کیسی شدت سے تجھے ھم نے سراھا ، آھا.!!
تیری پرچھائیوں کو بھی ٹُوٹ کے چاھا ، "آھا"
آخری سانس کی لذّت کوئی اُس سے پوچھے.!!
مرتے مرتے بھی جو بیمار کراھا ، " آھا "..
شعر کہنا ھے تو یُوں کہہ کہ ترا دُشمن بھی.!!
دُشمنی بُھول کے چِلا اُٹھے ’’ آھا ، آھا ‘‘ ..
تیری آنکھوں میں کھٹکتا ھے مرے جیسا فقیر.!!
کیسا اعلٰی ترا معیار ھے " شاھا " ، " آھا "
کل مرے حق میں تھا اور آج مخالف ھُوا تُو.!!
کیسے بدلا ھے بیاں تُو نے ، " گواھا " ، " آھا"
آج بھی یاد اگر آئے تو جُھوم اُٹھتا ھوں.!!
ماہِ کامل تھی جبیں، نام تھا " ماھا " ، " آھا "
رحمان فارس
Bikhro To Khusbhu Ki Tarah بکهروتوخوشبوکیطرح
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bikhro To Khusbhu Ki Tarah بکهروتوخوشبوکیطرح, Library, Sector F8 islamabad, Islamabad.
تجھ کو پانے کی یہ حسرت مجھے لے ڈوبے گی
لگ رہا ہے کہ محبت مجھے لے ڈوبے گی
حالت عشق میں ہوں اور یہ حالت ہے کہ اب
ایک لمحے کی بھی فرصت مجھے لے ڈوبے گی
اب میں سمجھا ہوں کہ یہ درد محبت کیا ہے
یہ ترے پیار کی شدت مجھے لے ڈوبے گی
میری بیتابی دل چین نہ لینے دے گی
تیری خاموش طبیعت مجھے لے ڈوبے گی
تیری آنکھوں کے سمندر میں خیالوں کی طرح
ڈوب جانے کی یہ عادت مجھے لے ڈوبے گی
ڈوبتی نبض کہیں کا نہیں چھوڑے گی مجھے
درد لے ڈوبے گا وحشت مجھے لے ڈوبے گی
تیری آنکھوں کا یہ جادو کہیں لے جائے گا
یہ تری سادہ سی صورت مجھے لے ڈوبے گی
تیرے اشکوں سے کلیجہ مرا کٹ جائے گا
میری حساس طبیعت مجھے لے ڈوبے گی
ہر قدم پر میں ترا بوجھ اٹھاؤں کیسے
زندگی تیری ضرورت مجھے لے ڈوبے گی
جاوید صبا
وہ میری میت پہ آکھڑا ہے تو رو پڑا ہے
کفن ذرا رخ سے جو ہٹا ہے تو رو پڑا ہے
کہا تھا میں نے جدائیاں مجھ کو مار دینگی
اسے اب آ کے یقیں ہوا ہے تو رو پڑا ہے
مجھے خفا کرکے پھر منانے کو بھی نہ آتا
وہ اب منانے جو آگیا ہے تو رو پڑا ہے
وہ شخص کہتا کہ تیرے جانے کا غم نہ ہوگا
وہی جو مجھ سے جدا ہوا ہے تو رو پڑا ہے
کسی نے پوچھا مِرے حوالے سے جب بھی اس سے
کہاں گیا ہے وہ کیوں گیا ہے تو رو پڑا ہے
وہ تیرا عاشق,وہ تیرا مجنوں,رہا نہیں ہے
کسی نے جب اس سے یہ کہا ہے تو رو پڑا ہے
کہ یوں بھی تھا وہ اداس اور پھر کسی نے پوچھا
تمھاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے تو رو پڑا ہے
ہمارے دل کو دکھانے والے کا آج اپنا
بس اک ذرا سا جو دل دُکھا ہے تو رو پڑا ہے
وہ نرم و نازک تو اس قدر ہے کہ جب ہوا نے
اسے ذرا زور سے چھُوا ہے تو رو پڑا ہے
میں سخت جاں ہوں جو اتنے صدموں کو جھیلتا ہوں
اسے تو کانٹا بھی اک چبھا ہے تو رو پڑا ہے
اگر وہ پوچھے اعجاز اب تم سے دل کی حالت
تو کہنا جب جب دھڑک اٹھا ہے تو رو پڑا ہے
شاعر:محمد اعجاز خان
03/10/2017
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئ
جان لینے کو یہ احساس کہِیں کُچھ کم ہے
پیار مجھ سے تمھیں پہلا سا نہیں، کُچھ کم ہے
شفیق خلؔش
28/12/2016
27/12/2016
#رر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Sector F8 Islamabad
Islamabad
44000
