26/09/2023
مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی ہر آدمی بڑی گاڑی کو بینک کیوں سمجھتا ہے جدھر جاٶ پیسہ دو پیسہ دو کوٸی حرام کی منڈی ہے
کسٹم والے چاۓ پلاٶ محبت کر پیار کر جو وردی پہن کر روڈ پے آ جاۓ چھوٹی سی پرچی پکڑاٸی چالان ٹھوکا جاٶ
ادھر گاڑی لوڈ ان لوڈ ہو انعام دو وہ بھی ان کی مرضی کا آخر کیوں مزدوری نہیں لیتے ڈراٸیور نے بھی مالک کو جواب دینا ہوتا ہے یہ لوگ یہی سمجھتے ہیں ڈراٸیور سے زیادہ تو امیر ہے ہی کوٸی نہیں حالانکہ یہ نہیں جانتے ان کی جیب جن پیسوں سے بھری ہوتی ہے وہ کسی کے ہوتے ہیں ان کی ٹینشن صرف ڈراٸیور کو ہوتی ہے

05/05/2023
12/09/2022
12/09/2022