Mama Kodda ماما کوڈا

Mama Kodda ماما کوڈا

Share

A page of Muttahida Majlas e Amal Bannu KP. Invite your friends to LIKE and SHARE our Page.

25/05/2025

‏کل اسلام آباد سپریم کورٹ میں عمران خان کے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران ہوئی کاروائی میں جج اطہر من اللہ نے فرنٹ فٹ پر آکر شاندار سٹروکس کھیلے جن کی سمری درج ذیل ہے:

جسٹس اطہر من اللہ عمران خان کے وکیل سے :: آپ کہتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس قابل سماعت نہیں ہے یہ آئین میں کہاں لکھا ہے؟؟

وکیل عمران خان :: کیونکہ ہمارا مؤقف ہے کہ وہ خیراتی ہسپتال چلاتے ہیں جس کے لیے وہ باہر کے ملکوں سے چندہ جمع کرسکتے ہیں جس کے لیے آئین میں کوئی پابندی نہیں

جسٹس اطہر من اللہ :: عمران خان پر قائم مقدمہ چندہ جمع کرنے کا ہے یا بیرونی اداروں سے غیر قانونی رقوم وصول کرنے کا ؟

وکیل عمران خان :: غیر قانونی طریقے سے رقوم وصول کرنے کا -

جسٹس اطہر من اللہ :: کیا بطور وکیل آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ایک خاص حد تک سے اوپر مالیت کے عطیات لینے کی صورت میں حکومت وقت کو اس رقم کی مالیت ، متعلقہ ڈونر کی شہریت اور اس کا ذرائع آمدنی بتانا ضروری ہے ؟

وکیل عمران خان :: جی یہ بات آئین میں درج ہے-

جسٹس اطہر من اللہ :: کیا میرے سامنے موجود عمران نیازی کے بنک اکاونٹس کی تفصیلات مصدقہ ہیں اور کیا آپ کے پاس ان کی کاپی موجود ہے نیز کیا آپ نے ان کا مطالعہ بھی کیا ہے ؟

وکیل عمران خان :: جی یہ دستاویزات مصدقہ ہیں اور میرے پاس ان کی کاپی موجود ہے اور میں نے ان کا مطالعہ بھی کیا ہے

جسٹس اطہر من اللہ :: کیا یہ بنک اکاونٹس عمران نیازی نے FBR کے پاس اپنے اثاثہ جات میں ظاہر کیے ہیں ؟؟

وکیل عمران خان :: جی نہیں کیونکہ یہ ہسپتال کے اکاؤنٹس ہیں اور یہ رقوم بھی ہسپتال کے لیے حاصل کی گئی ہیں

جسٹس اطہر من اللہ :: کیا خیراتی ہسپتال کے لئے جمع کیے عطیات کوئی بندہ قانونی طور پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں رکھ سکتا ہے ؟؟

وکیل عمران خان :: اگر مقصد نیک ہو تو رکھ سکتا ہے ؟

جسٹس اطہر من اللہ :: وکیل صاحب آپ کیسے کسی کے مقاصد کو جان سکتے ہیں کہ وہ نیک ہیں یا برے ۔۔۔میرے ساتھ آئینی بات کریں

وکیل عمران خان :: جی قانونی طور پر تو نہیں رکھ سکتا

جسٹس اطہر من اللہ :: شوکت خانم ہسپتال کی آڈٹ رپورٹ کہاں ہے ؟
وکیل عمران خان :: جی یہ آڈٹ رپورٹ ہے وکیل نے ایک فائل جسٹس صاحب کے سامنے رکھی

جسٹس اطہر من اللہ :: یہ تو 2010 کی رپورٹ ہے اس کے بعد کی سالانہ آڈٹ رپورٹس کہاں ہیں ؟؟؟

وکیل عمران خان :: جی وہ 2010 کے بعد شوکت خانم ہسپتال کا آڈٹ نہیں ہوا

جسٹس اطہر من اللہ :: آڈٹ کیوں نہیں ہوا؟؟

وکیل عمران خان :: چپ

(مخالف سرکاری وکیل نے جسٹس صاحب سے اجازت لے کر بات شروع کی کہ 2010 کے بعد شوکت خانم ہسپتال کے آڈٹ کے لیے حکومتی احکام کے خلاف عمران خان نے مختلف کورٹس سے حکم امتناعی حاصل کررکھا ہے)

جسٹس اطہر من اللہ :: خیراتی ہسپتال کے آڈٹ کے خلاف حکم امتناعی کی کیا ضرورت پیش آئی؟

وکیل عمران خان :: جی عمران خان صاحب مصروف تھے

جسٹس اطہر من اللہ :: ان کی مصروفیات کا ہسپتال کے آڈٹ سے کیا لینا دینا ۔۔۔۔ اور کیا عمران خان صاحب 2010 سے لے کر 2022 تک مصروف رہے؟؟۔ ۔۔۔ کیا ان کو اتنا ٹائم نہیں ملا کہ وہ اپنے ہسپتال کا اڈٹ کروائیں؟

وکیل عمران خان :: چپ

جسٹس اطہر من اللہ :: شوکت خانم ہسپتال کو دیئے گئے بڑے بڑے عطیات کس عرصے میں عمران خان کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے

وکیل عمران خان :: 2013 سے 2018 کے دوران

جسٹس اطہر من اللہ :: قانونی طور پر کسی رفاحی یا فلاحی ادارے کے لیے کتنی مالیت کے عطیے سے زیادہ رقم وصول ہونے پر حکومت وقت کے اداروں کو مطلع کرنا ضروری ہے؟؟؟؟

وکیل عمران خان :: جی پانچ ہزار ڈالر سے اوپر یا اتنی کی مالیت کے عطیات

جسٹس اطہر من اللہ :: بنک کی ان دستاویزات میں لکھا ہے کہ انڈیا سے دولاکھ ڈالر ، امریکہ سے 26 لاکھ ڈالر ,انگلینڈ سے 16 لاکھ ڈالر جرمنی سے 11.5 لاکھ ڈالر اور اسرائیل سے 29لاکھ 63ہزار ڈالر کی رقوم عمران خان کے اکاؤنٹس میں آئی ہیں۔۔۔
وکیل عمران خان :: چپ ۔۔۔۔خاموش ۔۔۔پریشان ....(جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ بیٹھے جسٹس اعجاز الحسن کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے.....)
جسٹس اعجاز الحسن جسٹس اطہر من اللہ کی طرف دیکھتے ہوئے :: آج سماعت ملتوی نہ کر دیں ؟

جسٹس اطہر من اللہ :: نہیں انہیں جواب دینے دیں

وکیل عمران خان :: جی یہ سب عطیات تھے

جسٹس اطہر من اللہ :: ان دستاویزات کے مندرجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیراتی ہسپتال کے لیے حاصل کردہ عطیات کی رقوم آپ کے موکل کے ذا تی اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں

وکیل عمران خان : جی مجھے اپنے باقی ساتھی وکلا سے مشورہ کرنے کے لیے وقت درکار ہے

جسٹس اطہر من اللہ :: وکیل صاحب ذرا غور سے سن لیں ۔۔۔۔آپ کا موکل بیک وقت چار جرائم کا مرتکب ہوا ہے
اول ہسپتال کے نام پر غیر قانونی ذرائع سے رقوم کا حصول -
دوئم دشمن اور غیر تسلیم شدہ ملک کے حساس جاسوس اداروں کے عہدے داران سے رقوم کا حصول-
سوئم خیراتی فنڈ کی غیر قانونی طور پر ذاتی اکاؤنٹس میں منتقلی -
چہارم خیراتی ہسپتال کے فنانس آڈٹ سے انکار ، لاپرواہی اور اس کے خلاف دیدہ دانستہ حکم امتناعی کا حصول تاکہ اس معاملے پر پردہ ڈالا جا سکے ۔۔۔۔اب باری باری مجھے ان الزامات کے جوابات دیں

وکیل عمران خان :: خاموش سے کھڑا رہا

جسٹس اطہر من اللہ :: جواب دیں وکیل صاحب !!!!!!! جب تک جواب نہیں ملے گا، ہم یہیں بیٹھیے ہیں

وکیل عمران خان :: جی وہ میری ایک اور مقدمہ میں بھی پیشگی ہے، برائے مہربانی کاروائی کل تک کیلئے ملتوی کرکے مجھے اور میرے پینل کو تیاری کا ٹائم دیا جائے

جسٹس اطہر من اللہ :: جب تک جواب نہیں ملے گا، ہم کاروائی ملتوی نہیں کریں گے۔

وکیل عمران خان :: التجا بھری نظروں سے جسٹس اعجاز الحسن کو دیکھنے لگ گیا
جسٹس اطہر من اللہ :: سنا ہے آپ کا موکل تو صادق اور امین بھی ہے

(پوری عدالت میں قہقہے۔۔۔۔🤣🤣🤣🤣🤣 عمران نیازی کا وکیل پسینے سے شرابور

14/05/2025

آج ایک بار پھر تیراہ، خیبر میں بدامنی عروج پر ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے عام پشتون آبادیوں پر مارٹر شیلنگ کی گئی۔
شمالی وزیرستان کے علاقے شواہ میں پاکستانی فوج نے عام پشتون آبادیوں پر ڈرون سے بم گرائے، جبکہ مچہ مداخیل میں ایک معصوم پشتون بچہ لینڈ مائن کے دھماکے سے زخمی ہو گیا۔
پشتونوں کے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔ خیبر میں ایک امام مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ آج سپین وام میں مقامی پشتون عمائدین مولوی اجمل، ملک شیر بہادر، ملک شوتولے، ملک لونگ خان، اور ملک مولا خان کو ٹارگٹ کیا گیا۔ دو دن قبل میر علی میں دو کم عمر مقامی پشتون نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا، اور تین دن پہلے سوات میں فتح اللہ کو شہید کر دیا گیا۔
بنوں کے جانی خیل میں بے گناہ پشتون عوام پر پاکستانی فوج کے ظلم کے خلاف، اور بنوں کے علاقے میریان میں مغوی پشتون ٹیچر عرفان کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔
وہ ریاست پاکستان جو پنجاب میں دو دن میں امن بحال کر لیتی ہے، نے پچھلے 25 سالوں میں پختونخوا کے امن کے لیے نہ صرف کوئی عملی کوشش نہیں کی، بلکہ ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے بدامنی وجود میں آئی اور تاحال وہی پالیسیاں جاری ہے۔
ریاست پاکستان نے پشتونوں کے لاکھوں گھر اور درجنوں بازار مسمار کیے، ہزاروں بے گناہ پشتونوں کو شہید اور لاپتہ کیا۔ عورتوں اور بچوں پر بھی رحم نہیں کیا گیا۔
پشتونوں کے لیے امن کا مطالبہ کرنے والی اور ان مظالم کے خلاف تحریک "پی ٹی ایم" کے رہنماؤں کو شہید، زخمی، قید اور ناجائز مقدمات کا نشانہ بنایا گیا۔ آخرکار پی ٹی ایم کو مکمل طور پر بین کر کے اس کے خلاف منفی سیاسی پروپیگنڈہ شروع کیا گیا تاکہ ایک طرف پشتونوں کو برباد کیا جا سکے اور دوسری طرف اس بربادی کے خلاف آواز اٹھانے والی تحریک کو ختم کر کے پشتونوں کو ظالم فوج اور ریاست کے ساتھ شانہ بشانہ والے بنایا جاسکے۔
پشتون نوجوانو!
مظلوم پشتون وطن اور عوام کے ساتھ کوئی میڈیا نہیں ہے۔ اس لیے آپ سب سے امید ہے کہ اس ظلم کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں۔

09/05/2025

‏بھارتی ایٹمی دھماکوں کا جواب 17 دن بعد دیا گیا تھا. یہ 17 دن، 17 سالوں جیسے تھے. اُس وقت کی قیادت کو بزدلی اور ڈالروں پہ بِک جانے کے طعنے دئیے جانے لگے. اخبارات میں کارٹون چھپنا شروع ہو گئے۔لوگوں نے باہر نکل کر احتجاج کرنا شروع کر دیا. لیکن جب جواب آیا تو دنیا حیران رہ گئی.‏اب بھی جواب آئے گا۔اور یہ جواب جذبات کے بجائے مکمل پروفیشنل فوج کا جواب ہو گا۔فی الحال جو کچھ کِیا گیا وہ 80 بھارتی طیاروں اور سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ روکنے کیلئے دفاع میں کِیا گیا. یہ دفاع تھا، جواب نہیں تھا. ہم دفاع سے مطمئن ہیں اور جواب کے منتظر
انشاللہ اللہ تعالیٰ مددگار ہے ہمارے ❤️

08/05/2025

جواب ان عقل کے اندھوں کے لیے جو آج سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہمیں کوس رہے ہیں:

آج کے فیصلے پر شور مچانے سے پہلے ذرا اپنی یادداشت تازہ کریں۔ جب عمران خان صاحب وزیرِاعظم تھے، تب اسی ملٹری کورٹ کو "ضروری اور مؤثر" کہہ کر ان کے دفاع میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے تھے۔ خود عمران خان نے اپنی ویڈیوز میں کہا کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونا چاہیے۔

آج اگر ہم اس فیصلے پر افسوس کر رہے ہیں تو اس کی وجہ آئین کی پامالی ہے — نہ کہ کوئی سیاسی مفاد۔ مگر پی ٹی آئی کے کارکنان کو اعتراض صرف اس وقت ہوتا ہے جب آئین شکنی کا فائدہ ان کو نہ ہو۔

یاد رکھو، اصولوں کی سیاست وہ لوگ کرتے ہیں جو ہر دور میں ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں — جیسے ہم۔ مگر تمھاری سیاست صرف اقتدار کی دیوانگی ہے، جس میں نہ آئین مقدم ہے، نہ جمہوریت، نہ انصاف — صرف عمران خان۔

تو بھائیو، پہلے اپنی قیادت کے بیانات سنو، پھر آ کر دوسروں کو آئین سکھاؤ۔ ہمیں نہ آئین کی تم سے سند چاہیے، نہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ۔


28/04/2025
05/03/2025

پہ وطن مو جوڑ ماتم دے 😭
اب کون بولے گا ۔فرنٹ لائن پر کھیلنے والے یہ سب تو دربدر ہے ،
بنو میں دماکے پر وزیر اعلیٰ اور پحتون یار خان نے شدید مذمت کر لیا ۔

27/02/2025

ایک دن آئے گا کہ بنوں کے عوام پاک فوج کے حق نیں اور پولیس کے خلاف احتجاج کرینگے۔

07/02/2025

‏"پی ٹی آئی نے 8 فروری کو لاہور میں جلسے کی
اجازت مانگ لی۔ یاد رہے 8 فروری کو لاہور میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کا پہلا میچ ہے چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے سلسلے میں۔ پی ٹی آئی نے 19 فروری کو لانگ مارچ کی کال دے دی۔ یاد رہے 19 فروری کو پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کا پہلا میچ ہے"
یہ پاکستان سے چمپئن ٹرافی کے میچ چھیننے کی وطن دشمن کوشش ھے۔ پاکستان کو کرکٹ کے میدان میں تنہا اور شرمندہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ھے۔
اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے کوئی اس قدر گر سکتا ھے شاید اسکے سپورٹر بھی نہیں سوچ سکتے ۔۔

28/01/2025

*تازہ ترین*
*شکیل خان وزیراعلی خیبرپختونخوا اور عاقب اللہ خان کو اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بنانے کا فیصلہ*

*عمران خان کا وزیراعلی علی امین گنڈاپور اور اسپیکر بابر سلیم سواتی کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ*
ذراٸع

Photos from ‎Mama Kodda ماما کوڈا‎'s post 05/12/2024

بائیکاٹ جاری رکھیں۔

29/08/2024

*چند ایک صحافیوں کا احتجاج اور خاص کر تحصیل میئر عزیز اللہ خان مروت اور جماعت اسلامی کی سرگرمیوں سےبائیکاٹ کیوں؟*

*فیصلہ عوام خود کرے*

کچھ روز قبل تحصیل نورنگ کے چیئرمین عزیز اللہ خان کی کوششوں سے ترکیہ کی فلاحی تنظیم کی جانب سے قلعہ گراونڈ کے ساتھ مستحق کاروباری افراد کے لئے کیبنز لگائے گئے صرف یہی نہیں بلکہ ان افراد کو کاروبار کے لئے لاکھوں روپے بھی دئیے گئے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کرکے اپنا اور اپنے اہل و عیال کی کفالت کرسکیں چونکہ اس افتتاحی تقریب میں بیرون ملک سے خاص مہمان شرکت کے لئے آئے تھے اس لئے اس پروگرام کو بھر پور کوریج دینے کے لئے ضلع بھر کے صحافیوں کو دعوت دی گئی تھی اور یہ بات نورنگ کے چند ایک صحافیوں کو ناگوار گزری، اور جونہی تحصیل میئر عزیز اللہ خان کی آمد ہوئی تو ان صحافیوں نے عزیز اللہ خان کو سائیڈ پر کیا اور دونوں کے مابین کچھ دلچسپ مکالمہ ہوا وہ یہ تھا

صحافی: حاجی صاحب ہم وہ نہیں رہے
عزیز اللہ خان: جی میں کچھ سمجھا نہیں
صحافی: ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہمارا معیار، درجہ اور رتبہ دوسروں سے الگ ہے
عزیز اللہ خان: جی آپ کہنا کیا چاہتےہیں ذرا کھل کر بتا دیں
صحافی: مطلب یہ کہ ہمیں پہلے کی طرح ایک یا دو ہزار روپے نہیں دوگے بلکہ اب مہنگائی کے تناظر میں ہمارا معاوضہ بھی ڈبل ٹرپل ہوگا
عزیز اللہ خان: جی ایسا تو ممکن نہیں کیونکہ ہماری نظر میں تمام صحافی معزز ہیں اور جو فیس دوسروں کو دی جائے گی وہی آپ لوگوں کو بھی ملے گی

بس یہ سن کر ان چند ایک صحافیوں نے پروگرام سے واک آوٹ کیا اور آج تک عزیز اللہ خان اور جماعت اسلامی کی ہر سرگرمی سے نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ ان کی ناکامی کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں چاہئے سڑک پر کھڑے ہوکر کھجور اور چنگ چی رکشے کیوں نہ دکھائے جائیں۔
خلیل حیدر
پرسنل سیکرٹری ٹو تحصیل میئر نورنگ عزیزاللہ خان مروت

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


G9 Markaz
Islamabad