وسعت اللہ خان کا ایک بہترین کالم
یہ بیماری آج کی نہیں بلکہ پینسٹھ برس سے لاحق ہے۔انیس سو اٹھاون سے اب تک پاکستان تئیس بار آئی ایم ایف کے پاس گیا۔
ان پروگراموں کے زیرِ سایہ پاکستان نے پچھتر میں سے اب تک پینتیس برس گذار لیے۔گویا اوسطاً پاکستان کو ہر تین برس بعد آئی ایم ایف کی ضرورت پڑتی ہے۔
انیس سو اٹھاسی سے تاحال پینتیس برس میں سے تئیس بجٹ ایسے گذرے ہیں جن میں پاکستان کو مسلسل توازنِ ادائیگی کا سنگین خسارہ درپیش رہا لہٰذا کشکول توڑنے کے بڑکیلے عزم کے باوجود اس پورے عرصے میں آئی ایم ایف کا دامن تھامنا پڑا۔
ایوب خان سے آج تک کوئی ایسی حکومت نہیں گذری جس نے آئی ایم ایف سے رجوع نہ کیا ہو۔ آخر پاکستانی معیشت کو ایسی کون سی بیماری لاحق ہے جس کا پینسٹھ برس میں ایک درجن سے زائد حکومتیں بھی علاج نہ کر پائیں۔بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور اپنے تئیں ہر طرح کی دوا کی۔
انیس سو بہتر سے اب تک ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کی لگ پندرہ سنجیدہ کوششیں ہوئیں۔کمیشنوں اور کمیٹیوں کی موٹی موٹی رپورٹیں بھی بنیں۔مگر ہر رپورٹ کے ساتھ ساتھ موٹی گردنیں اور موٹی ہوتی گئیں اور پتلی گردنیں ہر آہنی و معاشی کھانچے میں ٹھونسنے کی کوشش ہوتی رہی۔
یہ مصیبت نہ آسمان سے اتری ہے ، نہ ہی یہود و نصاری و ہنود کی سازش ہے۔بلکہ یہ مصیبت ہم نے برس ہا برس کی محنت سے خود اپنے لیے دن رات ایک کر کے کھڑی کی ہے۔
جب بین الاقوامی ادارے چند برس پہلے لال بتی دکھا رہے تھے تو ہم مذاق سمجھتے ہوئے یہ کہہ کے ٹال رہے تھے کہ یہ لوگ ہماری ترقی سے جلتے ہیں۔
مثلاً اپریل دو ہزار اکیس میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومین ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کھل کے بتا دیا گیا تھا کہ معیشت کے کنوئیں سے جب تک بالائی ایک فیصد طبقے کو حاصل مراعاتی کتا نہیں نکلے گا۔ چالیس چھوڑ چالیس ہزار ڈول پانی بھی نکال لیں تو کنواں پاک نہیں ہوگا۔
یہ رپورٹ کسی مقامی ادارے یا کسی سرکردہ سیاسی ج**عت کے پروپیگنڈہ سیل نے نہیں بنائی بلکہ یو این ڈی پی نے مرتب کی تھی۔اس کے مطابق حکمران اشرافیہ ( کارپوریٹ ناخدا ، بڑے صنعت کار ، سرمایہ کار ، بینکنگ سیکٹر ، سیاسی و روحانی قوت سے لیس جاگیردار و اہلِ سیاست اور عسکریہ ) کو لگ بھگ اٹھارہ ارب ڈالر سالانہ کی براہ راست یا بلاواسطہ مراعات و سہولتیں میسر ہیں۔
اس ایک فیصد طبقے کو ترجیحی بنیادوں پر تعلیم ، صحت ، انصاف ، سرکاری محکوموں کی خدمات اور ٹیکس چھوٹ و ترغیبات کے ذریعے سرکاری خزانے تک مکمل رسائی حاصل ہے۔جب کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں اس طبقے پر بوجھ لگ بھگ دس فیصد ہے۔
باقی نوے فیصد بوجھ ان طبقات نے اٹھا رکھا ہے جن کا ان جلی و خفی مراعات و ترغیبات سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔بلکہ ان کی حیثیت اس گدھے کی ہے جس پر ایک فیصد طبقہ مسلسل سواری گانٹھ رہا ہے۔سیاسی ج**عتوں ، پارلیمنٹ ، عدلیہ و عسکریہ سمیت ہر کلیدی ادارے کی کلید اسی طبقے کے ہاتھ میں ہے۔
جو بھی امداد اندرونی و بیرونی طور پر قرضوں ، منافع ، گرانٹ یا کرائے کی شکل میں حاصل ہوتی ہے وہ اسی طبقے میں اوپر ہی اوپر بٹ جاتی ہے اور اس مراعاتی میز پر جو تھوڑی بہت ہڈیاں بچ جاتی ہیں وہ باقیوں کے حصے میں آ جاتی ہیں اور وہ ان ہڈیوں پر لگے گوشت کے تھوڑے بہت ریشے چچوڑ کے ہی خوش ہو جاتے ہیں۔
قوانین سازی بھی یہی ایک فیصد لوگ ایک فیصد کے مفاد میں کر کے سو فیصد پر لاگو کرنے کے لیے اسے قومی قانون سازی کی عبا پہنا دیتے ہیں اور پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے انھیں جائز قوانین سمجھ کے ان کے بے انصاف عمل درآمد پر لگ جاتے ہیں۔
بالائی بیس فیصد ( اعلیٰ متوسط طبقے سیمت ) پاکستانی قومی آمدنی کا پچاس فیصد کنٹرول کرتے ہیں اور انتہائی نچلی سطح پر زندگی کاٹنے والے بیس فیصد پاکستانیوں کے حصے میں محض سات فیصد قومی آمدنی آتی ہے۔
اب یہ فرق اور بڑھ گیا ہے کیونکہ روپے کی ناقدری اور معیشت کی تیز رفتار پھسلن کے سبب متوسط طبقہ بھی تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے۔
یو این ڈی پی نے دو برس پہلے بتایا تھا کہ دو ہزار نو میں متوسط طبقے کی تعریف میں بیالیس فیصد آبادی شامل تھی۔دو ہزار اٹھارہ انیس میں یہ کم ہو کے چھتیس فیصد پر پہنچ گئی اور اب ایک غیر حتمی تخمینے کے مطابق یہ تناسب کم ہو کے تیس تا پچیس فیصد رہ گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کا بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے مگر رپورٹ کے مطابق سینتیس فیصد ترقیاتی منصوبے بالائی بیس فیصد کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں۔جب کہ نچلے بیس فیصد آبادی کے حصے میں محض چودہ فیصد منصوبے ہی آتے ہیں اور ان کا معیار بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔یعنی عملاً ناقص اور نقشے پر انتہائی خوشنما منصوبے۔
اب تو آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے بھی کھل کے کہہ دیا ہے کہ جب تک ٹیکسوں کا رخ بالائی طبقات کی جانب اور مراعات کا رخ نچلے طبقات کی طرف نہیں ہوگا پاکستان معاشی دلدل میں ہی پھنسا رہے گا۔
مگر منی بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی حکومت مراعاتی طبقے پر ہاتھ ڈالنے کے لیے آمادہ نہیں اور نچلے طبقات اس قدر ادھ موئے ہو چکے ہیں کہ ان سے مزید جوس نکالنا اب بیل کا دودھ دوہنے جیسا ہوتا جا رہا ہے۔
چار ماہ پہلے تک مفتاح اسماعیل پاکستان کے وزیرِ خزانہ تھے۔بقول ان کے
’’ یہ ملک صرف آٹھ ہزار لوگوں کے لیے بنا ہے۔عمران خان کی آخری کابینہ میں سے ساٹھ فیصد عہدیدار ایچیسن کے فارغ التحصیل تھے۔اور یہ صرف ایک کابینہ کا معاملہ نہیں۔ہر کابینہ میں لگ بھگ نصف وزیر ایچیسن کے ہوتے ہیں۔سپریم کورٹ کے آدھے جج ایچیسن کے ہیں۔
آدھے کاروباری اور صنعت کار کراچی گرامر اسکول نے پیدا کیے ہیں۔اگر ملٹی نیشنل کمپنیز کی بالائی قیادت ، بینکنگ سیکٹر کی لیڈرشپ اور سیاستدانوں اور عسکریہ کی بالائی کریم کو بھی شامل کر لیا جائے تو سارا گیم ایچیسن ، کراچی گرامر اسکول ، کیڈٹ کالج حسن ابدال ، کاکول ، روٹس اور بیکن ہاؤس سمیت درجن بھر اداروں کے گرد گھوم رہا ہے۔
اور اگر موجودہ ڈھانچہ ایسے ہی رہا تو ان ہی اداروں سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے لگ بھگ آٹھ ہزار بچے باقی چار لاکھ اسکولوں میں پڑھنے والے چالیس لاکھ بچوں کو نچلی سطح پر استعمال کرتے ہوئے ہر شعبے میں ایسے ہی حکمرانی کرتے نظر آئیں گے جیسے کہ ان درجن بھر تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ان بچوں کے والدین اس وقت حکمرانی کر رہے ہیں‘‘۔
Sajjad Hussain
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sajjad Hussain, Social service, Islamabad.
24/02/2023
ہم میں سے بہت سے لوگ بروز جمعہ بڑے اہتمام سے سورہ کہف پڑھتے ہیں۔ سورہ کہف میں ایک لفظ تھوڑا سا بڑے سائز میں یا نمایاں کرکے لکھا ہوا ہوتا ہے
"ولیتلطف"
اس لفظ پر قرآن کا درمیان (mid) آجاتا ہے
اور تھوڑا سوچیں تو اس میں بڑی ہی حکمت ہے۔۔۔۔ ہمارے لئے ہدایت اور تعلیم کا خلاصہ ہے
"ولیتلطف" کا مطلب ہے "اور نرمی سے بات کرو"
اللہ تعالٰی نے جب حضرت موسی کو فرعون کے پاس بھیجا تو کہا اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ مان جائے
فرعون جو بے حد متکبر اور نافرمان تھا۔ اس سے بھی نرمی سے بات کرنے کا کہا گیا
ہمارے لئے سوچنے کامقام۔۔۔۔ نرمی سے بات کرنے کا مطلب کمزور ہونا نہیں اعلی ظرف ہونا ہے
دوستو! آئیں۔۔۔ اپنا اپنا ریویو کریں
کام میں، رشتوں میں، اولاد کی تربیت میں، نیکی کی دعوت میں۔۔۔ ہر حال میں یہ ہی کلیہ اپلائی ہوتا ہے
اللہ تعالٰی ہمیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
·
خوشیاں پیسوں سے نہیں خریدی جا سکتیں !
یہ جملہ ناکامی کے بعد ہار ماننے والے ہی زیادہ تر استعمال کرتے ہیں ، یہ صرف اپنے آپ کو تسلی دینے کے الفاظ ہیں ورنہ بڑی بڑی نیکیاں بھی پیسوں کے بغیر نا ممکن ہیں
یہ الفاظ آپ کو مادیت والے لگے نا ؟
لیکن حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، جن پریشانیوں ، بیماریوں اور نہ ملنے والی چیزوں کو امیر لوگوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے وہی بیماریاں ، پریشانیاں غریبوں کو بھی لاحق ہوتی ہیں
یہ مشہور کیا گیا ہے کہ امیر لوگ رات کو سکون سے سو نہیں سکتے حالانکہ اس کا تعلق جسم کے ساتھ ہے ، دماغ کے ساتھ ہے اور نیند نہ آنے کی شکایت غریب کو بھی ہوتی ہے
بہر حال اگر آپ قناعت پسند ہیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن اپنی قناعت پسندی کو دوسروں کے لیے پیسہ نہ کمانے کی دلیل نہ بنائیں ، جو اچھا کما رہا ہے تو اس کے لیے پیسے کو طعنہ نہ بنائیں
ایک امیر شخص بلواسطہ یا بلا واسطہ کئی لوگوں کی روزی کا ذریعہ بنتا ہے
زیادہ مال کمانا برا نہیں ہے ، اپنی محنت اور استعداد کے مطابق اپنی کمائی میں اضافے کے لیے جدو جہد ضرور کرتے رھنا چاھئے
یقیناً شریعت آپ کو زیادہ کمانے سے نہیں روکتی !
Copy
ایک صحتمند مرد کے عورت سے ج**ع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے! جبکہ یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 سے 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔ اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300سے 500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟ جب آپ بھاگے "تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔ اور آج ...... آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔ جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟ آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟ ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اور سچی لگن سے مقصد کے حصول کیلئے جدوجہد کریں وہ آپکو ہارنے نہیں دے گا جیسے ملینز سپرمز میں سے آپکو فاتح بنایا تھا بالکل ویسے ہی۔ لیکن یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان لاکھوں کو مات دیتے ہیں یا ان ناکام سپرمز کی طرح ہمت ہار کر راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں
شکریہ ریحان اللہ والے
واحد جمع کرواتے ہوئے بچے نے پوچھا کہ
ماں کی جمع "مائیں " تو باپ کی جمع کیا ہے ؟
میں نے باپ کے تمام مترادف سوچے۔۔۔۔۔؟
والد ، ابا ، باپ ، ابو
لیکن کسی ایک بھی لفظ کی جمع نہی مل سکی ۔۔۔۔۔!!!
بہت حیرت سے سوچا ۔؟ کہ ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ انسان کی زندگی میں ماں کے رتبے پر بہت سے رشتے جڑ جاتے ہیں
لیکن باپ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے !
اسی لیے زندگی میں اسکی کمی کا خلاء کبھی پر نہیں ہوتا ، اللہ پاک تمام والدین کو سلامت رکھے اور جو وفات پا چکے ان کی کامل مغفرت فرمائے آمین ۔...
04/01/2023
تھوک: Saliva or Spit
آج تھوک کی افادیت پر بات کرتے ہیں😄.
تھوک وہ گمنام ہیرو ہے جس کا کوئی بھی تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ نام سنتے ہی تھو تھو کرنا شروع کردیتے ہیں 😂 لیکن سب سے پہلے سب کے کام تھوک ہی آتا ہے!
تھوک کیا ہوتا ہے؟
تھوک دراصل پانی ہی ہے۔ یہ 98-99% فیصد تک پانی ہوتا ہے جبکہ باقی 1سے 2 فیصد مقدار کھانا ہضم کرنے والے انزائیمز, یورک ایسڈ، الیکٹرولائیٹس، اور پروٹین کی ہوتی ہے۔
تھوک کہاں سے آتا ہے؟
ہمارے منہ میں جبڑے کی پچھلی جانب، جبڑے کے نیچے اور زبان کے نیچے تھوک کے تین گلینڈز موجود ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ منہ میں تھوک کے تین جگہ پائیپ فٹ ہیں۔ جبڑے کے پیچھے پائیپ ( گلینڈ ) کو parotid gland, جبڑے کے نیچے submandibular gland , اور زبان کے نیچے گلینڈ کو sublingual gland کہتے ہیں۔ 2020 میں ہماری گالوں کے اندر گلینڈز کا ایک جوڑا بھی دریافت ہوا ہے جس پر پہلے کسی کی نظر نہیں پڑی انہیں Tubarial گلینڈز کہتے ہیں اور ان کے بارے میں بھی ڈاکٹروں میں بحث جاری ہے کہ آیا یہ بھی تھوک بنانے والے گلینڈز ہیں کہ نہیں۔یہ تمام گلینڈز خاص قسم کے کروڑوں سیلز سے مل کر بنے ہیں جنہیں acini کہتے ہیں اور یہی سب سیلز مل کر تھوک بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔
تھوک کی کتنی اقسام ہیں؟
تھوک کی پانچ اقسام ہیں جو دراصل پانچ ادوار ہیں جن میں تھوک کے اندر پائے جانے والے اجزا جسم کی ضرورت کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
1 پہلی قسم Cephalic:
یہ مشہور قسم ہے جو اپنا پسندیدہ کھانا دیکھنے یا سوچنے پر پیدا ہوتی ہے۔ جسے منہ میں پانی بھر آنا بھی کہتے ہیں۔
2 دوسری قسم Buccal:
تھوک کی یہ شکل کھانا کھاتے وقت پیدا ہوتی رہتی ہے۔
3 تھوک کی تیسری قسم Esophageal:
جیسے ہی کھانا منہ سے آگے نکل کر حلق سے ہوتا ہوا خوراک کی نالی Esophagus میں پہنچتا ہے تو منہ میں یہ تھوک پیدا ہوتا ہے۔
4 تھوک کی چوتھی قسم Gastric:
جب معدے میں گڑ بڑ ہو اور الٹی ہونے کا خدشہ ہو تو تھوک کی یہ قسم پیدا ہوتی ہے۔
5 تھوک کی پانچویں قسم intestinal:
جب خوراک ٹھیک طرح ہضم نہ ہو اور آنتوں میں پہنچ جائے تو تھوک کی ایسی قسم منہ میں بنتی ہے۔
تھوک کے متعلق کچھ دلچسپ باتیں:
* ہمارے منہ میں ہر روز تقریباً ایک سے دو لیٹر تھوک پیدا ہوتا ہے۔
* تھوک دن کے بعد اور شام تک سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے جبکہ رات کے وقت اسکی پیداوار کم ہوتی ہے۔
* عورتوں کی نسبت مردوں کے منہ میں تھوک زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
*ننھے بچوں کے منہ سے رسنے والا پانی (پنجابی میں لیلیں) دراصل انکے دانت نکلنے کے مراحل کے دوران پیدا ہوتا رہتا ہے تاکہ مسوڑے سوجن، درد اور انفیکشن سے محفوظ رہیں۔ اس پانی کو Drool کہتے ہیں۔ البتہ کسی بڑے میں یہ بکثرت نکلنے لگے تو کسی انفیکشن کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔
تھوک کے فائدے:
* تھوک کے بیشمار فائدے ہیں 😁. نقلی دانتوں کی بتیسی کا ایک جوڑا کسی دانتوں کی دوکان سے اٹھائیں (پیسے دے کر) اور ان کو آپس میں رگڑتے جائیں۔ کیا ہوگا؟ جی ہاں خراشیں پڑ جائیں گی، ہلکے ہلکے ٹوٹ بھی جائیں گے ۔ لیکن ہمارے منہ میں ہم ہر روز کھاتے پیتے اور کسی رشتے دار کو دیکھتے دانت پیستے ہیں تو یہ سچ میں کیوں نہیں پسے جاتے؟
دراصل تھوک یہاں بطور موبل آئل یعنی Lubricant کام کرتا ہے۔ دانتوں کو تر رکھ کر رگڑ سے بچاتا ہے۔ دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ اس میں موجود مختلف نمکیات دانتوں کے بیرونی سخت خ*ل جسے enamel کہتے ہیں اس کو ضروری معدنیات مہیا کرکے مضبوط کرتا ہے۔
*تیز تیزاب والے کھانے مثلاً لیمن ، اورنج, سوڈا وغیرہ دانتوں کے بیرونی خ*ل میں سوراخ کرسکتے ہیں۔ انہیں گلا سکتے ہیں۔ لیکن عین اسی لمحے تھوک اس تیزاب میں شامل ہوکر اس کو "نیوٹرل" کر دیتا ہے۔ اس طرح دانت محفوظ رہتے ہیں۔
*میٹھا بھی دانتوں کا سخت دشمن ہے میٹھا جو دانتوں میں آگے پیچھے تھوڑا بہت پھنس جاتا ہے وہاں بیکٹیریا حملہ کرکے تیزاب پیدا کرتے ہیں اور دانتوں میں کیویٹی یعنی کھوڑ پڑجاتے ہیں لیکن تھوک باقاعدہ اس میٹھے کو اتارتا رہتا ہے، تیزاب کو نیوٹرل کرتا رہتا ہے اور بیکٹیریاز کو بھی مارتا رہتا ہے۔ مطلب کہ یہ قدرتی دوائی ہے جو آپ کے دانتوں کے لئیے منہ میں رکھ دی گئی ہے۔ ( ہاں لیکن اگر آپ میٹھے پر ہتھ ہولا نہ رکھیں تو پھر تھوک کا کوئی قصور نہیں تین ہی پائپ فٹ ہیں ہزار نہیں 😄)
*دانت تو محفوظ کرلئیے اب آجائیں مسوڑوں کی جانب۔ تھوک مسوڑوں کی بھی جان ہے بلکہ مسوڑوں کی بقا تھوک میں ہے۔ تھوک میں لائیزو زائم، پیپٹائیڈز، اور کچھ پروٹین ہوتے ہیں جو مسوڑوں پر حملہ ہونے والے بیکٹیریاز کی کھال ادھیڑ دیتے ہیں ( سچ میں کھال)۔
*نظام انہضام میں پہلا کام تھوک کا ہے۔ اور یہی بات اوپر لکھی گئی کہ سب سے پہلے سب کے کام تھوک ہی آتا ہے 😁.
جب ہم کسی شے کا نوالہ لیتے ہیں تو تھوک منہ میں پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح خوراک کے زرات لے کر زبان پر پھیلادیتا ہے تاکہ زبان پر موجود ذائقے کے سیلز اس ذائقے کو پہچان کر دماغ تک پہنچائیں۔ بنا تھوک کے زبان کا کام بھی سخت مشکل ہوجائے گا۔ اب تھوک کا اگلا کام کھانے کو انتہائی نرم کچے آٹے جیسا گوندھنا ہے تاکہ حلق سے باآسانی پیٹ کی جانب سفر شروع کرے۔ اسی لئیے سیانے کہتے کہ کھانے کو خوب چبا چبا کر کھائو۔ تھوک میں موجود قدرتی کیمیکلز بہت سارے پیچیدہ غذائی زرات مثلاً سٹارچ اور Fats کو منہ سے ہی ہضم کرنا شروع کردیتےہیں۔ روٹی چاول نو ڈلز میں کافی سٹارچ ہوتا ہے بنا تھوک کے ان کا انہضام بڑا مشکل ہوتا۔
* تھوک کسی زخم پر لگانے کے قصے سنے دیکھے ہیں۔ دراصل یہ بات درست ہے! تھوک میں زخموں کو مرہم کرنے والے وائیٹ سیلز نیوٹرو فلز موجود ہیں جو زخم بھرنے کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔ اسی لئیے آپ نے اکثر جانوروں کو اپنے زخم چاٹتے دیکھا ہے (حیرت ہے انہیں یہ فوائد کیسے پتہ)۔ اس کے علاوہ تھوک میں موجود لائیزوزائم زخموں میں موجود بیکٹیریاز مار کر زخم صاف کردیتا ہے۔
تھوک کے نقصانات -/+18 دونوں😄:
*جنسی تعلقات میں تھوک کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے۔ تھوک کسی بھی لحاظ سے بطور Lubricant استعمال کرنا مخالف پارٹنر میں مختلف انفیکشن پیدا کرسکتا ہے (e.g vaginal yeast infection). اس کے علاوہ بہت ساری گلے اور منہ کی جنسی بیماریاں مثلاًHerpes تھوک کے ذریعے مخالف کے خاص حصوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔
*بوسہ لینے میں بھی تھوک کے زریعے جراثیم پھیلتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10 منٹ کے بوسے میں تقریباً 60 ملین جراثیم ایک دوسرے میں ٹرانسفر ہوتے ہیں۔ لیکن میاں بیوی اس کے خطرات سے محفوظ ہیں کیونکہ دونوں کے جراثیم ایک جیسے ہوجاتے۔مسئلہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات اور دھوکہ دہی میں ہوتا ہے۔
*بہت سارے پالتو جانور خصوصاً کتے انسانی زخم چاٹتے ہیں۔ انہیں اس سے دور رکھیں۔ امریکہ میں کئی ایسے کیسز ہوئے جہاں لوگوں کو اپنے بازو ٹانگ وغیرہ کتے کے چاٹنے کی وجہ سے کٹوانے پڑگئے کیونکہ خطرناک بیکٹیریا تھوک کے ذریعے انکے زخموں پر منتقل ہوئے۔ انسانی تھوک بھی زخم پر نہیں استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ اس سے بیکٹیریا پھیلنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
*تھوک بکتا بھی ہے، جی ہاں سائوتھ افریقہ میں بڑھتی بیروزگاری کے سبب ٹی بی والے تھوک کی غیر قانونی منڈی لگتی ہے جہاں اچھے بھلے بیروزگار لوگ خرید کر لے کر جاتے ہیں اور اپنے آپکو یہ بیماری لگاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ٹی بی والوں کو ماہانہ حکومت خرچہ دیتی ہے۔ شاید اسی لئیے سائوتھ افریقہ ٹی بی کی بیماری میں ٹاپ پر ہے۔
* بہت سارے وائرس اور جراثیم مثلاً ہیپاٹائیٹس, ہرپیس، ایبولا زکا، تھوک کے ذریعے ایک دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بندے کے منہ میں یہ وائرس ہیں 😆 بلکہ جو شخص کسی گندی جگہ سے ان کا متاثر ہوا ہو۔ اس لئیے ایسے مریضوں سے ملتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔
منہ میں تھوک کی کمی کے اثرات:
منہ میں تھوک کی کمی کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ تھوک میں کمی سے بہت سارے جراثیموں کو حملہ کرنے کا موقع ملے گا، منہ میں متعدد زخم ہوتے رہیں گے، مسوڑوں پر بیکٹیریا آکر حملہ کرتے رہیں گے جس سے مسوڑوں میں زخم بھی ہونگے منہ میں بدبو بھی پیدا ہوگی، گلے کے، معدے کے مسائل جنم لیں گے اور سب سے بڑی بات آپ کے دانتوں کی تباہی شروع ہوجائے گی۔
تھوک میں کمی کی بڑی وجہ سٹریس ہے۔ سٹریس میں ہمارے تھوک کے گلینڈز ٹھیک طرح کام نہیں کرتے۔ خوف میں بھی ہمارا منہ خشک ہوجاتا ہے۔ دراصل انسان 60 فیصد پانی پر مشتمل ہے اور دماغ اس پانی کو مختلف عضو کے ذریعے آگے پیچھے کرتا رہتا ہے اب چونکہ خوف میں جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو نتیجتاً جسم پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کے درجہ حرارت میں بیلنس ہو. پانی پسینے میں چلا جائے گا تو گلینڈز کو کم ملے گاجس سے تھوک میں واضح ہوگی اسی لئیے خوف پریشانی میں گلا خشک ہوجاتا ہے۔ (پکڑے جائیں تو پھر بھی تھوک نہیں بنتا 😅)
تھوک میں کمی کو کیسے پورا کیا جائے۔
تھوک میں کمی کو Dry Mouthکہتے ہیں اور ڈاکٹرز ادوایات سے بھی اس کا علاج کرتے ہیں جبکہ سب سے بہتر حل پانی کا باقاعدہ استعمال ہے تاکہ جسم میں وافر مقدار میں پانی موجود ہو۔ اس لئیے خوف یا سٹریس میں خوب پانی پئیں۔
شوگر فری ببل گم اور ٹافیاں بھی ملتی ہیں جن میں Xylitol شوگر موجود ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل تھوک کے گلینڈز کوایکٹو کرتا ہے۔ اس لئیے تھوک کی کمی کے شکار لوگ، ( جن کی زبان بھی سفید ہوجاتی ہے) اس ببل گم کا استعمال کریں۔ یہ گم بچوں کے دانتوں کے لئیے بھی مفید ہے۔
میڈیکل سٹور سے Dry Mouth والے مائوتھ واش کا استعمال بھی بہتر ہے۔ سگریٹ نوشی شراب نوشی، چائے سو ڈا کا زیادہ استعمال بھی تھوک کی کمی کا باعث بنتا ہے۔
تھوک کی کمی سے بہت سارے غزائی اجزا ٹھیک طرح ہضم نہیں ہوپائیں گے نتیجتاً معدے کی سختی آجائے گے۔ کھانا دیر سے ہضم ہوگا۔ گیس اور قبض کی شکایت ہوگی۔
بہت ساری ادوایات بھی تھوک کو خشک کرتی ہیں۔ منہ کی بدبو تھوک کا جمنا ہونٹوں کے اطراف میں کٹ سب تھوک کے مسئلے ہیں۔ زیادہ پانی پئیں، شوگر فری چیونگم چبائیں اور منہ بند کرکے سویا کریں😄.
منہ میں تھوک کی زیادتی:
حمل کے دوران اکثر خواتین کو ہوجاتی ہے، کسی زہریلے مادے مثلاً مرکری کے سامنے آنے سے بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے، گلے کے انفیکشن ٹانسلز اور الرجی وغیرہ بھی تھوک میں زیادتی کرتے ہیں جو کافی الجھن پیدا کرتا ہے۔ لیکن کچھ خاص گھبرانے کی بات نہیں وقت سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو پھر ڈاکٹرز خشک کرنا جانتے ہیں۔ 😆.
دنیا میں سب سے دور تھوک پھینکنے کا ریکارڈ امریکہ کے ایلکس پنا نے بنایا جنہوں نے اپنا تھوک 22 فٹ دور پھینکا۔
دل تو چاہ رہا تھوک پر مذید لکھوں لیکن اپنا گلا خشک ہوگیا 😛.
خوش رہنا بہت ساری بیماریوں کی شفا ہے۔ خوش رہنا سیکھیں!
😊☺️😊☺️😊☺️😍😊☺️😊☺️😊☺️
03/01/2023
مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے
ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے
کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی
سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے
ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح
ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے
نفرت کے جس پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوں میں
وہ ساری کائنات پہ پھیلا ہوا سا ہے
گھر میں دھواں بھرا ہے کہ بیٹھوں تو دم گھٹے
باہر تمام شہر سلگتا ہوا سا ہے
ہاں میں غنودگی کے دھندلکے میں ہوں اسیر
ہاں میرا ذہن صدیوں کا جاگا ہوا سا ہے
کیا اس سے بہتر موٹیویشنل گفتگو سنی آپ نے،
تو سنئیے اور سمجھئیے کہ پریشانیوں کے اسباب کیا ہیں۔
گفتگو
خطبہ جمعہ
#کانگڑی
ایک طرح سے مٹی کا برتن ہوتا ہے، جس میں لکڑی یا چنار کے خزاں رسیدہ لال دہکتے ہوئے پتوں سے تیار کردہ کوئلہ ڈالا جاتا ہے۔ اس مٹی کے برتن کے اردگرد بید یا ڈالیوں کی تیلیوں سے بنی ہوئی تہیں ہوتی ہیں، تاکہ اس کو آرام سے ہاتھوں سے پکڑا جائے۔
سردیوں میں فرن، یعنی لوز ڈھیلے گون پہنے کشمیری مردوں یا عورتوں کو اگر اب دور سے دیکھیں، تو اس گون کا وہ حصہ جو پیٹ کو کور کرتا ہے، کے پاس ایک ابھار نظر آئے گا۔ لگے کا کہ شاید سبھی افراد حمل کے آخری مرحلہ میں ہے۔
Jammu und Kashmir | Kangri in einem Geschäft in Srinagar
شادیوں میں کانگڑی دلہن کو بھی رخصتی کے وقت دی جاتی ہے.تصویر: Shahid Mushtaq
قریب آ کر معلوم ہو گا دراصل اس فرن کے نیچے پیٹ کے پاس انہوں نے کانگڑی پکڑی ہوئی ہے۔ شادیوں میں کانگڑی دلہن کو بھی رخصتی کے وقت دی جاتی ہے، جس کو وہ سسرال لے جاتی ہے۔ مگر ایسی کانگڑی کو بہت ہی محنت اور نخروں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے اور اس پر خاصا خوبصورت آرٹ ورک کیا جاتا ہے اور اس کو دلہن کانگڑی کہا جاتا ہے۔ اس میں کوئلہ کے بجائے، ڈرائی فروٹ حتیٰ کہ زیورات بھی رکھے جاتے ہیں۔
کشمیر کے متمول افراد گھروں میں حمام بھی بناتے ہیں۔ یعنی گراؤنڈ فلور پر بنے ایک کمرے کے فرش کو پتھر کی سلوں سے تعمیر کرکے اس کو نیچے سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ پھر اس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے۔ مگر یہ بہت ہی مہنگا عمل ہے۔ اس میں لکڑی بھی خاصی خرچ ہوتی ہے اور امیر افراد ہی اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔
سستا اور پورٹیبل ہونے کی وجہ سے کانگڑی کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس کو ہاتھ میں لیے یا فرن کے اندر رکھ کر آپ کام بھی کر سکتے ہیں اور گھوم پھر بھی سکتے ہیں۔
اسے کیسے تیار کیا جاتا ہے؟
کانگڑی تیار کرنا بذات خود ایک فن ہے۔ اس میٰں ہنرمندی اور دستکار کی محنت جھلکتی ہے۔ ہر سال ستمبر یا اکتوبر میں دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں کانگڑی کے بازار لگتے ہیں۔ اس کو بنانے سے لے کر بیچنے تک ایک چین ہوتی ہے۔ سب سے پہلے کمہار کا کام ہوتا ہے کہ وہ مٹی کا برتن بنائے جس کو کونڈل کہتے ہیں۔ اس کے بعد بید یا دیگر درختوں کی نرم شاخیں لانے کا کام مقامی کسان کرتے ہیں، جو فصل کی کٹائی سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ اگر شاخیں سخت ہوں، تو ان کو کافی عرصہ تک پانی میں رکھا جاتا ہے، تا کہ مٹی کے برتن کے ارد گرد جب انہیں بنا جائے، تو وہ آسانی کے ساتھ مڑ جائیں۔
Jammu und Kashmir | Kangri in einem Geschäft in Srinagar
ایک عام کانگڑی کی فی الوقت قیمت ایک سو پچاس روپے ہے
نئے نئے انداز
ہر سال کاریگر اس میں جدت پیدا کر کے صارفیں کو لبھاتے ہیں۔ اس میں دو ہینڈل ہوتے ہیں، جن سے اس کانگڑی کو پکڑا جاتا ہے۔ پوری وادی کشمیرمیں اس کے کاریگر ملیں گے، مگر سرینگر کے جنوب میں چرار شریف کا قصبہ اور پھر شمالی کشمیر میں بانڈی پورہ کے علاقے کی کانگڑیاں خاصی مشہور ہیں۔ دلہن کانگڑیاں تو چرار شریف کا ٹریڈ مارک ہیں۔
ٹہنیوں کی کٹائی انہیں جمع کرکے ابال کر نرم کرنا، ان کو کھرچنا اور پھر ایک ایک باریک ٹہنی کو مٹی کے برتن کے ارد گرد بننا، غرض پورے کے پورے خاندان اس کو بنانے میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کو جلانے کے لیے کوئلہ مہیا کرنے والوں کا روزگار بھی کانگڑی کی وجہ سے چلتا ہے۔
ایک عام کانگڑی کی فی الوقت قیمت ایک سو پچاس روپے ہے۔ مگر کئی کانگڑیاں معیار اور کاریگری کے نمونوں کی وجہ سے آٹھ سو روپے میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ کئی متمول صارف تو اس میں جدت پیدا کرنے کے لیے اسپیشل کانگڑیاں بنواتے ہیں، جن کی قیمت پانچ ہزار روپے تک ہوتی ہے۔
کانگڑیاں کشمیر کے کلچر اور وراثت کی مظہر ہیں۔سینکڑوں سالوں سے کشمیری نسل در نسل کانگڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ سخت برفباری کے دوران، جب راستے بند ہو جاتے ہیں، ہفتوں اور مہینوں بجلی بند ہوجاتی ہے، گیس کی ترسیل تو دور کی بات ہے، تو اس وقت کشمیری آبادی کے لیے زندگی کی علامت کانگڑی ہی ہوتی ہے۔
کشمیر میں ایک ضرب المثل ہے کہ کھانا نہ ملنے سے کئی دن انسان زندہ تو رہ سکتا ہے، مگر منفی درجہ حرارت میں کانگڑی کی عدم دستیابی سے چند منٹوں یا گھنٹوں میں ہی جان نکل سکتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad
