Sipahi

Sipahi

Share

Farz hy apna

03/02/2026

آئی سی ٹی پولیس(ICTP) کو 1980 میں صدارتی حکم نمبر 17 اور 18 کے ذریعے تشکیل دیا گیا تھا۔
اسلام آباد کی حفاظت اور اسکے باسیوں کی حفاظت کی خاطر 1981میں اسلام آباد پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس جسے اسلام آباد پولیس بھی کہا جاتا ہے جسےچیف کمشنر، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن کے انتظامی کنٹرول میں پولیس کے لیے تشکیل دی گئی۔
کسی بھی انسان کے لیے اس کا ملک اسکی مٹی سب سے مقدم ہوتی ہے انسانوں کے لیے دو چیزیں اہمیت کی حامل رہی ہیں جس میں مذہب (عقیدہ)اور وطن کی محبت دونوں کے لیے انسان مرنے مارنے پر اتر آتا ہے۔
مذہب وہ چیز ہے جس کے لیے انسان کسی کی جان لے بھی سکتا ہے اور اسکی خاطر جان فدا کرنے سے کبھی کتراتا نہیں ہے۔جیسا کہ بحیثت مسلمان ہمارے دین نے ہمیں محبت بھائی چارے کا درس دیا ہے اپنے دین کے ساتھ ساتھ اپنی دینی تعلیمات پر کاربند رہنے کے لیے ہم پوری کوشش کرتے ہیں۔
ملک اور قوم مذہب کے وہ دوسری چیز ہے جس پر ہم کوئی سجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے پھر چاہے وہ مذہب ہویا وطن ہم دونوں کے لیے تیار رہتے ہیں۔ملک پاکستان ہمارے لیے اتنا ہی مقدم ہے جتنا کسی دوسرے ملک میں بسنے والے کے لیے اسکا وطن۔
ملک پاکستان 1947میں بے دریغ قربانیوں کے بعد ہمیں نصیب ہوا جس میں ہمارے اجداد نے اپنی جان و مال کی قربانی دیکر اسے حاصل کیا اور اسکی سرحدوں کی حفاظت ہم سب پر لازم و ملزوم ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب جب اس ملک کی سرحدوں کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم نے اپنا لہو پیش کیا اور جانوں کا نذرانہ دیا زمانہ امن میں ہم نے اسکی نگہبانی کے لیے اپنی تمام توانائی بروکار لاکر اسکی حفاظت کی۔
ملک پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد جسے شہر اقتدار بھی کہا جاتا ہے جسکی راہداریوں میں اقتدار کے ایوانوں میں اور اسکے گلی کوچوں میں بسنے والوں کی جان و مالکی حفاظت ہم پر لازم ہے چاہے اسکی خاطر ہمیں اپنی جان بھی دینا پڑے ہمارے قدم کبھی ڈگمگاے نہیں۔
اسلام آباد پولیس کے 56سے زائدسرفروشوں نے اسکی حفاظت کرتے ہوے اپنے کا نذرانہ پیش کیا اور کتنی ہی اندھی گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے سینہ سپر ہوے اور غازی کہلاے۔
911کے بعد خطہ برصغیرو پاکستان میں ہونے والی تبدیلویوں سے دہشت گردی و شدت پسندی کی جو لہر شروع ہوئی اس کے اثرات سالوں تک رہے پاکستان کے چھوٹے بڑے شہر بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی ذد میں آگئےجہاں آے روز دھماکے معمول بن گئے ایک دہشت زدہ ماحول نے تمام پاکستانیوں کو کرب میں مبتلا کر دیا جہاں بے شمار معصوم بے گناہ لوگ ان بم دھماکوں کی نذر ہوکر موت کی نیند جاسوے۔
سال06 جون 2009 میں اسلام آباد پولیس ریسکیو15سنٹرG-8 اسلام آباد پردہشت گردی کا نشانہ بنا جس میں
منور حسین ASIاورصلاح الدین ASIنے جام شہادت نوش کیا اور محمد رمضان ، محمد انور سمیت متعد پولیس آفیسر زخمی ہوے جن میں غازی راناامتیاز احمد بھی شامل ہیں۔
رانا امتیاز احمد اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے کہ اس خودکش حملے میں شدید زخمی ہوے اور غازی کا لقب پایا اور حکومت پاکستان نے آپ کو.2011 میں پاکستان پولیس میڈل(PPM) سے نوازا۔
راناامتیاز احمد کا تعلق ضلع گجرانوالہ کی تحصیل وزیر آبادسے ہے جو کہ راجپوت رانا فیملی کے چشم و چراغ ہیں سال 2004میں اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوے اور مختلف اسٹیشن پر اپنے فرائض سر انجام دئیے۔
راناامتیاز احمد ایک پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے دوست اور تعلق داری کو نبھانے والے انسان ہیں جن کے حلقہ احباب کی فہرست بہت طویل ہے۔
حکومت پاکستان نے سرکاری طور پر انکو غازی کےلقب سے نوازا ہے اور انکی خدمات کے صلے میں ان کو پاکستان پولیس میڈل کے ساتھ ساتھ اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدہ پر ترقی دی جو کہ کسی بھی پولیس کے لیے سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
رانا امتیاز احمد ایک سلجھے ہوے اور تفتیشی امور میں مہارت رکھتے ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر مختلف اوقات میں انکو اعلی افسران کی طرف سے تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات سے نوازاگیاہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ
اسلام آباد پولیس کا ممبر ہونا اور شہراقتدار کےباسیوں کی حفاظت پر مامور ہونا انکی خدمت کرنا میرے لیے سب سے بڑا اعزاز ہےمیں جوکچھ بھی ہوں اس ملک پاکستان اسلام آباد پولیس اور اپنے والدین و استاتذہ کی دعاوں کی بدولت ہوں۔
میں نے ہمیشہ اپنے قلم کےذریعے مظلوم کی داد رسی کی ہے اور جرائم پیشہ کو نکیل ڈال کر پس زندان ڈالا ہے یہی میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے۔اس ملک کے لیے اگر میری جان بھی چلی جاے تو میرے لیے سعادت کی بات ہوگی۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے جنہیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحراو دریاسمٹ کار پہاڑ انکی ہیبت سےرائی۔ از قلم دلشادخان بلوچ

01/02/2026
24/10/2025

عدیل اکبر شہید

16/05/2024

آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

14/05/2024

وہ بچپنے کی نیند تو اب خواب ہو گئی
کیا عمر تھی کہ رات ہوئی اور سو گئے

27/04/2024

محمد افضل بٹر(باباِمثل)او ایس آٸی برانچ ہیڈ کوارٹرزاسلام آباد پولیس سے ریٹاٸرڈ ہوگٸے(گروپ فوٹو)

27/04/2024

مَیں اکثر شام ڈھلنے سے _ لرزتا اس لیئے بھی ہوں

اُفق پہ ڈُوبتا منظر _______ میرا انجام لگتا ھے

17/04/2024

اپنی بیٹیوں کے رشتے طے کرتے وقت مرد کی معاشی مضبوطی چیک کرنے کی بجائے اس کی شخصیت کی مضبوطی چیک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے معاشی حالت بہتر سے بہترین بھی ہو سکتی ہے لیکن فطرت میں رچی بسی عادات کبھی نہیں بدل سکتیں یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ جس آدمی کو آپ اپنی بیٹی تا حیات سونپ رہے ہیں اس کی پرورش کس ماحول میں ہوئی ہے اس کے والدین کا آپس میں تعلق کیسا ہے کیونکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے لازم ہےکہ والدین کے آپسی تعلقات خوشگوار ہوں اگر والدین ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے لحاظ اور مروت نہیں رکھتے وہ اپنے بچوں کی پرورش کبھی بھی اس طرح نہیں کر سکتے کہ وہ ایک خاندان کے کفیل بن سکیں عیاش آوارہ بدزبان شخص یا لڑاکا بدلحاظ اور بےحس انسان غیر محسوس انداز میں اپنی اولاد خاص طور پر بیٹے کے اندر اپنی اچھی بری عادات اتار رہا ہوتا ہے اور اسی بیٹے کی دسترس میں جب کسی کی بیٹی آتی ہے تو وہ اپنے نفسیاتی پن سے اس کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے اور نسل در نسل نفسیاتی مریض بنتے چلے جاتے ہیں مرد میں کچھ ہو نا ہو غیرت ہو جرت ہو غیرت عورت کو آنکھیں دکھانے سے نہیں اس کے حقوق پورا کرنے سے بیوی کی عزت اور اہمیت دینے سے ہوتی ہے جُرت کا مطلب بیوی اور اس کے والدین کو للکارنے سے دھمکیاں لگانے سے نہیں بلکہ اس کی حفاظت کے لئے ڈھال بن جانے کا نام ہوتا ہے بیوی کی اچھائیوں کے ساتھ اس کی برائیوں کو قبول کر کے پردہ پوشی کرنے کا نام ہوتا ہے المیہ یہ ہےکہ ہمارے معاشرے میں سو میں سے ایک خاندان (زوجین) محبت کی وجہ سے جبکہ باقی کے ننانوے معاشرتی طور پر عزت و وقار قائم رکھنے کے لئے والدین کی عزت بچانے کے لئے اور بچوں کے مستقبل کی خاطر مصلحت کے تحت جُڑے رہتے ہیں جن میں زیادہ کردار بیٹیاں ادا کرتی ہیں
(بیویاں) یہ چلتا آیا ہے چلتا رہے گا

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad