آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
مد بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی
دلنشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی
حرف نفرت کوئی، شمشیر غضب ہو جیسے
تاابد شہر ستم جس سے تباہ ہوجائیں۔
اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے
لب پہ لاؤں تو مرے ہونٹ سیاہ جائیں۔
آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا
ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز
جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح
چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز
آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت
لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز
نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی
صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی
فیض احمد فیض
Urdu
اردو شاعری، اردو افسانہ اور اردو کی ترویج کےلئے ایک اہم قدم
14/09/2014
غزلِ
فیض احمد فیض
آؤ کہ مرگِ سوزِ محبّت منائیں ہم
آؤ کہ حُسنِ ماہ سے، دل کو جلائیں ہم
خوش ہوں فراقِ قامت و رخسارِ یار سے
سرو گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہم
ویرانیِ حیات کو ویران تر کریں
لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
پھر اوٹ لے کے دامنِ ابرِ بہار کی
دل کو منائیں ہم، کبھی آنسو بہائیں ہم
سُلجھائیں بے دلی سے یہ اُلجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں، نہ جائیں کہ جائیں ہم
پھر دل کو پاسِ ضبط کی تلقین کر چُکیں
اور اِمتحانِ ضبط سے، پھر جی چُرائیں ہم
آؤ کہ آج ختم ہوئی داستانِ عشق !
اب ختمِ عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
فیض احمد فیض
میرے خُدا
میرے خُدا ، میرے خُدا
تُو ہے بڑا سَب سے بڑا
تُو نے مُجھے پیدا کیا
تُو نے مُجھے سَب کُچھ دیا
چھوٹا ہُوں میں تُو ہے بڑا
ہو شُکر پھر کیسے ادا
میرے خُدا ، میرے خُدا
سُنتا ہے تُو سَب کی دُعا
اِس بات کی توفیق دے
کرتا رہوں سب کا بَھلا
ہر ایک کی خدمت کروں
ہر ایک کے کام آؤں سَدا
نیکی کا ہے جو راستہ
وُہ راستہ مُجھ کو دِکھا
میرے خُدا ، میرے خُدا
سُن لے دُعا ، سُن لے دُعا
دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں
آؤ دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں
گیت خُدا کے مل کر گائیں
اے مالک! رکھ یاد ہماری
سُن لے تُو فریاد ہماری
بخش ہمیں اب علم کی دولت
بخش ہمیں اب عقل کی نعمت
راستہ سیدھا ایک دِکھا دے
ہم سَب کو تُو نیک بنا دے
آؤ دُعا کو ہاتھ اُٹھائیں
گِیت خُدا کے مِل کر گائیں
الف سے اللہ
سُہیل رعنا
الف سے نام لیں اللہ کا
پھر شروع کریں سب کام
اس سے امی ابو خوش
یہ سب سے بڑا انعام
سہرا
یوں بیی ہوتا ہے برسوں کے دو ہم سفر
اپنے خوابوں کی تعبیر سے بے خبر
اپنے عہدِ محبت کے نشّے میں گم
اپنی قسمت کی خوبی پہ نازاں مگر
زندگی کے کسی موڑ پر کھو گئے
اور اک دوسرے سے جُدا ہو گئے
یوں بی ہوتا ہے دو اجنبی راہ رو
اپنی راہوں سے منزل سے نا آشنا
ایک کو دوسرے کی خبر تک نہیں
کوئی پیمانِ الفت نہ عہدِ وفا
اتفاقات سے اِس طرح مِل گئے
ساز بھی بج اُٹھے پوُال بھی کِھل گئے
احمد فراز
سچ کا زہر
تجھے خبر بھی نہیں
کہ تیری اُداس ادھوری
محبتوں کی کہانیاں
جو بڑی کشادہ دلی سے
ہنس ہنس کے سُن رہا تھا
وہ شخص تیری صداقتوں پر فریفتہ
با وفا و ثابت قدم
کہ جس کی جبیں پہ
ظالم رقابتوں کی جلن سے
کوئی شکن نہ آئی
وہ ضبط کی کربناک شدّت سے
دل ہی دل میں
خموش، چُپ چاپ
مر گیا ہے
احمد فراز
13/09/2014
Join us:
خدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کنی خاتمہ
اے خدا حضرت فاطمہ (رض) کی اولاد کے صدقے میرا خاتمہ ایمان پر کرنا۔
اگر دعوتم رد کنی، ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول
چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر، کہ میں آلِ رسول (ص) کے دامن سے لپٹا ہوا ہوں۔
چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام
سعدی ناتمام و حقیر آپ (ص) کا کیا وصف بیان کرے، اے نبی (ص) آپ پر صلوۃ و سلام ہو۔
سعدی شیرازی
13/09/2014
Join us:
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad
