Youngistan of Pakistan

Youngistan of Pakistan

Share

Pakistan, officially the Islamic Republic of Pakistan, is a sovereign country in South Asia. http://

With a population exceeding 180 million people, it is the sixth most populous country and with an area covering 796,095 km2 (307,374 sq mi), it is the 36th largest country in the world in terms of area...

Capital: Islamabad
Population: 179.2 million (2012)
Official languages: Urdu Language, English Language.

10/10/2023

. . . . . *خاتمۂ بالخیر __ ایک سبق آموز واقعہ*
ایک استاد اپنے شاگردوں کو عقیدہ توحید کی تعلیم دے رہے تھے۔ انہیں کلمہ "لا الہ الا اللہ" کا مفہوم اور اس کے تقاضے سمجھا رہے تھے۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ ایک شاگرد اپنے استاد کے لیے ایک طوطا بطور تحفہ لے کر حاضر ہوا۔ استاذ کو پرندے اور بلی پالنے کا بڑا شوق تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استاد کو اس طوطے سے بھی بڑی محبت ہوگئی۔ چنانچہ وہ اس طوطے کو اپنے درس میں بھی لے جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ طوطا بھی "لا الہ الا اللہ" بولنا سیکھ گیا۔ پھر کیا تھا طوطا دن رات لا الہ اللہ اللہ بولتا رہتا تھا۔
ایک روز شاگردوں نے دیکھا کہ ان کے استاذ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔ وجہ دریافت کی گئی تو استاذ فرمانے لگے: افسوس! "میرا طوطا آج مر گیا" شاگردوں نے کہا: آپ اس کے لیے کیوں رو رہے ہیں؟ اگر آپ چاہیں تو ہم دوسرا اس سے خوبصورت طوطا آپ کو لا دیتے ہیں۔
استاذ نے جواب دیا: میرے رونے کی وجہ یہ نہیں۔ بلکہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ جب بلی نے طوطے پر حملہ کیا تو اس وقت طوطا زور زور سے چلائے جارہا تھا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ حالانکہ وہی طوطا اس سے پہلے لاالہ الا اللہ کی رٹ لگائے رہتا تھا۔ مگر جب بلی نے اس پر حملہ کیا تو سوائے چیخنے اور چلانے کے کچھ اور اس کی زبان سے نہیں نکلا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ "لا الہ الا اللہ" دل سے نہیں صرف زبان سے کہتا تھا۔
آگے استاد فرماتے ہیں: مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ہمارا حال بھی اس طوطے جیسا نہ ہو۔ یعنی ہم زندگی بھر صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہتے رہیں اور موت کے وقت اسے بھول جائیں اور ہماری زبان پر جاری نہ ہو ۔ اس لیے کہ ہمارے دل اس کلمے کی حقیقت اور اس کے تقاضے سے ناآشنا ہیں۔ یہ سننا تھا کہ سارے طلباء بھی رونے لگے۔ سوچئے!!!
کیا ہم نے بھی لا الہ الا اللہ کی حقیقت کو دل سے جانا اور سمجھا ہے؟
یاد رکھئے!!!
آسمان پر جانے والی سب سے بڑی چیز اخلاص اور زمین پر اترنے والی سب سے بڑی چیز توفیق ہے۔ جس بندے کے اندر جتنا اخلاص ہوگا اسی کے بقدر اسے توفیق حاصل ہوگی۔
اے اللہ! ہمیں اپنے قول و عمل میں اخلاص کی توفیق عطا فرما۔

عربی سے منقول :
زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل ۔ ۔ ۔ ۔!!
دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ۔!

03/10/2022
24/06/2022

‏ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﮐو اطلاع ملی کہ ﮐﺎﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﮐﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﻋﺎﻡ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ
‏ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ

"ﻣﺤﺘﺮﻡ، ﭘُﻞ ﭼﺮﺧﯽ (ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ) ﺗﮏ ﮐﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻟﻮﮔﮯ؟"

ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺩﺍﺅﺩ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ،

"ﻣﯿﮟ
‏ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻧﺮﺥ ﭘﺮ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔"

ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 20 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : اﻭﺭﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ۔
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 25 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ: ﺍﻭﺭﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ۔
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 30 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ۔
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : 35 ؟
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ :
‏ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﻟﯽ

ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺗﺎﻧﮕﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻓﻮﺟﯽ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﯼ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ :
‏ﺍﻭﺭﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺟﻨﺮﻝ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﻣﺎﺭﺷﻞ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﮐﮩﯿﮟ ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﻟﯽ

ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ
‏ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺍُﮌ ﮔﯿﺎ

ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﯿﻞ ﺑﮭﯿﺠﻮ ﮔﮯ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﺟﻼﻭﻃﻦ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺅ
ﮐﻮﭼﻮﺍﻥ : ﭘﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺮ
‏ﭼﮍﮬﺎﺅ ﮔﮯ ؟
ﺩﺍﺅﺩ ﺧﺎﻥ : ﻣﺎﺭﻭ ﺗﺎﻟﯽ

اگر دو چار تالیاں ہمارے ملک میں بھی بج جائیں تو نظام میں بہتری آ سکتی ہے!

مارو تالی

27/05/2022

سيد الاستغفار

26/05/2022

🔮 *اللہ پاک پر بھروسہ*

ایک آدمی دو بہت اونچی عمارتوں کے درمیان تنی ہوئی رسی پر چل رہا تھا

وہ بہت آرام سے اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ڈنڈا پکڑے ہوۓ سنبھل رہا تھا۔

اس کے کاندھے پر اس کا بیٹا بیٹھا تھا۔ زمین پر کھڑے تمام لوگ دم سادھے کھڑے یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے۔
جب وہ آرام سے دوسری عمارت تک پہنچ گیا تو لوگوں نے تالیوں کی بھرمار کر دی اور اسکی خوب تعریف کی۔
اس نے لوگوں کو مسکرا کر دیکھا اور بولا،
"کیا آپ لوگوں کو یقین ہے میں واپس اسی رسٌی پر چلتا ہوا دوسری طرف پہنچ جاؤں گا؟" لوگ چلٌا کر بولے، ہاں ہاں تم کر سکتے ہو۔

اس نے پھر پوچھا، "کیا آپ سب کو بھروسہ ہے؟" لوگوں نے کہا ہاں ہم تم پر شرط لگا سکتے ہیں۔
اسنے کہا، "ٹھیک ہے، کیا آپ میں سے کوئی میرے بیٹے کی جگہ میرے کاندھے پر بیٹھے گا؟ میں اسے بحفاظت دوسری طرف لے جاؤں گا"
اسکی بات سن کر سب کو سکتہ سا ہو گیا۔ سب خاموش ہو گئے.

یقین الگ چیز ہے،اور بھروسہ الگ چیز۔۔
بھروسہ کرنے کے لیے آپ کو مکمل فنا ہونا پڑتا ہے۔
اور آج ہم سب میں اسی بھروسے کی کمی ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ پر یقین تو رکھتے ہیں لیکن بھروسہ نہیں کرپاتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:

فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

یعنی جب کسی بات کا پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا اللہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

15/05/2022

بچپن سے ہمیں اللہ سے ڈرنا سکھایا جاتا ہے لیکن اللہ سے محبت کرنا نہیں سکھایا جاتا. یہ غلط ہے، اللہ کے غضب سے, اللہ کی ناراضگی سے ڈرو, اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تم سے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ تمہیں کو کبھی مایوس نہیں کرے گا وہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔ وہ خود کہہ رہا ہے کہ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو صرف مجھ سے کہو, کسی انسان سے کسی چیز کی امید نہ رکھو۔ جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تو سوچو کوئی راستہ تھا؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں تھے تو کیا کوئی راستہ موجود تھا؟ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے سامنے تھے کیا کوئی راستہ تھا؟ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام چاقو سے ذبح ہونے لگے تھے تو کوئی راستہ تھا؟ جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے بیٹے کی موت کی خبر سنی تو کیا کوئی راستہ تھا؟ جب امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں تھے تو کیا کوئی راستہ تھا؟ جب حضرت ایوب علیہ السلام پر بیماری کی آزمائش آگئی تو کیا کوئی راستہ تھا؟ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو سب ان کے خلاف تھے تو کیا کوئی راستہ تھا؟ سب کو صرف اللہ پر بھروسہ تھا. انہوں نے وہی کیا جو خدا کاحکم تھا. تم کیوں بھول جاتے ہو کہ ان کا اور تمہارا رب ایک ہے. کیا آپ پر ان سے زیادہ آزمائشیں ہیں؟ نہیں نا پھر تم کیوں پریشان ہو؟ اپنے رب کی طرف رجوع کرو. ہر چیز پر اس کا اختیار ہے وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ بس بھروسہ کرو, دعا کرو اور خاموشی سے کن کے معجزات کا انتظار کرو. جب امید ختم ہوجاتی ہے یا کچھ بھی ناممکن لگتا ہے پھر قرآن پڑھو اور دیکھو اللہ کے بندے مشکل وقت میں اس پر کیسے بھروسہ کرتے ہیں؟ ہر حال میں شکر گزار رہیں شکر ادا کرنے والے لوگ اسے بہت پسند ہیں۔ اللہ کا شکر الحمدللہ.

13/05/2022

*بد دعا کیسے تباہی پھیرتی ہے۔؟*

اگر آپ اسلام آباد میں رہتے ہیں تو راول ٹاؤن چوک کو اچھی طرح ہوں گے۔ یہ چوک کلب روڈ پر سرینا ہوٹل سے فیض آباد کی طرف جاتے ہوئے آتا ہے۔ چوک میں ایک پٹرول پمپ اور ایک پرانی مسجد ہے۔ میں 1993ء میں اسلام آباد آیا تو مسجد کے ساتھ ایک چھوٹا سا گاؤں ہوتا تھا۔ گاؤں کی زمینیں ایکوائر ہو چکی تھیں، امیر لوگ زمینوں کی قیمتیں وصول کر کے بڑے بڑے سیکٹروں اور فارم ہاؤسز میں شفٹ ہو چکے تھے لیکن وہ غرباء پیچھے رہ گئے تھے جن کی زمینوں کے پیسے امراء کھا گئے یا پھر وہ جو گاؤں کے کمی کمین تھے اور ان کے نام پر کوئی زمین نہیں تھی، حکومت نے انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا۔

دنیا میں ان کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، لہٰذا وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں مقیم تھے۔ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے ان کو بے شمار نوٹس دیے مگر مکینوں کا کہنا تھا ”ہم کہاں جائیں‘ آپ ہمیں بتا دیں ہم وہاں چلے جاتے ہیں“ حکومت ظاہر ہے ایک ٹھنڈی ٹھار مشین ہوتی ہے، اس کا دل ہوتا ہے اور نہ ہی جذبات، لہٰذا حکومت جواب میں ایک اور نوٹس بھجوا دیتی تھی۔ نوٹس بازی کے اس عمل کے دوران بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومتیں آتی اور جاتی رہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے جب بھی سویلین گورنمنٹ سے آپریشن کی اجازت مانگی، حکومت نے اجازت نہ دی۔ انتظامیہ ایک بار مشینری لے کر وہاں پہنچ گئی، چودھری شجاعت حسین اس وقت وزیر داخلہ تھے، ان کو اطلاع ملی تو وہ فوراً وہاں پہنچے اور ذاتی طور پر آپریشن رکوایا۔

لیکن پھر 1999ء آ گیا اورجنرل پرویز مشرف حکمران بن گئے۔ ان کا قافلہ روز اس چوک سے گزر کر وزیراعظم ہاؤس آتا تھا۔ جنرل مشرف کی طبع نازک پر غریبوں کی وہ جھونپڑیاں ناگوار گزرتی تھیں۔ وہ ایک دن گزرے، کھڑکی سے باہر دیکھا اور آپریشن کا حکم جاری کر دیا۔ میں ان دنوں شہزاد ٹاؤن میں رہتا تھا اور روزانہ راول چوک سے گزرتا تھا۔ میں نے دوپہر کو دفتر جاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے وہ آپریشن دیکھا۔ وہ لوگ انتہائی غریب تھے، ان کے گھروں میں ٹوٹی چار پائیوں، پچکے ہوئے برتنوں اور پھٹی رضائیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انتظامیہ نے وہ بھی ضبط کر لئے۔ گاؤں چند گھنٹوں میں صاف ہو گیا۔ زمین کو فارم ہاؤسز میں تبدیل کر دیا گیا اور وہ فارم ہاؤسز امراء نے خرید لئے۔

صرف مسجد اور اس کے ساتھ چند قبریں بچ گئیں۔ وہ قبریں بھی اب کم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ کہانی یہاں پر ختم ہو گئی۔ 2007 ء میں اس کہانی کا ایک نیا پہلو میرے سامنے آیا۔ ملک میں اس وقت جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ ایک روز ایک صاحب وہیل چیئر پر میرے پاس تشریف لائے۔ وہ ٹانگوں سے معذور تھے اور چہرے سے بیمار دکھائی دیتے تھے، میں انہیں بڑی مشکل سے گھر کے اندر لا سکا۔ وہ مجھے اپنی کہانی سنانا چاہتے تھے، ان کا کہنا تھا "راول چوک کا وہ آپریشن انہوں نے کیا تھا، وہ اسے لیڈ کر رہے تھے"

میں خاموشی سے ان کی داستان سنتا رہا۔ ان کا کہنا تھا: ان کے تین بچے تھے، دو لڑکے اور ایک لڑکی، شادی پسند کی تھی۔ وہ سی ایس پی آفیسر تھے، کیریئر بہت برائیٹ تھا، سینئر اس کی کارکردگی سے بہت مطمئن تھے، ان کا اپنا خیال بھی تھا وہ بہت اوپر تک جائیں گے۔ وہ رٹ آف دی گورنمنٹ کے بہت بڑے حامی تھے‘ وہ سمجھتے تھے قانون پر سو فیصد عمل ہونا چاہیے اور جو شخص قانون کے راستے میں حائل ہو، ریاست کو اس کے اوپر بلڈوزر چلا دینا چاہیے چنانچہ جنرل مشرف نے جب راول چوک کے مکانات گرانے کا حکم دیا تو یہ ذمہ داری انہیں سونپی گئی۔ یہ فورس لے کر وہاں پہنچے اور گھر گرانا شروع کر دیے۔

لوگ مزاحم ہوئے، پولیس نے ڈنڈے برسائے، لوگوں کو گرفتار بھی کیا اور ایک آدھ موقع پر ہوائی فائرنگ بھی کرنا پڑی، بہرحال قصہ مختصر آپریشن مکمل ہو گیا اور انتظامیہ نے ملبہ اٹھانا شروع کر دیا۔ وہ رکے اور پھر بھولے: آپریشن کے بعد اینٹوں کے ایک ڈھیر پر درمیانی عمر کی ایک خاتون بیٹھی تھی، وہ ملبے سے نہیں اٹھ رہی تھی، اس کا صرف ایک مطالبہ تھا، وہ کہہ رہی تھی کہ وہ بس ایک بار آپریشن کرنے والے صاحب سے ملنا چاہتی ہے۔ انتظامیہ عموماً ایسے مواقع پر خواتین سے زبردستی نہیں کرتی چنانچہ اہلکاروں نے انہیں بتایا اور وہ خاتون کے پاس چلے گئے۔

خاتون نے ان کی طرف دیکھا اور کہا ”صاحب! یہ آپریشن آپ نے کیا؟“ میں نے جواب دیا ”ہاں“ اس نے جھولی پھیلائی، آسمان کی طرف دیکھا اور بولی ”یا پروردگار! اس شخص نے میرے اور میرے بچوں کے سر سے چھت چھینی، یا اللہ اسے اور اس کے بچوں کو برباد کر دے“ میں اس وقت جوان تھا، میں نے منہ دوسری طرف پھیر دیا۔ اس خاتون نے اس کے بعد کہا: ”یا اللہ! ہم سے ہمارے گھر چھیننے والے تمام لوگوں کو برباد کر دے“ اس نے اس کے بعد اپنی پوٹلی اٹھائی، اپنے بچے ساتھ لیے اور چلی گئی۔

وہ رکا، اس نے اپنے آنسو پونچھے اور بولا: جاوید صاحب! آپ یقین کریں، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، میں بحرانوں سے نہیں نکل سکا۔ میں اس پوٹلی والی کی بددعا کا نشانہ بن گیا۔ میرا ایکسیڈنٹ ہوا، میری بیوی اور میری بچی مر گئی، میری ٹانگیں کٹ گئیں۔ میرے دونوں بیٹے ایک ایک کر کے بیمار ہوئے، میں نے اپنی ساری جمع پونجی ان کے علاج پر لگا دی لیکن وہ فوت ہو گئے۔ مجھے سسرال سے گھر ملا تھا، وہ بک گیا۔ میں نے اپنا گھر بنایا تھا، وہ 2005ء کے زلزلے میں گر گیا۔

محکمے نے میرے اوپر الزام لگایا، میری انکوائری شروع ہوئی، میں ڈس مس ہوا اور بے گناہی کے باوجود آج تک بحال نہیں ہو سکا۔ میں مقدمے پر مقدمہ بھگت رہا ہوں، میں 38 سال کی عمر میں شوگر، بلڈ پریشر اور دل کا مریض بھی بن چکا ہوں اور میرے تمام رشتے دار اور دوست بھی میرا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ میں دل سے سمجھتا ہوں مجھے اس عورت کی بددعا لگی تھی۔ حکومت، میرا محکمہ اور آرڈر دینے والے لوگ، تینوں پیچھے رہ گئے لیکن میں برباد ہو گیا۔میں آج سوچتا ہوں تو میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں‘میں کتنا بے وقوف تھا! میں نے جنرل مشرف کے حکم پر غریبوں کے سروں سے چھت چھین لی.

وہ رکا اور پھر بولا: آپ کو میری باتیں عجیب لگیں گی لیکن میں نے تحقیق کی ہے، اس آپریشن کا حکم دینے والا ہر شخص میری طرح ذلیل ہوا، ان میں سے آج کوئی شخص اپنے گھر میں آباد نہیں، وہ سب اولاد اور بیویوں کے بغیر عبرت ناک اور بیمار زندگی گزار رہے ہیں یہاں تک کہ اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کی ساری پراپرٹی بھی بک گئی اور اس کی اولاد بھی دربدر ہو گئی، وہ بھی عبرت کا نشان بن کر آخری سانسیں لے رہا ہے۔ہم سب کو اس عورت کی آہ کھا گئی.

میرا تجربہ اور میرا مشاہدہ ہے دنیا کا ہر وہ شخص جو کسی کے سر سے چھت اور اس کا روزگار چھینتا ہے یا پھر کسی معزز شخص کو بے عزت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے سب کچھ چھین لیتا ہے اور وہ شخص اس کے بعد روز مرتا اور روز جیتا ہے مگر اس کی سزا ختم نہیں ہوتی لہٰذا آپ جو دل چاہے کریں، لیکن کسی کی بددعا نہ لیں۔ دنیا کے تمام عہدے، کرسیاں اور تکبر عارضی ہوتے ہیں، یہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں صرف پوٹلی والیوں کی دعائیں یا پھر بد دعائیں کام کر جاتی ہیں۔ ۔۔(کاپی)

*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

03/07/2021

ڈاکٹر ذاکر نائک
مختصر تعارف
یوم پیدائش18.10.1965
آپ ڈاکٹر ذاکر نائیک سے اختلاف کر سکتے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔

18 اکتوبر 1965ء کو بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر بمبئی میں پیدا ہونے والے ذاکر نائیک پیشے کے لحاظ سے تو ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں لیکن انہیں دعوت دین اور مختلف ریلجن میں پی اچ ڈی ڈیگری مصر کی یونیورسٹی سے حاصل کیا ہے ۔ انہوں نے 1991ء میں بمبئی میں ہی اسلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھ دی۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی زبان میں لکنت بھی ہے اور وہ اکثر دعائے موسوی ،رب اشرح لی صدریَ َََِِ.....’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے (کہ لوگ) میری بات کو سمجھ لیں‘‘ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی لکنت زدہ زبان میں ایسی تاثیر ڈالی کہ اس نے سارے عالم میں اسلام کی مٹھاس پھیلا دی۔

دنیا کے سارے براعظموں میں وہ جا چکے، 20سال کے عرصہ میں انہوں نے بیسیوں ملکوں میں زائد بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا،کتنے ہی لوگوں کا بائیبل، توریت اور ہندوؤں کی گیتا و مہا بھارت سے تقابل کر کے دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ذاکر نائیک کہتے ہیں کہ دعوت دین کے مشن کے لئے وہ عظیم اسلامی مبلغ و محقق احمد دیدات سے متاثر ہوئے تھے جن کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات 1987 میں ہوئی۔ 2006ء میں انہوں نے بتایا کہ میں دیدات نے انہیں ’’دیدات پلس‘‘ کا لقب دیا تھا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی زندگی میں بے شمار اتاروچڑھاؤ آئے۔

یکم اپریل 2000 کو امریکہ میں ان کا عیسائیوں کے نامی گرامی عالم ولیم کیمبل کے ساتھ کئی گھنٹے طویل مناظرہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس مناظرہ کا عنوان ’’قرآن اور بائیبل، سائنس کی روشنی میں‘‘ تھا۔ یہ مناظرہ ایک امریکی ٹی وی چینل پر براہ راست دکھایا گیا تھاجس کے بعد کم از کم 34 ہزار لوگوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس مناظرے کے بعد ہر جگہ انہیں ’’تقابل ادیان‘‘ کا سب سے بڑا ماہر سمجھا جانے لگا اور ہر جگہ انہیں دعوت دین کے لئے بلایا جانے لگا۔یوں بھارت کے رہنے والے انتہا پسند ہندوؤں کو فکر لاحق ہوئی کہ ان کے لوگ بھی گاہے گاہے اسلام کی طرف جارہے تھے۔ یوں 21جنوری 2006ء کو بھارت میں ہندوؤں کے سب سے بڑے عالم روی روی شنکر کے ساتھ ان کا ’’اسلام میں تصور خدا اور ہندو مذہب‘‘ کے موضوع پر مناظرہ ہوا تو انہوں نے شنکر کو تھوڑی ہی دیر میں بے بس کر دیا ۔یہ منظر دیکھ کر کتنے ہی ہندو مسلمان ہو گئے۔

اگلے سال یعنی 2007ء میں انہوں نے بمبئی میں سالانہ 10روزہ ’’امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد شروع کیا جس میں دنیا بھر سے مبلغین اسلام جو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھی تھے، آنا شروع ہوئے۔ وہ مذاہب عالم کا اسلام کے ساتھ تقابل پیش کرتے اور بے شمار لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیتے۔ یہ سلسلہ 2012ء تک جاری رہا، جب اس کانفرنس میں ریکارڈ 10لاکھ لوگ شریک ہوئے تو بھارتی انتہا پسند ہندو سماج ہل کر رہ گیا۔ ان دنوں بھارت میں نریندر مودی کو وزیراعظم بنائے جانے کی مہم عروج پر پہنچنے لگی تو انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہو چکی تھیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر ذاکراسلام کے ساتھ ہندو مت کا تقابل کر کے ان کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں، سالانہ کانفرنس کے خلاف تحریک شروع کر کے اسے رکوا دیا۔ اس پرڈاکٹر ذاکر نائیک نے کانفرنس چنائی میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تو وہاں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا کر دی گئی۔

ان حالات کی وجہ سے عرصہ چار سال سے یہ کانفرنس منعقد نہ ہو سکی لیکن ’’جس کا حامی ہو خدا، اسے مٹا سکتا ہے کون‘‘ کے مصداق ڈاکٹر ذاکر کی دعوت کا سلسلہ ان کے پیس ٹی وی، ویڈیو ریکارڈنگز، تحریروں، انٹرنیٹ اور غیر ملکی دوروں کے ذریعے جاری رہا۔ پیس ٹی وی نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ اس کے ناظرین کی تعداد 10کروڑ سے تجاوز کرنے لگی۔

انہوں نے 2006میں پیس ٹی وی انگلش کا آغاز کیا توجلد ہی یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا چینل بن گیا جو دنیا کے 200سے زائد ملکوں میں دیکھا جا رہا ہے ، اس کے اب بھی 25فیصد ناظرین غیر مسلم ہیں۔انہوں نے 2011ء میں بنگلہ جبکہ 2015ء میں چینی زبان میں چینل کی نشریات کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر ذاکر کے لئے اس سے پہلے مشکل مرحلہ اس وقت آیا جب جون2010ء میں انہوں نے کینیڈا اور برطانیہ کے دورے کی تیاری کی تویہاں موجود قادیانی لابی نے حکومتوں سے شکایت کی کہ یہ مبلغ قادیانیوں اور مقامی حکومتوں کے لئے خطرہ ہیں، یوں انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ قادیانی فتنے کی بنیاد جس انگریز نے رکھی، وہی اب تک اس کی خوب آبیاری کر رہے اور دنیا بھر میں ہر طرح کی مدد و تعاون سے پال پوس رہے ہیں۔

2010میں ہی بھارتی نشریاتی ادارے ’’انڈین ایکسپریس‘‘نے انہیں ملک کی 90ویں بااثر شخصیت قرار دیا تو 2011ء میں ان کا درجہ 89واں تھا۔قبل ازیں 2009ء میں انہیں بھارت کے مختلف مذاہب کے10بڑے مذہبی مبلغین میں تیسرے درجے پر رکھا گیا تھا۔

2011سے 2014 تک امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے انہیں دنیا کی 500بااثر ترین شخصیات میں مسلسل برقرار رکھا۔ ان کی انہی خدمات کے اعزاز میں29 جولائی 2013ء کو انہیں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے 2013ء کی بہترین مسلم شخصیت قرار دے کر ’’بین الاقوامی قرآن ایوارڈ‘‘ دیا گیا جس کے ساتھ انہیں ساڑھے سات لاکھ درہم انعامی رقم ملی جو انہوں نے پیس ٹی وی کے لئے وقف کی۔

اسی سال انہیں ملائشیا کے بادشاہ نے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ عطا کیا۔ 16جنوری 2014ء کو شارجہ کے حکمران شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے اسلام کیلئے خدمات پر شارجہ ایوارڈ سے نوازا۔

25اکتوبر2014ء میں انہیں گیمبیا کے یوم آزادی کا واحد مہمان خصوصی بنا کر مدعو کیا گیا تھا جہاں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی گئی۔

یکم مارچ 2015ء کو سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خود مسلم دنیا کا سب سے بڑا تمغہ ’’شاہ فیصل ایوارڈ‘‘عطا کیا جس کے ساتھ ملنے والی ساڑھے سات لاکھ ریال کی انعامی رقم انہوں نے ’’اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن‘‘ کو عطیہ کر دی۔اس وقت فیس بک پر ان کا پیج مسلم دنیا کی تمام شخصیات میں سب سے مقبول اور سب سے زیادہ تیزی سے پسندیدگی حاصل کرنے والا کا اعزاز رکھتا ہے جو ڈیڑھ کروڑ سے زائد (لائکس) لے چکا ہے۔
اور اب تک ڈاکٹر ذاکر نائیک کی انٹرنیٹ پر تمام ویبسائٹ کے تعداد 62 لاکھ ہے جو دنیا واحد مسلم ہیں کہ ان کہ اتنی ویبسائٹ موجود ہیں ۔
اور 2020 میں الجزیرہ نیوز کے سرچ کے مطابق 2016 سے 2020 تک 11 لاکھ غیر مسلم کو مسلمان بنایا ۔
اور ایک سروے کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک دن میں تقریبا 18 گھنٹے سٹڈی اب بھی رکھتا ہے

اور یکم جولائی 2016ء کو ڈھاکہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد اسلام دشمن بنگالی اور بھارتی میڈیا نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف اب تک طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا ہے کہ ایک حملہ آور نے ان کا فیس بک پیج لائیک کر رکھا تھا اور اس نے ان کے خطابات انٹرنیٹ پر شیئر کئے تھے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے پہلے ان کے چینل اور پھر تنظیم پر پابندی عائد کر دی تووہی کچھ اب بھارت میں ہو رہا ہے ۔ ان کی آواز کو پابند سلاسل کرنے کے لئے بھارت کے چوٹی کے دماغ اور ساری مشینری دن رات سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کے خلاف نئی قانون سازی کی جارہی ہیں تو راستے بند کرنے کے لئے دماغ لڑائے جا رہے ہیں۔
_____اسلامی عقیدہ _____
کاپی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نوٹ۔ھندوستان کے پنڈتوں نے اس کے خلاف مہم چلائی اور مسلم علماء کو استعمال کرکے ان کے خلاف فتوے شائع کیے ۔اور حکومت نے چلاوطنی پر مجبور کیا ۔ ملائیشیا کے سربراہ حکومت مہاتیر محمد نے دعوت دی اور ملائیشن شہریت دے دی ۔ اور یوں ملائیشیا منتقل ھوکر اپنی دعوتی کام کو جاری رکھے ھوئے ھیں ۔ اللہ پاک ان کی عمر میں برکت ڈالدے ۔ اور اسلام کی دعوت کے لیے زندہ سلامت رکھے آمین( منقول )

Photos from Youngistan of Pakistan's post 26/06/2021

‏عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات:
غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
بس یہ بات کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی.
اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا تھا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے‏ مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔
جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا، غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!‏
دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا، پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا!
مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائے‏اور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔ مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں!
دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت‏ دفنا دی جائے، مگر بے سود. اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں.
اس دور میں امام مالک قاضی تھے. بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورت حال بھانپ کر غسال عورت سے سوال کیا‏ "اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی؟"
غسال عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
امام مالک نے سوال کیا "کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے‏لیے گواہ موجود ہیں" عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں. امام مالک نے پھر پوچھا "کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا؟" جواب آیا "نہیں"
امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا ‏اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!
حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا.
آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے. استغفراللہ
مہربانی کرکے شئر کریں۔۔۔۔۔۔ 👇
ثواب کی نیت سے فرض سمجھ کر کم از کم 5 گروپوں میں شئیر کریں اور قیامت تک جاری رہنے والے صدقہ جاریہ میں شامل ہو جائیں
[11/06, 2:36 pm] بحوالہ "زرقانی شرح موطا"

29/01/2021
Photos from Youngistan of Pakistan's post 19/10/2020

عبدالخالق اور
بھاگ ملکھا بھاگ۔۔۔

چکوال سے کوئی 40 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف جائیں، تو ایک چھوٹا سا خاموش گاؤں آتا ہے، جس کا نام جند اعوان ہے۔ بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ اس گاؤں کے قبرستان میں ایک ایسی قبر ہے، جس میں لیٹے انسان نے تن تنہا پاکستان کا پرچم بین الاقوامی سطح پر، ایک بار نہیں بار بار بلند کیا۔ عبد الخالق کو بچپن ہی سے بھاگنے کا جنون تھا۔ ایک بار پاکستان آرمی کے برگیڈیر رودھم نے اس کی کبڈی اور ریس کا مقابلہ دیکھا، تو اسے آرمی میں جوانوں کی ٹریننگ پر آمادہ کیا۔ یہ کام اس نے آخر دم تک بخوبی نبھایا اور بے شمار مایہ ناز اتھلیٹ پاک آرمی کو دیے۔ وہ پاک آرمی میں صوبیدار خالق کے نام سے مشہور تھا۔

اس اکیلے اتھلیٹ نے نیشنل گیمز میں 100 سونے کے تمغے اور انٹرنیشنل مقابلوں میں 26 گولڈ، 16 سلور اور بے شمار برونز میڈل جیتے۔ 1954ء منیلا ایشین گیمز میں نا صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ 6۔ 10 سیکنڈ میں 100 میٹر کا نیا ریکارڈ بھی بنایا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ایک انڈین اتھلیٹ کے پاس تھا۔ اس کی اس شاندار کامیابی پر جواہر لال نہرو نے اسے ”فلائنگ برڈ آف ایشیا“ یعنی ”ایشیا کا پرندہ“ کا خطاب دیا۔ 1958ء ٹوکیو کی ایشین گیمز ہوں، 1956ء کی میلبورن اولمپکس ہوں یا 1960ء کی روم اولمپکس، صوبیدار خالق 100 میٹر میں گولڈ میڈل جیت کر لایا۔

1958ء کی ایشین گیمز میں ملکھا سنگھ پہلی بار منظر عام پر آیا۔ نیشنل لیول پر اس کا خوب نام تھا، مگر صوبیدار خالق نے اسے کوئی اہمیت نہ دی۔ اس وقت عبد الخالق کا طوطی سر چڑھ کر بولتا تھا۔ 200 میٹر کی ریس کا اختتام بہت ڈرامائی تھا، جس کے نتیجے کا اعلان بھی بہت دیر میں ہوا۔ ملکھا اور خالق برابر تھے۔ آخر بہت سارے زاویوں سے تصویریں دیکھنے اور ایکسپرٹس کے مشوروں کے بعد ملکھا سنگھ 6۔ 21 سیکنڈ کو گولڈ اور عبدالخالق کو 7۔ 21 سیکنڈ کے ساتھ سلور میڈل دیا گیا۔ اس مقابلے کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کا اگلا مقابلہ بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا۔


1960ء میں صدر ایوب خان نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نرمی لانے کے لئے لاہور میں انڈو پاک گیمز کا انعقاد کیا۔ یوں تو ل اتعداد ایونٹس میں بے شمار اتھلیٹ میدان میں اترے تھے، مگر سب کی نظریں 200 میٹر کے مقابلے پر لگی تھیں، جس میں انڈیا کی طرف سے ملکھا سنگھ اور پاکستان کی طرف سے عبدالخالق کی دوڑ ہونا تھی۔ کھیلوں کا آخری دن تھا۔ صدر صاحب خود یہ مقابلہ دیکھنے اور انعامات تقسیم کرنے سٹیڈیم آئے تھے۔ لوگوں کا جوش دیدنی تھا۔

سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا تھا۔ کان پڑی آواز سنائی نا دیتی تھی۔ لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنے اپنے وطن کے ان ایتھلیٹس کے لئے نعرہ بازی کر رہے تھے اور شاید بارڈر کے دونوں طرف کے باقی کروڑوں لوگ بھی جذبات کی اس گرمی کو محسوس کر رہے تھے۔ ہر گھر اور دکان پر ریڈیو آن تھا۔ اس جذباتی فضا میں ریفری نے پستول فضا میں بلند کیا اور ریس کا آغاز ہو گیا۔

20 سیکنڈ کی ایک ریس کے لئے ایسا ماحول پہلے کبھی نا دیکھا گیا تھا۔ عبد الخالق پاکستان کا فیورٹ تھا تو ملکھا سنگھ انڈیا کا۔ دونوں میں اپنے وطن کا پرچم بلند کرنے کی دھن سوار تھی۔ مگر مقابلے کے دو فاتح تو نہیں ہو سکتے تھے۔ بہر طور کسی ایک ہی نے جیتنا تھا اور وہ خوش قسمت ملکھا سنگھ نکلا۔ قسمت کی دیوی اس دن اس پر مہربان تھی اور وہ آخری سیکنڈ کے میں عبد الخالق کو پیچھے چھوڑتا ہوا ریس جیت گیا۔ اس دن صدر ایوب خان نے ملکھا سنگھ کو ”فلائنگ سکھ“ کا خطاب دیا، جو وہ ہمیشہ ہر انٹرویو میں فخر سے بتاتا رہا۔


عبد الخالق عوام کا مجرم ٹھہرا۔ کروڑوں دلوں کو توڑنے کا صدمہ، اس نے دل پر لے لیا اور اس کے بعد گم نامی کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ اس نے 1971ء کی جنگ میں بھی حصہ لیا اور جنگی قیدی بنا۔ بارڈر کے اس پار اب بھی اس کی بہت عزت تھی۔ اندرا گاندھی نے خصوصی طور پر اس کی رہائی کا بندوبست کیا، مگر اس غیور اتھلیٹ نے انکار کر دیا اور کہا وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ ہی واپس جائے گا۔ 1988ء میں راولپنڈی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ نا ٹی وی پر خبر چلی، نا کسی سوگ کا اعلان ہوا۔ بس اخبار کے اندرونی صفحے پر ایک کالمی خبر اور 100 میٹر ریس کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا۔

1960ء میں صوبیدار خالق کے ہارنے کی کئی وجوہ تھیں۔ وہ بنیادی طور پر 100 میٹر کا چیمپئن تھا اور ملکھا سنگھ 200 میٹر کا۔ عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ پہلے 100 میٹر میں عبد الخالق ہی آگے تھا، مگر اگلے 100 میٹر وہ اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔ ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراوڈ کا پریشر مہمان کی نسبت میزبان پر ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ملکھا سنگھ اس کا فائدہ اٹھا کر تاریخ میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو گیا۔ پانچ دہائیوں بعد راکیش اوم پرکاش مہرا نے ملکھا سنگھ پر ایک بائیو پک بنائی اور وہ سپر ہٹ تھی۔ مہرا نے اپنے پچاس سال پرانے ہیرو کو دوبارہ زندہ کر دیا اور پورے ہندوستان میں ایک بار پھر ملکھا سنگھ کا نام گونج اٹھا۔

ہمارے یہاں اپنے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔ 1958ء سے 1964ء کے درمیان ملکھا سنگھ نے صرف 5 انٹرنیشل گولڈ جیتے اور عبد الخالق نے 34، مگر پھر بھی اسے اتنی پذیرائی کبھی نا ملی جو بھارت میں ملکھا کو ملی۔ امید کی جا سکتی ہے کبھی وقت بدلے گا اور کوئی فلم میکر اپنے اس گمنام ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرے گا اور نئی نسل کو اس کے کارناموں سے روشناس کرائے گا۔ انسان بھلے سو بار جیتتا رہا ہو، مگر کئی مقابلے ایسے ہوتے ہیں، جن میں اس کی ایک ہار گائیڈڈ میزائل کی طرح زندگی بھر اس کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ صوبیدار خالق بھی اسی گائیڈڈ میزائل کا شکار ہو گیا۔
تحریر : مدثر ہارون

01/10/2020

بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے

قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی

آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں

کیوں

پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں

تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی

*صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں*

زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے

وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے

پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں

دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں

انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے

کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے

بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے

*دن کے ایک بجے* سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے

یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے

ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار ماہ جبینیں چہرہ، پائوں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،، !

اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا

دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،

*اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں*

برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں *برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا*

لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے

*اب 2018ء میں آتے ہیں*

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں

آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں

بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

*اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا*

بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !

حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر اور شاہ غنڈے ہوں مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ،وکیل اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، اساتذہ حرام خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے کرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں ریپ عام ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آکر چھوڑ دیا جاۓ۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟

کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،

کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.

*جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی*.

اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاھک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.

وطن عزیز کی بقاء اور ترقی کیخاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب میں ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Islamabad
46000