Ibrahim Khoso

Ibrahim Khoso

Share

writer?



I would say that I am a very personalized writer. I like to put a lot of my emotions,

29/03/2025

کن صورتوں میں عورت خلع لے سکتی ہے اور کن صورتوں میں عورت خلع نہیں لے سکتی؟

پاکستان میں عورت خلع کے ذریعے اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔ مسلم عائلی قوانین اور 1939 Dissolution of Muslim Marriage Act میں خلع کا حق دیا گیا ہے, شرط یے ہے کے عورت کے پاس خلع کے لیے جائز وجوہات ہوں.

خلع کے لئے جائز وجوہات

اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا ناممکن سمجھتی ہے، تو وہ درج ذیل وجوہات پر خلع لے سکتی ہے۔

1. شوہر کی گمشدگی – اگر شوہر ایک سال یا زیادہ عرصے سے لاپتہ ہو۔
2. نان و نفقہ کی فراہمی میں ناکامی – اگر شوہر ایک سال یا زیادہ عرصے تک بیوی کو نان و نفقہ نہ دے۔
3. شوہر کی نامردی– اگر شوہر نکاح کے وقت سے اب تک نامرد ثابت ہو اور اب بھی ایسا ہو۔
4. شوہر کی ذہنی بیماری یا لاعلاج مرض – اگر شوہر کو دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے ذہنی بیماری، کوڑھ، یا کوئی لاعلاج بیماری لاحق ہو۔
5. ظلم و زیادتی – اگر شوہر بیوی پر جسمانی یا ذہنی تشدد کرے، جیسے کہ:
- بار بار مار پیٹ کرنا
- بدکردار لوگوں سے تعلق رکھنا
- بیوی کو بے جا دباؤ میں رکھنا
- دوسری بیویوں کے ساتھ زبردستی رہنے پر مجبور کرنا
6. نابالغی میں شادی– اگر لڑکی کی شادی 16 سال کی عمر سے پہلے ہو جائے اور وہ 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے نکاح ختم کرنا چاہے۔
7. شوہر کا غیر اخلاقی کردار – اگر شوہر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو۔
8. میاں بیوی میں ناموافقت – اگر دونوں کے درمیان مزاج میں سخت اختلاف ہو اور ساتھ رہنا ممکن نہ ہو۔
9. عدالت کے نزدیک دیگر معقول وجوہات – اگر بیوی کوئی ایسی وجہ ثابت کر دے جو شریعت اور قانون میں تسلیم شدہ ہو۔

کب عورت خلع نہیں لے سکتی؟

اگر اس کے پاس کوئی معقول شرعی یا قانونی وجہ نہ ہو۔
اگر شوہر اور بیوی عدالت میں صلح کرنے پر راضی ہو جائیں۔
اگر بیوی کی طرف سے لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہو جائیں تو اس صورت میں عورت خلع نہیں لے سکتی

خلع اور طلاق میں فرق

خلع بیوی عدالت کے ذریعے حاصل کرتی ہے جبکہ طلاق شوہر خود دیتا ہے۔
خلع کے لیے عدالت جانا ضروری ہوتا ہے جبکہ طلاق کے لیے نہیں۔
خلع میں اکثر صورتوں میں بیوی کو حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے جبکہ طلاق میں نہیں۔

ابراہیم کھوسہ.

28/03/2025

Maintenance of Public Order (MPO)

یہاں ایک جامع اور مؤثر پوسٹ ہے جو ایم پی او (MPO) کی تاریخ، اس کے استعمال اور اس کے قانونی و انسانی حقوق کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے:

---

ایم پی او (MPO) – تاریخ، مقصد اور غلط استعمال

ڈاکٹر سمیدالدین بلوچ کی حالیہ گرفتاری مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) آرڈیننس کے تحت ہمیں اس قانون کی اصلیت اور اس کے غلط استعمال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

ایم پی او کی تاریخ اور پس منظر
مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کا قانون برطانوی نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے۔ برطانوی راج میں، اس طرح کے قوانین کا مقصد آزادی کی تحریکوں کو دبانا تھا۔ پاکستان نے آزادی کے بعد 1949 میں اسی طرز کا قانون اپنایا، جسے بعد میں مختلف ادوار میں مارشل لا حکومتوں اور آمریتوں کے دوران مزید سخت بنایا گیا۔

ایم پی او کا مقصد
اس قانون کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی فرد امن عامہ کے لیے خطرہ بنے تو حکومت اسے بغیر مقدمہ درج کیے عارضی طور پر حراست میں لے سکتی ہے۔ عام طور پر، ایم پی او کے تحت زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے کسی کو قید کیا جا سکتا ہے، تاہم حکومتی حکم پر اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

ایم پی او کا غلط استعمال
اگرچہ ایم پی او کو قومی سلامتی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ اسے اکثر سیاسی مخالفین، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور طلبہ رہنماؤں کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

1. سیاسی کارکنان اور رہنماؤں کو بلا جواز گرفتار کرکے ان کی آواز دبائی جاتی ہے۔
2. عدالتیں کئی بار ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
3. کسی بھی شہری کو بغیر ٹھوس ثبوت کے حراست میں رکھنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 (حقِ آزادی) کی خلاف ورزی ہے۔

قانونی آگاہی وقت کی ضرورت!
پاکستان کا آئین ہر شہری کو آزادی اور قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ہمیں بطور قانون کے طالبعلم اور باشعور شہری، ایم پی او جیسے قوانین کے غلط استعمال کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور عدلیہ سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ ایسے مقدمات میں آزادانہ اور شفاف فیصلے دے تاکہ آئین و قانون کی بالادستی قائم رہے۔
ابراہیم کھوسہ

#اپنےحقوقجانیں #قانونکیحکمرانی #آئینیحقوق

24/01/2025

صحافت اور سرکاری ملازمت کرنے والوں کیخلاف دائر آئنی پٹیشن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ

آئن کی آرٹیکل کنڈکٹ رول1979 سیکشن 16 اور بیڈا ایکٹ2011 کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم یا صحافی دونوں شعبوں سے ایک وقت میں وابستہ نہیں ہوسکتا,چیف جسٹس ہائی کورٹ*

*متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافی جو کہ سرکاری ملازمت کرتے ہیں وہ میس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہیں ان کیخلاف تادیبی کاروائی کی جائے،طاہرہ صفدر

صحافت اور سرکاری ملازمت کرنے والوں کیخلاف دائر آئنی پٹیشن پر ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا اب کوئی بھی صحافت اور سرکاری ملازمت ایک ساتھ نہیں کرسکتا فیصلے کے بعد صوبہ کے حقیقی صحافیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے.
تفصیلات کی مطابق سرکاری ملازمت اور صحافت ایک ساتھ کرنے والے بااثر لوگوں کے خلاف ہائی کورٹ میں مستونگ سے تعلق رکھنے والے صحافی اللہ بخش نے آئینی پیٹیشن دائر کر رکھی تھی جس کا فیصلہ چیف جسٹس ہائی کورٹ طاہرہ صفدر نے سنائیا، انہوں نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی آرٹیکل کنڈکٹ رول 1979سیکشن 16 اور بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم یا صحافی دونوں شعبوں سے ایک وقت میں وابستہ نہیں ہوسکتا. انہوں نے متعلقہ محکموں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافی جو کہ سرکاری ملازمت کرتے ہیں وہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہیں ان کیخلاف تادیبی کاروائی کی جائے، اس فیصلے بعد صوبہ کے حقیقی صحافیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے. انہوں نے عدلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امیدا ظاہر کی ہے کہ ان بااثر لوگوں کے خلاف جلد سے جلد کاروائی کی جائے اور پریس کلبوں سے ان کی ممبر شپ ختم کردی جائے اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو نوٹس جاری کی جائے.

23/01/2025

ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺨﺺ ہے مجھ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﭘﺎ ﺑﮭﯽ ہے
ﻧﻈﺮ نہ ﺁﺅﮞ ﺗﻮﻣﺠﮭﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﺎ ﺑﮭﯽ ہے۔

25/08/2024

عدالت کے زریعے خلع
مکمل طریقہ کار ۔۔۔۔۔۔۔
جب کوئی عورت خلع کی بنیاد پر طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتی ہے تو عدالت شوہر کو نوٹس بھیج کر اور اخبار اشتہار کے زریعےطلب کرتی شوہر عدالت میں پیش ہو جائے تو عدالت ایک بار مصالحت کا موقع دیتی ہے لہزا اگر شوہر پیش نا ہو پاۓ یا عورت مصالحت نا کرنا چاہے تو عدالت صرف عورت کے بیان پر ہی خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔ خلع کی ڈگری کو طلاق کا ایک نوٹس سمجھا جائے گا جس کے بعد بھی 90 دنوں کے اندر اندر میاں بیوی میں اگر مصالحت ہو جائے تو خلع رک جاتی ہے۔ ڈگری کے بعد عورت مصالحتی کونسل (یونین کونسل) میں طلاق موثر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گی اور مصالحتی کونسل خلع کی ڈگری کی بنیاد پر 90 دن کے اندر فریقین کو باہمی مصالحت کا موقع فراہم کرتی ہے فریقین کو نوٹس اور اخبار اشتہار کے زریعے طلب کرتی ہے۔ 90 روز میں مصالحت ناکام ہونے کی صورت میں یونین کونسل طلاق کا موثر سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ جس کے بعد عورت کی عدت شروع ہوجاتی ہے اور صلح کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔

25/08/2024

سوال: حادثے میں لوگوں کو مارنے والی خاتون کو سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے؟
جواب: ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ قانون کیا ہے اسے جانئے۔
عام طور پر ٹریفک ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت ہو جاتی ہے تو قصور وار کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 320 لگائی جاتی ہے۔ یہ دفعہ غلط ڈرائیونگ کے ذریعے کسی کی موت کا سبب بننے کیلئے موجود ہے۔ قانون اسے "قتل خطا" سے تعبیر کرتا ہے۔ کہ مارنے والے نے جان بوجھ کر نہیں مارا۔ اس کی ایسی کوئی نیت نہیں تھی لیکن غلطی سے یہ فعل سرزد ہو گیا۔ موت کی سزا تب دی جاتی ہے جب کسی نے جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔ اس کی سزا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 میں بتائی گئی ہے جو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ 320 (ڈرائیونگ میں غفلت سے قتل خطا) کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال تک قید ہے۔ تاہم قانون اسے قابل ضمانت جرم بناتا ہے۔ اور قابل ضمانت جرم میں ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا اس کا حق ہوتا ہے۔ ایسے جرائم میں عموما ٹرائل کم ہی مکمل ہوتا ہے اور سزا بھی نہیں ہوتی۔ کراچی میں روڈ ایکسیڈنٹ کی ملزمہ کے کیس میں پہلے یہی دفعہ لگائی گئی تھی۔ جسکا مطلب یہ تھا کہ خاتون ایک دو دن میں ضمانت پر رہا ہو جاتی۔ تاہم بعد میں اس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 لگا دی گئی۔ یہ دفعہ قتل بالسبب کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بھی ملزم/مجرم کی ایسی کوئی نیت نہیں ہوتی کہ وہ متاثرہ شخص کو جان سے مار دے تاہم وہ اس کا سبب بن جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دفعہ ناقابل ضمانت تو ہے تاہم اس کی قید جیسی کوئی سزا نہیں ہے۔ اس کی سزا صرف دیت ہے۔ جو کہ ایک اسلامی سزا ہے۔ مطلب یہ کہ اس دفعہ کے تحت ملزم/ملزمہ کو ضمانت پر رہا تو نہیں کیا جائے گا تاہم اگر وہ مقتول/مقتولہ کے خاندان کو رائج دیت دے دے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
کیس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ کیس بیک وقت دو دفعات 320 اور 322 کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ دفعہ 320 لگی تو اگرچہ اس کی سزا 10 سال تک قید ہو سکتی ہے لیکن یہ جرم قابل ضمانت ہے اور خاتون جلد ضمانت پر رہا ہو جائے گی اور ٹرائل مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔ اور اگر دفعہ 322 لگتی ہے تو یہ دفعہ اگرچہ ناقابل ضمانت ہے تاہم اس میں سزا صرف دیت ہے۔ مطلب یہ کہ خاتون جب بھی دیت ادا کر دے اسے رہا کر دیا جائے اور خاتون کی فیملی کے پاس پیسے کی کمی نہیں۔
ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر خاتون ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہ ہو یا وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہی ہو تب اس پر قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ قائم ہو سکتا ہے لیکن میری اطلاع کے مطابق خاتون کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔ تاہم یہ پاکستانی نہیں بلکہ کسی اور ملک کا تھا۔ کئی ممالک کے ڈرائیونگ لائسنس کو پاکستان میں بھی قبول تصور کیا جاتا ہے۔ آخری ٹیسٹ یہ رہ جاتا ہے کہ دیکھا جائے وہ نشے کی حالت میں تو نہیں تھی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر معاملات مختلف ہو سکتے ہیں تاہم میری رائے کے مطابق یہ 302 کا کیس پھر بھی نہیں بنے گا۔
اس کے علاوہ پاکستان میں Fatal Accident Act بھی موجود ہے۔ یہ قانون بھی متاثرہ لواحقین کو پیسے کی صورت ہرجانے کی بات کرتا ہے جسمانی سزا نہیں۔
کراچی حادثہ کیس پر ابتدائی بحث۔

03/12/2023

زندگی پاؤں نہ دَھر جانبِ انجام ابھی
مرے ذمے ہیں ادُھورے سے کئی کام ابھی

ابھی تازہ ہے بہت گھاؤ بچھڑ جانے کا
گھیر لیتی ہے تری یاد سرِشام ابھی

اِک نظر اور اِدھر دیکھ مسیحا میرے
ترے بیمار کو آیا نہیں آرام ابھی

رات آئی ہے تو کیا ، تم تو نہیں آئے ہو
مری قسمت میں کہاں لِکھا ہے آرام ابھی

جان دینے میں کروں دیر، یہ مُمکن ہے کہاں
مجھ تک آیا ہے مری جاں ترا پیغام ابھی

طائرِ دل کے ذرا پَر تو نِکل لینے دو
اِس پرندے کو بھی آنا ہے تہِ دام ابھی

توڑ سکتا ہے مرا دل یہ زمانہ کیسے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے ترا نام ابھی

میرے ہاتھوں میں ہے موجُود ترے ہاتھ کا لمس
دِل میں برپا ہے اُسی شام کا کہرام ابھی

میں ترا حسن سخن میں ابھی ڈھالوں کیسے
میرے اشعار بنے ہیں کہاں اِلہام ابھی

مری نظریں کریں کیسے ترے چہرے کا طواف
مری آنکھوں نے تو باندھے نہیں احرام ابھی

یاد کے ابَر سے آنکھیں مری بھیگی ہیں عدیم
اِک دھندلکا سا ہے ،بھیگی تو نہیں شام ابھی

عدیم ہاشمی

25/11/2023

‏آج خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ پیدائش ہے۔۔

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات...
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں...

پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ مباحثوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور لسانیات میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں۔ پھر 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ 1990ء میں ٹرینٹی کالج امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ پروین شاکر کی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام "خوشبو” شائع ہوا۔ اس مجموعے کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرا میں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے "صد برگ”، "خود کلامی” اور "انکار” شائع ہوئے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کلام کی کلیات "ماہِ تمام” بھی شائع ہو چکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام "کفِ آئینہ” ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔
پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعۂ کلام "خوشبو” پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، "خود کلامی” پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی شامل ہیں۔

26 دسمبر 1994ء کی صبح پروین شاکر اسلام آباد میں اپنے دفتر جا رہی تھیں کہ ان کی کار اسلام آباد کے ظفر چوک پر سامنے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار تحریر ہیں.

یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہنر کو حوصلۂ لب کشائی دے

شہرِ سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے...

02/11/2023

ہر اس شخص کو چھوڑ دیں جس نے آپ میں کچھ خراب کیا ہے یا آپ کی چمک کو بجھا دیا، ان لوگوں کو چھوڑ دیں جنہوں نے آپ کو مایوس کیا، ان کے ساتھ بات چیت یا جگہ کا اشتراک نہ کریں۔
اپنے دل کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کریں اور اپنی خوشی کو اس جگہ مت تلاش کریں جہاں آپ نے اسے کھو دیا ۔۔۔!!!

20/09/2023

‏"اہلِ حق اگر حق بیان کرنے پر خاموش رہے، تو گمراہ لوگ اپنی غلطیوں کا اِرتکاب کرتے رہیں گے؛ اور دوسرے اِس میں اُن کی پیروی کریں گے، اور خاموش رہنے والے پردہ پوشی کے گناہ میں مبتلا ہوں گے!"

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


H10
Islamabad