23/03/2026
اسرائ*یلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ممکنہ ملاقات اسلام آباد میں ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اس مرحلے تک پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان کے دارالحکومت میں اہم مذاکرات متوقع ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی سے وابستہ ایک صحافی نے بھی ایکس پر اسرائی*لی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ممکنہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت بھی متوقع ہے۔
02/12/2025
اھلیان کراچی محتاط رھیں جماعت اسلامی جو ایک مزہبی تنظیم کے طور پر کام کر ہی ہے
سانحہ نیپا چورنگی کے سچ کو چھپانے کے لئیے اپنے اسپانسر فیس بک پیجز جن کے نام اور تصاویر ساتھ ہیں .. مختلف جماعت کے خلاف بھی گمراہ کن کیمپین چلا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے جبکہ علاقہ چئیرمین بھی جماعت کا ہے اور ٹاؤن چیئرمین بھی جمعت کا ہے یاد رہے سوشل میڈیا اسپانسر کیمپین ہو یا رکشوں کے پیچھے پوسٹر ،شھر کے بڑے بل بورڈ ہوں یا میڈیا کیمپین کروڑوں روپے ماہانہ زکوٰۃ اور خیرات سے زاتی تشہیر اور پاکستان بھر کے لوگوں کو سارا سال گمراہ کرتے ہیں ان سے محتاط رہئے اور سب کو آگاہ بھی کیجیے
15/11/2025
بشریٰ بی بی سے شادی نے بانی پی ٹی آئی کے انداز حکمرانی پر سوالات اٹھا دیئے۔ بانی پی ٹی آئی کی توہم پرستی پر اندھے یقین سے متعلق دی اکانومسٹ کی ہوشربا رپورٹ سامنے آگئی۔
برطانوی میگزین "دی اکانومسٹ" نے بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ جاری کی، سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی پر روحانی مشاورت کا مضبوط تاثر پیدا ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہے، بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی رہیں، ریاستی امور میں بشریٰ بی بی کا فیصلہ حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔
رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ حساس ادارے کے افراد مبینہ طور پر معلومات بشریٰ بی بی تک پہنچاتے رہے، بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کیلئے سیاست کے بجائے توہم پرستی پر انحصار کیا۔
دی اکانومسٹ گروپ کے ڈیجیٹل میگزین 1843 نے طویل تحقیقاتی مضمون شائع کیا۔ جس میں لکھا بانی پی ٹی آئی نے جسے روحانی پیشوا مانا، اسی سے شادی رچا لی، بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی سے کہا تھا، مجھ سے شادی کریں وزیراعظم بن جائیں گے، بانی پی ٹی آئی ہمیشہ ڈٹے رہے کہ اُن کا تعلق روحانی رہنمائی تک محدود ہے۔
میگزین نے مزید لکھا کہ بانی پی ٹی آئی کے سابق ساتھی نے کہا کہ بشریٰ بی بی کالا جادو کرتی تھیں، بشریٰ بی بی ملازمین کے ذریعے عملیات کیلئے کالے جانور کا سر منگواتی رہیں، بانی پی ٹی آئی کا طیارہ ان کی اجازت کے بغیر اُڑان نہ بھرتا تھا، بانی نے بشریٰ بی بی کے کہنے پر وفادار ساتھیوں اور ملازمین سے دوری اختیار کی۔
دی اکانومسٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقاتوں میں بھی موجود رہتی تھیں، کابینہ کے ایک رکن نے بتایا بشریٰ بی بی حکومتی امور میں مداخلت کرتی تھیں، بشریٰ بی بی کی کرپشن بے نقاب کرنے پر بانی نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو عہدے سے ہٹایا بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کیلئے مذہب کا لبادہ اوڑھے رکھا۔
رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم صحافیوں کے ساتھ ملکی امور کے بجائے کرکٹ اور اپنے معاشقوں پر زیادہ بات کرتے تھے، حکومت میں آنے سے پہلے بلند و بانگ دعوے کیے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا، کرپش کے کیسز نے بانی کے صاف شفاف ہونے کے دعوے کا بھانڈا پھوڑ دیا، بانی پی ٹی آئی پارٹی کو ایک منظم جماعت کے بجائے ایک کلٹ کی طرح چلاتے رہے۔
15/11/2025
ججز کے استعفے نے بالآخر اس بات کو سچ ثابت کر دیا جس کا طویل عرصے سے شبہ تھا
یہ ججز مکمل۔ سیاست زدہ تھے اور ایک سیاسی جماعت سے گہرے مراسم تھے
یہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے ججز کے گروپ سے تھے
انہیں غلطی فہمی تھی کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ سے بالاتر ادارہ ہے
وہ عوام کی مرضی سے منتخب پارلیمان کی مضبوطی کی بجائے عدلیہ کو مطلق العنان بنانے پر یقین رکھتے تھے
27ویں آئینی ترمیم پر ان کے استعفے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پارلیمنٹ اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عدالتی بالادستی اور آمرانہ سوچ کے حامی ہیں۔
اپنے استعفے سے انہوں نے پارلیمان کے آئینی ترمیم کے غیر مشروط حق سے انکار کیا ہے
اگر ایسے جج پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ملکی قانون کو مانتے ہیں، تو پاکستان ان کے بغیر زیادہ بہتر ہوگا
انکی رخصتی پاکستان اور آئینی پاکستان کیلئے خوش آئند ہے