24/03/2026
تم وہ عورت ہو جس کے لیے شاعر شعر کہتے ہیں ، سیاست دان جُھوٹ بولتے ہیں ، تاجر بلیک مارکیٹ کرتے ھیں ، اور مولوی اور پنڈت ماتھا رَگڑ رَگڑ کر خُدا کو یاد کرتے ہیں۔
تمہارے لیے انسان نے کیڑوں سے ریشم مانگا ، بُھوری مٹی سے کانچ پیدا کیا۔ دھرتی کی چھاتی میں گھس کر سونا نکالا ، اور سمندر میں ڈُوب کر موتی تلاش کیے۔ تمہارے لیے انسان نے گھر بنایا ، گھر کے گِرد باغ لگایا ، باغ میں پُھول کِھلاٸے ، اور پُھولوں کو توڑ کر تمہارے بالوں میں ٹانک دیا..
تم جو ہر انسان کی آرزو کی خُوشبو ہو، ہر خُوشبو کا صِلہ ہو
پھر تُم روتی کیوں ہو؟
کرشن چندر

16/02/2026