26/09/2026
اللہ خیر کرے۔۔۔ افغانستان سے کچھ خبریں اچھی نہیں آرہی ہیں۔ اگر یہ خبر سچ ثابت ہوئی تو یہ افغانستان کا بہت بڑا نقصان ثابت ہوگا۔
خبر یہ ہے کہ متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔ کہ پاکستانی فضائیہ کی بمباری میں قندھار جو کمپلیکس نشانہ بنا تھا اس کے اندر ایک اعلی سطح اجلاس شروع تھا جس کی قیادت افغانستان کے
امیر ملا ہیبت اللہ صاحب کر رہے تھے۔ فضائی بمباری میں وہ کمپلیکس ( جس کو عام زبان میں سرائے عمر بھی کہتے ہیں) مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے ۔کیونکہ اس پر پاکستانی فضائیہ نے 2000 پاؤنڈ وزنی بم PK-84 گرایا تھا۔ اس اجلاس میں موجود تمام کمانڈروں کے بارے میں خطرناک خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہ حملے کے بعد اجلاس میں شریک تمام کمانڈرز زندہ نہ رہے۔
آج جمعہ کی نماز کے بعد کرم بارڈر کے اوپر دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئی
ہیں۔ جس میں بھاری اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ جھڑپیں اس قدر شدید تھیں کہ پاکستانی افواج کو اپنے مسلح ڈرونز اڑانا پڑے۔
اس وقت بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے لیکن اس کی شدت میں کمی اگئی ہے۔
قندھار چمن بارڈر پر اس وقت خاموشی ہے ۔ اور یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا اشارہ دے رہی ہے۔ کیونکہ افغان افواج اہستہ اہستہ قندھار زون میں اکٹھی ہو رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ننگر ہار پکتیا پکتیکا اور خوست میں بھی بڑی تعداد میں فوجی کانوائے داخل ہوتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔
اج انڈیا کے چار ٹرانسپورٹ کارگو طیارے ایران کے راستے قندھار اور کابل ایئرپورٹ پر اترے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد میں ٹینک شکن میزائل۔ شولڈر لانچ ایئر ڈیفنس میزائل۔ اور ڈرون کے بکسے بڑی احتیاط کے ساتھ اتارے گئے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت غیر اعلانیہ 48 گھنٹے کے لیے سیز فائر ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ کل رات کی لڑائی میں ملا یعقوب وزیر دفاع کی بہترین
ریڈ یونٹ ( جس کو سرخ قطع کہتے ہیں ) نے کافی نقصان اٹھایا ہے۔ کیونکہ اس کو روکنے کے لیے پاکستان کی طرف سے انتہائی خطرناک سپیشل اپریشن گروپ(. SOG) کو تعینات کیا گیا تھا۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ گلستان والی سائیڈ پر ایک پوسٹ کو توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جہاں سے انہوں نے 15 بندوں کی تشکیل پاکستان میں داخل کی ہے۔ لیکن اج دوپہر تک ایک بڑے تلاشی اپریشن کے دوران زیارت گلستان کے علاقے میں یہ تشکیل
نیپال روانہ کر دی گئی ہے۔ جس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ۔
افغانستان کے ترجمان ملا زبیح اللہ مجاہد صاحب نے پاکستان سے فضائی بمباری کا بدلہ لینے کی بات دو مرتبہ دہرائی ہے۔ جس کے لیے وہ فوجوں کا اجتماع پاکستانی سرحد پر کر بھی رہے ہیں۔
ابھی ابھی خبر ارہی ہے کہ پاکستان کے ڈرون یا جیٹ طیاروں نے افغانستان کے اندر کئی اہداف پر ایک مرتبہ پھر بمباری کی ہے۔
اس کی اپڈیٹ جونہی آئے گی۔ اپ کو صبح کنفرم کر کے خبر کی شکل میں پہنچا دی جائے گی۔