13/01/2020
Share
As a Pakistani, I have seen a lot of things in my life, from violence to the most peaceful unity I have ever seen.
To create an environment among the public where they can promote happiness and prosperity in the area.
13/01/2020
Share
10/01/2020
کل جونہی میں عدالتی کمرے میں داخل ہوتے دروازہ کھولا تو باہر بنچ پر اپنے تین چھوٹے پھول جیسے بچوں کے ساتھ بیٹھی ایک خاتون نے اواز دی، بھائی میں عدالت کے اندر آ کر بیٹھ سکتی ہو۔
میں نے جواب میں کیس کا پوچھا۔ کیا اپکا کیس اس عدالت میں ہے؟۔ اور جواب ہاں میں دیا۔
اس بیچاری خاتون کا اپنےبھائیوں کے ساتھ حق وراثت کا کیس چل رہا ہے۔ جس کو عدالت نے پہلے بعدم پیروی خارج فرمایا تھا۔
اس خاتون نے اسی کیس میں مختیار نامہ کسی بندے کو دیا تھا جو کہ بقول اسکے، اسکے بھائیوں نے اس بندے کو پیسے کی لالچ دے کر کیس میں عدم دلچسپی کی وجہ سے عدالت سے غیر حاضر رہا او کیس بعدم پیروی خارج کیا گیا۔
اب آپ لوگ اندازہ کریں ایک خاتون اپنے تین کمسن بچوں، جس میں ایک شیر خوار ہے، صبح 8 بچے عدالتی کمرے کے باہر حاضر رہتی ہے جو کہ علاقہ باڈوان یعنی تقریباََ 50 کلومیٹردور سے آتی ہے، وہ اس سردی کے موسم میں کس وقت گھر سے نکلی ہو گی؟
سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیا ہے؟ اگر ہے تو کیا ہم مسلمان ہے؟
مزید یہ کہ اگر ایک خاتون انصاف کیلئے عدالت کے دروازے پر کھڑا ہو اور ایک نام نہاد مسلمان اتنا کمینگی کی حد کریں کہ وہ اپ کے مختیار خاص کو بھی خرید لیں۔
بہت افسوس۔
Yesterday, while entering to the court room, a woman called from behind, setting on the bench with her three kids outside court room. "Can I set and wait inside court room?" She asked.
"Is your case is in this court" I asked. Her reply was yes.
Then I get her inside the court room as it was severe cold outside.
She comes to attend the court for declaration of her share in inheritance with her brothers, from Badwan area, which is about 50 KM away from here.
I suggested her that why don't she give power of attorney to someone in her relatives, i.e. cousins etc. She told that it was given to someone, who was later on paid by her brothers to not to follow the case and then the case was dismissed in default.
RIP Musalmani. 😢
Sarbiland Khan
آمدن سے زائد اثاثہ جات کا تو نوٹس لیا جا رہا ہے لیکن آمدن سے زائد منہگائی کے بوجھ کا نوٹس کون لے گا .
خاموش پیغام۔۔
31/12/2019
اوقات نہیں ہے روٹی دینے کی۔۔
تو مارا بھی مت کرو۔
تمھارے باپ کا نہیں کھاتا اپنے رب کا کھاتا ہوں۔😥😭😭
30/12/2019
آمین ثم آمین یا رب العالمین
29/12/2019
بہت معذرت ۔۔بہت معذرت
کل سے بعض بدبخت محض داڑھی والا مجرم دیکھ کے کتے کی طرح بھونک رہے تھے ۔۔بہت معذرت کہ میرا مزاج نہیں ایسی زبان لیکن !
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
۔۔۔۔۔ یہ کالے چہرے والے ، کالے دل والے اخبث لوگ کل سے بھونک رہے تھے کہ مدرسے بند کر دو ۔۔۔۔
وہ بھی بھونک رہے تھے کہ جو بازار حسن میں بکتی عورت کا کمیشن کھانے کو برا نہ سمجھیں ۔۔وہ بھی کہ جو ہم جنس پرستی کے خود پرچارک ہیں ۔۔۔۔۔
ہم نے صبح بھی لکھا تھا کہ اگر اس مولوی نے بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اس کو سرعام قتل کیا جائے کہ اسلام میں اس کی یہی سزاء ہے ۔۔۔۔۔لیکن ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ یہ بدبخت خود اس سزاء کے خلاف بھی ہیں کیونکہ ان نام نہاد روشن خیالوں کو معلوم ہے کہ مولوی ایک سنگسار ہو گا لیکن ساتھ ساتھ پانچ سو یہ منحوس عورت فروش " ترقی پسند " بھی مارے جائیں گے ۔۔۔۔
۔۔۔دل تھام کے پڑھئے کہ تازہ خبر یہ آئی ہے کہ مجرم مولوی نہیں بلکہ ایک سرکاری سکول کا استاد ہے ۔۔۔۔
بدبختو !
اب مطالبہ کرو کہ سکول بند کر دیے جائیں ۔۔۔
ناہنجارو !
نسٹ یونیورسٹی میں اگلے روز ایک لڑکی ریپ ہو گئی ۔۔۔بند کر دو یونیورسٹی کو بھی ۔۔۔۔
لیکن ہم پھر بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ماضی میں یا کل کو کوایسا مجرم سامنے آئے بھلے کسی مدرسے کا سب سے بڑا مفتی ہو ۔۔۔سرعام اس کی گردن اتار دو ۔۔۔۔از قدوسی
کیا آپ نے اپنے بجلی کے بل کو کبھی دیکھا ہے؟
ترکش / آصف محمود
آپ سیاسی ، سفارتی ، تزویراتی اور معاشی امور پر ایک دوسرے کی رہنمائی فرما چکے ہوں تو ایک سادہ سے سوال کا جواب دیجیے ۔ سوال یہ ہے کیا کبھی آپ نے اپنے بجلی کے بل کو دیکھا ہے؟ کیا آپ کو کچھ خبر ہے اس بل میں بجلی کے استعمال کی قیمت کتنی ہے اور ٹیکس کتنے ہیں اور کیا آپ جانتے ہیں یہ کون کون سے ٹیکس ہیں جو آپ سے وصول کیے جا رہے ہیں؟
یہ ایک بل برادرم عون شیرازی نے شیئر کیا ہے اسی کو دیکھ لیتے ہیں ۔ یہ ایک غریب کے گھر کا بل ہے جس نے ایک ماہ میں صرف 45 یونٹ استعمال کیے ہیں۔اور اس کی استعمال شدہ بجلی کی قیمت صرف 260 روپے ہے لیکن اس کے ذمے واجب الادا بل 837 روپے ہے۔یعنی 260 روپے کی بجلی استعمال کرنے والے اس غریب گھرانے سے 577 روپے اضافی وصول فرما لیے گئے ہیں۔کیا ہمیں کچھ خبر ہے یہ اضافی رقم کیوں اور کس مد میں وصول کی گئی ہے؟
فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں اس سے 401 روپے وصول کیے گئے ہیں۔ کیا ہمیں معلوم ہے یہ فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کیا ہوتی ہے ؟ کیا ہم جانتے ہیں اس کے تعین کا فارمولا کیا ہوتا ہے؟ کیا ہمارے پاس کوئی کوئی ایسا طریقہ کار موجود ہے کہ ہمیں علم ہو سکے فیول ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں کاٹی گئی رقم مناسب ہے یا زیادہ رقم ڈال دی گئی ہے؟کیا ہم میں سے آج تک کسی نے حکومت سے یہ سوال پوچھا کہ یہ فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ ہوتی کیا ہے اور اس مد میں کٹوتی کی شفافیت کو یقینی بنانے کا کوئی انتظام ہے یا نہیں؟یاد رہے کہ محض 45 یونٹ صرف کرنے والے سے 401 وصول فرما لیے گئے تو جن کے استعمال شدہ یونٹ چار سو یا پانچ سو ہوتے ہوں گے فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں ان سے کتنی رقم وصول کی جاتی ہو گی۔
اس غریب بیوہ سے ، جس نے پورے مہینے میں صرف45 یونٹ استعمال کیے، ایف سی سرچارج بھی کاٹا گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ ایف سی سرچارج کیا ہوتا ہے؟ کیا ہم اس فنانسنگ پاور سرچارج کی شان نزول سے واقف ہیں؟ کیا ہمیں کچھ خبر ہے کہ بجلی کے ہر یونٹ پر 43 پیسے اس مد میں لیے جا رہے ہیں۔ کیا ہمیں کچھ معلوم ہے کہ پی ایچ پی ایل کا 32 ارب کا یہ قرض کب اترے گا اور کب تک عوام سے یہ سرچارج لیا جاتا رہے گا اور کیا ہم اس بات سے کچھ آگاہ ہیں کہ اب تک کتنا قرض اتر چکا ہے؟کچھ اترا بھی ہے یا نہیں؟ کیا ہم نے کبھی جاننا چاہا کہ اب تک اس مد میں اکٹھے کیے گئے پیسے کتنے تھے اور کہاں استعمال ہوئے؟
بجلی کے ہر بل پر نیلم جہلم سرچارج بھی وصول فرمایا جاتا ہے۔کیا ہمیں کچھ خبر ہے یہ کب تک وصول فرمایا جاتا رہے گا اور اب تک یہ کتنا وصول فرمایا جا چکا ہے اور جو وصول فرمایا جا چکا ہے اسے کہاں استعمال کیا گیا ہے؟اور جو آئندہ وصول فرمایا جائے گا وہ کس مد میں خرچ کیا جائے گا اور اس خرچ کی تفصیل قوم کو بتانا پسند کی جائے گی یا اسے صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
اس بیوہ کے بجلی کے بل میں جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔ کیا ہم جان سکتے ہیں کہ یہ کون سا فارمولا ہے جس کے تحت45 یونٹ کے استعمال پر 48 روپے کا جی ایس ٹی وصول کیا جا رہا ہے۔
یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کے جو 401 روپے اس بیوہ سے وصول فرمائے گئے ان پر ایک بار پھر 68 روپے ٹیکس بھی لگا کر اس سے وصول فرمایا گیا۔ اس ٹیکس کو فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ پر لگا جی ایس ٹی قرار دیا گیا ہے۔یعنی پہلے ٹیکس دو اور پھر اس ٹیکس پر بھی جی ایس ٹی دو۔کیا اس بند و بست کا کوئی اخلاقی جواز موجود ہے؟
آئی ایم ایف کے دبائو پر ایک اور ٹیکس بھی ہمارے اوپر لگایا جا چکا ہے۔ ذرا جان لیجیے کہ یہ ٹیکس کون سا ہے اور اس کا حجم کتنا ہے۔ چونکہ پاکستان میں بجلی چوری ہوتی ہے اور اس چوری کو حکومت روک نہیں پاتی۔اس لیے طے کیا گیا کہ 110 ارب روپے کی بجلی چوری کی وصولی ان لوگوں سے کی جائے گی جو بجلی چوری نہیں کرتے اور ہر ماہ باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم سب بجلی کے ہر یونٹ پر ایک روپیہ پچپن پیسے یہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔آفرین ہے ٹیکس لینے والوں پر کہ بجلی چوری کو روکنے کی بجائے یہ سارا بوجھ ان صارفین پر منتقل کر دیا گیا ہے جو بجلی کا بل باقاعدگی سے جمع کروا رہے ہیں اور آفرین ہے عوام پر جو کوئی سوال کیے بغیر یہ ٹیکس ادا کیے جا رہے ہیں اور روز رات کو وزرائے کرام سے ٹیکس چور ہونے کے طعنے بھی سنتے ہیں۔
ایک اور ٹیکس بھی ہے ۔اسے ٹیلی ویژن فیس کہتے ہیں۔بجلی کے بل میں 35 روپے ٹی وی ٹیکس ماہانہ لگا دیا جاتا ہے ۔بھلے کسی کے گھر ٹی وی ہو یا نہ ہو یہ ٹیکس لگ کر آ جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ کس ٹی وی کا ٹیکس ہے؟ اگر پرائیویٹ میڈیا کے اشتہارات قریبا بند کیے جا سکتے ہیں تو پی ٹی وی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ بجلی کے ہر بل سے 35 روپے اس کے نام پر نکلوا لیے جائیں؟ اگر یہ 35 روپے پی ٹی وی کے نہیں ہیں محض گھر میں ٹی وی رکھنے کے ہیں تو پھر عوام سے کیبل چارجز کیوں لیے جاتے ہیں ۔ اس صورت میں تو تمام پاکستانی چینلز پی ٹی وی کی طرح بغیر کیبل کے چلنے چاہییں ۔اور اگر کیبل کی فیس دے کر یہ چینل دیکھے جاتے ہیں تو پی ٹی وی کے نام پر ہر ماہ 35 روپے کیوں دیے جائیں؟
اعظم سواتی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں سینیٹ میں اس وقت کے وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف صاحب نے بتایا تھا کہ دو سالوں میں پی ٹی وی ٹیکس کی مد میں 1400 ملین سے زاید رقم اکٹھی کی گئی ہے۔کیا ہم یہ جان سکتے ہیں کہ یہ ہزاروں ملین روپے کہاں گئے ، کہاں خرچ ہوئے اور مستقبل میں ان کے استعمال کا کیا طریقہ کار ہو گا ؟نیز یہ کہ اس مد میں رقم اکٹھی کرنے کا کوئی اخلاقی جواز موجود ہے؟ قانونی جواز کی بات اس لیے نہیں کرتے کہ قانون سازوں کو قانون بنانے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟
دل چسپ معاملہ یہ ہے کہ 2004 میں جب یہ ٹی وی ٹیکس عائد کیا گیا تو اس کا جواز یہ بنایا گیا تھا کہ لائسنس فیس کی ادائیگی میں عوام کی مشکل کو آسان کرنے کے لیے ہر ماہ پچیس روپے بجلی کے بل میں ان سے لیے جائیں گے۔ یہ جواز ہی کمزور ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو آدمی پچھلے انیس سال سے ہر ماہ یہ ٹیکس دے رہا ہے کیا اسے مزید بھی یہ ٹیکس دینا چاہیے ؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ ٹی وی کے لیے لائسنس کی شرط عائد کرنا کیا اس دور میں ایک مضحکہ خیز بات نہیں جب آپ کا موبائل بھی ایک ٹی وی بن چکا ہے۔ کیا اس جدید دور میں ٹی وی لائسنس کی آڑ میں ٹی وی ٹیکس عائد کر دینا کوئی معقول رویہ ہے؟
امور خارجہ ، معیشت اور سیاست سے فرصت ملے تو اپنے بجلی کے بل کو ایک نظر دیکھ لیجیے۔عین نوازش ہو گی.
آصف محمود
ایک انتہائی ضروری احتیاط.......!!!
سال 2020 میں تاریخ لکھتے وقت ، ہمیں اس کی مکمل شکل میں لکھنا چاہئے ، جیسے
01.01.2020
اور
01.01.20 اسطرح ہرگز مت لکھیں۔ کیونکہ کوئی بھی اسے اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی سال کے درمیان تبدیل کر سکتا ہے۔ اگر وہ 20 کے آگے 17 لکھ دے تو 2017 بن جائے گا اور اگر 19 لکھ دے تو 2019 بن جائے گا. زمین، پراپرٹی اور دیگر اہم دستاویزات میں خاص طور پر اس چیز کا خیال رکھیں. اس بارے میں حد سے زیادہ محتاط رہیں۔ اسے کسی دستاویزات میں نہ لکھیں اور نہ ہی اسے قبول کریں. یہ مسئلہ صرف 2020 کے دوران برقرار رہے گا۔
25/12/2019
شیئر ضرور کریں
25/12/2019
واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز کی جانب سے ایسی پرفارمنس آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی جسے دیکھ کر بارڈر کے اس پار دشمن پر سکتہ طاری ❤❤💪💪
Welcome to Kashmir.
Please Like and Share with Friends.