12/05/2022
تحریر: رزاق غورزنگ|
انسانی معاشرے کے لاکھوں سال کے تاریخی ارتقا میں انقلابات نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس تاریخی عمل کے دوران انسانی معاشرے نے مختلف معاشی اور سماجی نظام اختیار کرکے پیداواری قوتوں اور معیارِ زندگی کو آگے بڑھایا ہے۔ جب بھی کوئی معاشی و سماجی نظام پیداواری قوتوں کو ترقی دینے سے قاصر ہوجاتا ہے تو وہ اپنی تاریخی حیثیت کھوکر انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے، تب اس دم توڑتے نظام کے خلاف بغاوتیں اور انقلابات جنم لیتے ہیں۔ انقلابات کو کارل مارکس نے تاریخ کا انجن کہا ہے۔
حکمران طبقات کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ جھوٹی تاریخ اور پراپیگنڈے کے ذریعے ان بغاوتوں اور انقلابات کو مسخ کر کے ان کو المیے کے طور پر پیش کریں تاکہ عوام کو ڈراکر ان کے شعور میں انقلابات سے نفرت اور بیزاری پیدا کی جاسکے۔ اپنے زرخرید دانشوروں کے ذریعے حکمران طبقات ایسی تاریخ لکھتے ہیں جس میں نہ صرف انقلابات کو مسخ کیا جاتا ہے بلکہ ان انقلابات کے انقلابی کرداروں اور قائدین کی منظم کردارکشی کی جاتی ہے۔
ایسا ہی ایک انقلاب اس خطے کی تاریخ میں افغانستان کی سرزمین پر آج سے اکتالیس سال پہلے برپا ہوا تھا،جس نے افغانستان اور اس پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس انقلاب نے خطے کے محنت کش و مظلوم طبقات کی آزادی کے حوالے سے امید کی نئی کرن پیدا کی تھی۔ آج کارپوریٹ میڈیا میں افغانستان کو مذہبی بنیاد پرستی، جہاد، طالبان، وارلارڈز اور منشیات کے مرکز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بربریت افغانستان کے مظلوم عوام کو ایک لمبے عرصے سے تاراج کررہی ہے لیکن یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اس انقلاب کو عالمی اور علاقائی سامراجی قوتوں کی براہ راست مداخلت کے نتیجے میں مذہبی بنیاد پرستی کے رجعتی ردانقلابی وار کے ذریعے تباہ کیا گیا اور افغانستان کے معاشرے کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیا۔ افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ میں ان رجعتی قوتوں کے ابھار اور موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان ثور انقلاب کے عروج وزوال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے۔
اپنے اسٹرٹیجک محل وقوع کے اعتبار سے افغانستان اس خطے کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جیسا کہ فریڈرک اینگلز نے لکھا تھا:
”افغانستان کی جغرافیائی موقعیت اور اس میں بسنے والے لوگوں کا مخصوص کردار اس ملک کو وہ سیاسی اہمیت عطا کرتا ہے جس کو وسطی ایشیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔“
افغانستان وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے ملاتا ہے اور اسی جغرافیائی موقعیت نے اس ملک کے سیاسی و تاریخی معاملات میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے جو آج تک مسلمہ ہے۔ 19ویں صدی میں یہ ملک انگریز سامراج اور زار شاہی روس کے درمیان بفرزون تھا۔

16/04/2022
16/04/2022
16/04/2022
15/04/2022
15/04/2022
06/03/2022
06/03/2022