🛑 * اس بارعیدالفطر کے فطرہ سے ایران کی مدد کریں *
👈🏻 بمباری نے گھروں کو ملبہ بنا دیا، ایران اس وقت انتہائی مشکل وقت میں ہے۔ہر حال میں فطرہ ایران کو دیں
👈🏻
*اسلام آباد میں ایران کے سفارت خانے کا آفیشل اکاؤنٹ* 👇🏼👇🏼👇🏼
Branch Code 0613
ACCOUNT NO OF EMBASSYOF I.R.IRAN-ISB
PKR ACCOUNT Embassy of the I.R. of Iran-Islamabad
ACCOUNT NUMBER: 0010044101990014
IBAN: PK49ABPA0010044101990014
SWIFT : ABPAPKKA # # #
BANK: ALLIED BANK LTD
BRANCH NAME &
CODE : DIPLOMATIC ENCLAVE 0613
یہ پوسٹ آ گے مومنین تک لازمی شئیر کریں شکریہ مولا پاک سلامت رکھیں🤲
Syed Majaz Hussain Kazmi Fans
Honesty is the best policy
*دنیا میں 13 قسم کے دل والے لوگ ہیں۔القران*
*1. قلب سلیم💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻛﻔﺮ، ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ - 89)
*2. قلب منیب💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﷲ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﻴﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ق - 33)
*3. قلب مخبت💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﻬﻜﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻜﻮﻥ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺤﺞ - 54)
*4. قلب وجل💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﯿﮑﯽ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﷲ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ لرزتا ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻮﻥ - 60)
*5. قلب تقی💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﷲ ﻛﮯ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﻴﻢ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺤﺞ - 32)
*6. قلب مھدی💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟو ﷲ ﻛﮯ ﻓﻴﺼﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻛﻮ ﺑﻬﯽ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﮨﮯ(سورۂ تغابن - 11)
*7. قلب مطمئنہ💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﻮ ﷲ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﻴﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺫﻛﺮ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺳﻜﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺮﻋﺪ - 28)
*8. قلب حي💝*
ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﷲ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﻦ ﻛﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺤﻴﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﻕ - 37)
*9. قلب مریض💝*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﮏ، ﻧﻔﺎﻕ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﻭ ﻻﻟﭻ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ - 32)
*10. قلب اعمی💝*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺤﺞ - 46)
*11. قلب ﺍﻟﻼﻫﻰ💝*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﯿﻨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ - 3)
*12. قلب ﺍﻵﺛﻢ💝*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻖ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ کر ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ - 283)
*13. قلب متکبر💝*
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺘﮑﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺶ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﯾﻨﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ(ﺳﻮﺭۂ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ - 35)
*اﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢْ 🫀*
یقین اور بھروسہ
*”یقین اور بھروسہ میں فرق"*
ایک آدمی دو بہت اونچی عمارتوں کے درمیان تنی ہوئی رسی پر چل رہا تھا۔ وہ بہت سُکون سے دونوں ہاتھوں میں ڈنڈا پکڑے، توازن قائم رکھے ہوئے تھا۔ اس کے کاندھے پر اُس کا بیٹا بیٹھا تھا۔ زمین پر کھڑے تمام لوگ دم سادھے یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے۔
جب وہ بخیریت دوسری عمارت تک پہنچ گیا تو لوگ تالیاں بجانے لگے اور اس کی خوب تعریف کی۔
آدمی نے مُسکرا کر مجمع کی طرف دیکھا اور بولا، ”کیا آپ لوگوں کو یقین ہے کہ میں واپس اسی رسی پر چلتا ہوا دوسری طرف پہنچ جاؤں گا؟“
لوگ یک زبان ہو کر بولے، ”ہاں، ہاں! تم کر سکتے ہو۔“
اس نے پھر پوچھا، ”کیا آپ سب کو مجھ پر بھروسہ ہے؟“
لوگوں نے جواب دیا، ”ہاں، ہم تم پر شرط لگا سکتے ہیں!“
آدمی مُسکرایا اور بولا، ”ٹھیک ہے، تو کیا آپ میں سے کوئی میرے بیٹے کی جگہ میرے کاندھے پر بیٹھے گا؟
میں اسے بحفاظت دوسری طرف لے جاؤں گا۔“
یہ سُنتے ہی مجمع پر خاموشی چھا گئی۔ سب ساکت ہو گئے۔
کہانی کا مقصد یہ ہے کہ یقین الگ چیز ہے اور بھروسہ الگ۔
بھروسہ کرنے کے لیے انسان کو اپنی اَنا اور خوف دونوں فناء کرنے پڑتے ہیں اور آج اسی چیز کی ہم سب میں کمی ہے۔
ہم الله تعالیٰ پر یقین تو رکھتے ہیں، مگر بھروسہ نہیں کر پاتے۔
حالانکہ الله تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے:
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
ترجمہ: جب کسی بات کا پختہ ارادہ کر لو تو الله تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ یقیناً الله تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
*(سورۃ آلِ عمران : 159)*
02/12/2025
1952ء رات کے وقت 12 بجے لاھور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخصیت کا مالک نوجوان اترا،
اسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا اس نے آس پاس دیکھا تو کوئی سواری نظر نہ آئی مگر ایک تانگہ جو کہ چلنے کو تیار تھا نوجوان نے اسے آواز دے کر کہا کہ اسے بھی سول ریسٹ ھاؤس تک لیتے جائیں مگر کوچوان نے صاف انکار کر دیا،
نوجوان نے التجائیہ الفاظ میں کوچوان سے کہا تو اس نے سخت لہجے میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ھے وہ مجھے نہیں بخشے گا، لہذا میں چار سواریوں سے زیادہ نہیں بٹھا سکتا،
تانگے میں بیٹھی سواریوں نے جب نوجوان کو بے بس دیکھا تو کوچوان سے کہا کہ ہم سب مل کر اس نوجوان کی سفارش کریں گے لہذا اسے بھی ساتھ بٹھا لیں,
کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی نوجوان کو سوار کر لیا، جب پھاٹک آیا تو پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا اور کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4 سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا ؟
کوچوان نے 5 ویں سواری کی مجبوری بیان کی مگر پولیس والےکا لہجہ تلخ سے تلخ ھوتا گیا۔
نوجوان نے 5 روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ سنتری کو دے کر جان چھڑاؤ ۔ مگر جب سنتری نے 5 روپے دیکھے تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آ گیا، اس نے کوچوان سے کہا کہ تم نے مجھے رشوت کی پیش کش کی ھے جو کہ ایک جرم ھے لہذا اب تمہارا لازمی چالان ھو گا، سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پاکستان ہی کیوں بنایا ؟
یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا , تانگہ چلا گیا ۔ سول ریسٹ ھاؤس کے قریب نوجوان اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل نو بجے ادھر آجانا میں تمہارا جرمانہ خود ادا کروں گا ۔
اگلی صبح 9 بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اگے بڑھ کر کوچوان کو خوش آمدید کہا اور پوچھا کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟ کوچوان کی جانے بلا کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔
پولیس کے جوان کوچوان کو دفتر کے اندر لے گئے ۔ رات والے نوجوان نے کوچوان سے اٹھ مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا پھر اپنے پاس بیٹھے ڈی سی او کو رات والا واقعہ سنایا ، نوجوان نے رات والے سنتری کو فورا طلب کیا اور ڈی سی او کو حکم دیا کہ اس ایماندار پولیس والے جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرو ۔ اور کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔
اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان سردار عبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے، جنہوں نے پاکستان کے لیے بے شمار خدمات سر انجام دیں، وہ جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔اور ثانیہ نشتر انہی کی پوتی ہے جسکو عمران خان نے احساس پروگرام اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا چئر پرسن لگایاتھا۔
اس پوسٹ کا مقصد علم تلاش کرنا اور پھیلانا ہے۔
اسٹیٹ سبجیکٹ کیا ہے؟
باشندۂ ریاست جموں و کشمیر سرٹیفکیٹ
قانون میں جہاں کشمیر کی زمین، ڈومیسائل اور شہریت دینے کا طریقۂ کار طے کیا گیا ہے، وہاں خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزا کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ جو افراد غیر منقولہ نجی یا سرکاری املاک کے غیر قانونی قبضے یا خرید و فروخت میں ملوث پائے جائیں گے انہیں 10 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔
اسٹیٹ سبجیکٹ ہماری ریاست کی تاریخ اور ثقافت کا ایک خوب صورت باب ہے۔ ڈوگرہ حکمرانوں کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ خوش حال ریاست میں بیرونی افراد کے بڑھتے ہوئے داخلے سے اصلی ریاستی باشندے اقلیت میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ چنانچہ 20 اپریل 1927ء کو قانونی دستاویز نمبر 44 نمبر I-L/84 کے ذریعے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کی عبارت یہ ہے کہ:
“سٹیٹ سبجیکٹ کی His Highness مہاراجہ بہادر (وائس پرائیویٹ سیکریٹری، چٹھی نمبر 2354 مورخہ 31 جنوری 1927، محکمہ مال، ممبر کونسل) عوام الناس پر اطلاق کی منظوری دیتا ہے۔“
1935ء میں پونچھ پر قبضے کے بعد "سٹیٹ سبجیکٹ کی تعریف ریاست پونچھ کے لیے" کے عنوان سے ایک دوسرا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا واحد قانون ہے جس میں ریاست کے شہریوں کو مختلف درجات میں تقسیم کر کے ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا۔
درجاتِ شہریت
(1) شہری درجہ اول
وہ تمام افراد جو مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت کے آغاز سے قبل جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے یا مقیم تھے، نیز وہ افراد جو بکرمی/سموت کلینڈر کے مطابق 1942 سے قبل (یعنی 1885ء سے پہلے) جموں کشمیر میں مستقل سکونت اختیار کر چکے تھے، شہری درجہ اول کہلائیں گے۔
(بکرمی/سموت ہندی کلینڈر عیسوی کلینڈر سے 57 سال آگے ہے۔)
(2) شہری درجہ دوم
وہ افراد جو بکرمی/سموت سال 1942 سے 1968 (1885ء سے 1911ء) کے دوران ریاست میں آباد ہوئے اور غیر منقولہ جائیداد خرید کر مستقل رہائش اختیار کی، وہ باشندہ ریاست درجہ دوم شمار ہوں گے۔
(3) شہری درجہ سوم
درجہ اول و دوم کے علاوہ وہ تمام افراد جنہوں نے رعیت نامہ یا اجازت نامہ کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد خریدی اور 10 سال کی مستقل رہائش اختیار کی، وہ درجہ سوم کہلائیں گے۔
(4) شہری درجہ چہارم
وہ کمپنیاں جو ریاست میں رجسٹر ہوں، جن سے ریاستی حکومت کے مالی مفادات وابستہ ہوں یا جن کے مالی استحکام پر حکومت مطمئن ہو، انہیں مہاراجہ خصوصی حکم سے درجہ چہارم کا شہری قرار دے سکتا ہے۔
خصوصی نوٹس (فوائد و احکام)
(1) ریاستی وظائف، زرعی زمین، تعمیراتی مقاصد اور ریاستی ملازمتوں میں درجہ اول کو درجہ دوم و سوم پر ترجیح حاصل ہوگی۔
(2) ہر درجے کے افراد کی اولاد بھی وہی درجہ رکھے گی۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص درجہ دوم ہے تو اس کے پوتے اور پڑپوتے بھی درجہ دوم ہی ہوں گے۔
(3) بیوہ یا بیوی کو وہی درجہ ملے گا جو اس کے شوہر کو حاصل تھا، بشرطیکہ وہ طویل عرصہ ریاست میں رہے۔
(4) اجازت نامہ لینے کے 6 ماہ کے اندر جائیداد خریدنا ضروری ہے ورنہ اجازت نامہ منسوخ تصور ہوگا۔ 10 سال بعد باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہے، ورنہ جائیداد ریاست کی ملکیت شمار ہوگی۔
1947ء کے بعد صورتِ حال
تقسیم کشمیر کے بعد تینوں حصوں میں یہ قانون نافذ رہا۔ جعلی باشندہ ریاست سرٹیفکیٹس کی تنسیخ کے لیے "آزاد جموں و کشمیر جعلی باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ تنسیخ ایکٹ 1971ء" جاری ہوا۔ مگر 25 جون 1980ء کو ڈوگرہ ایکٹ کو من و عن نافذ کرنے کے بعد 1971ء کا ایکٹ منسوخ ہوگیا۔
1980ء کے ایکٹ میں کشمیر کونسل کو قانون سازی کے اختیارات دیے گئے۔ جعلی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے سرٹیفکیٹس کی تحقیقات، انکوائری اور سزائیں مقرر کی گئیں۔
شادی اور شہریت کے اصول
غیر ریاستی خاتون اگر ریاستی مرد سے شادی کرے تو وہ درجہ اول کی شہری بن سکتی ہے۔
لیکن غیر ریاستی مرد کسی بھی صورت درجہ اول کا شہری نہیں بن سکتا۔
ریاستی خاتون اگر غیر ریاستی مرد سے شادی کر کے ریاست چھوڑ دے تو اس کی ریاستی شہریت ختم ہو جائے گی اور وہ صرف وراثتی جائیداد کی حق دار رہے گی۔
ایسی عورت کی اولاد والد کی طرح درجہ سوم ہی کی شہری رہے گی۔
سرٹیفکیٹ کا اجرا
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تمام دستاویزات کی تصدیق کے بعد فیصلہ کرے گا کہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے یا نہیں۔
درخواست مسترد ہونے کی صورت میں 30 دن میں حکومت کو اپیل کی جا سکتی ہے۔
ریاستی زمین کی خرید و فروخت اور شہریت کے سخت قوانین کے باوجود کسی ضلع میں قطعہ اراضی کا الاٹمنٹ ہونا دیدہ دلیری کی انتہا سمجھا جاتا ہے۔
نوٹ:
معزز سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے مقدمہ سبیل احمد چوہان بنام افتخار الحسن مورخہ 3 اگست 2022ء میں تمام متعلقہ قوانین و سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ/ڈومیسائل کے اجرا کے بارے میں تفصیلی رہنما اصول مقرر کیے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Address
Islamabad
