Syed Asim Munir Ahmed Shah Next COAS

Syed Asim Munir Ahmed Shah Next COAS

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Syed Asim Munir Ahmed Shah Next COAS, Armed forces, Islamabad.

16/04/2026

پاکستان کا جگرا دیکھو!

آج فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنگی وردی میں تہران میں اترے ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہوائی اڈے پر استقبال کیا. اس خبر میں وہ سب کچھ ہے جو سفارتکاری کی نصابی کتابوں میں نہیں ملتا۔

ایک فوجی سربراہ، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا، ایسے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا ہے جس پر بیک وقت دو ایٹمی طاقتیں حملہ آور ہیں۔ جس کا رہبر اعلیٰ مارا جا چکا ہے۔ جس کے فوجی سربراہ مارے جا چکے ہیں۔ جس کا نیا رہبر زخمی ہے اور زیر زمین ہے۔ جس کی فضائی حدود میں امریکی اور اسرائیلی طیارے گشت کرتے ہیں۔ جو بندہ اس کا استقبال کرنے آیا ہے، اسرائیل نے اس کے سر کی قیمت لگائی ہوئی ہے. اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل کیموفلاج وردی میں اترا ہے۔

تاریخ میں ایسا کب ہوا ہے؟

1943 میں ونسٹن چرچل جنگ کے عین دوران ماسکو گیا تھا۔ جرمن فضائیہ مشرقی محاذ پر بم گرا رہی تھی۔ سوویت یونین لڑ رہی تھی۔ چرچل نے خطرہ مول لیا کیونکہ پیغام ذاتی طور پر پہنچانا تھا: "ہم تمھارے ساتھ ہیں۔" وہ طیارے میں مصر سے ماسکو گیا۔ راستے میں جرمن لڑاکا طیاروں کا خطرہ تھا۔ مگر گیا۔ کیونکہ سٹالن کو بتانا تھا: "دوسرا محاذ کھولیں گے۔" اعتماد سازی کے لیے جسمانی موجودگی ضروری تھی۔ فون سے نہیں ہوتی تھی۔ خط سے نہیں ہوتی تھی۔ صرف آمنے سامنے بیٹھ کر ہوتی تھی۔

2018 میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان پیدل چل کر شمالی کوریا کی سرحد عبور کر گئے تھے۔ دنیا کی سب سے بھاری مسلح سرحد۔ دونوں ممالک تکنیکی طور پر جنگ میں ہیں۔ مون نے کم جونگ ان کا ہاتھ پکڑا اور سرحدی لکیر عبور کی۔ وہ تصویر تاریخ بن گئی۔ ٹرمپ سنگاپور سمٹ اسی تصویر کے بعد ممکن ہوا۔

آج عاصم منیر نے وہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایران پر حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ فرضی نہیں۔ تکنیکی نہیں۔ حقیقی بم گر رہے ہیں۔ حقیقی لوگ مر رہے ہیں۔ ایرانی فضائی حدود امریکی اور اسرائیلی نشانے پر ہے۔ اور اس فضائی حدود میں پاکستان کا فیلڈ مارشل داخل ہوا ہے۔ دورہ براڈکاسٹ ہوا ہے، تصویریں اتری ہیں اور یہ سب واضح پیغام ہیں.

سفارتکاری میں اعتماد سازی کئی سطحوں پر ہوتی ہے۔ سب سے نچلی سطح: پیغام بھیجنا۔ فون کرنا۔ خط لکھنا۔ درمیانی سطح: سفیر بھیجنا۔ وزیر خارجہ بھیجنا۔ بلند ترین سطح: خود جانا۔ اور سب سے بلند ترین سطح: خطرے میں خود جانا۔ جب آپ دشمن کی فائرنگ رینج میں داخل ہو کر دوست سے ملیں تو آپ اعتماد نہیں بنا رہے، آپ اعتماد بن جاتے ہیں۔

منیر جنگی وردی میں تہران اترے ہیں۔ یہ وردی اتفاقی نہیں ہے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایرانیوں کا استقبال بھی جنگی وردی میں کیا تھا اور 12 اپریل کو وینس سے ملاقات سول سوٹ میں کی تھی۔ وردی کا انتخاب شعوری ہے.

ایران کی قیادت زیر زمین ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے سامنے نہیں آ سکتے. اس ماحول میں ایرانی قیادت کے لیے کسی سے ملنا خود میں خطرہ ہے۔ ہر ملاقات ممکنہ لیک ہے۔ ہر لیک ممکنہ ہدف بنانے کا ذریعہ ہے۔مگر منیر آیا ہے۔ اور اس کے آنے کا مطلب ہے: "جب تک میں آپ کی سرزمین پر ہوں، آپ محفوظ ہیں۔ کوئی اسرائیلی یا امریکی حملہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ اگر حملہ ہوا تو پاکستان کا فیلڈ مارشل بھی نشانے پر ہو گا۔ اور دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت کے فوجی سربراہ کو نشانہ بنانا وہ سرخ لکیر ہے جو کوئی عبور نہیں کرے گا۔"

یہ انسانی ڈھال نہیں ہے۔ یہ اسٹریٹیجک ڈھال ہے۔ منیر کی تہران میں موجودگی ایران کو وہ سیکورٹی بلینکٹ فراہم کرتی ہے جو کوئی قرارداد، کوئی بیان، کوئی فون کال فراہم نہیں کر سکتی۔ ایرانی قیادت اپنی خفیہ کمین گاہوں سے باہر نکل کر منیر سے مل سکتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جب تک پاکستانی فیلڈ مارشل ایرانی سرزمین پر ہے، کوئی میزائل نہیں آئے گا۔ اگر ایرانیوں نے ثابت کیا ہے کہ 'ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے' تو پاکستانیوں نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ہے.

بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق کسی ملک کا فوجی سربراہ کسی ایسے ملک کا دورہ نہیں کرتا جو فعال جنگ میں ہو۔ وجوہات واضح ہیں: سیکورٹی خطرہ، غیرجانبداری پر سوال، اور حملہ آور فریق کو اشتعال۔ مگر منیر نے یہ سب پروٹوکول توڑ دیے ہیں۔ کیونکہ پروٹوکول عام حالات کے لیے ہوتے ہیں اور یہ عام حالات نہیں ہیں۔

منیر تہران میں وہ کام کر رہا ہے جو فون سے نہیں ہو سکتا: ایرانی قیادت سے آمنے سامنے بیٹھ کر، ان کی آنکھوں میں دیکھ کر، ان کے خدشات سن کر، ان کی سرخ لکیریں سمجھ کر، اور پھر واپس جا کر ٹرمپ کو بتانا کہ ایران کہاں تک آ سکتا ہے اور کہاں نہیں آئے گا۔ یہ وہ کام ہے جو ثالث خود کرتا ہے۔ قاصد نہیں بھیجتا۔ خود جاتا ہے۔

سفارتکاری میں ایک اصول ہے جو نصابی کتابوں میں نہیں لکھا مگر ہر تجربہ کار سفارت کار جانتا ہے: "جب آپ ثالث ہوں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو آپس میں دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کے گھر جائیں تو آپ ثالث نہیں رہتے، آپ ضامن بن جاتے ہیں۔"

پاکستان، جو کچھ کرکے دکھا رہا ہے، اس سب کے لیے بڑا جگرا چاہیے. منیر آج ضامن بن گیا ہے۔ پاکستان ضامن بن گیا ہے۔ اسلام آباد پراسیس ضامن بن گیا ہے اور انشاء اللہ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اچھی خبر ہے. اب اللہ کرے، یہ اسلام آباد اکارڈ باقاعدہ ایک معاہدے کی شکل اختیار کرے اور اس کے ثمرات پاکستانی عوام تک پہنچ سکیں اور ہمارے تربیلا ٹرپ کرنے بند ہو جائیں. آمین

Photos from Syed Asim Munir Ahmed Shah Next COAS's post 30/03/2026

🚨🇮🇱 ISRAEL FEARS PAK ARMY CHIEF ASIM MUNIR

A commentator from Jerusalem Post and former deputy mayor Fleur Nahoum:

"As of now, Israel remains angry at one person only that is Pakistani Military Chief Asim Munir. He is the one trying to vow Trump and push him away from Israel."

https://x.com/i/status/2038671915393450473

20/03/2026

پاکستان کو اس وقت استحکام اور داخلی سلامتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا فوکس یہی ہے کہ علاقائی تنازعات یا بیرونی حالات کا اثر ملک کے اندر نہ آئے۔
اچانک سے ملاقات کے دو دن بعد فیلڈ مارشل پر شروع ہونے والی تنقید زیادہ تر کسی مخصوص ایجنڈے یا سیاسی مقصد کے تحت ہے اور حقیقت میں ریاست کے مضبوط فیصلے کو غلط زاویے سے پیش کیے جانے کی بھونڈی کوشش ہے۔
ہمیں حقائق اور حالات کو سمجھ کر ہی رائے دینا چاہیے نہ کہ جذباتی یا پراپیگنڈے پر مبنی!

04/10/2025

جنرل عاصم منیر کون ہے ؟؟؟
وہ ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر چکا ہے وہ پاکستان کی سب سے بڑی تھرٹی کور کو کمانڈ کر چکا ہے وہ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ جنرل تک تیس سال گزار چکا ہے وہ برگیڈئیر کے ایک ستارے سے لیکر لیفٹیننٹ جنرل کے تین ستاروں تک آگیا ہے وہ اب کالر پر چار ستارے لگاۓ دنیا کی نویں بڑی فوج کا سربراہ ہے اسکو روزانہ کی بنیاد پر اسکا ایجوٹنٹ جنرل اور ڈی جی آئی ایس آئی درجنوں رپورٹس دیتے ہیں وہ روز اتنے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کارگل کی افغانستان کی جنگ میں خدمات دے چکا ہے وہ پاکستان کی بڑی کور انفنٹری کا تگڑا جرنیل ہے وہ پاکستانی تھنک ٹینک کا حصہ ہے وہ پالیسیز میکرز ٹیم کا حصہ ہے وہ ایک لفظ بولنے سے قبل دس بار سوچتا ہوگا اسکی تقریر پہلے دس جگہوں پر دیکھی جاتی ہوگی اسکے سیکریٹری ایجوٹنٹ جنرل آئی ایس پی آر GHQ کے جرنیل سب اِسکے مشورے سے چلتے ہیں وہ ایسی پالیسیز بناتے ہیں دنیا کہتی ہے GHQ کے جرنیلوں کی ہمیں سمجھ نہیں آ سکی وہ اثاثے ایسے رکھتے ہیں کہ پوری دنیا کی انٹیلیجنس ایجنسیز اربوں ڈالر جھونک کر نہیں ڈھونڈ پائی انکی پالیسیز کی دنیا معترف ہے اور پھر ہم اُسکو بتائیں گے کہ آپ نے روسی فلاں کام کیوں کیا واہ سبحان اللّہ گلی محلوں میں چلتے پھرتے جنگ سے نا واقف جذباتی قسم کے دانشورو جنہوں نے ملکی دفاع کے لیے زندگیاں گزار دی ہیں وہ بہت بہتر سمجھتے ہیں کس وقت کیا کرنا ہے اور کیسا بیان دینا ہے۔ تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں جو بھی ٹویٹر فیسبک پہ پاکستانی دفاعی اداروں کو برا بولتے تھکتے نہیں آپ پہلے اپنے گریبان کے اندر دیکھو تم نے اِس ملک کے لیے کیا ایسا کردیا ہے جو تمہارے اندر کا کیڑا تم کو سکون نہیں لینے دے رہا تم جیسے لوگ پاکستان پہ بوجھ ہیں اپنے دماغ اپنے دل اپنے ہاتھوں کو پاکستان کی بہتری کی طرف لگاٶ تاکہ تم پاکستان پہ بوجھ نہ بن سکو
پاکستان زندہ باد
پاک فوج زندہ باد

28/07/2025

Kindly like ans share their page. Thank you🌹.

28/07/2025

Kindly like and promote. Thank you.

15/07/2025

"Prime Educational Hub Limited offers an exclusive package of 8 valuable courses for HSE professionals at an extremely affordable price."

26/04/2025

Stay Strong Commander. The entire nation stands behind you. 🇵🇰👊🏻

Pakistan Zindabad

14/09/2022

Miltary Career:
Syed Asim Munir from the 17th OTS course, Mangla, who is a holder of Sword of Honour and was commissioned in the 23rd Battalion of Frontier Force Regiment. He was promoted to the rank of Lieutenant General in September 2018 and was subsequently appointed as DG ISI. He previously served as Director General of Military Intelligence. He was awarded the Hilal-i-Imtiaz in March 2018. He had earlier served as the commander of the Troops deployed in the Northern Areas of Pakistan.[3][4][5] In October 2018, he was appointed DG ISI and in June 2019, Munir was replaced by Lt Gen Faiz Hameed as the new DG ISI. Munir was transferred and appointed as Corps Commander in Gujranwala.[6] He is one of the most competent and courageous General of Pakistan army who has always excelled in his military career.

14/09/2022

Lieutenant General Syed Asim Munir Ahmed Shah HI(M) is a three-star rank general serving as a Quartermaster general in the Pakistan Army. He commanded the # # # Corps (Pakistan) in Gujranwala from 17 June 2019 to 6 October 2021.[1] He served as the 23rd Director-General of the ISI until 16 June 2019, when he was replaced by Lt Gen Faiz Hameed.[2] He is also a Hafiz e Quran and a holder of Sword of Honour and he is also most senior officer in November 2022 when Pakistan Government appoint new Army Chief and CJCSC

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Islamabad