Pakistan Academy of Letters

Call Directions Website Contact the organization

Pakistan Academy of Letters پاکستانی ادب کی ترویج اور ادیبوں کی بہبود کا قومی ادارہ
Govt body to promote Pakistani literature

29/10/2026
اسلام آباد،21اکتوبر 2026ء: اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے ملازمین کی جانب سے گزشتہ روز اکادمی کی حال ہی میں سبکدوش...
22/10/2026

اسلام آباد،21اکتوبر 2026ء:

اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے ملازمین کی جانب سے گزشتہ روز اکادمی کی حال ہی میں سبکدوش ہونے والی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں ایک پُروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں معروف شاعر، ادیب اور اکادمی کے سابق چیئرمین افتخار عارف نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر (تحقیق و ترجمہ) علی عرفان نے انجام دیے۔اس موقع پر ڈائریکٹر/چیف ایڈیٹر محمد عاصم بٹ نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی قائدانہ صلاحیتوں، علمی و ادبی خدمات اور ادارے کے لیے ان کی گراں قدر کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف کا تین سالہ دورِ سربراہی اکادمی کے لیے اہمیت کا حامل رہا۔انھوں نے محدود وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود ادارے کی ترقی، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور مختلف منصوبوں کی تکمیل کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں اکادمی کی کارکردگی میں بہتری آئی اور ادارے کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو مزید وسعت ملی۔محمد عاصم بٹ نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی ذمہ داریاں خلوص، دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ نبھائیں۔ ان کی شخصیت، علمی بصیرت اور مثبت طرزِ قیادت اکادمی کے لیے قابلِ قدر سرمایہ ہے۔انھوں نے اکادمی کے تمام افسران اور عملے کی جانب سے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ادارہ مستقبل میں بھی ان کی علمی و ادبی رہنمائی سے استفادہ کرنے کا خواہاں رہے گا۔الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی کے افسران اور ملازمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ایک خوشگوار، باوقار اور حوصلہ افزا ماحول میں ادارے سے رخصت ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ دیانت داری، خلوصِ نیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادارے کے معاملات چلائے جائیں اور اپنے فرائض سے بھرپور انصاف کیا جائے۔انھوں نے اکادمی کے تمام افسران اور عملے کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کی کامیابی اجتماعی کوششوں، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس سے مشروط ہے۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ انھیں ایک ایسے ادارے کی سربراہی کا موقع ملا جو پاکستان کی قومی زبانوں اور ادب کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ اکادمی مستقبل میں بھی اپنی علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔معروف شاعر، ادیب اور سابق چیئرمین افتخار عارف نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی و ادبی شخصیت، خوش اخلاقی، شائستہ اسلوبِ گفتار اور مثبت طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی ذمہ داریاں غیر معمولی محنت، دیانت داری اور قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ انجام دیں۔ ان کے دورِ سربراہی میں شروع کیے گئے اور آگے بڑھائے جانے والے منصوبے اکادمی کے ادارہ جاتی ارتقا میں اہمیت رکھتے ہیں۔افتخار عارف نے بالخصوص قومی زبانوں کے میوزیم کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منفرد اور قابلِ قدر کاوش ہے، کیونکہ قومی زبانیں کسی بھی معاشرے کی تہذیبی شناخت، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کی امین ہوتی ہیں۔ ایسے منصوبے نہ صرف زبانوں کے تحفظ اور ترویج میں معاون ثابت ہوتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنے لسانی و ثقافتی ورثے سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون چیئرپرسن کی حیثیت سے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تقرری ایک خوش آئند پیش رفت تھی، جسےانھوں نے اپنی صلاحیتوں، محنت اور عزم سے ایک قابلِ قدر دور میں تبدیل کیا۔ خیبر سے مہران تک علمی و ادبی حلقوں میں ان کی شخصیت کو پذیرائی حاصل رہی، جبکہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ان کا مثبت اور متوازن طرزِ عمل ان کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف مستقبل میں بھی علمی و ادبی میدان میں اپنی خدمات جاری رکھیں گی۔تقریب کے اختتام پر اکادمی ادبیات پاکستان کے ملازمین کی جانب سے ڈاکٹر نجیبہ عارف کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ان کے لیے مستقبل میں کامیابیوں، خوشیوں اور علمی و ادبی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ: یوسف خان
شعبہ تعلقات عامہ
اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام قائدِ ملت شہید لیاقت علی خان کی 75ویں برسی کے موقع پر ’’خراجِ عقیدت قائدِ ملت لیاقت...
16/10/2026

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام قائدِ ملت شہید لیاقت علی خان کی 75ویں برسی کے موقع پر ’’خراجِ عقیدت قائدِ ملت لیاقت علی خان‘‘ کے عنوان سے تقریب جمعہ، 16 اکتوبر 2026ء کو سہ پہر 3 بجے شیخ ایاز کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف شاعر و ادیب افتخار عارف نے کی، جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی مہمانِ خصوصی تھے۔ پروفیسر جلیل عالی اور وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی مہمانانِ اعزاز تھے۔ تقریب میں معروف ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اہلِ قلم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ کنٹری ڈائریکٹر، امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز/ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عالیہ سہیل اور معروف صحافی و دانشور جبار مرزا نے تقریب میں کلیدی خطبات پیش کیے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائدِ ملت لیاقت علی خان کی 75ویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ان کی قومی خدمات کو یاد کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے قائدِ ملت کی قومی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی و ادبی سرگرمیاں قومی تاریخ اور اکابرین کی قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے اپنے ذیلی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں قائدِ ملت کی خدمات کے اعتراف میں تقریبات منعقد کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کے ابتدائی اور مشکل دور میں جس بصیرت، محنت اور سیاسی تدبر کے ساتھ ملک کی قیادت کی، وہ ہماری قومی تاریخ کا قابلِ تحسین باب ہے۔ ان کی جدوجہد، قومی یکجہتی اور پاکستان کے استحکام کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ڈاکٹر عالیہ سہیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ لیاقت علی خان نے اپنی سیاسی بصیرت، تدبر اور دوراندیشی کے ذریعے نظریۂ پاکستان کو قومی تشخص، ثقافت اور تہذیبی اقدار کے ساتھ مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی اس کاوش کو قابلِ تحسین قرار دیا کہ اس نے ایک اہم قومی رہنما کی خدمات کو علمی و ادبی حلقوں میں زیرِ بحث لانے کا اہتمام کیا۔معروف صحافی و دانشور جبار مرزا نے کہا کہ قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان تھا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ 75 برس گزرنے کے باوجود ان کے قتل کے محرکات مکمل طور پر منظرِ عام پر نہیں آ سکے۔ انھوں نے کہا کہ قائدِ ملت کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور شہادت کے تاریخی پہلوؤں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان کی قومی خدمات اور تاریخ کے اہم واقعات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔معروف ادیب پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ کسی بھی نظریے کے فروغ اور استحکام کے لیے تہذیبی و ثقافتی اقدار کی سرپرستی ضروری ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا حامل ملک ہے، انھوں نے قراردادِ مقاصد کی منظوری کے حوالے سے لیاقت علی خان کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قومی مستقبل کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کر دیں۔ انھوں نے اس نوعیت کی علمی و ادبی تقریبات کو قومی شعور، تاریخی آگہی اور فکری مکالمے کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔تقریب کے صدر افتخار عارف نے اپنے صدارتی خطاب میں قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد میں قائدِ ملت لیاقت علی خان کی سیاسی جدوجہد اور قومی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ قراردادِ مقاصد نے پاکستان کے نظریاتی تشخص اور آئینی سمت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انھوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قیام سمیت قومی اداروں کی تشکیل اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ ملت کی زندگی، سیاسی بصیرت، جدوجہد اور قومی خدمات پر تحقیق، تصنیف اور علمی کام کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنے قومی رہنماؤں کی قربانیوں اور کارناموں سے آگاہ ہو سکے۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے اس تقریب کے انعقاد کو ایک مثبت علمی و ادبی اقدام قرار دیا، جو قومی تاریخ کے اہم کرداروں کو یاد رکھنے اور ان کی خدمات کا جائزہ لینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائدِ ملت شہید لیاقت علی خان کے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کے لیے دعا کی گئی۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

اسلام آباد(پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے "چائے، باتیں اور کتابیں" کی 103ویں نشست بدھ، 13 اک...
14/10/2026

اسلام آباد(پ۔ر)
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے "چائے، باتیں اور کتابیں" کی 103ویں نشست بدھ، 13 اکتوبر 2026ء کو اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف شاعر و ادیب منیر فیاض نے کی۔ نشست میں اردو ادب پر شہری تہذیب کے اثرات، مغربی ادب سے استفادے، تراجم اور مزاحمتی و لوک ادب کی صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ فرخ جمال ملیح آبادی نے اردو ادب پر شہری آبادی، اس کے سماجی رویّوں اور تہذیبی تبدیلیوں کے اثرات پر جامع گفتگو کی۔منیر فیاض نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کی ابتدائی تشکیل و ترقی میں فورٹ ولیم کالج نے اہم کردار ادا کیا، جہاں مغربی ادب سے استفادے اور تراجم کے ذریعے اردو نثر کے فروغ کی راہیں ہموار ہوئیں۔پنجابی ادیب ملک مہر علی نے اردو ادب پر لکھنوی تہذیب کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقائی تہذیبوں اور ادبی روایات نے اردو زبان و ادب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امداد آکاش نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو ادب میں شہری معاشرت اور تہذیبی تبدیلیوں کے اثرات کو اجاگر کیا۔معروف ناول نگار اختر رضا سلیمی نے اردو افسانے اور ناول کی روایت میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ادیبوں کی نمایاں خدمات کا ذکر کیا۔ ذوالفقار علی بخاری نے موجودہ دور میں مزاحمتی ادب کی کم ہوتی ہوئی روایت کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ پروفیسر خالد ٹوانہ نے اردو کے لوک ادب کی محدود یت اور اربن اثر پر گفتگو کی۔نشست میں فرخ جمال ملیح آبادی، اختر رضا سلیمی، آفاق سمیع، امداد آکاش، قمر زمان، منیر فیاض، علی عرفان، پروفیسر خالد ٹوانہ، طارق منظور، صفدر وامق، ملک مہر علی، ذوالفقار علی بخاری، جمیل مغل، محمد رحمان، یوسف خان، ارم فاطمہ، محمد عثمان، محمد اویس اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔اکادمی ادبیات پاکستان کا یہ ادبی سلسلہ اہلِ قلم کو باہمی مکالمے، علمی تبادلے اور ادبی موضوعات پر سنجیدہ بحث کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج (شعبہ تعلقات عامہ)

اسلام آباد(پ۔ر): اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلہ ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 102ویں نشست بدھ، 07...
07/10/2026

اسلام آباد(پ۔ر):
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلہ ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 102ویں نشست بدھ، 07 اکتوبر 2026ء کو اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت معروف شاعر و ادیب منیر فیاض نے کی۔ نشست میں دیگر موضوعات کے علاوہ آپ بیتی اور ادبی اظہار پر بھی گفتگو کی گئی۔نشست میں معروف ادیب و شاعر اختر عثمان نے آپ بیتی اور ادب کے باہمی تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر سیرحاصل گفتگو کی۔ منیر فیاض نے مختلف عالمی ادبی شخصیات اور ان کی آپ بیتیوں کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ امداد اکاش نے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ برس 70 برس کے ہو جائیں گے اور اگر زندگی نے مہلت دی تو اپنی آپ بیتی ضرور تحریر کریں گے۔محمد ارشد سلیم نے پشتو ادب کی معروف شخصیت اپنے والدِ مرحوم کی آپ بیتی اور ادبی زندگی کے حوالے سے گفتگو کی، جبکہ مہرالنساء نے ان کے ادبی سفر اور پشتو ادب میں ان کی خدمات پر اظہارِ خیال کیا۔ ذوالفقار علی بخاری نے آپ بیتی اور ادب کے باہمی تعلق پر گفتگو کی، جبکہ ملک مہر علی نے معروف پنجابی ادیب بلبیر مادھپوری کی آپ بیتی "جھانگیا رکھ"اور اس کے مختلف زبانوں میں تراجم کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔نشست میں اختر عثمان، منیر فیاض، محمد داؤد کیف، ملک مہر علی، ذوالفقار علی بخاری، جمیل مغل، محمد رحمان، یوسف خان، محمد عثمان، محمد اویس اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔شرکاء نے کہا کہ آپ بیتی محض ذاتی زندگی کا احوال نہیں بلکہ اپنے عہد کے سماجی، ادبی اور فکری حالات کی عکاسی کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب، مکالمہ اور فکری تبادلہ ایک صحت مند، باشعور اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ:
یوسف خان
شعبہ تعلقات عامہ
اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد

تعزیتی پیغاماکادمی ادبیات پاکستان پشتو کے معروف ادیب، افسانہ نگار، مترجم اور علم و عرفان و تصوف کے صاحبِ علم، سید طاہر ش...
02/10/2026

تعزیتی پیغام

اکادمی ادبیات پاکستان پشتو کے معروف ادیب، افسانہ نگار، مترجم اور علم و عرفان و تصوف کے صاحبِ علم، سید طاہر شاہ بخاری چشتی نظامی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ مرحوم نے اپنی زندگی پشتو زبان و ادب، تصوف، روحانی فکر اور پختون تہذیب و ثقافت کی خدمت میں گزاری۔ وہ بابائے غزل امیر حمزہ خان شینواری کے فکری و روحانی سلسلے کے امین اور پشتو ادب کا ایک معتبر نام تھے۔ سید طاہر شاہ بخاری نے افسانوں کی کتاب ’’پیوند‘‘ تحریر کی، قلندر مومند کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ ’’برغون‘‘ کے عنوان سے پیش کیا اور حمزہ بابا کی ’’جبر و اختیار‘‘ سمیت متعدد اہم کتابوں کے پشتو تراجم کیے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سےان کی کتاب ’’تنقید او ادبي مفردات‘‘ پر انھیں 2016ء میں پشتو ادب کے قومی ادبی ایوارڈ ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان مرحوم کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور تمام اہلِ ادب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

رپورٹ:
یوسف خان
شعبہ تعلقاتِ عامہ، اکادمی ادبیاتِ پاکستان

ڈاکٹر حسن منظر کے انتقال پر اکادمی ادبیات پاکستان کا اظہارِ تعزیتاسلام آباد(پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان نے اردو کے ممتاز ...
01/10/2026

ڈاکٹر حسن منظر کے انتقال پر اکادمی ادبیات پاکستان کا اظہارِ تعزیت

اسلام آباد(پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان نے اردو کے ممتاز فکشن نگار، افسانہ نویس، ناول نگار اور معروف ادیب ڈاکٹر حسن منظر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ڈاکٹر حسن منظر نے اپنی زندگی اردو فکشن کی تخلیق اور فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی متعدد تصانیف، جن میں "ماں بیٹی"، "بیرِ شیبا کی لڑکی"، "العاصفہ"، "وبا"، "دھنی بخش کے بیٹے"، "انسان اے انسان"،"اے فلک ناانصاف"، "خاک کا رتبہ"، "صدرِ مملکت کا خود رو پھول"، "جھجک" اور "حبس"شامل ہیں، اردو ادب میں ان کی منفرد شناخت کی عکاس ہیں۔ڈاکٹر حسن منظر نے پریم چند کے آخری اور نامکمل ناول کا ہندی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا۔اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کی دو کتابوں "خاک کا رتبہ" اور "انسان اے انسان" کو بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ اور ان کے افسانوی مجموعے "جھجک"کو سعادت حسن منٹو ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ ان کی مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں اکادمی ادبیات پاکستان نے انھیں کمالِ فن ایوارڈ 2022ء عطا کیا۔ ان کے ناول "حبس" میں فلسطین کے مسئلے اور انسانی المیے کو موضوع بنایا گیا ہے، جس کا انگریزی ترجمہ Suffocation کے نام سے اکادمی ادبیات پاکستان نے حالیہ برسوں میں شائع کیا۔
ڈاکٹر حسن منظر کا انتقال اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی علمی، ادبی اور تخلیقی خدمات اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انھوں نے اپنے منفرد اسلوب، وسیع مطالعے، گہرے انسانی مشاہدے اور فکری بصیرت کے ذریعے اردو فکشن کو ثروت مند کیا۔ ان کی تصانیف اور ادبی خدمات اردو ادب میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔

رپورٹ :
یوسف خان
شعبہ تعلقات عامہ
اکادمی ادبیاتِ پاکستان

اسلام آباد:30 ستمبر 2026:اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 101ویں غیر ...
30/09/2026

اسلام آباد:30 ستمبر 2026:

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام مقبول ادبی سلسلے ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ کی 101ویں غیر رسمی نشست آج اکادمی کے کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوئی۔ نشست کی نظامت جناب علی عرفان نے کی، جنھوں نے مختلف مراحل پر موضوع کی مناسبت سے اپنی علمی و ادبی آراء پیش کرتے ہوئے گفتگو کو بامقصد انداز میں آگے بڑھایا۔
نشست میں غیر رسمی ادبی نشست کے فارمیٹ اور عالمی یومِ ترجمہ کے حوالے سے ترجمے کی روایت، اہمیت، افادیت اور اس کے مختلف فنی و فکری پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ جناب علی عرفان نے معروف ادیب و مترجم حامد بیگ کی کتاب ’’اردو ترجمے کی روایت‘‘ سے ایک اقتباس سنا کر گفتگو کا آغاز کیا۔ انھوں نے ترجمے کی روایت اور مختلف زبانوں کے ادب کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے میں ترجمے کے کردار پر اظہارِ خیال کیا۔
جناب ملک مہر علی نے ترجمے کے مختلف پہلوؤں پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے انگریزی سے پنجابی ترجمے کے اپنے تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انھوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ ایک زبان کے مفہوم، اسلوب، ثقافتی پس منظر اور جذباتی کیفیت کو دوسری زبان میں منتقل کرنا مترجم کے لیے ایک اہم تخلیقی مرحلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے ترجمے کے دوران پیش آنے والے مختلف تجربات اور مسائل بھی بیان کیے۔
جناب ذوالفقار علی بخاری نے ترجمے پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مترجم کے کام کو پرکھنے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر ترجمے کے معیار، زبان و بیان اور اصل متن کے مفہوم کو برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی مختلف آراء کا اظہار کیا گیا۔
جناب وسیم فقیر نے ترجمے کے تاثر اور قاری پر اس کے اثرات کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے اس بات پر گفتگو کی کہ ایک کامیاب ترجمہ محض الفاظ کی منتقلی نہیں بلکہ اصل متن کے مفہوم، احساس اور تاثر کو دوسری زبان کے قاری تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا نام ہے۔
نشست کے دوران شرکاء نے ترجمے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مختلف زبانوں کے ادب کے باہمی تعارف اور فروغ میں ترجمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
نشست میں جناب علی عرفان، جناب ملک مہر علی، جناب سجاد احمد، جناب ذوالفقار علی بخاری، جناب زاہد گلزار، جناب عثمان، جناب وسیم فقیر، محترمہ یاسمین کنول،علشبہ نواز، جناب محمد اویس اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس امر کا اظہار کیا کہ ’’چائے، باتیں اور کتابیں‘‘ جیسی غیر رسمی نشستیں ادیبوں، شاعروں، مترجمین اور اہلِ علم کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور مختلف ادبی موضوعات پر بامعنی مکالمے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

(رپورٹ: علشبہ نواز، شعبہ تعلقاتِ عامہ، اکادمی ادبیاتِ پاکستان)

Address

Pitras Bukhari Road, H-8/1, Opp. Shifa International Hospital
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00

Telephone

+92519269718

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Academy of Letters posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pakistan Academy of Letters:

Shortcuts

Share