21/05/2026
پریس ریلیز
(اسلام آباد پ۔ر)آج مورخہ 21 مئی 2026ء بروز جمعرات، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بی ایس انگلش لٹریچر کے 35 طلبہ نے پروفیسر ڈاکٹر شیراز دستی کی سربراہی میں اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ (Study Visit) کیا۔ اس موقع پر صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر بی بی امینہ نے وفد کا خیرمقدم کیا۔
ابتدا میں پاک چین دوستی اور تعلقات کے ۷۵ سال مکمل ہونے پر پرچم کشائی کی تقریب کی گئی جس کے بعد طلبہ نے دونوں ممالک کی سلامتی اور خوش حالی کے لیے دعا کی۔ بعد ازاں شیخ ایاز کانفرنس ہال میں صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اکادمی کے اغراض و مقاصد، ادبی خدمات اور جاری منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے نسل نو اور نوجوانوں کے لیے جاری منصوبوں اور تقاریب کا مفصل احوال بیان کیا اور کہا کہ ادب سے جڑت موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ انسانی شعور، فکری وسعت اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
مطالعاتی دورے کے دوران میں طلبہ کو اکادمی کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کرایا گیا۔ اس موقعے پر ایوانِ اعزاز(ہال آف فیم)کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جبکہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم، کمیٹی روم، اکادمی میں آویزاں ادبا کی تصاویر، پاکستانی زبانوں کے ادبی عجائب گھر، رائٹرز ہاؤس اور اکادمی ادبیات پاکستان کی احمد فراز لائبریری اور بک شاپ کا بھی دورہ کروایا گیا۔احمد فراز لائبریری میں لائبریرین ثمینہ خان نے طلبہ کو جاری آن لائن پبلک ایکسس لائبریری منصوبے کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔طلبہ کو اکادمی میں جاری مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے بھی متعارف کروایا گیا اور انھیں مخطوطات دکھائے گئے۔مطالعاتی دورے کے اختتام پر طلبہ نے اکادمی ادبیات پاکستان کی علمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اس دورے کو معلوماتی، مفید اور یادگار قرار دیا۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)
21/05/2026
پریس ریلیز
(اسلام آباد: پ۔ر)حکومتِ پاکستان، کابینہ ڈویژن کی ہدایات کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے آج مورخہ 21 مئی 2026ء کو اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کی مرکزی عمارت میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کی سربراہی میں اکادمی کے افسران اور عملے نے شرکت کی۔ اس موقعے پر اکادمی کے دورے پر آئے ہوئے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر ڈاکٹر شیراز دستی کی سربراہی میں 35 طلبہ پر مشتمل وفد نے بھی شرکت کی۔تقریب حکومتی ہدایات کے مطابق سادگی کے ساتھ منعقد کی گئی، جس میں قومی پرچم لہرایا گیا اور دونوں ممالک کی ترقی، خوش حالی اور سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔اس موقع پر شرکا نے پاکستان اور چین کے درمیان طویل المدتی سفارتی تعلقات، باہمی دوستی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)
20/05/2026
پریس ریلیز
(اسلام آباد پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلہ "چائے، باتیں اور کتابیں" کی 86ویں نشست آج بروز 20 مئی 2026ء کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف شاعر و ادیب منیر فیاض نے کی، جبکہ اہلِ قلم، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور ادب دوست شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نشست کا موضوع "صحافت اور ادب کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج" تھا، جس پر شرکانے تفصیلی اور فکرانگیز اظہارِ خیال کیا۔ آغاز میں منیر فیاض نے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور شرکاکو معروف شاعر، ادیب، نقاد اور صحافی اختر عثمان کو حال ہی میں ملنے والے صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance) سے آگاہ کیا، جس پر شرکانے انھیں دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی ادبی و صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقعے پر ادیبہ اور صحافی فرخندہ شمیم نے موضوع کے حوالے سے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافت سے قبل ادب انسانی اظہار کا ایک بنیادی ذریعہ تھا اور ابتدائی دور میں ادیب ہی بہترین صحافی تصور کیے جاتے تھے۔ جہانگیر عمران نے یورپ میں اٹھارھویں صدی اور ایشیا میں انیسویں صدی کے دوران صحافت کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے ادب اور صحافت کے باہمی تعلق پر تفصیلی گفتگو کی۔معروف ادیب اور صحافی اختر عثمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب انکشاف اور باطنی حقیقتوں کو آشکار کرنے کا ذریعہ ہے جبکہ صحافت خبر اور معلومات فراہم کرتی ہے، تاہم دونوں کا تعلق ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہے اور ایک اچھا ادیب ہی مؤثر صحافی ثابت ہوسکتا ہے۔
نعیم اکرم قریشی نے بھی موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کہا کہ جدید رجحانات کے باعث ادیبوں کی صحافت میں آمد کم ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں پرنٹ میڈیا کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کا مطالعے اور تحریر کی جانب کم ہوتا رجحان اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے۔نشست میں سماء میڈیا گروپ سے تعلق رکھنے والے صحافی کاشف رحمان کی ادب دوستی اور ادبی سرگرمیوں کی مؤثر کوریج کو بھی سراہا گیا۔کینیڈا سے تشریف لانے والی ڈاکٹر خالدہ نسیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پشتو ادب کے عظیم شاعر عبدالغنی خان کے کلام کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافتی پابندیوں کے باعث پرنٹ میڈیا سے وابستہ لکھنے والوں کو مختلف مشکلات درپیش ہیں، جس کی وجہ سے ادیبوں کا اس شعبے کی جانب رجحان نسبتاً کم ہوا ہے۔درشہوار توصیف نے موضوع کے ساتھ ساتھ اپنے ادبی، صحافتی سفر اور خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مہناز انجم نے اپنی گفتگو کا آغاز فرزند علی ہاشمی کی حالیہ شائع ہونے والی کتاب سے کیا، جو صحافت اور ادب کے موضوع پر مختلف قومی اخبارات میں شائع ہونے والے منتخب ادبی کالموں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے کتاب کو صحافت اور ادب کا ایک خوبصورت امتزاج قرار دیا۔ بعد ازاں فرزند علی ہاشمی نے کتاب کے اقتباسات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے ادبی و صحافتی سفر کے مختلف پہلوؤں سے سامعین کو آگاہ کیا۔
نشست میں فرخندہ شمیم، فرزند علی ہاشمی، راو طاہر، نعیم اکرم قریشی، ڈاکٹر مہناز انجم، منیر فیاض، ڈاکٹر خالدہ نسیم، اختر عثمان، مہرانساء، جہانگیر عمران، درشہوار توصیف، کرنل شرافت علی، ذوالفقار علی بخاری، علشبہ نواز، ڈاکٹر سعدیہ کمال، فواد ابرار، زاہد وارثی، آصف سلیم، محمد عرفان، ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ، محمد داؤد کیف، یوسف خان، خالد محمود اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔نشست کے اختتام پر مرحوم الطاف حسین قریشی کے ایصالِ ثواب اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ (یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج شعبہ تعلقات عامہ
19/05/2026
اسلام آباد؛19 مئی 2026ء، اکادمی ادبیات پاکستان کے قیام کے پچاس برس مکمل ہونے پر آج پروفیسر قیصرہ مختار علوی، جناب عبد الحمید علوی مرحوم ، ڈاکٹر سائرہ علوی، مدثر علوی، عدنان علوی اورایمان علوی کی جانب سے اہل قلم کے لیے عطیہ کی گئی لفٹ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ملک کے ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، صحافیوں، اہلِ قلم، علمی و ثقافتی شخصیات، جامعات و کالجوں کے اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکانے علوی خاندان کی ادب دوستی، علم پروری اور سماجی خدمت کے جذبے کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا اور اس ضمن میں صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی مسلسل اور پر خلوص کوششوں اور مثبت کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جنھوں نے اس امر کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور نظامت کے فرائض معروف شاعر و ادیب جناب محبوب ظفر نے انجام دیے۔ ابتدائی مرحلے میں اکادمی ادبیات پاکستان کی مرکزی عمارت میں نصب جدید لفٹ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس کا افتتاح معروف علمی و ادبی شخصیت محترمہ پروفیسر قیصرہ علوی نے کیا۔بعد ازیں جناب عبد الحمید علوی (مرحوم) کی علمی، ادبی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں ایک غیر رسمی مگر بھرپور علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں خطاب کرتے ہوئے صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے شرکاکو خوش آمدید کہا اور علوی خاندان کی علم دوستی، ادارہ نوازی اور اہلِ علم کے لیے اس قیمتی عطیے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ادارے کے علمی و ادبی ماحول کو مزید بہتر بنانے
میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سائرہ علوی نے مرحوم عبد الحمید علوی سے وابستہ یادوں اور ادبی
ماحول کا ذکر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔جناب محمد حمید شاہد نے کہا کہ علوی خاندان نے مرحوم کے علمی اور ادبی ورثے کو زندہ رکھا ہے جو قابلِ ستائش ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے علوی خاندان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اہلِ علم و ادب کے لیے حقیقی معنوں میں ایک روشن مثال
ہیں۔
جناب افتخار عارف نے مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم و ادب اور انسان دوستی کے جذبے سے سرشار شخصیت تھے۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ ان کی فکری و ادبی تربیت میں عبد الحمید علوی صاحب کا نمایاں کردار رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عبدالحمید علوی آج بھی اپنے عزیزوں کی صورت ہمارے درمیان موجود ہیں۔محترمہ پروفیسر قیصرہ علوی نے اپنے اظہارِ خیال میں کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ مسرت ہے کہ وہ اپنے خاندان کی طرف سے اہلِ علم کے لیے اس خدمت کا حصہ بنی ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی قیادت اور ادارے کی بہتری کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ لفٹ کی تنصیب ان کی بھی خواہش تھی لیکن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے لفٹ کی تنصیب سے متعلق صرف ایک ایسا جملہ کہاجو ان کے دل کو لگا اور انھوں نے بالآخر اس کام کا بیڑہ اٹھایا۔انھوں نے لفٹ کے علاوہ بھی اکادمی کی تزئین اور انتظامی امور کی انجام دہی کے حوالے سے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے کردار، خلوص ، محنت اور لگن کی توصیف کی۔
مجموعی طور پر تمام شرکانے بھی اس بات پر زور دیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان گذشتہ پچاس برسوں سے ملک میں ادب، ثقافت، علمی مکالمے اور فکری ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے اقدامات ادارہ جاتی مضبوطی اور علمی ماحول کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہیں۔
19/05/2026
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مقبول ادبی سلسلے "چائے، باتیں اور کتابیں" کی اس نشست میں صحافت و ادب کے تعلق اور تاریخ پر گفتگو ہو گی۔ اس موقع پر نوجوان شاعر، ادیب اور محقق جناب فرزند علی ہاشمی اپنے ادبی کالموں کا مجموعہ 'چہرے اور چراغ' حاضرینِ محفل کو پیش کریں گے۔
20 مئی، بروز بدھ، 4 بجے شام
کمیٹی روم نمبر 1
اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد
احبابِ ذی وقار سے بروقت شرکت کی درخواست ہے۔
اعزازی منتظم : منیر فیاض
19/05/2026
اسلام آباد: 19 مئی 2026:صدر نشین اکادمی ادبیاتِ پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بلوچستان کے ضلع نوشکی میں مسلح افراد کے حملے میں معروف براہوئی شاعر، ادیب، دانشور اور استاد پروفیسر غمخوار حیات کے قتل پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات 2014 میں براہوی زبان کے لیکچرر مقرر ہوئے تھے اور اس وقت ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ براہوئی زبان و ادب کے ممتاز استاد، ادیب اور دانشور تھے جنھوں نے اپنی قلمی، تدریسی اور فکری کاوشوں کے ذریعے براہوئی زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انھوں نے نہ صرف مادری زبان کی ترویج و ترقی کے لیے مسلسل جدوجہد کی بلکہ اپنے سماج میں علم و شعور کی روشنی پھیلانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
غمخوار حیات ایک پرامن، علم دوست اور باوقار استاد تھے جنھوں نے نوجوان نسل کو علم، فکر اور اپنی مادری زبان سے محبت کا درس دیا۔
صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
18/05/2026
پریس ریلیز
(اسلام آباد پ۔ر) آج بروزپیر 18 مئی 2026ء، اکادمی ادبیات پاکستان اور خانۂ فرہنگِ ایران راولپنڈی کے اشتراک سے فارسی زبان کےعالمی دن اور عظیم فارسی رزمیہ شاعر حکیم فردوسی کی یاد میں اسلام آباد میں ایک پروقار علمی، ادبی اور ثقافتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی، ادبی اور ثقافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، دانشوروں، شعرااور اہلِ علم نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کی صدارت صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کی اور مہمان خصوصی ادارۂ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر تھے جبکہ تقریب میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، کلچرل قونصلر سفارتِ ایران اسلام آباد مجید مشکی، ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگِ ایران ڈاکٹر مہدی طاہری ،عنبر یاسمین، اختر عثمان اور ڈاکٹر مظفر علی کشمیری سمیت پاکستان کے ادبی، تعلیمی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔
تقریب کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگِ ایران ڈاکٹر مہدی طاہری نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اس اہم علمی و ادبی کانفرنس کے انعقاد میں اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے ادارے بالخصوص چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کا شکریہ ادا کیا۔کلچرل قونصلر مجید مشکی نے اپنے خطاب میں فارسی زبان و ادب کے فروغ، حکیم فردوسی کی ادبی خدمات اور برصغیر کی تہذیبی روایت پر ان کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک عظیم اور قدیم تہذیبی و ثقافتی ورثے کا امین ملک ہے، جس کی فکری، لسانی اور ادبی شناخت کی تشکیل میں حکیم فردوسی اور ان کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’شاہنامہ‘‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ فردوسی نے فارسی زبان کو نہ صرف دوام بخشا بلکہ اسے بلند ادبی وقار اور تہذیبی عظمت سے ہمکنار کیا، جس کے نتیجے میں ایرانی تمدن کو ایک باوقار اور مستحکم شناخت حاصل ہوئی۔ادارۂ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ برصغیر کی زبان و ادب فارسی زبان و ادب کا گہرا مقروض ہے، کیونکہ فارسی نے نہ صرف برصغیر کی فکری اور تہذیبی روایت کو جِلا بخشی بلکہ یہاں کی مقامی زبانوں اور ادبی روایتوں کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکیم فردوسی نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے اور انسانی فکر کے ہر پہلو کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کے کلام میں حمدِ باری تعالیٰ سے لے کر نعتِ رسولِ کریم ﷺ تک روحانیت، اخلاقیات، حکمت اور انسانی اقدار کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔
کانفرنس کے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ حکیم فردوسی نہ صرف فارسی زبان کے عظیم شاعر ہیں بلکہ وہ مشرقی تہذیب، فکری روایت اور ادبی ورثے کے ایک روشن استعارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فردوسی نے ایسے دور میں فارسی زبان کو نئی زندگی بخشی جب عربی زبان و ادب دیگر زبانوں پر غالب آ رہی تھی۔ انھوں نے اپنی لازوال تخلیق ’’شاہنامہ‘‘ کے ذریعے نہ صرف فارسی زبان کی حفاظت کی بلکہ اسے نئی فکری، ادبی اور تہذیبی توانائی بھی عطا کی۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ہمیشہ زبانوں، تہذیبوں اور علمی روایتوں کے مابین مکالمے اور ادبی روابط کے فروغ کے لیے کوشاں رہی ہے، اور فارسی زبان و ادب کے ساتھ برصغیر کے تاریخی و تہذیبی تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو ادب، صوفیانہ روایت اور برصغیر کی تہذیبی شناخت پر فارسی ادب کے اثرات انتہائی گہرے اور ناقابلِ فراموش ہیں، اور ان اثرات کے بغیر ہماری ادبی تاریخ مکمل طور پر سمجھی ہی نہیں جا سکتی۔انھوں نے موجودہ عالمی حالات اور حالیہ بین الاقوامی کشیدگی کے تناظر میں ایران کے اُن شہید بچوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو مشکل حالات کے باوجود تعلیم، عزم اور قومی حوصلے کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے تمام مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا اور راولپنڈی و اسلام آباد کی ادبی برادری کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے دیگر مقررین نے بھی فارسی زبان، حکیم فردوسی اور فارسی ادب کے مختلف پہلوؤں پر مقالے پیش کیے۔تقریب کے اختتام پر مجید مشکی اور ڈاکٹر مہدی طاہری نے ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈاکٹر سلیم مظہر کو کتب پر مشتمل یادگاری تحائف پیش کیے، جبکہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی خانۂ فرہنگ کے معزز مہمانوں کو اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات پر مشتمل تحائف پیش کیے۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)
17/05/2026
عالمی یومِ زبانِ فارسی اور عظیم شاعر ابو القاسم فردوسی کی یاد میں
۱۸ مئی ۲۰۲۶
۱۰:۳۰ بجے صبح
17/05/2026
اسلام آباد؛17 مئی 2026: صدر نشین اکادمی ادبیاتِ پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ممتاز صحافی، دانش ور، کالم نگار اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیرِ اعلیٰ جناب الطاف حسن قریشی کے انتقال پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
الطاف حسن قریشی 3 مارچ 1932 کو پیدا ہوئے۔ وہ طویل عرصے تک ماہنامہ اردو ڈائجسٹ سے وابستہ رہے اور اسے اردو صحافت کا ایک مؤثر اور معیاری پلیٹ فارم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مرحوم متعدد اہم کتابوں کے مصنف تھے جن میں "ملاقاتیں"،" مقابل ہے آئینہ"، "چھ نکات کی سچی تصویر"،”ملاقاتیں کیا کیا”، “قافلے دل کے چلے”، “پیارے مولانا”،" نوکِ زباں"، "مشرقی پاکستان" اور" مشرقی پاکستان: ٹوٹا ہوا تارا" شامل ہیں۔ ان کی صحافتی و فکری خدمات کے اعتراف میں 2019 میں ”الطاف صحافت” کے عنوان سے کتاب بھی شائع ہوئی۔
صدر نشین اکادمی ادبیاتِ پاکستان نے مرحوم کےلیے دعائے مغفرت اور لواحقین کےلیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
15/05/2026
پریس ریلیز
(اسلام آباد پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام دوسرا توسیعی خطبہ بعنوان
"اکیسویں صدی کی ما بعد، ما بعد جدید دنیا میں قومی ادب کا سوال" آج 15 مئی 2026ء کو شام 8:00 بجے سے 9:30 بجے تک آن لائن نہایت علمی، فکری اورادبی ماحول میں منعقد ہوا۔اس علمی نشست کی نظامت معروف شاعرہ، نقاد اور محقق ڈاکٹر رخسانہ صبا نے نہایت عمدہ، متوازن اور شائستہ انداز میں انجام دی۔ ان کی مؤثر نظامت نے نہ صرف تقریب کو منظم اور رواں رکھا بلکہ علمی گفتگو کو سامعین کے لیے مزید دلکش، اور باوقار بنایا۔
تقریب کا کلیدی خطبہ معروف فکشن نگار، شاعر،نقاد اور مدیر مبین مرزا نے پیش کیا۔ اپنے فکر انگیز خطاب میں انھوں نے مابعد جدید عہد میں قومی ادب کی شناخت، اس کے فکری زاویوں، تہذیبی بنیادوں اور عالمی ادبی تناظر میں اس کے ارتقائی رجحانات پر نہایت مدلل، جامع اور عمیق گفتگو کی۔ انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ قومی ادب محض لسانی اظہار نہیں بلکہ تہذیبی حافظے، تاریخی شعور اور اجتماعی شناخت کا اہم مظہر ہوتا ہے۔ حاضرین نے ان کے علمی استدلال، شگفتہ اندازِ بیان اور فکری گہرائی کو بے حد سراہا، جس نے ایک پیچیدہ موضوع کو نہایت قابلِ فہم اور دلچسپ انداز میں پیش کیا۔
اس موقعے پر صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مبین مرزا کے فکر انگیز اور مدلل خطبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی علمی بصیرت، فکری وسعت اور ادبی فہم کے ذریعے اس پیچیدہ موضوع کو سامعین کے لیے نہ صرف قابلِ فہم بلکہ انتہائی دلکش بنا دیا، جس سے نشست کی علمی وقعت میں مزید اضافہ ہوا۔ انھوں نے ڈاکٹر رخسانہ صبا کی بہترین نظامت کی بھی تحسین کی۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے تمام مہمانانِ گرامی، اہلِ علم، ادبا، محققین، طلبہ اور آن لائن شریک سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال حکومتی احکامات اور توانائی کے مؤثر استعمال (انرجی کنزرویشن) کے پیش نظر اکادمی ادبیات پاکستان نے 15 روزہ آن لائن ادبی سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ ادبی و فکری سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے اور وسائل کا مؤثر استعمال بھی یقینی بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مزید بتایا کہ یہ 15 روزہ آن لائن سلسلہ 26 اپریل 2026ء کو باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا، جس کی پہلی نشست "بلوچی ادب کے فروغ میں سید ظہور شاہ ہاشمی کا کردار" کے موضوع پر منعقد ہوئی تھی۔ اس افتتاحی نشست میں کلیدی خطبہ بلوچی زبان، ادب، ثقافت اور تاریخ کے ممتاز محقق، ماہرِ لسانیات اور وائس چانسلر گوادر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق نے پیش کیا تھا، اسی تسلسل میں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے شرکاکو آگاہ کیا کہ اطلاعات کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق (وائس چانسلر، گوادر یونیورسٹی) اور ان کے ہمراہ ایک پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد کو مسلح افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے پر ادبی و علمی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں اہلِ علم کی فوری اور محفوظ بازیابی جلد عمل میں آئے گی۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اس علمی نشست میں شریک تمام مہمانان، ادبا،محققین اور طلباو طالبات کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان آئندہ بھی قومی ادب کے فروغ، فکری مکالمے کے تسلسل اور علمی و ادبی سرگرمیوں کی ترویج کے لیے اپنا فعال اور مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
اس آن لائن ادبی نشست میں ڈاکٹر رخسانہ صبا، مبین مرزا، ڈاکٹر نجیبہ عارف، سینیٹر فرحت اللہ بابر، افتخار عارف، محمد حمید شاہد، رحمان حفیظ، اظہر حسین مجوکہ، ڈاکٹر عامر سہیل، فریدہ حفیظ، ڈاکٹر شاہینہ ایوب بھٹی، ڈاکٹر جمیل اصغر جامی، ڈاکٹر بی بی امینہ، ڈاکٹر شیراز دستی، پروفیسر چودھری محمد اکرم، ڈاکٹر عابد سیال، ذوالفقار علی سجاد، ڈاکٹر الیاس بابر اعوان،ڈاکٹر کامران کاظمی، ایان وزیر، مصطفیٰ، ڈاکٹر صوفیہ حسین، علی سید خان، ڈاکٹر فرخ ندیم، اختر رضا سلیمی، اقدس باشمی، منیر فیاض، اسد، یمنیٰ مسعود، ڈاکٹر اختر عزیز،اور دیگر اہلِ علم و ادب نے فیس بک کے ذریعے آن لائن شرکت کی۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج شعبہ تعلقات عامہ