اب کاروبار پر لکھی گئی کتابیں ضرور پڑھیں اب اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کتاب خریدیں بلکہ آپ یہ پی ڈی ایف مفت میں ڈاؤن لوڈ کر سکتے اگر پڑھنے کا ٹائم نہیں تو یوٹیوب پر سرچ
جو بھی ویڈیو آپ کو اچھا لگے وہ دیکھیں
میں آپ کو کوئی بھی یوٹیوب چینل کوئی بھی کتاب کوئی بھی پی ڈی ایف فائل کے بارے میں نہیں بتا رہا کہ آپ یہ دیکھیں یہ نہ دیکھیں آپ یہ سارا کام خود کرے
اور سب سے آخر میں میں آپ کو یہ سب کرنے کا انتہائی زبردست فائدہ بتانے جارہا ہوں
آپ کو کاروبار شروع کیے کتنا ٹائم ہوگیا ہوگا دو سال پانچ سال دس سال یا پھر اس سے بھی زیادہ ہے
لیکن جو بندہ کتاب لکھتا ہے وہ اپنی پوری زندگی کا تجربہ نچوڑ اس میں لکھ رہا ہوتا ہے اس لئے سب سے بہتر یہی ہوتا ہے کہ آپ ان کے تجربوں سے سیکھیں
Pdf Free Books
Pdf Free Books لائبریری فری کتابوں کی دنیا میں خوش آمدید
ہمارے ہاں ابھی شادی کو جمعہ جمعہ 8 دن نہیں گذرتے کہ محلے بھر کی آنٹیاں، باجیاں اور خاندان کی چاچیاں ، مامیاں بڑے مشکوک انداز میں اور بظاہر سرگوشی کرتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر دلہن سے پوچھنے لگتی ہیں *ہاں جی، کوئی خوشخبری ہے*؟ یا *ہے کوئی خوشخبری پھرررر؟؟؟*
اور صرف ایک بار نہی بلکہ ہر ملاقات کا آغاز اسی جملے سے کیا جاتا ہے __
کیوں جی 😡😠 بس یہی ایک کام رہ گیا ہے زندگی میں؟ اور کیا یہ اس کے اپنے بس میں ہے؟ کیوں غریب کو پریشان کرتے ہو؟ کیوں وقت سے پہلے ذہنی دباؤ کا شکار کرکے معصوم کی خوشیاں چھینتے ہو؟
صبر نہیں ہے 8،9 مہینے کا کہ جب بھی نیا مہمان آئیگا تو اس نے کوئی سلیمانی ٹوپی نہیں پہنی ہوگی جو آپ کو دِکھائی نہیں دے گا، دل بھر کے دیکھ لینا پھر ___ 😏
یہ جملے لڑکی کو کس حد تک پریشان کرسکتے ہیں بلکہ کرتے ہیں اس کو ایک عورت ہی محسوس کرسکتی ہے نہ کہ مرد، (پھر بھی لکھنا مجھے پڑ رہا ہے 😂) لیکن افسوس کہ یہ سوال کرنیوالوں میں 95% عورتیں ہی ہوتی ہیں، اور مقصد ہمدردی جتلانے کے مارے فقط چسکے لینا،
اور جن کی اولاد شادی کے 4،5 سال بعد بھی نہ ہوئی ہو ان کو ایسا کہنا *اب تو کوئی خوشخبری سنا ہی دو* سننے والی کے دل کے آر پار ہوجاتا ہے
اسی طرح کچھ لوگ مختلف مانے تانے ڈاکٹروں کے مشورے دینے لگتے ہیں،
بھئی جس سے پوچھ رہے ہو کیا اس کو فکر نہیں ہے، اس کو اولاد کی خواہش نہیں ہے؟ کیا اس نے علاج کی حتی الوسع کوشش نہی کی ہوگی؟؟؟ 😏😏
نجانے کس کس طرح بیچاری نے دل کو سمجھایا ہوگا، امیدیں دلا دلا کر اپنے اندر کے شور کو دبایا ہوگا ، خود ہی اپنے آپ کو دلاسے دیے ہونگے
ذہن بٹانے کیلیے زبردستی کوئی مصروفیت ڈھونڈی ہو گی
لیکن اس احمقانہ، بچگانہ ہمدردی نے اس کے سارے زخم پھر سے تازہ کردیے ___
اری ماؤں بہنوں! دوسروں کو Space دینا سیکھو، فالتو سوال اگنور کرنا سیکھو، آپ کیلیے تو شاید یہ معمولی سی بات ہے لیکن کسی دوسرے کا سکون برباد کرسکتی ہے ،
یہ نہ ہو کہ خدانخواستہ کل یہ وقت آپ پر یا آپ کے کسی عزیز پر بھی آجائے ___
اور نہ بھی آئے تب بھی یہی کہوں گا کہ کوئی مروّت ہوتی ہے، کوئی صبر ہوتا ہے کوئی لحاظ ہوتا ہے،
نوٹ : پوسٹ کو جرنلی لیا جائے ، پرسنل قطعا نہ لیا جائے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا خوبصورت واقعہ !!!
قافلہ ابھی شہر سے تھوڑا پیچھے تھا کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اونٹوں پر لدا ہوا سامان تجارت جو کہ کھجوروں اور اناج پر مشتمل تھا بھیگنے لگا . بارش سے محفوظ جگہ پر پہنچتے پہنچتے آدھا مال بھیگ چکا تھا. منڈی میں پہنچ کر تاجروں نے مال اتارنا شروع کیا ان تاجروں میں ایک بہت معصوم چہرے والا انتہائی خوش شکل نوجوان تاجر بھی موجود تھا. اس نوجوان تاجر نے جب اپنا مال اتارا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا. خشک کھجوریں اور خشک اناج ایک طرف رکھ دیا اور بھیگی کھجوریں اور اناج علیحدہ کر کے رکھ دیا. جب خرید و فروخت شروع ہوئی تو نوجوان تاجر کے پاس جو خریدار آتا وہ اسے بھیگے مال کا بھاؤ کم بتاتے جب کہ خشک مال کا بھاؤ پورا بتاتے گاھک پوچھتا کہ ایک جیسے مال کا الگ الگ بھاؤ کیوں تو وہ بتاتے کہ مال بھیگنے سے اس کا وزن زیادہ ہوگیا ہے خشک ہونے کے بعد وزن کم ہوجائے گا یہ بددیانتی ھے .
لوگوں کیلئے یہ نئی بات تھی تھوڑی ہی دیر میں پوری منڈی میں ان کی دیانتداری کا چرچا ہوگیا. لوگ جوق در جوق معصوم صورت والے تاجر کے گرد جمع ہونے لگے. ان کے اخلاق کے گرویدہ ہوگئے..........
وہ معصوم اور خوش شکل نوجوان "ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم" تھے،،
❤
11/07/2021
I want a online Marketing Manager to introduce and market PDF books online. Its home based Job.
FIA K JOBS K TYARI K LIYE PDF AVAIALBLE HE.
Message inbox of page to avail it. Thanks.
07/02/2021
*گڑیا بولتی کیوں نہیں*
چار سال کی گڑیا کی شلوار میں چچا شکور کو ہاتھ ڈالتا دیکھا, مگر ماں چپ رہی. بس گڑیا کو شکور کے پاس جانے سے روک دیا.
بارہ سال کی گڑیا کو سکول جاتے ہوئے لڑکے چھیڑتے تھے تو اسے برقع پہنا دیا. مگر لڑکے پھر باز نہ آئے. ماں سکول جانے سے ہی نہ روک دے گڑیا نے ماں سے کچھ کہنا چھوڑ دیا. چپ رہی.
نویں جماعت اور دسویں جماعت کے امتحانوں سے پہلے میتھ کے ٹیچر نے گڑیا کو کلاس کےبعد روکنا شروع کر دیا. ٹیچر بورڈ میں داخلہ نہ روک دے گڑیا چپ رہی.
مگر اتنا اس کو پتا لگ گیا تھا کہ اب وہ شادی کے قابل نہیں رہی. ابا کو پتا چل گیا تو وہ تو جان سے ہی مار دے گا اس لیے گڑیا چپ رہی.
چچا شکور نے اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگ لیا. ابا نے ہاں کر دی اماں اور گڑیا چپ رہی.
منگنی ہو گئی منصور گندے گندے میسج کرتا تھا. گڑیا جواب نہیں دیتی تھی تو اس کی ماں کو کال کر کے منگنی توڑنے کی دھمکی دیتا تھا. گڑیا چپ رہی.
کالج سے واپسی پر چچا شکور گڑیا کو لے کر جانے کی ضد کرتا تھا اور معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھتا تھا یاد ہے تجھے بچپن میں تجھے کیسے پیار کیا کرتا تھا میں. گڑیا چپ رہی.
کس سے کہتی کیا کہتی.
شادی ہو گئی. منصور نے بہت مارا تو تو سیکنڈ ہینڈ نکلی حرافہ مجھ سے فون پر بات نہیں کرتی تھی نیک پروین بنتی تھی. کدھر منہ کالا کیا. گڑیا چپ رہی.
اگلے دن منصور نے کہا میں تجھے واپس باپ کے گھر, چھوڑ, کر آتا ہوں. شکور نے کہا پہلے مجھے بدلہ لینے دے. کمرہ بند. گڑیا چپ رہی.
شام کی چائے میں گڑیا نے باپ بیٹے کو زہر دے دیا اور باپ کے گھر آ گئی.
خبر لگی زبردستی کی شادی پر دلہن نے سسر اور دلہے کو زہر دے دیا.
فیس بک پر لوگ کہنے لگے کہ اپنے باپ کو زہر دیتی, شوہر اور سسر کو کیوں قتل کیا؟
پولیس پوچھتی رہی کہ تم نے ایسا کیوں کیا. گڑیا چپ رہی.
ڈاکٹر بن جانے کے بعد رشتہ کا انتظار شروع ہوگیا ۔ لیکن امی ابو کو کوئی رشتہ پسند ہی نہیں آتا تھا ۔ چنانچہ عمر رفتہ رفتہ ڈھلنے لگی ۔ لیکن کہتے ہیں خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔
پھر جب ایک دن میں ہاسپٹل ﺳﮯ ﻟﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﯽ بائیک کھڑی کرکے اس پر ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ , ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ۔
ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ بائیک پر ﺑﯿﭩﮭﮯﺩﯾﮑﮭﺘﯽ۔ ۔ ۔ ہمارا گھر شہر کے مہنگے ترین علاقے میں ہونے کی وجہ سے بالعموم بائیک بہت کم دیکھی جاتی تھی۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ گو کہ غریب لیکن ﺑﮩﺖ ﺑﺎ ﺍﺩﺏ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎﺭﮨﺘﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞﮨﻮﺗﯽ ۔ ۔ ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮨﮯ ﮐﻮﻥ؟ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﺳﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ۔ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ۔ ۔
ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ بائیک پر ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﻮ ﺩﻝ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﮬﮍﮐﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ۔
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎﮨﮯ ؟؟ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟؟؟
ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ ۔ ۔ ۔
ﻋﻤﺮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭨﮯ ۔ ﯾﮧﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ پرانی بائیک ﺍﺱ ﮐﯽ ﻏﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟﻭﮦ ﺑﺎ ﺍﺧﻼﻕ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺩﻥ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﮔﺌﮯ ۔ ۔ ۔ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ۔ ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ
ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺧﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ؟؟
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺍﺳﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﻧﮧ ﺩﮮ ؟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺟﻮﮌ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟؟ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ، ﺁﺝ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ بائیک ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﻞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﮐﺎ ﻓﺮﻕ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻏﺮﺑﺖ ﻣﯿﮟﺑﮭﯽ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﮯ ۔
اب تو کم و بیش مہینہ ہونے کو آیا ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ۔ ۔ ۔ ﺍﺏ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ؟ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ؟
ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ۔ ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ۔ ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ، ہاتھ اپنی گود میں رکھے بائیک ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ۔ ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﭼﻮﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯿﺎ ۔ ۔ ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ؟؟؟؟
۔
“باجی ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ...ﺁﭖ ﮐﮯ وائی فائی ﮐﻮ ﭘﺎﺳﻮﺭﮈ نہیں ﻟﮕﺎ ہوا"
For Dr faraha
السلام علیکم ! ناف چک کرنے کا تر یقہ . . . . . سیدھا کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ کے انگوٹھے سے پاؤں کے انگوٹھوں کو ہاتھ لگائیں ہاتھ نہ لگے اور ٹانگوں میں کھچا ؤ ہو . . . . دوسرا طریقہ سیدھے لیٹ جائیں دھاگا لے کر اسکا سرا نا ف پر رکھیں اور با قی پہلے ایک چھاتی کے نپل پر رکھتے ہوئے وہی دھاگا دوسرے نپل پر رکھیں . . . یاد رہے ایک ہی دھاگا تینوں سے ملائیں اگر برابر ہے تو ناف نہیں ہے . ناف ہوگی تو دھاگے کی خرابی سے پتا چل جائے گا فرق ہوگا . . . . یہ عضلا تی تحریک میں ہوتا اور , قبض گیس اور عضلا تی علامات کی وجہ سے ہوتا .
علاج : دو د ھ میں دیسی گھی ڈال کر استعمال کریں اور عضلات غزا سے پر ہیز کریں . . .
06/02/2021
بالآخر وہ گلی مل ہی گئی جس کے متعلق یوسفی صاحب نے کہا ہے
کہ اندرون لاہور کی کچھ گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ ایک طرف سے اگر مرد آئے اور دوسری طرف سے عورت تو درمیان میں صرف نکاح کی ہی گنجائش بچتی ہے ۔
یہ ہے وہ گلی جناب
شمازیپلا اپنے خاندان میں نظر لگ جانے کی حد تک حسین لڑکی تھی،اس کے سارے "میل کزنز" اس سے ہمہ وقت بات کرنے کے لیے تڑپتے، بلکتے، روتے اور بہانے تلاش کرتے رہتے تھے لیکن شمازیپلا ان میں سے کسی کو گھاس تک نہیں ڈالتی تھی سوائے انتہا کے امیر مورکیزم احمد کے
وہ اس کے بڑے تایا کا سب سے بڑا لڑکا تھا، وہ 35 ویں گریڈ کا آفیسر تھا اور اس کا آئی کیو البرٹ آئنسٹائن سے دگنا تھا، مورکیز کی گھنی مونچھیں جنہوں نے اس کے دونوں موٹے موٹے ہونٹوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا، شمازیپلا کو بہت پسند تھیں، شاید شمازیپلا کا مورکیز احمد کی جانب اٹریکٹ ہونا بھی مبینہ طور پہ اس کی مونچھوں کا گھنا ہونا تھا۔۔
شمازیپلا صوم و صلاة کی پابند لڑکی تھی، سال کے آٹھ ماہ روزے رکھتی اور پانچ وقت نماز کے ساتھ نفلی عبادات بھی بہت زیادہ کرتی تھی۔۔ دو حج اور پانچ عمرے کر رکھے تھے۔ شمازیپلا پہ نہ صرف اس کا خاندان بلکہ پورا ملک فخر کرتا تھا۔۔ وہ انتہا کی سادگی پسند سلیقہ شعار لڑکی تھی، اس کو زیادہ بننا سنورنا قطعی پسند نہیں تھا
ابھی پچھلے ہفتے شمازیپلا کو اس کے پھوپھا کی خالہ کی ساس کی بہن کے پوتے کی سالگرہ میں جانا پڑا تو اس نے مورکیز سے زبردستی ایک مہنگی سیاہ کلر کی جارجٹ کی ساڑھی گفٹ لی، کیونکہ گہرے سیاہ رنگ میں شمازیپلا کا قدرے سانولا رنگ نکھر آتا تھا، اس نے وہ سیاہ جارجٹ کی ساڑھی پہنی جس پہ دنیا کے سب سے بہترین کاریگروں نے شب و روز محنت سے ایمبرائڈری کی تھی
وہ شیشے کے سامنے بیٹھی تیار بھی ہورہی تھی اور اس فانی دنیا پہ غور و فکر بھی کر رہی تھی، آخرت کے خوف نے اس کے حسن کو اداس کر دیا تھا۔۔ اس نے سلیقے سے بال باندھے ہوئے تھے، دنیا میں اس کے جیسے بال کوئی نہیں باندھ سکتا تھا، کانوں میں بڑے آویزے جھول رہے تھے بالکل ایسے جیسے کوئی خوبرو دوشیزہ ساون میں جھولا جھول رہی ہو، آنکھوں میں بڑے سلیقے سے میک اپ کیا، رخساروں پہ حیا کی سرخی کے ساتھ بلش آن کی سرخی بھی شامل ہوگئی تھی، ہونٹوں پہ انتہائی دلکش انداز میں شیڈ والی لپ اسٹک لگائی، تیار ہوکر اس نے خود کو شیشے میں دیکھا، اس سادگی میں بھی وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔۔
تیار ہونے کے بعد اس نے دو رکعت نفل پڑھے اور جلدی اپنے جانو مورکیز کو میسج کیا کہ وہ اسے فنکشن والے گھر ڈراپ کردے، فنکشن میں جیسے ہی شمازیپلا کی آمد ہوئی سب کا دھیان اس کی طرف ہوگیا، ہر آنکھ اس کی طرف ہو گئی، وہ سب کی مرکز نگاہ بن چکی تھی، لوگ فنکشن بھول کر اس کو دیکھنے میں محو تھے، مانو کسی نے سب پہ سحر طاری کردیا ہو، تب اس کی بچپن کی سہیلی "وائے دز کولاویری" بھاگتی ہوئی آئی اور اس کے کان میں کہا، " یار چپل کیوں نہیں پہن کر آئیں؟"
نمرہ احمد کے ناول " وہ اس دنیا کی اخری اچھی لڑکی تھی" سے اقتباس
نگھی چادر تان کے سو گے
مالک چور پچھان کے سو گے
لوٹن والیاں رج کے لوٹیا
جاگن والے جان کے سو گے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad
