آپ سب کو معلوم ہو گا کہ نیا فراڈ شروع ہوا ہے، کسی کی جعلی آئی ڈی بنائی جاتی ہے اور اس آئی ڈی کے ذریعے ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سے پیسے مانگے جاتے ہیں، آپ سب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ واحد فیس بک آئی ڈی ہے جو میں استعمال کرتا ہوں۔ اگر کوئی میری جعلی آئی ڈی بنا کر پیسے مانگے تو اسے پیسے مت بھیجیں اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اپنے نقصان کا ذمہ دار ہوگا، میں سوشل میڈیا کے ذریعے کبھی کسی سے پیسے نہیں مانگوں گا۔
Said Ghani & Co.
Government Contractors & Civil Engineers. Ghani Plaza Tarnol Islamabad
03008561352
0512227630-1
18/07/2023
په ژاڑه ورکئ رمضان ته روخصتونه
بل کال چی رازی په ڈیرو جوڑ به وی قبرونه
31/03/2023
CPD Renewal Criteria for Engineers
For more information join us on WhatsApp
https://chat.whatsapp.com/1KzUUvPh3mqAFfx9YuwCGx
ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں،
بولی اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟
شوہر نے جواب دیا ! میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔
خاتون نے پھر پوچھا:-
اگر بیٹی ہوئی تو؟
شوہر نے جواب دیا:-
میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔
میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے۔
بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ تک،
ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک،
نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔
وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔
خاتون نے پھر پوچھا !
کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟
شوہر نے جواب دیا !
بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔
خاتون نے پوچھا !
لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟
شوہر نے جواب دیا !
بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پروہ ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔
یہ بات کہہ کر شوہر نے اپنے مکالمے کو ختم کیا کہ بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا، لیکن بیٹا زندگی کے کسی بھی موڑ پہ ہمیں چھوڑ سکتا ہے...
Scene after Cyclone in Gwadar
بگڑے معاشرے کی ایک خاص عادت
ایک دفعہ کا واقعہ ھے کہ ایک لومڑ کی دُم پہ پتھر آگرا ، دُم کٹ گئی ۔
ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا۔۔۔!
یہ تم نے اپنی دُم کیوں کاٹ لی؟
دُم کٹا لومڑ بولا: اس سے بڑی خوشی وفرحت محسوس ہوتی ھے، ایسے لگتا ھے کہ جیسے ہواؤں میں اڑ رہا ھوں۔
واہ۔۔۔!! کیا تفریح ھے۔۔۔۔!
بالآخر گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اس نے دُم کاٹنے پر راضی کرہی لیا۔
دوسرے لومڑ نے جب یہ دُم کٹائی کی مہم سر کرلی تو بجائے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ہونے لگا۔۔۔!! پوچھا میاں۔۔۔!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟
پہلا لومڑ پہلا کہنے لگا جو ھوا سو ھوا۔۔۔!
اب اگر تم نے درد کی یہ داستان دوسرے لومڑوں کو سنائی تو انہوں نے دُمیں نہیں کٹوانی اور پھر ھم دو دُم کٹوں کا مذاق بنتا رہےگا۔۔۔!
بات سمجھ میں آئی تو یہ دونوں دُم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رھے ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دُم کٹی ہوگئی۔
اب حالت یہ ہوگئی یہ جہاں کوئی دُم والا لومڑ دکھائی دیتا اسکا مذاق اُڑایا جاتا۔۔۔!
سبق: جب بھی فساد عام ہوکر پھیل جاتا ھے تو بدکار نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں
حضرت کعب رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ھے کہ
فرمایا: لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائی جائے گی جیسے کہ آجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائی جاتی ھے۔
یہاں تک کہ آدمی کو طنزاً کہا جائے گا کہ
واہ بھئی۔۔۔! تم تو بڑے ایمان دار فقیہ بندے ھو۔۔۔!!
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا نہیں کہا تھا: نکال دو لوط کو اور ان کے گھر والوں کو اپنی بستی سے۔۔۔!!یہ بہت نیک بنے پھرتے ہیں۔
بگڑا ھوا معاشرہ جب نیکوکاروں میں کوئی قابلِ اعتراض بات تلاش نہیں کرپاتا تو انکی بہترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ھے۔۔!
تراویح میں حافظ قرآن جن باتوں سے بیک وقت نمٹ رہا ہوتا ہے😢
1 #:ان میں سے ایک مصلے کا پریشر ہے۔
2 #:دوسری بیس رکعات کا خیال رکھنا ہے۔
3 #:تیسری اپنے یومیہ سبق کے کوٹے کو بیس رکعات پر تقسیم کرکے پوراکرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سبق پورا ہوجائے اور رکعتیں رہ جائیں یا رکعتیں پوری ہوجائیں اور سبق رہ جائے۔
4 #:چوتھی اپنے سپارے کا غم کہ غلطیوں اور متشابہات سے بچا جائے۔
5 #:پانچویں اس بات کی فکر کہ کہیں وقت زیادہ نہ لگ جائے۔
6:چھٹی اپنے گلے کی فکر کہ کہیں بیٹھ ہی نہ جائے۔
7 #: ساتویں دن کو سنانے کی تیاری کرنا۔
8 #اٹھویں افطاری میں تھوڑا سا کھانا ۔
9 #: قران مکمل ہونے تک ایک الگ غم سوار رہتا ہے۔
# یہ وہ باتیں ہے کہ جو صرف حافظ بُھگت رہاہوتا ہے 😥۔ مقتدی ان پریشانیوں سے ناآشنا ہوتے ہے، لکین تراویح کے اختتام پر بڑے مزے سے اکر بیٹھتے ہیں اور کوئی کہتا ہے حافظ صاحب کیا بات ہے اج دو تین غلطیاں آئیں ہے خیریت تو ہے نا؟🤔🤔
کوئی کہتا ہے حافظ صاحب! اج تو بہت تیز پڑہ رہے تھے۔
اور اگر دوسرے دن آہستہ پڑھاجائے تو کوئی اور اکر کہتا ہے اج تو قاری عبدالباسط بن رہے تھے کوئی کہے گا اج ٹائم زیادہ لگادیا ہے۔
خدا راہ ایسی باتوں سے اجتناب کرے اور حافظ کو مشین نہیں انسان سمجھیں۔🙏🙏
اللہ تعالی سب کو عقل سلیم نصیب فرمائیں۔ اور سوچ سمجھ کر بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے🤲🤲
آمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Website
Address
Ghani Plaza G. T Road Tarnol
Islamabad
0356
