انساب سادات پاکستان

انساب سادات پاکستان

Share

پاک و ہند میں کتب انساب اور نسابین کا تزکرہ

18/11/2025

کتب انساب میں سے ایک اہم کتاب "جمہرة انساب العرب " جس کے مولف مشہور محقق و نسابہ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی (384 ہجری سے 456 ہجری) ہیں . اس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر مفتی محمد بلال ابراھیم بربری نے کیا ہے ۔ کتاب محدود تعداد میں ہے جس کو چاہیے رابطہ کر سکتا ہے ۔ اس کا ہدیہ 1200 روپے ہے ۔ فری ہوم ڈلیوری آل پاکستان
ملنے کا پتہ
وجدان اسلامک بکس اینڈ تبرکات سینٹر
اسلام آباد
03088873592



Photos from ‎انساب سادات پاکستان‎'s post 16/11/2025

پاک و ہند میں علم الانساب کی تاریخ

(تحریر و تحقیق: سید محسن رضا کاظمی الحمیدی سیدانوالہ ضلع جہلم)

علم الانساب عربوں کے مخصوص علوم میں سے ہے ۔ جیسا کہ مشہور نسابہ شیخ ابوالحسن علی البیہقی المعروف ابن فندق (متوفی ۵٦۵ ہجری) اپنی کتاب لباب الانساب میں فرماتے ہیں۔
للروم من علوم طب، ولاھل الیونان الحکمة و المنطق ، والھند التنجیم و الحساب، و للفارس الاداب اعنی آداب النفس والاخلاق ، لاھل الصین الصنائع ، وللعرب الامثال علم النسب (1)
مفہوم : جس طرح اہل روم علم طب میں ، اہل یونان فلسفہ و منطق میں ، اہل ہند نجوم و حساب میں اور اسی کی مثل اہل عرب علم النسب میں ہیں ۔
قبل از اسلام عرب اپنا نسب حضرت عدنان ، قحطان ، حضرت اسماعیلؑ یا حضرت آدمؑ تک زبانی یاد رکھتے تھے اور جب مناسک حج سے فارغ ہوتے تو بازار عکاظ میں اکٹھے ہوتے اور مجمع عام کے سامنے اپنا نسب بیان کرتے اور پھر اس پر فخر و مباہات کرتے اور وہ اس عمل کو حج و عمرہ کی تکمیل کے لیے ضروری خیال کرتے تھے ۔ توریت اور انجیل مقدس میں دیے ہوئے شجرات بھی زمانہ قدیم کی نسابی کے طور پر سب کے سامنے موجود ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عرب میں شجرات سازی کی ریت بہت پرانی ہے ۔
جب اسلام آیا تو اسلام نے بھی معرفت نسب کی تاکید کی بلکہ بہت سے احکام شرعیہ مثلا میراث ، دیت اور صلہ رحمی وغیرہ کی بجاآوری اس علم کی معرفت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اسی لیے سرکار دو عالم ص نے فرمایا
تعلمو انسابکم ولتصلو ارحامکم (2)
ترجمہ ۔ انساب کے علم کو سیکھو تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو ۔
بعض علماء نے حضرت محمدﷺ کے نسب کی معرفت واجب قرار دی ہے کیونکہ ان کے قرابت داروں سے محبت و مودت کو ہی اجر رسالت قرار دیا گیا ہے اور جب تک آپ ؐ کے نسب کی معرفت نہ ہو اس وقت تک قرابتداروں سے محبت و مودت ممکن نہیں ہوتی ۔ اس طرح خمس کی ادائیگی کے لیے بھی ضروری ہے کہ سادات کے نسب کی معرفت ہو تا کہ خمس مستحقین تک پہنچ سکے ۔ باقی علوم کی نسبت یہ علم زیادہ احتیاط طلب ہے وہ اس لیے کہ اس میں دیدہ دانستہ غلطی پر کافر، مشرک اور جہنمی ہونے کی وعید ہے ۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اعتقادیہ میں فرمایا کہ کسی کو نسب میں داخل یا خارج کرنے والا یا ہونے والا جہنمی و مشرک ہے اور ایک روایت میں ہے جس نے جان بوجھ کر نسب تبدیل کیا وہ جہنمی ہے ۔
پاک و ہند میں علم الانساب کی تاریخ پر باقاعدہ کسی نے کچھ نہیں لکھا ۔ برادرم قمر ہمدانی نے انساب کی کتاب مدرک الطالب لکھی تو اس پر راقم نے مقدمہ لکھا۔ راقم نے حسب فرمائش پاک و ہند میں کتب انساب و مشجرات کی تاریخ کو جمع کیا۔ یہی مقالہ تزکرہ مشہدیہ کاظمیہ میں بھی معمولی کمی بیشی کے ساتھ شامل کیا گیا۔ برادرم سید اسد عباس کی خواہش پر اسی مقالہ کو مزید ترامیم کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ عدیم الفرستی کے سبب بہت کچھ لکھنا رہ گیا ہے۔ راقم ان شاء اللہ بہت جلد اسی عنوان سے ایک جامع کتاب تحریر کرے گا تاکہ برصغیر میں علم الانساب کی تاریخ مرتب ہو سکے۔
چونکہ علم الانساب کو عرب خطوں کی میراث سمجھا جاتا ہے اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ علم ہند میں اتنا ہی قدیم ہے جتنا قدیم ہند میں عربی النسل قبائل خصوصاً سادات کرام ہیں ۔ عرب سے ہند وارد ہونے والے خاندان اپنے شجرات اپنے ہمراہ لائے اور پھر ہند میں بھی اس علم کو رواج دیا ۔ ہزار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک سادات میں شجرات کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ پاک و ہند میں نسابین و مشجرین ورود ہند کے بعد ہر دور میں رہے ہیں ۔ یہ شجرات خاندانِ سادات میں نسل در نسل منتقل ہوتے رہے اور ان میں سے بعض نے اپنے خانوادوں پر کتب بھی تالیف کیں جس کی وجہ سے آج پندرہویں صدی میں مشجرات ہمارے پاس موجود ہیں۔ تاہم پاک و ہند میں انساب پر تحقیقی کام نہ ہو سکا۔ عرب قبائل میں ہر خاندان میں ایک نقیب بنتا رہا ہے جس کا کام اپنے نسب کی حفاظت ہوتا تھا تاکہ کوئی مردود النسب خاندان میں داخل نہ ہو اور کوئی صحیح النسب لاعلمی کی بنا پر خارج بھی نہ ہو۔ پاک و ہند میں بدقسمتی سے سادات کے بزرگوں نے یہ اہم ذمہ داری اپنے مریدوں ، میراثیوں اور بھاٹوں کے حوالہ کر دی اور خود اس فریضہ سے سبکدوش ہو کر خانقاہوں میں بیٹھ گئے ۔
پاک و ہند میں شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں یہ رسم نہ ہو کہ میراثی شادی وغیرہ کی اہم تقریبات میں آتے اور مجمع عام میں بلند آواز سے دلہا اور دلہن کا شجرہ زبانی سناتے اور انعام و اکرام وصول کرتے ان میراثیوں میں ہر کوئی ایمان کا پختہ نہ تھا ویسے بھی جب کوئی ذمہ داری ذریعہ معاش بن جائے تو ایمان پر ثابت قدمی بہت مشکل بلکہ ناممکن سی ہو جاتی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ ان میراثیوں نے دنیاوی دولت و شہرت کی خاطر ایسے خاندان جن کے شجرات ان کے پاس نہ تھے ان کے نام بھی فرضی نام لکھ کر مکمل کئے اور ان سے نذرانے وصول کیے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاک و ہند کے اکثر شجرات ایران و عرب کی قدیم کتب انساب سے ثابت نہیں ہوتے ۔ اس سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ جن افراد یا خاندانوں کا ذکر ہمیں ایران و عرب کی کتب میں وارد ہند ہونے کا ملتا ہے۔ان کا سراغ ہمیں پاک و ہند کی قدیم کتب انساب و شجرات میں نہیں ملتا اس کی وجہ میراثیوں اور شجرہ نویسوں کی بدیانتی کے ساتھ ساتھ ہمارے بزرگوں کی انساب سے عدم دلچسپی ہے ۔
پاک و ہند میں شائع ہونے والی کتب انساب
جیسا کہ پہلےذکر کیا گیا ہے کہ اہل عرب جب برصغیر پاک وہند میں وارد ہوئے تو انھوں نے ہی اس علم کو ہند میں رواج دیا اور مستند کتب انساب کے مطابق پاک و ہند میں سب سے پہلے خانوادہ سادات سے سید عبداللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبداللہ بن حسن مثنیٰ بن امام حسن وارد ہند ہوئے ۔ جو پاکستان میں عبداللہ شاہ غازی کے نام سے مشہور ہیں اور ان کا مزار ساحل سمندر پر کراچی کلفٹن میں مرجع خلائق ہے ۔ چھٹی صدی ہجری کے مشہور نسابہ شیخ ابوالحسن علی البیھقی المعروف ابن فندق اپنی کتاب لباب الانساب میں فرماتے ہیں ۔
عبد الله الاشتر بن محمد بن عبدالله بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب علیہم الاسلام ، حرب من عسكر النفس الزكيه وذهب إلى الهند و قتلتہ ملک الهند وبعث راسه ابى المنصور ، وقيل كان بارض السند فقتله هشام بن عمرو بن بسطام . (3)
ترجمہ : عبدالله الاشتر بن محمد بن عبداللہ بن حسن بن امام حسن بنفس ذکیہ کے لشکر سے بھاگ کر ہند چلا گیا اور وہاں کے حاکم نے ان کو قتل کر دیا اور ان کا سر ابوجعفر منصور کے پاس بھجوا دیا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کو سندھ میں ہشام بن عمرو بن بسطام نے قتل کیا ۔
اور اس طرح ان سے قبل چوتھی صدی کے مشہور نسابہ اور مورخ ابوالفرج اصفہانی نے بھی اپنی کتاب مقاتل الطالبین میں ان کے ہند آنے اور سندھ میں شہید ہونے کا ذکر کیا ہے ۔ تاہم شیخ ابوالحسن عمری نے ان کی شہادت کابل کی پہاڑی پر لکھی ہے لیکن یہ ان سے سہواً ہوا ہے ۔ راقم اس پر سیر حاصل بحث اپنی کتاب ورود سادات در پاک و ہند میں کرے گا ۔ ان سے تھوڑا عرصہ بعد حضرت علیؑ کے غیر فاطمی بیٹے عمرالاطرف کی اولاد میں سے جعفر بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن عمر الاطرف المذکور ملتان وارد ہوئے ۔ یہاں شاہی نے ان کے قدم چومے ان کی اولاد ملتان میں حاکم رہی جن کو بعد میں محمود غزنوی نے قرامطی قرار دے کر شہید کر دیا ۔
کتاب منتقلۃ الطالبیہ کے مطابق اس عہد میں امام حسن کے بیٹے زید کی اولاد میں سے بھی کچھ سادات وارد ہند ہوۓ اور ملتان پناہ گزین ہوئے اور ان میں سے بعض مکران چلے گئے انہی کے ہمراہ حضرت علی کے غیر فاطمی بیٹے محمد حنیفہ کی اولاد میں سے بھی بعض افراد تھے جومکران منتقل ہوۓ اس طرح سادات کے وارد ھند ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ آج تک جاری ہے لیکن تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرحال ساتویں صدی ہجری تک پاک و ہند کے مختلف مقامات پر سادات کی قابل ذکر تعداد آباد ہو چکی تھی ۔ مصدقہ روایات کے مطابق جو بھی سادات پاک و ہند میں وارد ہوئےوہ اپنے شجرات وغیرہ ساتھ لے کر آئے اور انھوں نے اپنی جان سے زیادہ ان کی حفاظت کی ۔ برصغیر پاک و ہند میں تیسری سے ساتویں صدی ہجری تک انساب پر کسی کتاب کا ذکر نہیں مل سکا ممکن ہے عددی قلت کے سبب انھوں نے کتاب لکھنے کی ضرورت محسوس نہ کی ہو اگر کسی نے لکھی بھی ہے تو اس کا تذکرہ راقم کی نظر سے نہیں گذرا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس عہد میں بھی خاندان سادات میں نسابین و مشجرین موجود تھے اور انھوں نے اپنے اپنے خاندانوں کے شجرات اپنے پاس درج کیے ہوئے تھے اور بہت سوں کو تو زبانی بھی یاد ہوں گے ۔
پاک و ہند میں انساب سادات پر کتب لکھنے کا با قاعدہ رواج ساتویں ہجری میں ہوا ۔
ساتویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
قدیم قلمی شجرات سے پتہ چلتا ہے کہ ساتویں صدی ہجری میں سید مبارک شاہ حسینی نے پاک و ھند کے صحیح النسب سادات کے شجرات پر مشتمل کتاب ’’شجرہ انساب یا بحر الانساب‘‘لکھ کر قطب الدین ایبک کو پیش کی ۔ قطب الدین ایبک نے ان کی محنت کو سراہتے ہوئے ان کو انعام واکرام سے نوازا۔ اسی عہد میں ان کے دوست سید عبدالحمید بن حسن بن سلیمان الحسینی ترمذی نے بھی اپنے خاندانی شجرات کو مرتب کیا ۔
آٹھویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
آٹھویں صدی ہجری میں سید اشرف جہانگیر سمنانی جو ایک جلیل القدر بزرگ اور مشہور صوفی تھے نے ’’بحر الانساب‘‘ نام سے کتاب تالیف کی بعد ازاں اس کا خلاصہ ’’اشرف الانساب ‘‘کے نام سے مرتب کیا لیکن ہماری بدقسمتی کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی قلمی نسخہ ہمیں دستیاب نہ ہوسکا ۔ ’’لطائف اشرفی ‘‘جو ان کے ملفوظات پر مشتمل ہے اور یہ ان کے ایک مرید نے مرتب کی تھی اس میں بھی انساب سادات پر ایک مستقل باب ہے ۔ اسی عہد میں سید جمال علی بن علی موسوی فرید پوری نے اپنے اجداد کے نسب نامہ پر ایک جامع کتاب تالیف کی جس کا ایک قلمی نسخہ انوار السادات کے مولف سید ظفر یاب حسینی ترمذی نے بھی دیکھا تھا اور پھر اس کے حوالہ سے انوار السادات میں شجرات بھی درج کیے آٹھویں صدی کے تیسرے نسابہ سید محمود بن ایوب بن عبدالرحمٰن موسوی القزوینی ہیں جنھوں نے قزوین سے وارد ھند ہونے والے سادات کے شجرات کو مرتب کیا اور قاضی ضیاءالدین برنی نے ’’مآثر السادات ‘‘لکھی ۔
نویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
نویں صدی ہجری میں سید محمد بن جعفر المکی نے ’’بحرالانساب ‘‘نام سے کتاب تالیف کی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کتاب بھی زیور طباعت سے آراستہ نہ ہوسکی ۔ اس کا ایک قلمی نسخہ پٹنہ لائبریری میں محفوظ ہے اس کے علاوہ ایک مخطوط ہمارے محترم دوست نور محمد نظامی صاحب آف اٹک کے پاس بھی ھے۔ راقم کے پاس بھی اس کا ایک نامکمل نسخہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا زیادہ تر حصہ امام فخر الدین رازی کی کتاب ’’شجرہ المبارکہ ‘‘سے ماخوذ ہے اس عہد کے دوسرے نساب سید ابوالفضیل محمد کاظم دہلوی یمانی ہیں جنہوں نے انساب سادات پر ایک کتاب ’’النفحتہ العنبریہ فی انساب خیر البریہ‘‘ لکھی یہ کتاب قم ایران سے طبع ہوچکی ہے ۔
اس عہد کے تیسرے نساب سید نظام الدین بن محمود ناصر الدین بخاری اوچوی ہیں جنھوں نے بخاری سادات کے شجرات کو مرتب کیا ان سے تھوڑا عرصہ بعد سید معین الحق نقوی جھونسوی نے ’’منبع الانساب‘‘ تالیف کی ۔ اس کا ایک قلمی نسخہ مشہور مورخ ابوالعمار بلال مہدی صاحب کی وساطت سے میرے پاس بھی موجود ہے حال ہی میں اس کا اردو ترجمہ ارشاد احمد ساحل شہسرامی کی تحقیق کے ساتھ انڈیا سے چھپا ہے۔ سید علی اصغر حسینی الگجراتی نے ’’تذکرة السادات البخاریہ‘‘ لکھی ۔ محمد بن علی نے ’’مجمع الانساب لکھی‘‘۔
دسویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
دسویں صدی ہجری میں سید مصطفیٰ بن احمد الحسینی ترمذی نانوتوی نے اپنے خاندانی شجرات کو ’’شرح اصلاب‘‘ کے نام سے مرتب کیا ۔ انہی کے ہمعصر ملاقاتی اور ہم نام سید مصطفیٰ حسین عابدی المکی نے بھی اکبر بادشاہ کے عہد میں اپنے آباؤ اجداد کے دیرینہ شجرات کی روشنی میں اپنے خاندان کے شجرات پر ایک مفصل کتاب تالیف کی اسی کتاب کا خلاصہ بعد ازاں ان کی اولاد میں سے حکیم سید ابو الحسن مکی نے مرتب کیا ۔ اسی عہد میں سید شہاب الدین سبزواری جعفری نے ’’باغ سادات شمسی‘‘ لکھی بعد ازاں ان کے پوتے سید نور شاہ سبزواری (متوفی 976ھجری) نے ان کے بھائی سید کمال الدین سبزواری کے ملفوظات اور اپنے وقت تک کے حالات اور نسب کا اضافہ کیا اس لیے یہ کتاب ’’ملفوظ کمالیہ ‘‘کے نام سے مشہور ہوگئی ۔ ’’کنزالانساب المعروف گلزار شمس ‘‘کے مولف نے اس کا ایک قلمی نسخہ کشمیر میں ان کی اولاد کے پاس دیکھا تھا ۔ اسی عہد میں سید صفی الدین بخاری ’’انساب جلالیہ‘‘ سادات بخاری کے شجرات پر تالیف کی اور ان کے معاصر سید محمد طاہر بن شہاب الدین اجمیری نے خواجہ سید معین الدین موسوی اجمیری کے اجداد و اولاد کے شجرات کو مرتب کیا اسی عہد میں غیر سادات میں سے شیخ نذر محمد بن شیخ ابو صالح انصاری نے اپنے خاندانی شجرات کو مرتب کیا۔
گیارہویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
گیارہویں صدی ہجری میں شیخ ابراھیم بن محمد کالپوری نے ١٠٠۴ ہجری میں ’’نسب الانساب‘‘ لکھی ۔شیخ ابی الفتح بن نظام الدین الحسینی خیر پوری نے ’’انساب الاطہار‘‘ لکھی ۔سید لعل محمد ہنسوی فتح پوری نے ’’تزکرة السادات القطبیہ ‘‘لکھی ۔ سید امید علی خان الکروی نے ’’طہور قطبی‘‘ لکھی ۔سید غلام علی بن سید نوح بلگرامی نے ’’شجرہ طیبہ‘‘ لکھی ۔ سید احمد رضوی تقوی زید پوری متوفی 1049ھ بمطابق 1639عیسوی نے ’’انساب زیدیہ‘‘ ۔ سید محمد ضیاء سبزواری متوفی 1050ھ نے ’’رسالہ انیس السادات‘‘ اور سید ثابت علی شاہ سبزواری متوفی 1097ھ نے ’’رسول باغ ‘‘تالیف کی ۔اسی عہد میں سید نوازش علی سبزواری نے فارسی زبان میں منظوم نسب نامہ لکھا اور سید تہور علی بخاری نے بخاری سادات کے شجرات کو مرتب کیا ان کے معاصر سید علی علاؤ الدین بخاری جمال پوری نے بھی نقوی سادات کے شجرات کو مرتب کیا اسی عہد میں سید نظام الدین بخاری اورنگ آبادی نے بخاری سادات کے شجرات پر مفصل کتاب تالیف کی۔
بارہویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
بارہویں صدی ہجری سید علی اصغر گیلانی متوفی 1193ھ نے ’’شجرة الانوار ‘‘علامہ شیخ احمد بن محمود اکبر آبادی نے ’’تذکرہ السادات‘‘ (سن تالیف 1175ھ بمطابق 1761عیسوی) شیخ حسین صفائی نے ’’تذکرہ المراد‘‘ ۔ سید میر قطب عالم گیلانی نے ’’تذکرہ السادات الملقب تاریخ سادات آل سرور کائنات ‘‘( سن تالیف 1196ھ بمطابق 1779عیسوی) تالیف کی۔ اسی عہد میں سید محب علی تقوی کراروی ( متوفی 1185ھ ) نے تقوی کراروی سادات کے شجرات پر کتاب لکھی۔ ان ہی کے ہم عصر اور ہم نسل سید محمد علی تقوی کراروی متوفی 1186ھ نے بھی اپنے شجرات کو مرتب کیا ۔ علامہ سید نجف علی نجفی ترمذی نے 1164ھ میں ترمذی سادات کے شجرات کو مرتب کیا اور انہی کے معاصر سید صمصام علی ترمذی نے بھی کہنہ شجرات کی روشنی میں ترمذی سادات کے شجرات کو تالیف کیا ۔ اسی دور میں نانوتہ انڈیا کے غیر سید صدیقی خاندان پر قاضی نجیب اللہ بن عصمت اللہ صدیقی نے جامع کتاب تالیف کی۔ شیخ غلام حسین بلگرامی نے ’’شرائف عثمانی فی انساب بنی عثمان‘‘ لکھی ۔ قاضی مصطفیٰ علی خان کوپاموی نے ’’تذکرة الانساب‘‘ لکھی ۔ شیخ قدرت احمد بن عنایت احمد الکوپاموی نے ’’خلاصة الانساب‘‘ لکھی ۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی نے شیخ احمد سرہندی کے نسب پر ’’تذکرة الانساب‘‘ لکھی ۔ شیخ عمر بن احمد سعید العمری دہلوی نے شیخ احمد سرہندی کی اولاد و احفاد کی تفصیل پر‘‘ انساب الطاہرین‘‘ لکھی ۔
تیرہویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
تیرہویں صدی ہجری میں میر علی شیر قانع ٹھٹوی نے ’’شجرہ اطہر اہلبیتؑ ‘‘ سن تالیف 1202ھ۔سید مظہر مہدی رضوی (متوفی 1257ھ بمطابق 1841عیسوی ) نے ’’انساب الرضویہ‘‘ ۔ سید محمد تقی رضوی تقوی سیتا پوری نے ’’ عواقب عبداللہی ‘‘سن تالیف 1226ھ بمطابق 1811عیسوی ، سید نثار حسین رضوی زید پوری (متوفی 1257ھ بمطابق 1861عیسوی) نے ’’انساب زیدیہ ثانی‘‘۔ سید اکبر حسین عزت دانشمند تقوی امروہوی نے ’’کتاب زیدیہ‘‘۔ سید غلام علی شاہ گیلانی حیدر آبادی نے ’’مشکوۃ النبوت ‘‘۔ سید شاہ عطاء حسین عبدالرزاق نے’’ کنز الانساب‘‘۔ سید عبداللہ حسینی نے ’’جواھر الانساب‘‘۔ سید شاہ محی الدین بیجا پوری نے ’’مجمع الانساب‘‘ ، امام بخش اعوان نے شجرات سادات سن تالیف 1226ھ۔ سید حیدر شاہ مشہدی جھنگی سیداں نے ’’شجرہ مطہرات سیداں‘‘ ، سید رسول شاہ مشہدی نے ’’شجرۃ البہار‘‘۔ شاہ ضیاء اللہ لاھوری نے ’’نسب نامہ کلاں‘‘۔ احمد یار مرالوی نے ’’شجرہ طوبیٰ‘‘۔ سید محمد شاہ مشہدی آف سید کسراں نے فارسی نسب نامہ شریف بمطابق 1881عیسوی۔
خلیفہ گل محمد نے ’’انساب سادات گیلانی‘‘۔ خواجہ حسن جان سر ہندی نے ’’انساب الانجاب‘‘۔ سید محمد شاہ ہزاروی نے ’’گلزار موسیٰ کاظمؑ ‘‘۔ محمد عالم ہزاروی نے ’’انساب السادات‘‘۔شیخ محمود بن شیخ جیون شاہ پوری ’’شجرات سادات ‘‘۔ شیخ تراب علی بن کاظم قلندر کاکوروی نے محمد حنفیہ بن امام علیؑ کی اولاد پر’’ کشف المتواری‘‘ لکھی ۔ مولوی ولی اللہ بن حبیب اللہ لکھنوی نے اہلیانِ فرنگی محل کے نسب پر’’ اغصان الاربعہ‘‘ لکھی ۔ رضی الدین محمود فتح پوری نے فتح پور کے بنی انصار کے نسب پر’’ اغصان الانساب‘‘ لکھی ۔
خواجہ محمد زمان نے مرغوب ’’الاحباب فی النساب الاقطاب‘‘۔ملک الکتاب شیرازی نے ’’ریاض الانساب‘‘ وغیرہ تالیف کی۔ اسی عہد میں سید جیون شاہ مشہدی بن سید جمال شاہ مشہدی اور ان کے برادر سید ملائک شاہ المعروف سید ولایت شاہ نے اپنے خاندانی شجرات کو مرتب کیا۔ مولوی وجیہ الدین العلوی الگجراتی نے ’’کتاب فی النسب‘‘ لکھی ۔ معظم الدولہ نواب بدرالدین نے 1252 ھ میں ’’شجرة الآصفیہ‘‘ لکھی ۔ سید مکرم حسین مجتہد المتوفی 1305ھ نے سادات ہمدانیہ پر ’’نسب نامہ جلالیہ المعروف خلاصۃ الانساب‘‘ تالیف کی۔
چودہویں صدی ہجری کے ہندی نسابین کی تالیفات
چودہویں صدی ہجری میں غلام محمد ملتانی نے’’ مجمع الانساب‘‘۔ میر مراتب علی انبالوی نے ’’کاظمی سادات انبالہ‘‘۔سید محبوب شاہ داتوی نے ’’بحر الجمان‘‘۔ نور الدین سلیمانی نے باب الاعوان اور ذادالاعوان‘‘۔سید افتخار نقوی نے ’’تحفتہ السادات‘‘۔سید شبیر نقوی نے’’ انساب سادات چونیاں‘‘۔ سید محمود علی عظیم آبادی نے ’’ریاض الانساب‘‘۔ضیاء الدین علوی نے ’’مراۃ الانساب‘‘۔سید ظہیر الحسن رضوی نے ’’درنایاب‘‘۔سید صغیر الحسن تقوی نے ’’انوار قم‘‘۔سید تجمل حسین بخاری نے’’باغ سادات‘‘ ، سید گوہر شاہ بخاری نے ’’شجرۃ المراد‘‘۔سید نذر حسین نقوی نے ’’کوثر الانساب‘‘۔سید اصغر علی گردیزی نے ’’تاریخ السادات‘‘۔سید محمود شاہ کاظمی ہزاروی نے ’’جامع الخیرات‘‘۔سید جمال الدین احمد نقوی نے ’’تاریخ سادات امروہیہ‘‘۔سید امام الدین گلشن آبادی نے ’’تذکرۃ الانساب‘‘۔سید محمد علی شیرازی نے ’’ذخیرۃ الانساب والاقوام اور قافلہ شیراز‘‘۔
مولوی محمد شاہ سعادت نے ’’تذکرہ المتقی سادات حالات بیھقی‘‘۔سید محمد علی شاہ نے ’’تذکرة الاسلاف‘‘۔سید محمد شاہ مظفر آبادی نے ’’جامع السیدات‘‘۔سید کریم حیدر چکلوی نے ’’حمید الجواہر‘‘۔سید حسین شاہ نے ’’عقدۃ الجوھر‘‘۔سید علی محمد راشدی نے ’’تذکرہ الانساب‘‘۔میر عبدالحسین سانگی نے ’’لطائف لطیفی‘‘۔سید ظہور الحسن تقوی نے ’’شجرات طیبات‘‘ اور سید مزمل شاہ بن سید فضل شاہ ہمدانی نے ’’شجرہ سادات خاندان ہمدان‘‘ تالیف کی اور
سید علی اصغر شاہ ہمدانی نے ’’شجرہ سادات ہمدانیہ‘‘ مرتب کی۔سید آل حسن مودوی امروہوی نے اہلیان امروہہ کے نسب پر ’’نخبة التواریخ‘‘ لکھی . نواب علی امروہوی نے ’’شمس التواریخ اور آئینہ عباسی‘‘ لکھی ۔ سید اصغر حسین امروہوی نے ’’تاریخ اصغری ‘‘لکھی ۔ شیخ عبدالرحیم بن فرحت حسین صادق پوری نے اہلیان صادق پور کے نسب پر’’ الدر المنثور‘‘ لکھی ۔ شیخ حسن الزمان ترکمانی حیدر آبادی نے ’’التحقیق الملی فی نسب السید الجیلی‘‘ لکھی ۔ شیخ محمد شاہ فیضی القادری حیدر آبادی نے حسن الزمان کی کتاب ’’التحقیق الملی کے رد میں تبیین کذب المفتری فی السید البشتری ‘‘لکھی ۔ مولوی شبلی بن حبیب اللہ اعظم گڑھی نے’’ ازالة اللوم فی زکر اعیان القوم‘‘ لکھی ۔سید غلام علی بن یعقوب القنوجی رسولدار نے ’’رسالہ زیدیہ‘‘ لکھی ۔ سید غلام امیر نجف بن شجاعت علی الحسینی نے سادات رسولدار کے نسب پر ’’صادق الروایة ‘‘لکھی ۔ سید عبدالرحیم بن عبدالکریم الحسینی قنوجی المشہور شریف خان نے ’’الشجرة الیونیہ‘‘ لکھی ۔ سید عبدالوہاب حسینی بخاری اور سید اسماعیل الحسینی بخاری نے بھی اپنے اپنے خاندان پر کتب لکھیں ۔سید محمد دائم بن فیض اللہ قنوجی نے کتاب ’’نسب نامہ‘‘ لکھی ۔ سید حبیب اللہ بن عبدالرحمن قنوجی نے ’’الرسالہ فی الانساب‘‘ لکھی ۔سید کرامت حسین نجمی نصیرآبادی نے ’’معیار الانساب فی سادات نجمیہ‘‘ لکھی ۔ رضی الدین بدایونی نے اہلیان بدایون پر ’’انساب الشیوخ الفرشوریین من اہل بدایون‘‘ لکھی ۔ مولوی واحد علی الوحید الھنسوی نے ’’انساب السادات و الشیوخ من ناحیہ فتح پور ھنسوہ ‘‘لکھی ۔ عبدالرزاق بن عبدالوہاب زینبی المچھلی شہری نے اپنے خاندان بنی جعفر پر ’’تحقیق الانساب اور مکاتیب الانساب‘‘ لکھی ۔ عبدالعلی بن حسن الدیوی نے ’’کشف الانساب‘‘ لکھی۔ خادم حسین امیتھوی نے بنی عثمان پر ریاض عثمانی اور بنی صالح پر ’’صبح بہار‘‘ لکھی ۔ سید امام الدین اجمیری نے اولاد خواجہ معین الدین اجمیری پر’’ معین الاولیاء ‘‘لکھی ۔ امام بخش بن غلام رسول صدیقی نے سندیلہ کے سادات اور شیوخ پر کتاب ’’نسب نامہ‘‘ لکھی ۔
پندرہویں صدی ہجری میں ایک سو سے زائد کتب انساب پاک و ہند میں لکھی گئی ہیں ۔ ان شاءاللہ اس کی تفصیل راقم کی کتاب "پاک و ہند میں علم الانساب کی تاریخ " میں آئے گی ۔
حواشی
1. لباب الانساب ص مولف شیخ ابوالحسن علی البیہقی المعروف ابن فندق متوفی 565 ہجری
2.عمدة الطالب ، مشجر الکشاف اور صحاح الاخبار وغیرہ
3. لباب الانساب ص 410

16/11/2025

السلام علیکم
دوستو کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس پیج کو دوبارہ پہلے کی طرح چلایا جائے ۔ سادات پر تحقیقی آرٹیکل لکھے جائیں اور کتب انساب کی معرفت کرائی جائے ؟

05/04/2025

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


مرکزِ تحقیقات انسابِ سادات پاکستان
Islamabad