Super Power Pakistan

Super Power Pakistan

Share

PAK MILITARY

08/04/2026

ہم اس طرح جا کر بھی مدد کرتے ہیں 💪🏻🇮🇷⚔🇵🇰💪🏻
کوئی ایسے ہی تشکر پاکستان نہیں کہتا پاکستان کو 🇵🇰💪🏻
Super Power Pakistan

05/03/2026

شکر ہے پاکستانی لیڈروں نے وقت پر گھاس کھا لیا وگرنہ آج ہم بھی میز!ئل کھا رہے ہوتے،
ترقی اونچی بلڈنگیں بنانے سے نہیں مضبوط دفاع سے ہوتی ہے
Super Power Pakistan

05/03/2026

Iran 🇮🇷

28/02/2026

افغانستان شاید یہ حقیقت نظر انداز کر رہا ہے کہ پاکستان اپنے دشمن سے صرف بیزار نہیں رہتا بلکہ ہر لمحہ چوکنا، تیار اور اسٹریٹجک طور پر ایک قدم آگے رہتا ہے۔
چاہے 2019 کا آپریشن ہو یا مئی 2025 کی جھڑپیں—پاکستان نے ہر بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ میدان میں شروع نہیں کرتا، بلکہ ذہنی، انٹیلیجنس اور اسٹریٹجک سطح پر پہلے ہی جیت چکا ہوتا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت براہِ راست حملہ نہیں بلکہ دشمن کی کمزوریوں کی نشاندہی ہے۔
پاکستان پہلے دشمن کے اندرونی تضادات، لاجسٹک مسائل، سفارتی تنہائی اور نفسیاتی دباؤ کو سمجھتا ہے، پھر انہی کمزوریوں پر ایسا وار کرتا ہے جو فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے کسی بھی دشمن کو، چاہے وہ تعداد میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو، زمین بوس کیا جا سکتا ہے۔

یہی اسٹریٹجی ہمیں اسلامی تاریخ کے عظیم سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی سوچ میں بھی نظر آتی ہے۔
وہ کبھی جذبات میں آ کر جنگ نہیں کرتے تھے، بلکہ میدان میں اترنے سے پہلے دشمن کی صفوں میں موجود کمزوریوں کو پہچانتے، ان پر گرفت کرتے اور پھر ایسی چال چلتے کہ دشمن سنبھلنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا تھا۔
آج پاکستان بھی اسی اصول پر چل رہا ہے—فرق صرف یہ ہے کہ اب ہتھیار جدید ہیں، مگر سوچ وہی آزمودہ ہے۔

اس پورے منظرنامے میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کا کردار بھی بہت اہم ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان یہ دعویٰ ضرور کرتا رہا ہے کہ اس نے بیس سال سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی، اور یہ بات جزوی طور پر درست بھی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج وہی افغانستان دو دن میں کیوں کمزور نظر آ رہا ہے؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا تھا۔
ایک طرف پاکستان نے مفادات کی بنیاد پر امریکہ کو بھی اپنا حامی بنائے رکھا—اسلحہ، انٹیلیجنس اور عالمی سفارتی کور کے لیے۔
دوسری طرف پاکستان زمینی حقائق، لاجسٹکس اور اسٹریٹجک سپورٹ کے ذریعے افغانستان کے ساتھ تھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اُس وقت کی جنگ یکطرفہ ہو گئی اور سوویت یونین کو پسپا ہونا پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر اُس دور میں امریکہ چاہتا تو افغانستان کو سپر پاور ہوتے ہوئے ختم کرنے میں اسے زیادہ وقت نہ لگتا، اور اگر سوویت یونین پوری قوت سے جاتا اور پاکستان نیوٹرل رہتا تو تاریخ شاید کچھ اور ہوتی۔
یعنی اصل بیلنس پاکستان تھا۔

آج حالات بدل چکے ہیں۔
اب نہ وہ نان اسٹیٹ سپورٹ موجود ہے،
نہ علاقائی سفارتی توازن افغانستان کے حق میں ہے،
اور سب سے بڑھ کر پاکستان اب سامنے کھڑا ہے، ساتھ نہیں۔

پاکستان اب خالصتاً اپنی قومی سلامتی کے مطابق چل رہا ہے—
محدود مگر انتہائی مؤثر اسٹرائکس،
درست انٹیلیجنس،
اور ایسی ٹائمنگ جو دشمن کو ردِعمل کا موقع ہی نہیں دیتی۔

اسی لیے آج جب پاکستان اسٹرائک کرتا ہے تو دعوے، ماضی کی جنگیں اور پرانی کہانیاں کسی کام نہیں آتیں۔
آج کی حقیقت یہ ہے کہ:

تب افغانستان مضبوط تھا کیونکہ پاکستان ساتھ تھا،
اور آج کمزور ہے کیونکہ پاکستان سامنے ہے۔

پاکستان کم لڑتا ہے،
لیکن جب لڑتا ہے تو فیصلہ کر کے لڑتا ہے۔
Super Power Pakistan









26/02/2026

جڏهن به رياست پاڪستان فتنه الخوارج جي خلاف آپريشن جو اعلان ڪندي آهي
ته PTI وارن کي تڪليف ٿيندي آهي ته TTP ۽ TTA جي خلاف رياست پاڪستان ايڪشن ڇوٿي کڻي ⚔️ 🇵🇰 ⚔️
ڇوجو جڏهن آمريڪا کي افغانستان پنهنجي ملڪ مان ذليل ڪري ڪڍيو هو ته قطر معاهدي ۾ ٻه شيون طئي ٿيون هيون ته طالبان حڪومت افغانستان جي سرزمين کي ڪنهن به ملڪ جي خلاف استعمال ڪرڻ نه ڏيندي ۽ ان وقت پاڪستان ۾ عمران خان جي حڪومت هئي ۽ طالبان جي معاملن ۾ وڏو خوش ٿيو هو فوراََ فيض حميد کي قابل موڪليو هو جيڪا چانھ جي ڪپ واري تصوير وڏي مشهور ٿي هئي 😘
بارڪيف عمران خان طالبان حڪومت جي درخواست تي 10 هزار TTP جي دهشتگردن کي جيلن مان آزاد ڪرايو هو
جنهن جي بدلي ۾ عمران خان انهن سان معاهدو ڪيو هو جيڪو ان گروپ جي عسڪري سپورٽ حاصل ڪري 9 مئي تي رياست پاڪستان تي حملو ڪرايو ويو 🤨
افغانستان جا خوارج چوندا آهن ته نيازي اسلام جو ٺيڪيدار آ جنهن جي حڪومت ۾ انڊيا هڪ لک ڪشميري شهيد ڪيا هئا هي خوارجن جو وزير خارجه 10 ڏينهن پاڪستان دشمنن وٽ رهي آيو ۽ انهن کان پاڪستان خلاف دهشتگردي جا پيئسا ورتا 🫨
پروين سوامي هندستان جو هڪ مشهور صحافي آهي ان کان سوال ٿيو ته آپريشن ( سندور ) ۽ بنيان المرصوص کان بعد ڪهڙي ملڪ جو پروفائل وڌيو آهي 😘
ته ان صحافي جواب ڏنو پاڪستان ۽ سعوديه پيڪٽ جنهن ۾ آمريڪا جو پاڪستان کي اتحادي ٺاهڻ پاڪستان جي دفاعي سازو سامان جي دنيا ۾ فروخت سان پاڪستان جو پروفائل تمام مٿي هليو ويو جيڪو ٽرمپ هر تقرير ۾ پاڪستان جي تعريف ڪندو آهي ان مان ظاهر ٿيو ته پاڪستان جنگ کٽي ورتي ⚔️ 🇵🇰 ⚔️
ڇوجو پاڪستان ٻين اسلامي ملڪن کي گڏ ڪري ملي جهلي فلسطيني ڀائرن جي جنگ روڪرائڻ ۾ سفارتي ليول تي به اهم ڪردار ادا ڪيو هو جنهن ۾ پاڪستان فرنٽ لائن تي نظر آيو 🇵🇰
هاڻي اسرائيل کي پاڪستان سعودي اتحاد معاهدي جي تڪليف آهي ته صرف هڪ اسلامي ملڪ وٽ ايٽمي طاقت آهي پوري دنيا ❣️
اسرائيل انڊيا جو اتحاد ان ٻنهن ملي ڪري فيصلو ڪيو ته افغانستان جي خوارجن کي پيئسا ڏئي پاڪستان جي خلاف استعمال ڪيون گهڻو پري نه صرف ڪالھ واري مودي ۽ نيتن ياهو جي مولاقات ڏسو ڪيئن مطمئن ٿي افغانستان کي فنڊ ڏيڻ ۽ دفاعي سهولتڪاري تي ڪانفرنس ڪئي آهي
جيئن هاڻي پاڪستان دهشتگردن جي ٺڪاڻن تي ڪاروائيون ڪري انڊين اسرائيلي نيٽورڪ تباھ ڪيو ته مودي سهڪندو سهڪندو تل ابيب اسرائيل وڃي نڪتو 👇
۽ پاڪستان جي اندر موجودا غدارن کي تڪليف ٿيندي آ ته پاڪستان ڇو ( افغانستان انڊيا اسرائيل ) جي گڏيل دهشتگرد ٺڪاڻن تي حملو ڪندو آهي 💫
۽ پاڪستان کي داخلي ۽ بيروني دهشتگردن سان هڪ ئي وقت وڙهڻو پوندو آهي ⚔️ ⚔️ ⚔️
پر هي ڪتا رياست پاڪستان پاليا آهن ته پاڪستان به چڱي طرح ڄاڻي ٿو هنن ڪتن کي پٽو ڪيئن وجهبو آ ⚔️ 🇵🇰 ⚔️

هاڻي سڄي ڪهاڻي جو خلاصو 👇 👇
پاڪستان جو داخلي دشمن PTI جيڪا دهشتگردن جي سهولتڪار آهي PTI جي محبت TTP TTA ۽ PTM سان آهي ۽ هڪ گروپ هندستان استعمال ڪري ٿو پاڪستان جي خلاف اهو آهي BLA هاڻي واضح ٿي چڪو آهي ته هي سڀ هڪ سڪي جا ٻه پاسا آهن پاڪستان جي سالميت ۽ وقار خاطر هنن جي هڪ جهڙي مرمت ٿيڻ گهرجي ⚔️ 🇵🇰 ⚔️
پاڪستان هميشا زنده باد پاڪ فوج زنده باد ⚔️ 🇵🇰 ⚔️
Super Power Pakistan

26/02/2026

پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملنا، اور ان کارروائیوں کے پیچھے فتنہ الخوارج کا سرگرم ہونا اب کسی شک و شبہ سے بالاتر ہو چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اس فتنے کے اصل سرپرست بھارت اور اسرائیل ہیں۔

گزشتہ روز Knesset میں کھڑے ہو کر نریندر مودی اور فلسطینیوں کے قتلِ عام میں شریک عناصر کی جانب سے افغانستان کی کھلی حمایت اور امداد کا اعلان، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغان قوم کے ضمیر پر بھی ایک کاری ضرب ہے۔ یہ وہی اسرائیل ہے جو آج غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں پر بم برسا رہا ہے، اور یہ وہی بھارت ہے جو خطے میں بدامنی، انتشار اور ریاستی دہشتگردی کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔

یہ لمحہ فکریہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کے پیچھے جن طاقتوں کی چھتری دکھائی دے رہی ہے، وہی طاقتیں کل تک مسلمانوں کی لاشوں پر سیاست کرتی رہی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو بھارت اور اسرائیل کے مفادات کے لیے استعمال کرنا، نہ صرف افغان قوم کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے بلکہ یہ غزہ کے شہداء، زخمی بچوں اور مظلوم خواتین سے صریح غداری بھی ہے۔

پاکستان میں ماضی اور حال کی دہشتگردی کی جڑیں اب واضح ہو چکی ہیں۔ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الاسرائیل، افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے ذریعے پاکستان کے امن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کے اندر موجود کچھ نادان — جو دانستہ یا نادانستہ طور پر — ان عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیوں کی مخالفت کرتے رہے، آج ان کے لیے شرمندگی، ندامت اور پشیمانی کا مقام ہے۔

آج حقیقت پوری طرح عیاں ہو چکی ہے ریاستِ پاکستان درست تھی، اور جو اس کے خلاف کھڑے تھے وہ غلط تھے۔افغان عوام کے لیے بھی اب آنکھیں کھولنے کا وقت ہے کہ کون ان کے نام پر کھیل رہا ہے، اور کون ان کی سرزمین کو دوسروں کے ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے
Super Power Pakistan

26/02/2026

ایران کی معاشی صورتحال پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت ہے کہ مسلسل بین الاقوامی پابندیوں، مالی دباؤ اور تیل کی برآمدات پر قدغنوں نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل وہاں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ایک شعبہ ایسا ہے جہاں ایران نے حیران کن پیش رفت کی — اور وہ ہے دفاعی خود انحصاری، خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی۔

ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے بیلسٹک اور کروز میزائل پروگرام کو مسلسل آگے بڑھایا۔ آج ایران کے پاس شارٹ رینج سے لے کر لانگ رینج تک مختلف اقسام کے میزائل موجود ہیں۔ سپرسونک اور ہائپرسونک دعووں کے ساتھ وہ خطے میں ایک مضبوط ڈیٹرنس پاور کے طور پر خود کو پیش کرتا ہے۔ پابندیوں کے باوجود مقامی سطح پر تحقیق، ریورس انجینئرنگ اور دفاعی انڈسٹری کے فروغ نے اسے بیرونی انحصار سے کافی حد تک آزاد کیا۔

دو ہزار پچیس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران نے اپنے میزائل سسٹمز کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ مبصرین کے مطابق ایران کے پاس بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور وہ چاہتا تو مزید وسیع پیمانے پر حملے کر سکتا تھا، تاہم اس نے محدود لیکن مؤثر کارروائی کو ترجیح دی۔ اس سے یہ پیغام واضح ہوا کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی صرف تعداد پر نہیں بلکہ اسٹریٹجک ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان ایران سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

پاکستان کی معاشی حالت یقینی طور پر چیلنجز کا شکار رہی ہے، مگر مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت ایران کی نسبت زیادہ کھلی اور عالمی مالیاتی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان پہلے ہی میزائل ٹیکنالوجی میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے، لیکن ایران کی مثال یہ سکھاتی ہے کہ:

1. دفاعی خود انحصاری سب سے بڑی طاقت ہے۔

2. تحقیق و ترقی (R&D) پر مسلسل سرمایہ کاری طویل مدتی نتائج دیتی ہے۔

3. ڈیٹرنس پالیسی میں واضح پیغام اور صلاحیت دونوں ضروری ہیں۔

4. معاشی مشکلات کے باوجود اسٹریٹجک ترجیحات پر توجہ برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

ایران نے یہ ثابت کیا کہ اگر قومی سطح پر عزم موجود ہو تو معاشی دباؤ کے باوجود دفاعی شعبے میں نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔ پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں جدت، مقامی پیداوار اور اسٹریٹجک خود کفالت کو مزید مضبوط کیا جائے۔

البتہ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مضبوط دفاع کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ امن کا تحفظ ہوتا ہے۔ میزائل اور عسکری طاقت تب ہی مؤثر ہوتی ہے جب وہ دشمن کو حملے سے باز رکھے، نہ کہ خطے کو مستقل کشیدگی کی طرف دھکیلے۔
Super Power Pakistan






24/02/2026

اسرائیل کے سابق وزیراعظم بینیٹ نفتالی نے انکشاف کیا کہ پاکستان بھی ایران کی طرح ہمارے لیئے خطرہ ہے اور پاکستان کی نیوکلیئر سپورٹ قطر سعودیہ اور ترکی کیلئے استعمال ہوسکتی ہے
اسرائیل کی حالت ان دنوں ایسی ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا غریب دشمن مانتے ہوئے بھی اس غریب ملک کا کچھ نہیں بگاڑ پارہا ہے
وجہ سادہ ہے پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا
واضح رہے کہ ایٹم بم کے موجد اوپنہائیمر خود کو کوستے رہے کہ اس نے انسانیت کا اختتام کرنے والا مواد بنا دیا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیئے تھا
مگر اسکے باوجود امریکہ نے ایٹمی مواد میں نا صرف اضافہ کیا بلکہ ہائڈروجن بم تک بنا ڈالا
اب جبکہ دنیا سرد جنگ میں اس ریس میں پڑ چکی تھی تو پاکستان سے بھی پہلے اسرائیل اور بھارت نے یورینیم جمع کرنا شروع کیا تھا اور بعد ازاں اعلانیہ و غیر اعلانیہ ان ملکوں نے دھماکوں اور ٹیسٹ کرکے دنیا کو ایٹمی طاقت ہونے کا خوف دلایا
اسکے بعد پاکستان نے جس عزم کا ارادہ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں کہ بھوک تک مرجائیں گے لیکن ایٹم بم بناکر رہیں گے
شاید وہ اس حقیقت کو بھانپ چکے تھے کہ اسرائیل و بھارت کے بیچ میں ایٹمی طاقت ہونا اب ہم پہ فرض ہوچکا ہے
آج دنیا جانتی ہے آسٹریلیا سے لیکر کینیڈا تک کو پتہ ہے کہ اسرائیل ایک بدمعاش ملک بن چکا ہے
پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے لیکر اب تک پاکستان کے کچھ مولوی، لبرل سیکولر سماج تک نے بھٹو کے بھوک و افلاس سے لدھے بیان اور ایٹمی قوت ہونے کی سرزنش کی کہ سب سے پہلے ہمیں غریبی کو مٹانا چاہیئے تھا
لیکن اس وقت سب کچھ بدل گیا جب 2014 کے بعد 2022 میں بھی روس نے یوکرین پہ چڑھائی کردی اور یوں یورپ کے دفاعی نظام کو چیلنج کیا گیا جسکے بعد یورپی ممالک نے بھی دفاعی مضبوطی کی اہمیت کو سمجھنا شروع کردیا
پاکستان نے دور اندیشی کا مظاہرہ ضرور کیا تھا کہ ایک وقت آئے گا دنیا میں کچھ ممالک کی حالت ان مستی خور بکریوں جیسی ہوگی جنکو لکڑی کے بغیر ہانکا نہیں جاسکے گا
اور وہ ایک عدد خوف دلانے والی لکڑی ہر غریب سے غریب چرواہے کے پاس بھی ہونی چاہیئے اور یہاں بلاشبہ اس لکڑی کا حقیقی نام اس جدید دنیا میں نیوکلیئر ہتھیار ہے
وہی ملک اور وہی خطہ اس وقت چین کی نیند سو پارہا ہے جسکا دفاع ناقابلِ فنا ہے (اگر اس ملک کے سربراہان اپنی سرزمین سے مخلص ہوں تو)
ونیزویلا کے صدر تک کو رات و رات اغوا کرلیا گیا
ایران کو ترنوالہ سمجھ کر ااسرائیل نے حملہ کردیا
عراق و لبنان شام و فلسطین اور یمن و قطر کی سرزمینوں پہ حملے ایسے ہوئے جیسے انکے ہاتھ ہی نا ہوں اور کوئی انکو تھپڑ رسید کیئے جارہا ہو
ایسے میں ہاں اب اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہورہا ہے کہ زندگی میں بہت سے فیصلے بھوکے رہ کر کیئے جاتے ہیں
جیسا کہ پاکستان نے ہمارے لیئے ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ لیا تھا
آج ہم غریبی سے تو لڑ سکتے ہیں، مگر ایٹم بم کے بے قابو نیوٹرانز سے نہیں لڑ سکتے
جو نیوٹرانز نیوکلس کو پھاڑ کر ایسی تباہی لاتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچہ بھی کینسر زدہ ہوکر پیدا ہوسکتا ہے
آج بیلجیم اٹلی اور ہسپانیہ کی امن کا گہوارہ قرار دینے جیسے ممالک تک یورینیم کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں
کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب دنیا لاٹھی کے بغیر نہیں ہانکی جاسکتی
ایسے میں ڈاکٹر قدیر اور ذوالفقار علی بھٹو کا یہ قدم یقینی طور پہ ہمارے اور ہمارے بچوں کی سانسوں کی ضمانت بنا ہوا ہے۔
Super Power Pakistan

23/02/2026

افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کے لیے پیغام بالکل واضح ہے۔ دوغلی پالیسی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایک طرف تعلقات کی باتیں، اور دوسری طرف پاکستان مخالف عناصر کو جگہ دینا—یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ اگر سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوگی تو جواب بھی دیا جائے گا، اور واضح دیا جائے گا۔

پاکستان نے برسوں صبر کیا، بارہا سفارتی سطح پر مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقوں کو دہشت گرد گروہوں سے پاک رکھا جائے، مگر عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے شہری، ہماری مساجد اور ہمارے جوان نشانہ بنتے رہے۔ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں تھا، یہ پوری امت کا مسئلہ تھا—کیونکہ مارا جانے والا صرف مسلمان تھا۔

اب وقت آ چکا ہے کہ باتوں کے بجائے عمل دیکھا جائے۔ پاکستان کسی کا محتاج نہیں، اور نہ ہی اپنی سرحدوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر خاموش تماشائی بن سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ صبر ہی کرے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔

فیصلہ اب کابل کو کرنا ہے: واضح اور عملی اقدام یا پھر نتائج کا سامنا۔ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
Super Power Pakistan

23/02/2026

انڈیا نے پہلے افغانستان کے راستے اندر ہی اندر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ منصوبہ یہ تھا کہ سامنے آ کر لڑنے کے بجائے پیچھے سے وار کیا جائے۔ مگر جب وہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں تو پھر کھل کر مقابلے کی طرف آیا… اور تاریخ گواہ ہے کہ اسے منہ کی کھانا پڑی۔
اس سب کے بعد بھی پاکستان نے دروازہ بند نہیں کیا۔ بار بار افغانستان کو کہا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دو۔ سمجھایا، وارننگ دی، ثبوت دیے، مذاکرات کیے، معاہدے کیے۔ مگر جب سرحد پار سے دہشت گردی نہ رکی، جب تنظیمیں خود حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہیں، تو آخر کب تک خاموش رہا جاتا؟
کوئی بھی خوددار ملک اپنی سرزمین پر بہتا ہوا خون دیکھ کر تماشائی نہیں بنتا۔ جب بار بار روکا جائے، بار بار صبر کیا جائے، اور پھر بھی حملے جاری رہیں، تو پھر کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ ضد نہیں ہوتی، یہ بقا کا سوال ہوتا ہے۔
ترکی، چین، سعودی عرب، بنگلہ دیش… سب نے کوشش کی کہ بات چیت سے معاملہ سلجھ جائے۔ سیز فائر ہوا، مذاکرات ہوئے، ثالثی ہوئی۔ خاص طور پر سعودی عرب نے آخر تک کوشش کی کہ دو اسلامی ممالک آمنے سامنے نہ آئیں۔ لیکن جب ہر کوشش کے باوجود زمین پر کچھ نہ بدلا، جب دہشت گردی کی آگ بجھنے کے بجائے سلگتی رہی، تو پھر باتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
پچھلے بہتر گھنٹوں میں جو کچھ ہوا، اس نے ایک بات صاف کر دی۔ خاموشی اور صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ برداشت کی بھی ایک لکیر ہوتی ہے۔ اور جب وہ لکیر پار ہو جائے تو جواب دینا مجبوری نہیں، ذمہ داری بن جاتا ہے۔
ہاں، نقصان ہوتا ہے۔ ہر کارروائی کی قیمت ہوتی ہے۔ لیکن اس سے بڑی قیمت وہ ہے جو مسلسل حملے سہہ کر ادا کی جاتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سرحد کے اندر سے کھلے عام دہشت گردی ہو، اور وہ ملک کچھ نہ کرے، تو پھر ریاست ہونے کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے؟
جن کے دلوں میں پہلے سے بغض ہے، وہ اپنی الگ کہانی سنائیں گے۔ وہ دلیل سے نہیں، تعصب سے سوچتے ہیں۔ انہیں حق ہے اپنی بھڑاس نکالنے کا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ علاج سے پرہیز بہتر ہوتا ہے… اور جب علاج کی نوبت آ جائے، تو پھر وہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔
یہ غصہ نہیں، یہ زخم بول رہے ہیں۔ یہ جنگ کی خواہش نہیں، یہ امن کی قیمت ہے۔

Super Power Pakistan

22/02/2026

دہشتگردوں کی ماں کو ماریں!

ٹی ٹی پی پر حملوں کے جواب میں افغانستان نے اپنی 111 برگیڈ جو شائد 40 گاڑیوں پر مشتمل تھی کو پاک فوج سے لڑنے کے لیے تورخم بارڈر روانہ کیا تھا۔ لیکن کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی وہ نہیں پہنچی۔ شائد ددھند کی وجہ سے راستہ بھٹک گئی۔ جس کے بعد طالبان کا بیان آیا ہے کہ ہم مناسب وقت پر جواب دینگے۔

فلحال وہ انڈیا، پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی کے ساتھ ملکر یہ پروپیگنڈا کرینگے کہ حملے میں بچے مارے گئے خواتین ماری گئیں۔ اس کے لیے اے آئی سے بنائی گئی یا پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالنا شروع کر دی گئی ہیں۔

پاکستان کو میرا مفت مشورہ یہ ہے کہ آپ کو افغانستان سے باقاعدہ جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں۔ آپ مان لیں کہ افغان طالبان ہی تمام دہشتگردوں کی ماں ہیں۔ جب بھی پاکستان میں حملہ ہو چاہے ٹی ٹی پی کرے یا بی ایل اے کرے آپ افغان طالبان پر سٹرائیک کریں۔ ان کے سربراہ، ترجمان، وزیر یا جو بھی عہدیدار ملے اسکو نشانہ بنائیں۔ آپ یقین مانیں پاکستان میں حملے ہونا بند ہوجائنگے۔
Super Power Pakistan

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Karachi
07075

Opening Hours

Monday 00:00 - 23:59
Tuesday 00:00 - 23:59
Wednesday 00:00 - 23:59
Thursday 00:00 - 23:59
Friday 00:00 - 23:59
Saturday 00:00 - 23:59
Sunday 00:00 - 23:59