرف مقبولیت پائے گا جو بیساکھیوں کے بغیر چلنا جانتا ہوگا ورنہ بیساکھیوں والوں کا کراچی سے اسلام آباد تک حشر دیکھ لیں ،اقتدار ، وزارتیں ، طاقت اور پروٹوکول رکھنے کے باوجود زندہ لاش بنے پڑے ہوئے ہیں قوم نے ایک اجتماعی فیصلہ تو کرلیا ہے کسی اور کے کندھوں پر چڑھ کر سیاست کرنے والوں کو کندھوں پر بیٹھانے والوں کے لیے بھی بوجھ بنادینا ہے
اپنے منجمد ذہن کھولیں ، حالات کو بدلتے ہوئے انداز میں پرکھیں ، نئی سوچ کے داخلے پر پابندی مت لگائیں اور اس تناظر میں ملکی سیاست کے بدلتے منظرنامے پر نظررکھیں پاکستان کی سیاست کے افق پر نیا سورج طلوع ہورہا ہے اب آپ پر منحصر ہے کہ اس سورج کی کرنوں سے نئے راستے تلاش کریں یا پھر ماضی کے اندھیروں میں رہے کر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں روشنی یا اندھیرے کا انتخاب آپ نے خود کرنا ہے