23/10/2026
آج انجینئر شوکت اللہ خان بھی پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں پر تنقید کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود گورنر، وزیر سیفن اور رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد متعدد بار ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں، اور ان کے بھائی سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اتنے سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود اس کے اپنے گاؤں کی ویلج کونسل کے لوگ اب بھی گدھوں تک پانی لانے پر مجبور ہیں تو ان کی ترقی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
بدقسمتی ہے کہ آج ایسے لوگ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں، جنہیں پہلے اپنے سیاسی کیریئر اور عوام کی خدمات کا احتساب کرنا چاہیے۔
تنقید ضروری ہے لیکن پہلے اپنی کارکردگی کا محاسبہ کریں!