Jknsf Rawalpindi Branch

Jknsf Rawalpindi Branch

Share

رسم بغاوت ازل سے ہمارے خون میں شامل ہے ہم خاموش ہو بھی جائے تو لہو چینخ اٹھتا ہے�

12/03/2026

پریس ریلیز :- جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن
احسان علی ایڈووکیٹ کی آدھی رات کو کی گئی گرفتاری محض ایک فرد کی گرفتاری نہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ ایک ایسے بزرگ وکیل اور سیاسی رہنما کو، جو 65 برس سے زائد عمر میں بھی آئینی اور پُرامن جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں، بغیر وارنٹ اور واضح قانونی جواز کے گھر سے اٹھا لینا ریاستی طرزِ عمل پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ قانون کا تقاضا یہ ہے کہ طاقت نہیں بلکہ ضابطہ اور انصاف غالب ہوں، مگر جب قانون کے محافظ ہی قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے دکھائی دیں تو عوام کے اندر اعتماد کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن اس غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ سینئر قانون دان اور سیاسی رہنما کامریڈ احسان علی ایڈووکیٹ سمیت گرفتار کیے گئے تمام ساتھیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف اس قسم کے اقدامات نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہار پر بھی حملہ ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام دہائیوں سے آئینی شناخت، سیاسی نمائندگی اور بنیادی حقوق کے مطالبات کر رہے ہیں، اس لیے اس طرح کی گرفتاریاں اور سیاسی کارکنوں کے گھروں پر رات کے چھاپے مسائل کے حل کے بجائے بے چینی اور عدم اعتماد کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اختلافِ رائے کو برداشت کرنا اور آئینی جدوجہد کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ اسے خوف اور دباؤ کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کرنا۔

اگر ریاست واقعی استحکام، انصاف اور جمہوری روایات کی داعی ہے تو اسے چاہیے کہ قانونی شفافیت کو یقینی بنائے، سیاسی کارکنوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے اور گلگت بلتستان کے عوام کو وہی وقار اور آئینی حیثیت دے جس کے وہ دہائیوں سے منتظر ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے سنجیدہ سیاسی مکالمہ اور آئینی راستہ ہی مسائل کا حقیقی حل فراہم کر سکتا ہے۔
شعبہ نشرواشاعت :-
جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن

11/03/2026

افطار ڈنر بمقام: ہجیرہ اکرم باد
23 رمضان المبارک :13 مارچ بروز جمعہ
علم جدو جہد۔ فتح

09/03/2026

پریس رلیز
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ ریاستی جبر اور غیر انسانی سلوک کی بھر پور مذمت کرتی ہے گلگت بلتستان 72 ہزار مربہ کلو میٹر کا رقبہ رکھتا ہے اور قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے لیکن گلگت بلتستان کی عوام بنیادی مسائل سے دو چار ہے صحت و تعلیم کی ناقص سہولیات ، ناقص انفراسٹرکچر غربت اور بے روزگاری کی زندگی جی رہی ہے پانی کی سہولیات بھی انتہائی ناقص ہیں ان تمام مسائل کے ہوتے ہوئے سیاسی کارکنوں کے لئے اپنے بنیادی حقوق کی بات کرنا جرم بن گیا ہے اور ریاست سیاسی کارکنوں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنا رہی ہے

کامریڈ شبیر معیار 2018 سے دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ بلتستان کے مستند ڈاکٹروں نے علاج کے لئے پاکستان ریفر کیا ہے تاکہ ان کا بروقت اور بہتر علاج ممکن ہو سکے۔ مگر سرکاری مشینری جو گلگت بلتستان میں ایک نیم نوآبادیاتی نظام کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے، شبیر معیار کو پاکستان جا کر چیک اپ کروانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ کئی سیاسی کارکنوں کو پچھلے دو سال سے شیڈول فورتھ کا جواز بنا کر گاؤں تک محصور رکھا گیا ہے۔ یہ محض انتظامی اقدام نہیں، بلکہ ایک سیاسی سزا ہے۔

گذشتہ نو سال سے سیاسی کارکنوں کا نام شیڈول فورتھ میں شامل ہے۔ ان نو برسوں میں درجنوں بار ان کو گرفتار کیا گیا اور دو سال سے مسلسل عملاً نظر بندی کی حالت میں رکھا گیا ہے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ریاست کی طرف سے ایسے غیر انسانی سلوک کی بھر پور مذمت کرتی ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ صحت جیسی بنیادی ضرورت کے سلسلے میں ہر سیاسی کارکن کا حق ہے کہ وہ اپنا علاج بہتر سے بہتر ہسپتال میں کروائے لیکن ریاست گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ انتہائی سخت اور ناروا سلوک کر رہی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کو بنیادی حقوق کی بات کرنے اور اپنے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاست کی طرف سے سیاسی استعصال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کو ایک گاؤں تک محدود کر دیا گیا ہے علاج جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن مطالبہ کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی کارکنوں کو شیڈول فور سے نکالا جائے ان کے اوپر چلنے والے بے بنیاد پرچے ختم کئے جائیں اور ان کو صحت جیسی بنیادی پسہولیات کے حصول کے لئے سفر کی اجازت دی جائے

جاری کردہ شعبہ نشر و اشاعت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

✊🚩

Photos from Jknsf Rawalpindi Branch 's post 08/03/2026

#راولپنڈی
8 مارچ 2026
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام راولپنڈی میں خواتین کا عالمی دن اور طلبہ یونین کی بحالی و الیکشن شیڈول جاری کرنے کی مرکزی تحریک کے تسلسل میں افطار ڈنر کا انعقاد ہوا۔

پروگرام میں آج اسلام آباد میں خواتین کے عالمی دن پر ہونے والی گرفتاریوں کی اور پولیس گردی کی بھر پور مذمت کی گئی اور محنت کشخواتین کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔

پروگرام میں طلبا یونین کی بحالی و الیکشن شیڈول جاری کرنے پر سحر انگیز گفتگو کی گئی اور اعلامیہ جاری کیا گیا طلبا یونین کی بحالی طلبا ہی طلبا مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے

پروگرام میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر جاری جہاریت کی بھر پور مذمت کی گی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کسی بھی سامراجی طاقت کو یہ حق حاصل نہیں کی وہ ایران کی عوام پر بھم برسائے اور ایران کے اندر رجیم چینج کر کے اپنی مرضی کی حکومت قائم کرے۔ ایرانی ملائیت اور عام عوام کا تضاد ایران کا اندرونی تضاد ہے بیرانی طاقتوں کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ۔۔۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان میں ہونے والے مظالم کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور سیاسی کارکنوں کو شیڈول فور میں ڈالنا انسانی حقوق کی پامالی کرار دیتی ہے ۔۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کشمیر عوامی تحریک کی وجہ سے لوگوں میں ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے پاکستان ریاست کے اس اقتدام کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔

پروگرام سے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی چیف آرگنائزر اسفند ادریس، ممبر سنٹرل کمیٹی فہد زرین،کامریڈ حماد ،فہد جمیل سٹوڈنٹس لیبریشن فرنٹ ،کامریڈ امجد اسلام رولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ ،گلگلت بلتستان سے معروف آزادی پسند رہنما بابا جان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

08/03/2026

8 مارچ (خواتین کا عالمی دن)

تحریر: صغریٰ نساء سینیئر نائب صدر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تہوار نہیں بلکہ خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کی یاد دہانی بھی ہے۔ اس دن کا مقصد خواتین کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کو اجاگر کرنا اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرنا ہے جہاں خواتین کو مردوں کے برابر مواقع اور احترام حاصل ہو۔محنت کش خواتین کا عالمی دن دراصل ان خواتین کی جدوجہد کی یادگار ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے طویل اور مشکل جدوجہد کی۔ تاریخ میں کئی ایسی تحریکیں موجود ہیں جنہوں نے خواتین کو ووٹ کا حق، بہتر کام کے حالات اور مساوی مواقع دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔سیاسی میدان میں خواتین کی نمائندگی اب بھی بہت کم ہے۔ اگرچہ کئی ممالک میں خواتین کو ووٹ دینے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی طور پر سیاست میں ان کی شمولیت محدود ہے۔ اکثر سیاسی جماعتوں میں فیصلہ سازی کے اہم عہدوں پر مردوں کا غلبہ ہوتا ہے۔خواتین سیاست دانوں کو اکثر سماجی دباؤ، کردار کشی اور عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے بہت سی باصلاحیت خواتین سیاست میں آنے سے ہچکچاتی ہیں۔ ایک بہتر جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو سیاست میں برابر مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں قیادت کے مواقع بھی دیے جائیں۔سماجی سطح پر خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ بہت سے معاشروں میں اب بھی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں، گھریلو تشدد، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل اور ہراسانی جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں۔دیہی علاقوں میں خواتین کی حالت نسبتاً زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ وہاں انہیں صحت، تعلیم اور قانونی تحفظ جیسی بنیادی سہولیات تک بھی مکمل رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بغیر ان مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔معاشی میدان میں خواتین کی شمولیت بڑھ رہی ہے، لیکن اب بھی انہیں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بہت سی خواتین کام تو کرتی ہیں مگر انہیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کام کی جگہ پر ہراسانی، ترقی کے محدود مواقع اور ملازمت کے عدم تحفظ جیسے مسائل بھی عام ہیں۔گھریلو خواتین بھی معاشرے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کی محنت کو اکثر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اگر خواتین کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معیشت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔خواتین کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ وہ نہ صرف خاندان کی تربیت اور پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ تعلیم، صحت، سیاست، معیشت اور سماجی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ایک تعلیم یافتہ اور بااختیار عورت پورے خاندان اور معاشرے کو مثبت سمت میں لے جا سکتی ہے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے، اس لیے خواتین کی تعلیم اور شعور معاشرے کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
جب خواتین کو مساوی مواقع ملتے ہیں تو وہ سائنس، ادب، سیاست، کاروبار اور دیگر شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتی ہیں۔ دنیا کی ترقی میں خواتین کی شمولیت ناگزیر ہے۔محنت کش خواتین کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی ترقی کے بغیر معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔ خواتین کو درپیش مسائل کو حل کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔جب خواتین کو عزت، تحفظ اور مساوی مواقع ملیں گے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا سکیں گی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہوں، وہی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرہ کہلا سکتا ہے۔

07/03/2026

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تمام محنت کش عورتوں کو سلام۔🚩✊

04/03/2026

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اپنے مرکزی اجلاس مورخہ 28/2/26 کو راولاکوٹ میں طلبہ یونین کی بحالی و الیکشن شیڈول جاری کرانے کے لئے طلبہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس تحریک کے تسلسلے میں افطار ڈنر پارٹیاں، یونیورسٹیوں، کالجوں میں کانفرنسیں، اور ضلعی سطح پر پروگرامات منعقد کرنے کا اعلان کرتی ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ سے ریاست بھر میں طلبہ مختلف مسائل کا شکار ہیں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبا کو فیسوں میں اضافے ، ہاسٹل کی بڑھتی فیسوں ٹرانسپورٹ کے بہتر انتظام کے مسائل کا سامنا ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں غیر میعاری نظام تعلیم کی وجہ سے اس جدید دور میں طلبا کو پسماندہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جدید دور کے تقاضوں کی مناسبت سے لائبریریاں، لیبارٹریاں ، انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہیں ہیں جس وجہ سے طلبا دور حاضر کی جدید تعلیم کیے بنیادی حق سے آشکار نہیں ہو رہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ طلبا یونین کی پابندی کی وجہ سے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بنایا جا چکا ہے طلبا کھیلوں سے میدانوں سے دور ہیں تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگ چکا ہے کلچر ادب و فن جیسی بنیادی چیزوں سے بھی طلبہ کو دانستہ دور رکھا گیا ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ ریاست بھر میں یکساں نظام تعلیم انتہائی ضروری ہے جس سے امیر و غریب کا بچہ ایک جیسی تعلم حاصل کر سکیں اور زندگی میں برابری کی بنیاد پر مواقعوں سے فایدہ اٹھا سکیں۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ ریاست سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی پرائیویٹ ائزیشن کو ختم کر کے ریاست بھر میں طلبا و یکساں تعلیمی نظام نافذ کرے اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید نظام تعلیم اور نصاب پڑھایا جائے جو طلبا کے مستقبل کے لئے فایدہ مند ہو۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ طلبا سیاست ہی سیاست کی بنیاد ہوتی ہے اور کوئی بھی سیاسی کارکن اپنی سیاسی زندگی کی شروعات طلبا سیاست سے ہی کرتا ہے وہی سیاسی کارکن مستقبل میں جا ملکی سیاست میں بہترین سیاسی کردار ادا کر سکتا ہے اگر طلبا کو سیاست سے دور رکھا جائے تو اس پسماندہ سیاسی نظام میں کاروباری شخصیات اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ سیاست پر مسلط ہو جاتے ہیں اسی تناظر میں طلبا یونین کی بحالی و الیکشن شیڈول جاری کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے

جاری کردہ شعبہ نشر و اشاعت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

04/03/2026

#راولپنڈی
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خواتین کے عالمی دن اور طلبہ یونین بحالی و الیکشن شیڈول جاری کرنے کی مرکزی تحریک کے تسلسل میں راولپنڈی میں مورخہ 8 مارچ کو افطار ڈنر کا انعقاد کیا جائے گا۔راولپنڈی اسلام آباد میں موجود تمام کشمیر کمیونٹی كو دعوت دی جاتی ہے ۔🚩✊

02/03/2026

پریس ریلیز جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ایران پر سامراج امریکہ اور اس کے بغل بچے اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کی بھر پور مذمت کرتی ہے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ایران کے رہبر آیت اللہ خامنائی اور ایران کی اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت کی شہادت پر انتہائی رنج و افسوس کا اظہار کرتی ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ ہر ملک کو اس کی خودمختاری اور سالمیت بحال رکھنے کا حق حاصل ہے امریکی سامراج نے ایران پر بلا جواز حملہ کر کے ایران کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے اور اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت کو شہید کیا ہے امریکی سامراج اور اسرائیل ایران کے اندر رجیم چینج کر کے ایران کو کنٹرول کرنا چاہتے جو کسی بھی ملک کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے جس کی جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن بھر پور مذمت کرتی ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں رجیم چینج کر کے ایران کے داخلی معاملات میں اثر انداز ہونا چاہتے ہیں ایران کے قیمتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اس خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے ایران کی خودمختاری کو پامال کرنا چاہتے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ایران کی محنت کش عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور سمجھتی کہ ایران میں موجود ملائیت ایران کے عام عوام کا استعصال کر رہی ہے لوگ انتہائی غربت و پسماندگی کی زندگی جی رہے ہیں جبکہ اقتدار پر قابض ملائیت اور پاسداران انقلاب ملک کے اندر ایک الگ معاشی امپائر کھڑی کر کے عام عوام کا استعصال کر رہے ہیں

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یہ سمجھتی ہے کہ داخلی تضاد کے باوجود کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق نہیں ہے داخلی تضاد حکمران طبقے اور عام عوام کا ہے اور اس میں عام عوام کی جدوجہد حکمران طبقے کے خلاف ہے کسی بھی بیرونی قوت کو باہر سے آہ کر رجیم چینج کرنے کا ہر گز حق حاصل نہیں ہے

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن امریکی سامراج اسرائیل اور ان کے سہولت کاروں کو دنیا کے امن کے لئے خطرہ تصور کرتی ہے یہ سرمایہ دارانہ طاقتیں دنیا میں اپنا اسلحہ بنانے اور بیچنے کے لئے آئے دن جنگوں میں دھکیل رہی ہیں جو قابل مذمت ہے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پوری دنیا کی محکوم قومیتوں اور محنت کشوں کے ساتھ مل کر سامراجی قوتوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کو محنت کش عوام کی بقا سمجھتی ہے

جارج کردہ شعبہ نشر و اشاعت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

07/02/2026

مت سمجھو ہم نے بھلا دیا 🚩✊


24/12/2025

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
پریس ریلیز
مورخہ: 24 دسمبر 2025
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

سابق صدر JKNSF و ممبر کور کمیٹی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی انوار بیگ کی وفات پر تعزیت

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن انتہائی افسوس اور رنج کا اظہار کرتی ہے کہ تنظیم کے سابق مرکزی صدر، نظریاتی رہنما اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر انوار بیگ صاحب آج انتقال کر گئے۔

انوار بیگ مرحوم ایک جرات مند، نظریاتی اور باوفا سیاسی کارکن تھے جنہوں نے ہمیشہ جموں کشمیر کی آزادی، خودمختاری اور طلبہ و عوامی حقوق کے لیے ناقابل مصلحت جدوجہد کی۔ ان کی شخصیت نوجوانوں کے لیے مشعل راہ تھی۔

تنظیم ان کی انقلابی خدمات کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے، ان کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم دہراتی ہے۔

علم، جدوجہد، فتح

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Rawalpindi
Islamabad