Azad Pakistan

Directions Website

Azad Pakistan All About Pakistan Political blinders

20/08/2026
گنویری والا: پاکستان کی ریت کے نیچے چھپا ہوا 5000 سال پرانا شہر! ذرا تصور کریںچولستان کے سنسان صحرا میں آپ کھڑے ہیں۔چارو...
20/08/2026

گنویری والا: پاکستان کی ریت کے نیچے چھپا ہوا 5000 سال پرانا شہر!
ذرا تصور کریں
چولستان کے سنسان صحرا میں آپ کھڑے ہیں۔
چاروں طرف ریت_ خاموشی_ اور تپتی ہوئی ہوا۔
لیکن اسی خاموش زمین کے نیچے کبھی ایک ایسا شہر آباد تھا جہاں ہزاروں انسان بستے تھے۔
گنویری والا وادیٔ سندھ کی تہذیب کا وہ عظیم شہر جس کی مکمل کہانی آج بھی زمین کے اندر دفن ہے۔
یہ مقام موجودہ جنوبی پنجاب کے چولستان میں، بھارت کی سرحد کے قریب، دریائے ہاکڑہ کے قدیم اور اب خشک ہوچکے راستے کے کنارے واقع ہے۔
اور اس کی وسعت حیران کر دینے والی ہے تقریباً 80 ہیکٹر!
یعنی رقبے کے لحاظ سے یہ موئن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے عظیم ہڑپائی شہروں کے برابر کا شہری مرکز تھا۔
گنویری والا کی جدید آثارِ قدیمہ میں شناخت کا سہرا پاکستانی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر محمد رفیق مغل کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے 1973 میں اس مقام کو شناخت کیا، جبکہ 1974 سے 1977 تک چولستان کے وسیع آثارِ قدیمہ سروے کے دوران اس علاقے کا منظم مطالعہ کیا۔
ڈاکٹر مغل نے قدیم ہاکڑہ کے خشک راستے کے ساتھ سینکڑوں قدیم مقامات ریکارڈ کیے، اور گنویری والا ان میں سب سے غیر معمولی مقامات میں سے ایک نکلا۔
مگر یہاں ایک حیران کن راز بھی ہے
حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گنویری والا کے ٹیلے اس سے بہت پہلے 1872–1874 کے سروے نقشوں میں “Gawaree Thair” کے نام سے درج ہوچکے تھے۔
یعنی یہ جگہ نقشے پر موجود تھی
مگر اس کے نیچے چھپی ہزاروں سال پرانی شہری تہذیب کی اصل اہمیت کو ڈاکٹر رفیق مغل کی تحقیق نے نمایاں کیا۔
یہ شہر تقریباً 2600 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح کے Mature Harappan دور سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں سے سطح پر ملنے والے آثار میں ہڑپائی طرز کی مٹی کی اینٹوں کی ساختیں، مٹی کے برتن، مہریں اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
لیکن!
اس شہر کی بڑی گہرائی ابھی تک انسان نے دیکھی ہی نہیں!
کیونکہ گنویری والا کئی دہائیوں تک تقریباً غیر کھدائی شدہ رہا۔
سوچیے…
جن گلیوں میں 4500 سال پہلے لوگ چلتے تھے،
جن گھروں میں خاندان آباد تھے،
جن بازاروں میں تجارت ہوتی تھی،
جن کاریگروں کے ہاتھوں سے برتن اور مہریں بنتی تھیں…
وہ سب آج ریت کے نیچے خاموش ہیں۔
اور شاید انہی مٹی کی تہوں میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ایسے راز چھپے ہوں جو ابھی دنیا کے سامنے نہیں آئے۔
پھر 2024 میں ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا۔
کئی دہائیوں کے وقفے کے بعد گنویری والا میں دوبارہ باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی شروع ہوئی، جس نے اس بھولی ہوئی بستی کو ایک بار پھر عالمی آثارِ قدیمہ کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
ڈاکٹر رفیق مغل، جنہوں نے اس مقام کو 1973 میں شناخت کیا تھا، تقریباً نصف صدی بعد دوبارہ اسی شہر کی کھدائی کی قیادت کرنے پہنچے۔
ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ ایک شہر اور تقریباً 50 سال کا انتظار!
شاید گنویری والا ہمیں یہ بتانے والا ہے کہ وادیٔ سندھ کی شہری تہذیب کتنی بڑی، کتنی منظم اور کتنی پیچیدہ تھی۔
پاکستان کی ریت کے نیچے صرف کھنڈرات نہیں ایک پوری گمشدہ دنیا سو رہی ہے۔
اور سب سے بڑا سوال ابھی باقی ہے:
جب گنویری والا مکمل طور پر کھودا جائے گا تو زمین کے نیچے سے کیا نکلے گا؟
یا ایسی تحریر جو آج تک نہ پڑھی جانے والی وادیٔ سندھ کی زبان کا کوئی نیا راز کھول دے؟
شاید گنویری والا ابھی اپنی سب سے بڑی کہانی سنانے کے لیے تیار ہی نہیں ہوا۔
کیا آپ نے گنویری والا کا نام پہلے سنا تھا Comment میں اپنی راءِ ضرور بتائیں

کیا آپ جانتے ہیں؟ پاکستان اور انڈیا ایک ساتھ آزاد ہوئے، تو یومِ آزادی الگ الگ دنوں میں کیوں منایا جاتا ہے؟ 🇵🇰 🇮🇳 قوانین ...
19/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟ پاکستان اور انڈیا ایک ساتھ آزاد ہوئے، تو یومِ آزادی الگ الگ دنوں میں کیوں منایا جاتا ہے؟ 🇵🇰 🇮🇳 قوانین کے مطابق دونوں ملک 15 اگست 1947 کی آدھی رات کو ہی آزاد ہوئے تھے، لیکن پاکستان اپنا یومِ آزادی 14 اگست کو اور انڈیا 15 اگست کو مناتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ 4 دلچسپ اور تاریخی وجوہات ہیں: 1️⃣ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا شیڈول (انتقالِ اقتدار) آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دونوں ملکوں کی تقاریب میں شرکت کرنی تھی۔وہ 15 اگست کو دہلی میں مصروف تھے، اس لیے انہوں نے ایک دن پہلے یعنی 14 اگست 1947 کو کراچی آکر اقتدار باقاعدہ طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کے حوالے کر دیا۔ 2️⃣ وقت کا فرق (Standard Time) جب 15 اگست کی آدھی رات کے ٹھیک 12:00 بجے دہلی میں آزادی کا اعلان ہوا، تو پاکستان کا وقت انڈیا سے آدھا گھنٹہ پیچھے ہونے کی وجہ سے کراچی میں رات کے 11:30 بجے تھے۔ یعنی پاکستان میں ابھی 14 اگست ہی تھی۔ 3️⃣ رمضان المبارک کی 27 ویں رات (شبِ قدر)1947 کی یہ تاریخی رات مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس تھی، کیونکہ یہ رمضان المبارک کی 27 ویں شب تھی۔ اس مذہبی اور جذباتی تعلق کی وجہ سے بھی 14 اگست کی رات کو خاص اہمیت ملی۔ 4️⃣ کابینہ کا باقاعدہ فیصلہ (1948) شروع میں پاکستان کے پہلے ڈاک ٹکٹوں اور قائد اعظم کے خطاب میں 15 اگست کا ہی ذکر تھا۔ لیکن جون 1948 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ چونکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 14 اگست کو کراچی میں اقتدار منتقل کیا تھا، اس لیے پاکستان ہر سال 14 اگست کو ہی اپنا یومِ آزادی منائے گا منقول

17/08/2026

گھوڑا بھی سلامی دے رہا مودی جی کو...
گھوڑا بھی مودی کا بھگت ہے

بھائی! اگرخوبصورت لڑکی دیکھ کر بھی دل نہ دھڑکے سوشل میڈیا پر ریلز دیکھ کر بھی جذبات ساکت رہیں اور شادی کے ذکر پر بھی نین...
25/01/2026

بھائی! اگر
خوبصورت لڑکی دیکھ کر بھی دل نہ دھڑکے
سوشل میڈیا پر ریلز دیکھ کر بھی جذبات ساکت رہیں
اور شادی کے ذکر پر بھی نیند آ جائے
تو یا تو آپ بہت ولی صفت ہو
یا پھر
آپکو ہارمونز کی چیکنگ کی ضرورت ہے
جڑے رہیے

امریکہ ایران کی باتیں چھوڑیں یہ کبھی نہیں لڑیں گے  آنٹی کی کیا جوانی ہے جوبن ہے صحت مند جوانی کا ضرور اسکا بندہ سرعت انز...
25/01/2026

امریکہ ایران کی باتیں چھوڑیں یہ کبھی نہیں لڑیں گے
آنٹی کی کیا جوانی ہے جوبن ہے صحت مند جوانی کا ضرور اسکا بندہ سرعت انزال کا مریض ہو گا۔۔۔۔۔جُڑے رہیے

Address

G/8 Markiz
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azad Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share