17/05/2026
“بلوچستان کے ڈیری فارمرز بدترین معاشی بحران کا شکار، حکومت فوری نوٹس لے” —
حاجی خادم حسین مینگل، جنرل سیکرٹری ڈی سی ایف اے بلوچستان
بلوچستان خصوصاً کوئٹہ ، خاران اور دیگر شہریوں کے ڈیری فارمرز اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہے ہیں۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول و ڈیزل کی ہوشربا قیمتیں، جانوروں کی خوراک، سبز چارہ، بھوسہ، ونڈا، ادویات، بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ڈیری فارمنگ کے شعبے کو مکمل تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو بلوچستان میں دودھ کی شدید قلت، ہزاروں فارمز کی بندش اور لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
میں حکومتِ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، کمشنر کوئٹہ، ضلعی انتظامیہ، محکمہ لائیو اسٹاک اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیری فارمرز کے مسائل کا فوری نوٹس لیں۔
آج بلوچستان کے ڈیری فارمرز شدید ذہنی دباؤ اور مالی تباہ حالی کا شکار ہیں۔ چند سال قبل جو پٹرول اور ڈیزل تقریباً دو سو روپے فی لیٹر دستیاب تھا، آج وہ چار سو روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس خطرناک اضافے نے جانوروں کی خوراک، سبز چارہ، ادویات، دودھ کی ترسیل، پانی کی سپلائی اور فارم آپریشن کے تمام اخراجات کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔
کوئٹہ ایک خشک، پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ ہے جہاں زرعی زمین محدود ہے اور سبز چارہ و جانوروں کی خوراک مقامی سطح پر وافر مقدار میں دستیاب نہیں۔ سندھ، پنجاب، کراچی اور دیگر علاقوں سے بھاری ٹرانسپورٹ اخراجات کے ساتھ چارہ، بھوسہ، ونڈا، مکئی، کھل، چوکر اور دیگر ضروری اجناس کوئٹہ لائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں ڈیری فارمنگ کی لاگت ملک کے دیگر صوبوں اور شہروں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
دوسری جانب کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، نوابشاہ، لاڑکانہ، شکارپور، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ایبٹ آباد، راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے علاقوں میں فارمرز کو مقامی سطح پر سبز چارہ، فصلوں کی باقیات اور نسبتاً سستی خوراک میسر ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر وہاں دودھ کے نرخ دو سو چالیس، دو سو ساٹھ روپے فی لیٹر بلکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ مقرر کیے جا چکے ہیں۔ لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ کوئٹہ جیسے مہنگے ترین شہر میں آج بھی دودھ کا سرکاری نرخ صرف ایک سو پچاسی روپے فی لیٹر مقرر ہے، جو کسی بھی صورت زمینی حقائق، مہنگائی اور پیداواری لاگت کے مطابق نہیں۔
ڈیری فارمرز آج شدید نقصان میں دودھ فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک طرف جانوروں کی خوراک کی قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں، دوسری طرف جانوروں میں بیماریوں کے علاج، ویکسین، ویٹرنری ادویات اور لیبر کے اخراجات بھی ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی نے دودھ کولنگ، واٹر سپلائی اور فارم مینجمنٹ کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بلوچستان میں لائیو اسٹاک صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگی، روزگار اور معیشت کا واحد سہارا ہے۔ اگر یہی شعبہ تباہ ہو گیا تو صرف فارمرز ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ دودھ سپلائرز، ڈرائیورز، مزدوروں، چارہ فروشوں، ویٹرنری ورکرز اور اس شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔
ہم حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
• دودھ کے نرخ فوری طور پر زمینی حقائق کے مطابق ازسرِ نو مقرر کیے جائیں۔ • ڈیری فارمرز کے لیے خصوصی سبسڈی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ • جانوروں کی خوراک، بھوسہ، ونڈا اور سبز چارے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔ • ڈیری فارمرز کو سستا ڈیزل، بجلی اور ویٹرنری سہولیات فراہم کی جائیں۔ • بلوچستان میں جدید ڈیری اور لائیو اسٹاک پالیسی متعارف کروائی جائے۔ • فارمرز کے لیے آسان قرضوں اور مالی معاونت کا نظام بنایا جائے۔ • دودھ کی پیداوار بڑھانے اور مقامی نسلوں کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
اگر آج ڈیری فارمرز کی آواز نہ سنی گئی تو کل بلوچستان میں دودھ کا شدید بحران پیدا ہوگا، ہزاروں فارمز بند ہو جائیں گے اور اس معاشی تباہی کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکومتی حکام پر عائد ہوگی۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) “Save Farmer Save Pakistan”

12/05/2026
06/05/2026