مولانا محمد اسماعیل ریحان صاحب کی کتاب "شیر خوارزم" ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جو جلال الدین خوارزم شاہ کی زندگی، چنگیز خان کے حملوں، اور مسلمانوں کے اجتماعی حالات پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف تاریخی حقائق کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ مسلمانوں کی اخلاقی، دینی اور سیاسی حالت پر بھی گہری فکر اور سوچ کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس تحریر میں ہم کتاب کے اہم موضوعات اور ان کی عصری اہمیت پر تفصیل سے بحث کریں گے۔
# # # جلال الدین خوارزم شاہ کی شخصیت:
کتاب "شیر خوارزم" کا سب سے اہم پہلو جلال الدین خوارزم شاہ کی شخصیت اور اس کے تاریخی کردار کی تفصیل ہے۔ جلال الدین کی عمر صرف 21 سال تھی جب اس نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت چنگیز خان کے سامنے سینہ سپر ہو کر جہاد کا اعلان کیا۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ اس نوجوان نے چنگیز خان جیسے ظالم اور بے رحم دشمن کو دس سال تک روکے رکھا۔ جلال الدین خوارزم نے اپنے وقت کے بدترین حالات میں بھی اپنی امت کے لیے قربانی دی اور دنیا کو دکھایا کہ ایک سچے مسلمان کی طاقت اس کے ایمان اور جذبے میں ہوتی ہے، نہ کہ مادی وسائل میں۔
# # # چنگیز خان اور اس کے مظالم:
اسماعیل ریحان کی کتاب میں چنگیز خان کی سفاکی اور بے رحمی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ چنگیز خان نے پوری دنیا میں بربادی مچائی، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف اس کے مظالم ناقابل بیان ہیں۔ یہ کتاب اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ چنگیز خان نے مسلمانوں پر اتنے شدید حملے کیے کہ امت مسلمہ جو اس وقت دنیا کے بڑے حصے پر حکمرانی کر رہی تھی، اس کے سامنے بے بس ہو گئی۔ یہ تاریخی واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امت کا اتحاد اور مضبوطی نہ ہو تو سب سے طاقتور قوم بھی کمزور ہو سکتی ہے۔
# # # مسلمانوں کی کمزوری اور اندرونی اختلافات:
اس کتاب کا ایک اور اہم موضوع امت مسلمہ کے اندرونی اختلافات ہیں۔ اسماعیل ریحان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے آپس کے اختلافات اور فرقہ واریت نے امت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جب چنگیز خان جیسے ظالم حکمرانوں نے مسلمانوں پر حملے کیے تو امت اپنی اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے ان کا بھرپور مقابلہ نہیں کر سکی۔ خاص طور پر، رافضیوں کے کردار کو کتاب میں تنقیدی نظر سے دیکھا گیا ہے، جنہوں نے امت مسلمہ کی جڑوں کو کاٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک مسلمان آپس میں اتحاد قائم نہیں کریں گے اور فرقہ واریت سے باہر نہیں آئیں گے، وہ اپنی اجتماعی طاقت اور وقار کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔
# # # جلال الدین کی جدوجہد کا نتیجہ:
مولانا اسماعیل ریحان کی کتاب میں جلال الدین خوارزم کی جدوجہد کو ایک عظیم کامیابی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ چنگیز خان کو مکمل طور پر شکست نہ دے سکے، لیکن انہوں نے اس کی پیش قدمی کو روک کر مسلمانوں کو مزید تباہی سے بچایا۔ اس کتاب میں یہ نقطہ بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اگر جلال الدین خوارزم چنگیز خان کو نہ روکتا تو چنگیزی لشکر پوری دنیا کو فتح کر لیتا۔
یہ کتاب ہمیں اس بات کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ تاریخ میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اپنی قربانیوں اور بہادری سے امت مسلمہ کو بچایا۔ ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو یاد رکھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا آج کے دور میں بھی بہت ضروری ہے۔
# # # چنگیز خان کی اولاد کا اسلام قبول کرنا:
ایک اور دلچسپ پہلو جو اس کتاب میں سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ چنگیز خان کی اولاد، جو پہلے مسلمانوں کے شدید دشمن تھے، بعد میں مبلغین کی محنت سے اسلام قبول کر لی۔ یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ اللہ کا دین کسی بھی دل میں جگہ بنا سکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔ چنگیز خان کے خاندان کے افراد کا اسلام قبول کرنا تاریخ کا ایک حیرت انگیز پہلو ہے، اور اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دعوت کا کام کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
# # # امت مسلمہ کی کامیابی اور زوال کے اسباب:
اس کتاب میں امت مسلمہ کے عروج و زوال کے اسباب پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ اسماعیل ریحان یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں نے جب تک اللہ کی رضا کے لیے کام کیا اور جہاد کو اپنا شعار بنایا، وہ دنیا میں غالب رہے۔ لیکن جب انہوں نے دنیا کی محبت اور موت کے خوف کو اپنے دلوں میں جگہ دی، ان کا زوال شروع ہو گیا۔ یہ کتاب ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز ان کی دین داری اور جہاد کی روح میں پوشیدہ ہے۔
یہی اصول آج کے مسلمانوں کے لیے بھی قابل عمل ہیں۔ جب تک ہم اللہ کی رضا کے لیے متحد رہیں گے اور اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالیں گے، ہم دنیا میں عزت اور وقار حاصل کر سکیں گے۔
# # # عصری حالات اور امت مسلمہ:
کتاب کا اختتام موجودہ دور کے مسلمانوں کی حالت زار پر ہوتا ہے۔ اسماعیل ریحان یہ بیان کرتے ہیں کہ آج بھی امت مسلمہ اسی حالت میں ہے جس میں وہ چنگیز خان کے وقت تھی۔ امریکہ اور دیگر طاقتیں مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں، اور اسلامی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر غزہ میں ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہو چکا ہے، لیکن مسلم ممالک ایک آواز تک بلند نہیں کر رہے۔
یہ حقیقت آج بھی ہمارے سامنے ہے کہ اگر مسلمان آپس میں اتحاد اور جہاد کا جذبہ پیدا نہیں کریں گے، وہ چنگیز خان جیسے ظالم حکمرانوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔
# # # نتیجہ:
مولانا اسماعیل ریحان کی کتاب "شیر خوارزم" ایک تاریخی شاہکار ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی تاریخ، ان کی کامیابیوں اور زوال کے اسباب پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز ان کے ایمان، اتحاد اور جہاد کی روح میں ہے۔ آج کے مسلمانوں کو اس کتاب سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اپنے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کر کے دنیا میں اپنی کھوئی ہوئی عزت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ ہمیں نہ صرف ہماری تاریخ سے روشناس کراتی ہے بلکہ آج کے دور میں موجود چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔منقول
تحریک درویشان پاکستان
مروجہ سیاست سے سیاست نبویﷺ کی طرف
یہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ وزنی عمل انسان کے اخلاق ہوں گے۔ جس شخص کے اخلاق بہترین ہوں گے، اس کے اعمال کا وزن بھی زیادہ ہوگا، اور وہ زیادہ اجر حاصل کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "دین خیر خواہی کا نام ہے"، یعنی دین کی اصل بھلائی اور خیر خواہی میں ہے۔
انسانیت کی تعریف بھی یہی ہے کہ ایک انسان دوسروں کے لیے بھی وہی چاہے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ بہترین انسان وہی ہے جو دوسروں کے لیے خیر خواہی کرے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ ساری خوبیاں ایمان کے ساتھ ہوں۔ اگر کوئی شخص ایمان کے بغیر اچھے اخلاق کا مالک ہو، تو اللہ کے ہاں اس کے اخلاق کا کوئی اجر نہیں ہوگا۔
البتہ، دنیا میں اللہ تعالیٰ بے ایمان شخص کو اس کے اچھے اعمال کا صلہ دے دیتے ہیں جیسے لمبی عمر، مال و دولت، اور اولاد وغیرہ، لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ ایمان کا ہونا آخرت کی کامیابی کے لیے شرط ہے۔
ایمان کے ساتھ جینے والا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، ان کے طریقوں پر چلتا ہے، فرائض اور واجبات کو ادا کرتا ہے، اور کبھی ان پر فخر یا تکبر نہیں کرتا۔ حقیقی انسانیت یہ ہے کہ انسان نیکی اور خدمت خلق کرے، لیکن اس پر کبھی غرور نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جزاک اللہ خیراً۔
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، اما بعد:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کا مضمون ایک ایسے نوجوان کی عظیم خدمات کے بارے میں ہے جس کے ذریعے سے اللہ پاک نے اپنے دین کا بڑا کام لیا اور انہیں شرفِ قبولیت بخشا۔ یہ نوجوان ایک متوسطہ خاندان میں پیدا ہوا، اور ایک گاؤں میں پروان چڑھا۔ شروع ہی سے ان کے والدین نے ان کی دینی تربیت کا اہتمام کیا اور ان کو حفظِ قرآن کے لیے مدرسے میں داخل کرایا۔ اللہ کے فضل و کرم سے وہ ایک بہترین قاری بنے، اور پھر عالم دین بننے کا عزم کیا۔
ان کی دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا اور وہ کراچی کے مشہور دارالعلوم سے عالم دین کی سند حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے گاؤں پنیاں واپس آئے، جہاں انہوں نے ایک حفظ کے مدرسے میں خدمت کا آغاز کیا۔
یہاں سے ان کی دینی خدمات کا سفر شروع ہوا۔ قاری فدا محمد نے ایک جامعہ کی بنیاد رکھی جو بعد میں پورے پاکستان میں معروف ہوا۔ یہ جامعہ "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ" کے نام سے مشہور ہوا، اور آج یہ ہزارہ ڈویژن کا سب سے بڑا جامعہ علوم دینیہ ہے۔
گزشتہ 30 سالوں میں اس جامعہ سے ہزاروں علماء فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، اور ایک ہزار سے زائد طلباء نے یہاں سے قرآن مجید حفظ کیا۔ جامعہ کی منظم اور بہترین تعلیمی انتظامیہ نے ملک بھر کے دوسرے مدارس کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ کراچی سے خیبر تک کے طلباء یہاں علم حاصل کرنے آتے ہیں، اور اس نظم و ضبط کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جو جامعہ عبداللہ بن مسعود میں نافذ ہے۔
یہ تمام خدمات اس نوجوان کے عزم و ہمت کا نتیجہ ہیں، جن کا نام ہے قاری فدا محمد۔ اللہ تعالیٰ انہیں طویل عمر عطا فرمائے، اور ان سے دین کی یہ روشنی دیرپا جاری و ساری رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی اور ان کے مال میں برکت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
28/07/2024
https://www.youtube.com/playlist?list=PL6gwduoAn2oWwuoG8i02pxkM5Ac_sDDLe
SAP ABAP BTP TRAINING Why Learn ABAP? ABAP is a robust programming language developed by SAP for customizing and enhancing SAP applications. It is widely in demand globally, and f...
https://chat.whatsapp.com/BCPdPZmQ2VQAgZrGIEHJen
https://youtube.com/playlist?list=PL6gwduoAn2oWwuoG8i02pxkM5Ac_sDDLe&si=GD6tztm8eNlaG9cp
[Here is the playlist of the previous 6 lectures you can watch. After completing these lectures, you will be able to set up the SAP ABAP BTP environment and a free global account for SAP ABAP, ready to start SAP ABAP development. Please share these with students who have an IT background and want to accelerate their future in SAP ERP.
گاؤں پنیاں ہریپور میں بلال مسجد واقع ہے، جہاں قاری محمد ایاز صاحب پچھلے 30 سال سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا وجود مسجد کے لئے رحمت اور قصبے کے لوگوں کے لئے مثال ہے۔ قاری صاحب ایک بہترین قاری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کے راستے میں وقف کر دی ہے۔
قاری صاحب کی زندگی سادگی اور عجز کا نمونہ ہے۔ انہوں نے مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں سکونت اختیار کی ہے، جہاں ایک چھوٹی سی چٹائی اور کمزور بستر ان کے آرام کا واحد ذریعہ ہیں۔ دنیاوی عیش و عشرت سے بے نیاز، وہ ہمیشہ اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔
قاری صاحب کی شخصیت میں جو چیز سب سے نمایاں ہے، وہ ان کی استقامت اور وقت کی پابندی ہے۔ وہ ہمیشہ وقت پر تہجد ادا کرتے، وقت پر سوتے اور وقت پر اٹھتے ہیں۔ دن کے دوران وہ معمول کے مطابق قیلولہ کرتے اور پھر بچوں کو قرآن اور دینی علوم کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے درس میں ہر عمر کے بچے بڑی رغبت سے شرکت کرتے ہیں، کیونکہ قاری صاحب کی تعلیمات میں محبت اور حکمت کی آمیزش ہوتی ہے۔
قاری صاحب نہ صرف اپنے اوقات کے پابند ہیں بلکہ کھانے پینے میں بھی نہایت اعتدال پسند ہیں۔ دعوت میں بھی وہ ہمیشہ مناسب مقدار میں کھانا کھاتے اور لوگوں کو سنت کی پیروی کا درس دیتے ہیں۔ ان کی صحت اچھی رہتی ہے اور وہ ہمیشہ چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔
قصبے کے لوگ قاری صاحب سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان کی عاجزی اور اخلاق نے انہیں ہر دلعزیز بنا دیا ہے۔ وہ اپنے اور غیر دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے، کسی کے ساتھ بھی کوئی تفریق نہیں برتتے۔ قاری صاحب کی زندگی کا ہر لمحہ ان کی ولایت اور اللہ کے ساتھ ان کے تعلق کی گواہی دیتا ہے۔
ایک دن، ایک نوجوان نے قاری صاحب سے پوچھا، "قاری صاحب، آپ اتنی سادگی اور استقامت کے ساتھ کیسے زندگی گزار سکتے ہیں؟"
قاری صاحب نے مسکرائے اور کہا، "بیٹا، استقامت اللہ کی رضا حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کرامت نفس چاہتا ہے، لیکن استقامت اللہ تعالی کو پسند ہے۔ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا ہے اور وہ اسی میں ہے کہ ہم ہر عمل میں استقامت اختیار کریں۔"
قصبے کے لوگوں کی دعائیں ہمیشہ قاری صاحب کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی قاری صاحب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور ان کی تمام کوششوں کو قبول فرمائے۔ قاری صاحب کی زندگی ایک مثال ہے کہ کیسے ایک انسان اللہ کی رضا کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر سکتا ہے اور دنیاوی لالچوں سے بالاتر رہ کر ایک مقدس اور پاکیزہ زندگی گزار سکتا ہے۔
آمین، ثم آمین۔
قاری محمد زمان کی روشنی ہے مثال،
قرآن کی خدمت میں، ہیں وہ مالا مال۔
پیرانوالی مسجد میں، 1983 سے آئے،
بچوں کو قرآن سکھانے کا، عزم دل میں بسائے۔
نہایت باخلاق، نفیس اور ہمدرد ہیں،
ہر دل عزیز، ہر دل کے فرد ہیں۔
سوتری کی چارپائی بُنتے ہیں اپنے ہاتھوں سے،
رزق حلال کما کر، جیتے ہیں صاف راستوں سے۔
عمر ہے 65، مگر جوش جوانوں کا،
محنت اور لگن، بناتا ہے داستانوں کا۔
بچوں کو دی ہے تعلیم، قرآن کی روشنی،
ان کی تربیت سے ہے، معاشرہ باغ و بہار کی کہانی۔
اللہ کے ولی ہیں، فقیر اور پاک دل،
ان کی دعائیں، بارگاہ الٰہی میں ہوں قبول پل پل۔
ہماری دعائیں ان کے ساتھ، ہر پل، ہر گھڑی،
اللہ رکھے سلامت، ان کو ہمیشہ کی طرح خوش.
دیرینہ دعاؤں میں ہے، ان کا سایہ ہم پر قائم رہے،
ایمان، صحت اور برکت، ان کی زندگی میں ہر دم رہے۔
قاری صاحب کی خدمات کا، حق ادا کریں سبھی،
اللہ ان کو دے لمبی عمر، صحت و سلامتی، آمین، یا رب العٰلمین۔
اللہ تعالیٰ قاری محمد زمان صاحب کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔
قاری محمد زمان صاحب 1983 میں اس علاقے میں تشریف لائے۔ اور وہ پنیاں ہری پور کی مسجد پیرانوالی میں امامت کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ اللہ کے فضل و کرم سے انہوں نے علاقے کے بچوں کو قرآن ناظرہ اور حفظ کی تعلیم دینا شروع کی اور آج تک اسی منصب پر فائز ہیں۔ ان کی محنت اور خلوص کی وجہ سے بچے قرآن کی تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں اور قاری صاحب کی خدمات علاقے کے لوگوں کے لیے ایک عظیم نعمت ہیں۔
قاری محمد زمان صاحب کی شخصیت کا شمار ان نیک اور بااخلاق افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے لیے وقف کر دی ہے۔ ان کا کردار، محنت اور استقامت نہایت قابل تقلید ہے۔ وہ محدود تنخواہ میں اپنے رزق حلال سے گزارا کرتے ہیں اور سوتری کی چارپائی بُن کر اپنی روزی کماتے ہیں۔ 65 سال کی عمر میں بھی وہ نوجوانوں سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ ان کا اخلاق، نفاست اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ان کی شخصیت کو اور بھی روشن کرتی ہے۔
ان کے بچے بھی بااخلاق، حافظ قرآن اور معاشرے کے بہترین افراد ہیں۔ قاری صاحب کی نیک فطرت اور ان کے بچوں کی بہترین تربیت ان کی عظیم شخصیت کی عکاس ہے۔ ان کو اللہ کا ولی اور فقیر کہا جاتا ہے، اور ان کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہیں۔
ہم سب پر فرض ہے کہ ہم ایسے نیک لوگوں کی قدر کریں اور ان کی خدمات کا اعتراف کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قاری محمد زمان صاحب کو لمبی اور صحت والی عمر عطا فرمائے، ان کے ایمان، زندگی اور بچوں میں برکت دے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔
"پیر طریقت و شریعت حضرت پروفیسر ڈاکٹر مولانا فدا محمد مدظلہ کا اصلاحی بیان ہوگا۔ بیان کا وقت: بروز ہفتہ، 13 اپریل 2024 بعد از نماز مغرب۔ مقام: زھری مسجد، ہری پور نزد ڈاکٹر منظور احمد کی کلینک کے پاس۔ رابطہ نمبر: 03005677487"
پیر طریقت و شریعت حضرت پروفیسر ڈاکٹر مولانا فدا محمد مدظلہ کا اصلاحی بیان ہوگا (خلیفہ مجاز حضرت مولانا اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ وا تحریک دربیشاں پاکستان کے بانی جس کا نعرہ مروجہ سیاست سے نبوی سیاست کی طرف ) حضرت کا بیان زھری مسجد ہری پور نزد ڈاکٹر منظور احمد کی کلینک کے پاس ہے بیان کا وقت بروز ہفتہ 13 اپریل 2024 بعد از نماز مغرب ہوگا الدائی الی الخیر خلیفہ مجاز پروفیسر مصنف حسین شاہ صاحب مدظلہ و خلیفہ مجاز ڈاکٹر منظور احمد صاحب مدظلہ و خلیفہ مجاز مولانا انجنیئر محمد ارشد خان صاحب مدظلہ رابطہ نمبر 03005677487
پیر طریقت و شریعت حضرت پروفیسر ڈاکٹر مولانا فدا محمد مدظلہ کا اصلاحی بیان ہوگا (خلیفہ مجاز حضرت مولانا اشرف سلیمانی رحمۃ اللہ علیہ وا تحریک دربیشاں پاکستان کے بانی جس کا نعرہ مروجہ سیاست سے نبوی سیاست کی طرف ) حضرت کا بیان زھری مسجد ہری پور نزد ڈاکٹر منظور احمد کی کلینک کے پاس ہے بیان کا وقت بروز ہفتہ 14 اپریل 2024 بعد از نماز مغرب ہوگا الدائی الی الخیر خلیفہ مجاز پروفیسر مصنف حسین شاہ صاحب مدظلہ و خلیفہ مجاز ڈاکٹر منظور احمد صاحب مدظلہ و خلیفہ مجاز مولانا انجنیئر محمد ارشد خان صاحب مدظلہ رابطہ نمبر 03005677487
ریاست کے چار ادارے عدلیہ، سیاسی، انتظامیہ اور عسکریہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کئے گئے ٹیکس پر چلتے ہیں. ریاست عوام کی ہوتی ہے اور حکومت کو عوام کے مذہب، رسم ورواج اور تہذیب و ثقافت کو مد نظر رکھتے ہوئے چلنا چاہیے. عوام کے ٹیکسوں پر لاکھوں کی تنخواہیں اور کروڑوں کی مراعات کے مزے لیتے ہوئے ملک کے 98 فیصد عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے 0.01 فیصد قادیانیوں کو خلاف قانون و آئین نوازنے والے سوچ لیں کہ کیا کر رہے ہیں.
عوام کے دین اور تہذیب و ثقافت کے خلاف چلنے والی حکومت، ادارے اور شخصیات کی عوام میں قدر نہیں رہتی اور ایسے فیصلے ملک کو انتشار کی طرف لے جاتے ہیں.
خدا را دنیاوی مفاد کی خاطر ملک کو انتشار کی طرف نہ دھکیلیں.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
House Number#273 Street#88 Sector# G/9/4
Islamabad
44000
