20/03/2026
پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد:
اضطرابِ عالم کے ان سنگین لمحوں میں، جب عید الفطر کی روحانی پکار اور نوروز کی فطری انگڑائی ایک نایاب سنگم پر یکجا ہیں، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن مسلم امہ اور بالخصوص پختون افغان قوم کو مبارکباد پیش کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک عید محض ایک روایتی خوشی نہیں بلکہ انفرادی انا کی نفی اور 'اجتماعی بقا' کا وہ الہامی اعلامیہ ہے جو انسانیت کو ایثار کی لڑی میں پرو دیتا ہے، جبکہ نوروز جمود کو توڑ کر حیاتِ نو اور تجدیدِ مسلسل کا استعارہ ہے۔ تاہم، یہ جشن اس وقت سوگوار دکھائی دیتا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کے مسمار مکانوں سے لے کر پاک-افغان سرحدوں کے مسلح تصادم تک، بارود کے دھوئیں نے انسانیت کے شعور کو مفلوج کر دیا ہے۔ فخرِ افغان باچا خان کے فلسفہِ عدم تشدد اور خدمتِ خلق کی روشنی میں، ہم یہ باور کراتے ہیں کہ دشمنی صرف تباہی لاتی ہے، جبکہ عاجزی ہی وہ قوت ہے جو سنگلاخ پہاڑوں میں بھی محبت کے شگوفے کھلا سکتی ہے۔ آج جب تزویراتی مفادات نے انسانی جان کی حرمت کو پامال کر دیا ہے، ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ نفرت کے بیانیے کو مسترد کر کے ایک ایسی بستی کی بنیاد رکھیں گے جہاں بندوق کی جگہ قلم اور بارود کی جگہ صرف رنگِ گلاب بکھرے ہوں۔
پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بین القوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
15/03/2026
آج پشتو زبان کے عظیم شاعر، نابغۂ روزگار فلسفی اور آزاد فکر کے نمائندہ غنی خان بابا کی برسی ہے۔ غنی خان بابا برصغیر کی فکری و ادبی تاریخ کی اُن درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے نہ صرف پشتو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں بلکہ انسانی آزادی، جمالیات اور شعور کے ایک بلند تصور کو بھی فروغ دیا۔
غنی خان بابا کی شاعری دراصل انسان دوستی، محبت، آزادی اور فکری بیداری کا استعارہ ہے۔ انہوں نے پشتون معاشرے کے روحانی احساسات، اجتماعی دکھ اور انسانی وقار کو جس جراتِ اظہار اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا وہ انہیں پشتو ادب میں ایک منفرد اور بلند مقام عطا کرتا ہے۔ ان کا فکری سرمایہ آج بھی نئی نسلوں کے لیے روشنی، آگہی اور جراتِ فکر کا سرچشمہ ہے۔
پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، غنی خان بابا کی برسی کے موقع پر انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ اس تنگ نظری، جمود اور فکری گھٹن کے دور میں ہم غنی خان بابا کے روشن خیال افکار، انسانی مساوات کے پیغام اور آزاد فکر کی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
غنی خان بابا کی فکر اور شاعری آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ شعور، حسنِ نظر اور انسان دوستی کی ایک تابندہ مشعل بنی رہے گی۔
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
18/02/2026
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اعلیٰ سطحی وفد نے آج بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے پرووسٹ سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وفد نے ہاسٹل نمبر 4 سے بےدخل کیے گئے طلبہ کو درپیش میس مسائل پر تفصیلی گفتگو کی اور اس امر پر زور دیا کہ ماہِ رمضان کے مقدس ایام میں ان طلبہ کو درپیش مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
ملاقات کے دوران کویت ہاسٹل کے کیفے کی بندش اور میس کے انتظامی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ وفد نے واضح کیا کہ طلبہ کی بنیادی سہولیات میں کسی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہے اور انتظامیہ کو چاہیے کہ ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ اگر مذکورہ مسائل کا بروقت ازالہ نہ کیا گیا تو بھرپور اور منظم احتجاج کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں، تنظیم نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں بے تحاشا اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔ اس سلسلے میں جامعہ کے نائب صدر کو باقاعدہ درخواست بھی جمع کرا دی گئی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیسوں میں اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن بین القوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
07/02/2026
اے پښتنو هېر نکړئ دا ستاسو ليونې خټک
وخت به درنه داسې ليونې ګورې بيا هم غواړي
آج پشتون قومی تحریک کے ایک درخشاں باب، عظیم انقلابی شاعر، نظریاتی سیاستدان اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی رہنما، اجمل خٹک کی برسی ہے۔
اجمل خٹک بابا پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کے بانی رہنما تھے۔ انہوں نے ایسے دور میں پشتون طلبہ کو ایک پلیٹ فارم دیا جب سیاسی شعور، شناخت اور حقوق کی بات کرنا آسان نہیں تھا۔ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن طلبہ ایک فکری، نظریاتی اور شعوری تحریک تھی، جس نے نسل در نسل پشتون نوجوانوں کو سوال کرنے، سوچنے اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔
آج پشتون سیاست، ادب اور طلبہ تحریک میں جو بھی شعور نظر آتا ہے، اس کی بنیادوں میں اجمل خٹک کا یہی تاریخی کردار نمایاں ہے۔
بعد ازاں اجمل خٹک بابا عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر بھی رہے اور ایوان بالا کے رکن بھی منتخب ہوئے ۔ان کا اصل مشن عوامی شعور، جمہوریت اور پشتون حقوق کی جدوجہد تھا۔
بطور شاعر، اجمل خٹک پشتو زبان کے عوامی اور انقلابی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں مزاحمت، محبت، انقلاب اور انسان دوستی ایک ساتھ سانس لیتی ہے۔ ان کا قلم آمریت اور جبر کے سامنے کبھی نہیں جھکا۔
ذاتی زندگی میں وہ ایک انتہائی ملنسار، سادہ اور عوام دوست انسان تھے۔ طلبہ کے لیے وہ محض رہنما نہیں بلکہ ایک استاد اور رہبر تھے۔
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ہم اپنے بانی رہنما اجمل خٹک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ان کے نظریات، ان کی فکر اور ان کے خوابوں کو آنے والی نسلوں تک منتقل کریں گے۔