Ministry of National Food Security & Research

Ministry of National Food Security & Research

Share

Ministry of National Food Security and Research, Government of Pakistan
B-Block, Pak-Secretariat

27/04/2026
Photos from Ministry of National Food Security & Research's post 25/04/2026

حکومتِ پاکستان
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق

پریس ریلیز

اسلام آباد: 25 اپریل 2026

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ کی اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ سے ملاقات، مضبوط اور پائیدار غذائی نظام کے فروغ پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ (CFS) کے چیئرمین، پروفیسر انس اے النبلسی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایف اے او کی ایشیا و بحرالکاہل کے لیے 38ویں علاقائی کانفرنس (APRC-38) کے اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس کے موقع پر ایمپائر برونائی میں ہوئی۔

یہ ملاقات ایسے نازک موقع پر ہوئی جب ایشیا و بحرالکاہل کا خطہ معاشی ترقی کے باوجود غذائی عدم تحفظ، غذائی قلت اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دونوں فریقین نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے فعال کردار اور عالمی کوششوں میں اس کی شمولیت پر تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

کمیٹی برائے عالمی غذائی تحفظ کے ایک فعال رکن کے طور پر پاکستان نے اپنی قومی پالیسیوں کو اس کی رہنما پالیسیوں کے مطابق ڈھالا ہے تاکہ غذائی تحفظ کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ 21 کروڑ سے زائد آبادی کے حامل ملک کے طور پر پاکستان اس عزم پر قائم ہے کہ خوراک تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے اور بدلتے ہوئے ماحولیاتی و سماجی و معاشی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جائے۔

دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح پر CFS کی پالیسی سفارشات پر مؤثر عملدرآمد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین CFS نے کہا کہ حقیقی تبدیلی کے لیے جامع حکمرانی، مختلف شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون، پائیدار مالی وسائل تک بہتر رسائی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ CFS مختلف شراکت داروں کو یکجا کر کے ممالک کو ان کے اپنے حالات کے مطابق مربوط اور رضاکارانہ پالیسی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

گفتگو کے دوران مضبوط اور پائیدار غذائی نظام کی تشکیل سے متعلق عالمی پالیسی سفارشات کی تیاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور پاکستان کو اس عمل میں فعال شرکت کی دعوت دی گئی۔

ملاقات میں زرعی غذائی نظام کی تبدیلی میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے اہم کردار پر بھی زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے تحقیقی اداروں اور جامعات کے کردار کو تسلیم کیا، خاص طور پر پریسیژن ایگریکلچر اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے پیداوار، پائیداری اور لچک میں بہتری لانے کے حوالے سے۔

مزید برآں، ملاقات میں CFS کے آئندہ اقدامات اور تقریبات کا جائزہ بھی لیا گیا، جن میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا سے متعلق اعلیٰ سطحی فورم اور مضبوط غذائی نظام پر جاری پالیسی کام شامل ہیں۔

دونوں فریقین نے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی پالیسی رہنمائی کو عملی اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار اور مضبوط غذائی نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Photos from Ministry of National Food Security & Research's post 24/04/2026

حکومتِ پاکستان
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق

پریس ریلیز

اسلام آباد: 24 اپریل 2026

پاکستان کا ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایف اے او کی 38ویں علاقائی کانفرنس میں زرعی غذائی نظام کی تبدیلی کے عزم کا اعادہ

پاکستان نے خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کے 38ویں وزارتی اجلاس کے دوران مضبوط، جامع اور پائیدار زرعی غذائی نظام کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جہاں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، جناب رانا تنویر حسین نے قومی اور عالمی سطح پر مستقبل کا ایک واضح وژن پیش کیا۔

ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایف اے او کی 38ویں علاقائی کانفرنس کا افتتاح شہزادہ معظم عزت مآب پرنس حاجی المحْتدی باللہ ابن سلطان حاجی حسنال بلقیہ معزالدین ودہ اللہ نے کیا۔ کانفرنس کے موقع پر وفاقی وزیر نے شہزادہ معظم سے ملاقات کی اور صدرِ پاکستان، وزیر اعظم اور عوامِ پاکستان کی جانب سے برونائی دارالسلام کے بادشاہ معظم سلطان حاجی حسنال بلقیہ معزالدین ودہ اللہ ابن المرحوم سلطان حاجی عمر علی سیف الدین سعد الخیری ودین اور برادر ملک برونائی دارالسلام کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے دیگر ملاقاتوں کے علاوہ اپنے برونائی ہم منصب، یانگ برہومات داتو سری سیٹیا ڈاکٹر حاجی عبدالمناف بن حاجی متوسن، وزیر برائے بنیادی وسائل و سیاحت، سے بھی دوطرفہ مشاورت کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں بشمول ماہی پروری اور آبی زراعت، زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عالمی غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تنظیم کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار حل کی جانب گامزن کیا ہے۔ انہوں نے ایف اے او کے “فور بیٹرز” فریم ورک—بہتر پیداوار، بہتر غذائیت، بہتر ماحول اور بہتر زندگی—کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں زرعی غذائی نظام کی تبدیلی کے لیے ایک رہنما اصول قرار دیا۔

عالمی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، معاشی اتار چڑھاؤ، توانائی کے بحران اور علاقائی عدم استحکام کے باعث زرعی غذائی نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ تمام عوامل پیداواری لاگت، منڈی کے استحکام اور خوراک کی دستیابی پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کے پیش نظر فوری اور تیز رفتار اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ملک کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایف اے او کے تعاون سے پانی کے بہتر انتظام، فصلوں کی تنوع کاری اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو فروغ دے کر اپنے زرعی غذائی نظام کو جدید بنا رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے، جس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا پر مبنی رہنمائی کے نظام اور پریسیژن ایگریکلچر شامل ہیں تاکہ پیداوار اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی میں چھوٹے کاشتکاروں، خواتین اور نوجوانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ توسیعی خدمات اور ویلیو چینز کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ معاشی ترقی میں وسیع تر شمولیت ممکن ہو سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور اسے ترجیحی شعبوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے او کے ساتھ مل کر منتشر اقدامات سے ہٹ کر مربوط اور ڈیٹا پر مبنی سرمایہ کاری حکمت عملی کی جانب بڑھ رہا ہے تاکہ سرکاری و نجی دونوں شعبوں سے سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف اے او کے ہینڈ اِن ہینڈ اقدام کے تحت پاکستان اعلیٰ صلاحیت رکھنے والی زرعی ویلیو چینز کی نشاندہی کر رہا ہے اور ایسے منصوبے تیار کر رہا ہے جو سرمایہ کاری کے قابل ہوں، تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے اور ترقی کے قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اس ضمن میں انہوں نے حکومتِ پاکستان اور ایف اے او پاکستان کے درمیان زیتون اور ڈیری کے شعبوں میں قومی ہینڈ اِن ہینڈ انویسٹمنٹ سمٹ کے انعقاد کو سراہا، جو ایف اے او انویسٹمنٹ فورم 2026 کی تیاری کا حصہ ہے۔

ون ہیلتھ کے تصور کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف اے او اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے مربوط نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، تشخیصی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

پاکستان سرحدی حیوانی امراض کے عالمی شراکت پروگرام کے تحت بھی اہم اقدامات کر رہا ہے اور روک تھام پر مبنی حکمت عملی کو فروغ دے رہا ہے۔ فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز کے قومی پروگرام سمیت جانوروں کی شناخت اور ٹریس ایبلٹی کے نظام کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو محفوظ بنایا جا سکے اور محفوظ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی غذائی نظام کی تبدیلی تنہا ممکن نہیں اور اس کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ایشیا و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پائیدار ماہی پروری، بلیو ٹرانسفارمیشن، موسمیاتی موافق زراعت اور بایو اکانومی جیسے شعبوں میں تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی غذائی نظام کی تبدیلی اب کوئی دور کا ہدف نہیں بلکہ ایک فوری ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایف اے او اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر شراکت داری، سائنسی جدت اور جنوبی-جنوبی تعاون کے ذریعے اس مقصد کے حصول کے لیے کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا، “اگر ہم فوری اور مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ اقدامات کریں تو ہم ایسے زرعی غذائی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں، غذائیت کو بہتر کریں، ماحول کا تحفظ کریں اور سب کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کریں۔”

Photos from Ministry of National Food Security & Research's post 21/04/2026

📲Social Media Post (Interactive & Engaging)

🚀 Unlocking the Use of AI in Government Workflows

✅The Phase-II session of the internal capacity-building training on Prompt Engineering using Artificial Intelligence (AI) was conducted by Mr. Raymond Alexander William, Digital Transformation & Analytics Consultant, on 21 April, 2026.

🎤Today’s training session was not just about AI—it was about how we communicate with AI.

📌The session provided a practical introduction to Prompt Engineering, focusing on how officers can create and use effective prompts for routine official tasks such as drafting, summarizing, and analysis.

🔹It covered basic usage guidelines, data protection measures, and responsible use of AI tools, while highlighting benefits such as improved efficiency, time savings, and enhanced work quality.

🔁 From understanding the art of prompt engineering to learning how small changes in instructions can transform outputs, participants explored how to turn AI tools into powerful virtual assistants that save time, enhance productivity, and improve decision-making.

💡 Key highlights:

✔️Mastering the 5 pillars of effective prompting
✔️Real-time examples showing how better prompts is equal to better results
✔️Understanding data protection & responsible AI use
✔️Learning how to structure tasks, define roles, and guide AI effectively

👉It must be noted that sessions like these are helping build a workforce that is not just tech-savvy, but tech-intelligent.

14/04/2026

Ministry of National Food Security & Research

Photos from Ministry of National Food Security & Research's post 14/04/2026

حکومتِ پاکستان
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق

پریس ریلیز

فیڈرل کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس، غذائی تحفظ کی صورتحال کا جائزہ، خریف اہداف مقرر

اسلام آباد: اپریل 14، 2026

فیڈرل کمیٹی برائے زراعت (FCA) کا ایک اہم اجلاس، جو ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات کی نگرانی کا مجاز ادارہ ہے، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سینئر افسران کے علاوہ صوبائی محکمہ جاتِ زراعت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ، نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ سینٹر، محکمہ موسمیات پاکستان، پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ غذائی تحفظ کے حصول کے لیے ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے، خصوصاً فی ایکڑ پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں مجموعی طور پر خوراک کی دستیابی مناسب ہے، تاہم کم آمدنی والے طبقات کے لیے اس کی استطاعت ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26، جسے 19 نومبر 2025 کو وفاقی کابینہ نے منظور کیا، ملک بھر میں نافذ کی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کی معاونت کی جا سکے اور گندم کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ معاشی حالات کے باوجود وفاقی حکومت کسانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں فصلات، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم پائیدار ترقی کا انحصار ان وسائل کے مؤثر استعمال پر ہے۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمیاتی لحاظ سے موافق طریقۂ کاشت، اور مؤثر مارکیٹنگ نظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کو مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑا جا سکے۔ انہوں نے تجارتی سہولت کاری کی پالیسیوں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کے اقتصادی تبدیلی ایجنڈا کے تحت، وزارت نے صوبائی حکومتوں اور گرین پاکستان انیشیٹو کے اشتراک سے ایک جامع زرعی سیکٹر روڈمیپ تیار کیا ہے۔ اس روڈمیپ میں میکانائزیشن، بیج کے نظام میں اصلاحات، کپاس کی بحالی، ویلیو ایڈیشن، زرعی قرضوں تک بہتر رسائی اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام خوراک کے معیار کو بہتر بنانے، کوالٹی اشورنس کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی زرعی برآمدات کی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اجلاس میں ربیع فصلوں (2025-26) کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گندم کی پیداوار کا تخمینہ 29,310 ہزار ٹن ہے جو 9,385 ہزار ہیکٹر رقبے پر حاصل ہوئی۔ پیاز کی پیداوار 2,701.78 ہزار ٹن ہے جو 163.75 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہوئی، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ ٹماٹر کی پیداوار 555.72 ہزار ٹن رہی جو 41.99 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہوئی، جس میں پیداوار میں 11.9 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ زیر کاشت رقبے میں 12.1 فیصد کمی ہے۔ آلو کی پیداوار 12,171.0 ہزار ٹن رہی جو 466.56 ہزار ہیکٹر رقبے پر حاصل ہوئی، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 23.2 فیصد اضافہ ہوا۔ چنے کی پیداوار 262.03 ہزار ٹن رہی جو 782.24 ہزار ہیکٹر رقبے پر حاصل ہوئی، جس میں 52.4 فیصد نمایاں اضافہ ہوا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ موجودہ حکومت نے زرعی شعبے کو ترجیح دی ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔

کمیٹی نے خریف فصلوں (2026-27) کے پیداواری اہداف پر بھی غور کیا اور چاول کے لیے 9.17 ملین ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا جو 3.39 ملین ہیکٹر رقبے پر حاصل کیا جائے گا، جبکہ مکئی کے لیے 9.77 ملین ٹن پیداوار کا ہدف 1.5 ملین ہیکٹر رقبے پر مقرر کیا گیا۔ گنے کی پیداوار کا ہدف 80.3 ملین ٹن رکھا گیا جو 1.14 ملین ہیکٹر رقبے پر حاصل کیا جائے گا، جبکہ کپاس کے لیے 9.64 ملین بیلز کا ہدف 2.16 ملین ہیکٹر رقبے پر مقرر کیا گیا۔ مونگ، ماش اور مرچوں سمیت دیگر فصلوں کے اہداف بھی مقرر کیے گئے۔

خریف فصلوں (2026) کے لیے زرعی ان پٹس کی دستیابی پر بات کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ نہری نظام میں پانی کی دستیابی 67.451 ملین ایکڑ فٹ (MAF) رہے گی۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ مارچ سے اپریل کے پہلے عشرے تک اوسط سے زائد بارشوں نے صورتحال کو کسی حد تک بہتر بنایا ہے، تاہم گزشتہ مہینوں میں خشک موسم کے باعث بالخصوص بڑے زرعی میدانوں میں مٹی کی نمی اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ مزید بتایا گیا کہ اپریل اور مئی میں متوقع بارشیں اور شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ بڑے ذخائر میں پانی کی دستیابی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں تیز بارش، ژالہ باری اور آندھی طوفان ربیع فصلوں کی کٹائی کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً بالائی اور وسطی علاقوں میں۔ کمیٹی نے دستیاب پانی کے دانشمندانہ استعمال پر زور دیا، خاص طور پر ملک کے نچلے حصوں میں۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چاول اور مکئی کے بیج کی دستیابی ضرورت کے مطابق رہے گی، جبکہ مقامی پیداوار اور دستیاب ذخائر کی وجہ سے یوریا کی فراہمی بھی تسلی بخش رہے گی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے زرعی قرضوں کی متوقع فراہمی 3,062 ارب روپے تک بڑھا دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کی 2,577 ارب روپے کی تقسیم کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے ملک میں غذائی تحفظ کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم اس امر پر زور دیا کہ زرعی تحقیق و ترقی کو مزید فروغ دیا جائے اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اس شعبے میں مزید پیش رفت ممکن ہو سکے۔ #

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


B-Bloack, Pak Secretariat
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:30 - 16:30
Tuesday 08:30 - 16:30
Wednesday 08:30 - 16:30
Thursday 08:30 - 16:30
Friday 08:30 - 16:30