FM93 Radio Pakistan Karachi

Directions Website Contact the organization

FM93 Radio Pakistan Karachi Medium Wave / FM93 Radio Pakistan Karachi It was came into being in intelligence school on Molvi Tameez Uddin Khan road.

Consisted on four rooms among which two were converted into studios for Drama, Music & Speech. One Room was for Station Director & another for Station Engineer. In 1950 broadcasting house moved to district council building on Bandar Road where PM Liaquat Ali Khan inaugurated. There were some barracks taken from Annexed Veterinary Hospital for Central Production, External & World Services. Radio Pakistan Karachi was Central place for cultural activities & worked as a club specially in the decades of 50s, 60s & 70s. Radio Pakistan Karachi was famous for its Drama productions & Music programmes. It produced vocalist like Mehdi Hassan, Mehanz, Bilqees Khanum & Ghulam Fareed Sabri Qawal. In Drama there were notable stars like Munawar Saeed, Shehzad Raza, Ahsan Saleem, Mustufa Qureshi, Abdul Majid, Shoukat Thanvi, Ameer Khan & Arshe Muneer.

  Radio Pakistan FM101 Karachi
21/09/2026


Radio Pakistan
FM101 Karachi

’جُگاڑ‘ سے ’جلوے‘ تک

ریڈیو پاکستان کراچی کے اِبتدائی چھ سالوں کی دِلچسپ داستان

جولائی ۱۹۴۷ء کا مہینہ تھا۔ ’تین جون منصوبے‘ کے تحت ہندوستان کے بٹوارے کا حتمی فیصلہ ہوچکا تھا اور اَہلِ کراچی، آل اِنڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے اِس فیصلے پر بہت خوش اور نہایت پُرجوش تھے کہ اُن کا شہر عَنقریب ایک نئی ریاست، مملکتِ خُداداد پاکستان، کا دارُالخلافہ بننے جارہا ہے۔ (بحوالہ: چودھری خلیق الزماں، ’پاتھ وے ٹو پاکستان‘، ص ۳۴۷)

شہر میں نئی حکومت کے حوالے سے ہمہ قِسم کی سرگرمیاں جوش اور وَلولے کے ساتھ جاری تھیں؛ گورنر جنرل آفس اور قانون ساز اسمبلی کیلئے درکار لوازمات کو پورا کرنا، مختلف سرکاری محکموں کے مرکزی دفاتر کے قِیام کیلئے مناسب جگہوں کی تلاش اور ہزاروں سرکاری اَہلکاروں کیلئے مناسب رہائش گاہوں کا اِنتظام یہاں موجود اَفسر شاہی کی اَوّلین ترجیحات تھیں اور حسبِ توقع اِس شہر کی سول سوسائٹی اِس ضمن میں سرکاری اَفسران کو اپنی بھرپور معاونت فراہم کررہی تھی۔

تاہم جولائی ۱۹۴۷ء کے اِس جوش و خروش سے بے نیاز، کراچی کی فریئر روڈ پر ریڈیو کی دُکان کے مالک، ایس۔کے۔حیدر ( اصل نام : سید کرار حیدر ، جو کرار جونپوری کے نام سے بھی معروف تھے)، کو ایک الگ ہی فِکر گھائل کیے جارہی تھی۔ وہ سَر تا پا ایک ہی اِضطراب میں ڈوبا ہوا تھا کہ کسی طرح جُگاڑ لگا کر اپنے شہر کو ایک خاص حوالے سے پشاور، لاہور اور ڈھاکہ کے برابر لا سکے۔ جُگاڑ کا مکمل خاکہ اُس نے اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھا تھا، مگر اُسے چند چیدہ اَفراد کی مدد اور سرپرستی درکار تھی۔

’جُگاڑ‘ برِصغیر، اور خصوصاً کراچی کی بول چال کا ایک بڑا دِلچسپ لفظ ہے؛ ’جُگاڑ‘ اُس وقتی ترکیب، ہنگامی تدبیر یا کام چلاؤ اِنتظام کو کہتے ہیں جس میں مطلوبہ وسائل مُیسر نہ ہوں، مگر پھر بھی کوئی آدمی دستیاب چیزوں کو جوڑ جاڑ کر اپنی عقل، ہُنر اور حاضر دِماغی سے کام نکال لے۔

جُگاڑ لگانے والے شخص کو بے تکلفی سے ’جُگاڑی‘ کہا جاتا ہے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اپنے جُگاڑ کا خاکہ لے کر کراچی کے باسی دو بھائیوں، اَحمد غلام علی چھاگلہ اور علی محمد چھاگلہ، کے پاس جا پہنچے۔ چھاگلہ برادران شہر کے بااَثر اور جانے پہچانے لوگوں میں شمار ہوتے تھے، اور ایس۔ کے۔ حیدر جس معاملے میں اُن کی مدد و معاونت چاہتے تھے، اُس کے لیے یہ دونوں بھائی موزوں ترین اَفراد تھے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اور چھاگلہ برادران کے درمیان کئی دن مشاورت ہوتی رہی، جس کے بعد یہ تینوں ہم مشورہ اور ہم صلاح ہوکر حکومتِ سندھ کے مشیر، شری ٹھاکُرداس نارائن سِنگ اِدنانی، کے پاس جا پہنچے۔ اِدنانی ایک عملی آدمی تھے اور اپنے صوبے اور بالخصوص کراچی شہر کیلئے ہمیشہ ہی کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اُنہیں بھی ایس۔ کے۔ حیدر کی تدبیر پسند آئی اور یوں وہ اِس منصوبے کی سرپرستی اور اِسے سندھ حکومت کی حد تک سرکاری سطح پر آگے بڑھانے میں باقی تینوں اَفراد کے رابطہ کار اور معاون بن گئے۔

اب اِس جُگاڑ کو عملی شکل دینے کا وقت آن پہنچا تھا، جو ایس۔ کے۔ حیدر کے زرخیز ذہن نے سوچ رکھا تھا۔

کراچی جِم خانہ ہال میں دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کا ایک پُرانا فوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر بیکار پڑا تھا۔ برطانوی اور امریکی اَفواج اِس ٹرانسمیٹر سے بحیرۂ عرب میں موجود اپنی بحری کشتیوں تک پیغام رسانی کا کام لیتی رہی تھیں۔ ایس۔ کے۔ حیدر کی تجویز یہ تھی کہ اِس ٹرانسمیٹر کو وہاں سے نکالا جائے، اِس کے ناکارہ یا گم شدہ پُرزوں کو کراچی کے کباڑ بازار سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر پورا کیا جائے اور پھر اِسے کسی مناسب اور کھلی جگہ پر نصب کرکے اَہلِ کراچی کو آل اِنڈیا ریڈیو سے بالا بالا اپنا ایک ریڈیو اسٹیشن مہیا کردیا جائے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اپنے تئیں یہ تہیہ کرچکے تھے کہ اُنہیں کسی بھی ممکن طریقے سے قِیامِ پاکستان سے پہلے پشاور، لاہور اور ڈھاکا کی طرح کراچی میں بھی ریڈیو نشریات شروع کردینی چاہییں ؛ اُن کے نزدیک اگر کراچی میں آل اِنڈیا ریڈیو کا کوئی باقاعدہ ریڈیو ٹرانسمیٹر موجود نہیں تھا تو کیا ہوا؟ جُگاڑ لگانے میں کیا حرج ہے ! چل گیا تو تیر، نہ چلا تو تُکّا۔

شِری ٹھاکُرداس نارائن سِنگ اِدنانی کی سَرپَرستی کیا حاصِل ہوئی، گویا ایس۔ کے۔ حیدر کو پَر لگ گئے۔ اُنہوں نے کراچی جِم خانہ اِنتظامیہ سے جِم خانہ ہال کے تالے کھلوا کر وہاں بیکار پڑے پُرانے فَوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر کو نِکلوایا اور کِلفٹن میں واقِع ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرکوں میں مُنتقل کردیا۔

اِس ٹرانسمیٹر کے جو پُرزے ناکارہ یا گُم تھے، اُنہیں ایس۔ کے۔ حیدر نے بذاتِ خود اور اپنی دُکان میں کام کرنے والے معاونین کی مدد سے کراچی کے کباڑ خانوں سے ڈُھونڈ ڈھانڈ کر پُورا کیا۔ فریئر روڈ کی اُن کی ریڈیو دُکان میں کام کرنے والے مکینکوں نے ہی اِس ٹرانسمیٹر کی تنصیب کا کام بھی مکمل کیا۔

’اَیک اَیک‘ اُس زمانے میں طَیّارہ شِکَن توپ خانے کے لیے اِستعمال ہونے والی فَوجی اِصطلاح تھی۔ ’اَیک اَیک اِسکول‘ برطانوی فَوج کا ایک تربیتی اِدارہ تھا جس میں اینٹی ائیرکرافٹ آلات چلانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ سِندھ حکومت کا سَرکاری ریکارڈ ’اَیک اَیک اِسکول‘ کا مَقام کِلفٹن، کراچی ظاہر کرتا ہے۔

’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرک کے ایک کمرے میں ٹرانسمیٹر لگ گیا تو دُوسرے کمرے کو عارضی نَشریاتی اِسٹوڈیو کی شَکل دے دی گئی۔ آواز کی گُونج کم کرکے مُناسِب صَوتی ماحول پَیدا کرنے کے لیے کمرے میں موٹے کپڑے کے بھاری پَردے لٹکا دیے گئے۔

’اَیک اَیک اِسکول‘ میں ریڈیو نَشریات کے اِس عارضی بَندوبست کو ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کا نام دیا گیا۔ اِس بَندوبست کی کوئی قانونی شَکل نہیں تھی اور یہ لے دے کر ہر طرف سے بس ایک ’جُگاڑ‘ ہی تھا۔

اور پھر ۵ اَگست ۱۹۴۷ء کا وہ یادگار دِن آگیا جس میں یہ انکشاف ہونا تھا کہ ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ چلتا بھی ہے یا نہیں؛ ناکامی کے امکانات ، کامیابی کے امکانات سے کہیں زیادہ تھے ۔

تاہم ’اَیک اَیک اِسکول‘، کِلفٹن میں جب اِس پُرانے ٹرانسمیٹر کو آن کیا گیا تو اِس نے خُوش قِسمتی سے سِگنل دینا شُروع کردیے۔ تَجرِبہ کامیاب رہا تھا۔ پانچ روز بعد، ۱۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ نے کلفٹن کے ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی عمارت سے اپنی باقاعدہ نَشریات شُروع کردیں۔یہ کراچی کا پہلا ریڈیو اسٹیشن تھا۔

دَستیاب رِوایت کے مُطابِق ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی نَشریات تقریباً ۲۰۰ میٹر ویو لینتھ پر پیش کی جاتی تھیں، جو فریکوئنسی کے حِساب سے تقریباً ۱۵۰۰ کِلوہرٹز، یعنی ۱.۵ میگاہرٹز بنتی ہے۔

اِس پُرانے فَوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر کی اَصل طاقت کتنے واٹ یا کِلوواٹ تھی؟ اِس کی قابِلِ اِعتماد تَفصیل دَستیاب ریکارڈ میں نہیں مِلتی، جس کی اِمکانی وجہ اِس ٹرانسمیٹر کی فَوجی مَقاصد کیلئے تیاری اور اِستعمال تھا۔

۱۰ اَگست ۱۹۴۷ء سے ۱۳ اَگست ۱۹۴۷ء تک کے چار دِنوں میں ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ سے موسیقی اور ڈرامے سمیت مختلف نوعیت کے پروگرام نَشر ہوتے رہے، جنہیں اَہلیانِ کراچی بڑے شوق سے اپنے ریڈیو سیٹوں پر سُنتے اور اُن سے مَحظوظ ہوتے رہے۔

’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریڈیو اِسٹیشن تھا، جس کی ہر شے عارضی نوعیت کی تھی۔ وسائل بھی نہایت محدود تھے اور اِسٹوڈیو بھی ایک فَوجی بیرک میں قائم کیا گیا تھا، لیکن کمال یہ ہے کہ اِسی کے طُفیل کراچی میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ریڈیو نَشریات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

پھر ۱۴ اَگست ۱۹۴۷ء کا تاریخی دِن آن پہنچا۔ پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھرا اور قائدِاعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ نے اُس دِن معمول کے موسیقی اور ڈرامے کے پروگراموں کی بجائے قِیامِ پاکستان کی تاریخی تقریبات اور قائدِاعظم کی حلف برداری کی آنکھوں دیکھی روداد اپنے سامعین تک پہنچائی۔

تاہم کراچی کے اِس پہلے عارضی ریڈیو اِسٹیشن کی زندگی بہت مختصر ثابت ہوئی۔ قِیامِ پاکستان کو ابھی چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک قانونی رُکاوٹ سامنے آگئی؛ ’اِنڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ‘ کی رُو سے صوبائی حکومت کے لیے اپنے طور پر ریڈیو اِسٹیشن چلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ ۲۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو، باقاعدہ نَشریات شروع ہونے کے صرف دس روز بعد، ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی نَشریات بند کردی گئیں۔

یوں کراچی کی فضا میں چند روز پہلے اُبھرنے والی ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی یہ آواز محض دس روز بعد ہی خاموش ہوگئی۔ ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ فَنّی اور اِنجینئرنگ کے اِعتبار سے تو بڑی کامیابی سے چل گیا، مگر اِنتظامی طور پر ’اِنڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ‘ کی زد میں آگیا۔

۲۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ سے چلنے والا ریڈیو بند ہوگیا، مگر نئے مُلک کے دارُالخلافہ کراچی کو ایک مستقل اور مناسب طاقت کے ریڈیو اِسٹیشن کی ضرورت بدستور موجود تھی۔ اِس لیے حکومت نے ریڈیو نَشریات کی ترقی کے لیے ایک ترجیحی منصوبہ بنایا، جس میں وفاقی دارُالخلافہ کراچی کے لیے میڈیم ویو، جبکہ کراچی اور ڈھاکا کے لیے شارٹ ویو ٹرانسمیٹروں کی تنصیب تجویز کی گئی۔ اِن شارٹ ویو ٹرانسمیٹروں کا ایک اہم مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نَشریاتی رابطہ قائم کرنا بھی تھا۔

ریڈیو پاکستان کے چیف اِنجینئر ریاض اَحمد کو اکتوبر ۱۹۴۷ء میں برطانیہ اور امریکا بھیجا گیا تاکہ نئے ٹرانسمیٹر اور ضروری نَشریاتی سازوسامان حاصل کیا جاسکے۔ اِسی منصوبے کے تحت امریکا سے دو ۵۰ کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر اور ایک ۱۰ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر خریدے گئے، جنہیں کراچی کے قریب لانڈھی میں نصب کیا جانا تھا۔

لیکن اِن بڑے ٹرانسمیٹروں کی تنصیب میں ابھی وقت درکار تھا اور حکومت چاہتی تھی کہ پاکستان کی پہلی سالگرہ تک کراچی سے ریڈیو پاکستان کی آواز ضرور سُنائی دینے لگے، لہٰذا ایک مرتبہ پھر عارضی اِنتظام کا سہارا لیا گیا۔

کراچی کے نمبر ۶ اِنٹیلی جنس اِسکول کی ایک پُرانی اور خستہ حال بیرک کو کراچی ریڈیو اِسٹیشن کا روپ دے دیا گیا؛ دفتری اَہلکاروں کے لیے بیرک کے باہر خیمے لگادیے گئے، جبکہ بیرک کے اندر اِسٹوڈیو قائم کیے گئے۔ ٹرانسمیٹر کی تنصیب کے لیے مناسب اینٹینا ماسٹ دستیاب نہ ہوا تو جُگاڑ لگا کر کراچی میونسپل کارپوریشن کا لوہے کا ایک گٹر پائپ ہی ماسٹ بنادیا گیا۔

یوں ایک بار پھر جُگاڑی اِنتظام کے ساتھ ۱۰۰ واٹ کا میڈیم ویو اور ۲۵۰ واٹ کا شارٹ ویو ٹرانسمیٹر نصب کردیا گیا اور کراچی کا عارضی ریڈیو اِسٹیشن مُلک کی پہلی سالگرہ تک اِفتتاح کے لیے تیار ہوگیا۔

بالآخر ۱۴ اَگست ۱۹۴۸ء کے دِن وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے ہاتھوں اِفتتاح کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی نے اپنی باقاعدہ نَشریات کا آغاز کردیا۔ اِفتتاحی تقریب کا آغاز مولانا شبیر اَحمد عثمانی کی تلاوتِ قرآنِ مجید اور دُعا سے ہوا، جبکہ وزیرِاعظم کے علاوہ وزیرِ اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین نے بھی اِس موقع پر تقریر کی۔ سجاد سرور نیازی کراچی اِسٹیشن کے پہلے اِسٹیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

اِفتتاحی نَشریات کے دوران ایک دِلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان قوم سے خطاب کررہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ کنٹرول روم میں جنریٹر چل پڑا، اِس لیے نَشریات میں تعطل نہ آیا، مگر اِسٹوڈیو اندھیرے میں ڈوب گیا۔ زیڈ۔ اے۔ بخاری نے ٹارچ روشن کرکے وزیرِاعظم کے سامنے رکھے متن پر روشنی ڈال دی اور لیاقت علی خان نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

تقریر ختم ہوئی تو لیاقت علی خان نے پوچھا کہ اِسٹوڈیو میں پیٹرومیکس کیوں نہیں رکھا گیا؟ بخاری نے جواب دیا کہ پیٹرومیکس خریدنے کے لیے وزارتِ خزانہ کی منظوری درکار ہے۔ اِس پر وزیرِاعظم نے وہیں دو پیٹرومیکس خریدنے کی خصوصی اجازت دے دی۔

تاہم ریڈیو پاکستان کراچی کو مستقل اور زیادہ طاقت وَر نَشریاتی سہولت فراہم کرنے کی طرف پہلی بڑی پیش رفت یکم نومبر ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جب لانڈھی میں ۱۰ کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کام کرنے لگا۔ یہ ۳۶۳.۶ میٹر ویو لینتھ، یعنی ۸۲۵ کلوہرٹز پر نَشریات پیش کرتا تھا اور کراچی کے اِبتدائی ۱۰۰ واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے مقابلے میں سو گُنا زیادہ طاقت وَر تھا۔ اِسٹوڈیو بدستور اِنٹیلی جنس اِسکول کی بیرکوں میں قائم تھا اور وہاں سے لانڈھی کے ٹرانسمیٹر تک پروگرام پہنچانے کے لیے فریکوئنسی ماڈیولیٹڈ لنک اِستعمال کیا جاتا تھا۔

اگلے برس، ۱۴ اَگست ۱۹۴۹ء کو، لانڈھی میں ۵۰ کلوواٹ کا پہلا ہائی پاور شارٹ ویو ٹرانسمیٹر کام کرنے لگا۔ اِس نئی سہولت کا اِفتتاح گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے کیا۔ اِسی روز ریڈیو پاکستان نے عربی، ایرانی، اَفغان فارسی اور برمی زبانوں میں اپنی چار بیرونی نَشریاتی سروسوں کا آغاز کردیا۔

لانڈھی کا دوسرا ۵۰ کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر ۲۵ دسمبر ۱۹۴۹ء کو کام میں آگیا۔ اِس کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے تکنیکی ترقی کے ترجیحی منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نَشریاتی رابطے کے ساتھ پاکستان کی آواز بیرونِ مُلک پہنچانے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اِضافہ ہوگیا۔

یوں ایس۔ کے۔ حیدر کے اُس چند روزہ جُگاڑ سے شروع ہونے والی کراچی کی ریڈیو کہانی صرف دو برس کے اندر اِس مقام تک پہنچ گئی کہ اب کراچی سے اُٹھنے والی آواز پاکستان کی سرحدوں سے بہت دُور تک سُنی جانے لگی تھی۔

لانڈھی میں نئے اور زیادہ طاقت وَر ٹرانسمیٹروں کے آغاز سے ریڈیو پاکستان کراچی کی نَشریاتی طاقت تو بڑھ گئی، لیکن اِسٹیشن اب بھی کوئینز روڈ کے اِنٹیلی جنس اِسکول کی عارضی بیرکوں سے کام کررہا تھا۔ دارُالخلافہ کے ریڈیو اِسٹیشن اور ریڈیو پاکستان کے مرکزی اِنتظامی دفاتر کے لیے اب ایک مستقل براڈکاسٹنگ ہاؤس کی ضرورت شِدّت سے محسوس ہونے لگی۔

اِبتدا میں ایک نیا براڈکاسٹنگ ہاؤس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن مختلف مشکلات کے باعث نئی عمارت کی تعمیر کا اِرادہ مؤخر کرنا پڑا۔ اِسی دوران بندر روڈ (موجودہ ایم۔ اے۔ جناح روڈ) پر واقع ڈسٹرکٹ بورڈ کی ایک سرکاری عمارت، جو اُس وقت خالی پڑی تھی، ریڈیو اِنتظامیہ کی نظر میں آگئی۔ عمارت اپنی نہیں تھی اور نہ ہی ریڈیو اِسٹیشن کی ضروریات کے مطابق بنائی گئی تھی؛ سو طے پایا کہ فی الحال اِسی عمارت کو ریڈیو کی ضروریات کے مطابق ڈھال کر براڈکاسٹنگ ہاؤس بنالیا جائے۔

یوں کراچی ریڈیو کی کہانی میں ایک اور جُگاڑ کام آگیا۔ عمارت کی نچلی منزل کو دفاتر کے لیے تیار کیا گیا، جبکہ بالائی حصے میں باقاعدہ اِسٹوڈیوز قائم کیے گئے۔ یہ محض کمروں میں مائیکروفون رکھ دینے کا معاملہ نہیں تھا۔ اِسٹوڈیوز کو بیرونی شور اور عمارت میں پیدا ہونے والے اِرتعاش سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی فَنّی اِنتظامات کیے گئے۔

یہ کام ۱۹۵۱ء میں مکمل ہوا اور ۱۶ جولائی ۱۹۵۱ء کو وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے ایم۔ اے۔ جناح روڈ کے اِس براڈکاسٹنگ ہاؤس کا باقاعدہ اِفتتاح کردیا۔ کراچی ریڈیو اِسٹیشن کوئینز روڈ کے اِنٹیلی جنس اِسکول کی عارضی بیرکوں سے نکل کر اِس عمارت میں منتقل ہوگیا۔ یوں جس ریڈیو کی کراچی میں کہانی صرف چار برس پہلے ایک پُرانے فَوجی ٹرانسمیٹر، کباڑ بازار کے پُرزوں اور ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرک سے شروع ہوئی تھی، اب اُس کے پاس ایک باقاعدہ براڈکاسٹنگ ہاؤس تھا۔

کراچی ریڈیو اِسٹیشن کا یہ براڈکاسٹنگ ہاؤس اپنے نئے اِسٹوڈیوز، کنٹرول روم اور بہتر نَشریاتی سہولتوں کے ساتھ، دارُالخلافہ میں واقع ہونے کے باعث، اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی آمدورفت کا مقام بھی بننے لگا۔

دسمبر ۱۹۵۳ء میں امریکا کے نائب صدر رچرڈ نکسن اپنے طویل غیر ملکی دورے کے اِختتامی مرحلے میں اپنی اہلیہ پیٹ نکسن کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔ ۸ دسمبر کو اُن کے پروگرام میں ریڈیو پاکستان کراچی کا دورہ بھی شامل تھا۔

براڈکاسٹنگ ہاؤس پہنچنے پر ریڈیو پاکستان کے سربراہ سیّد ذوالفقار علی بخاری (زیڈ۔ اے۔ بخاری) نے اُن کی میزبانی کی۔ اِس موقع پر اُن کے بڑے بھائی، نام وَر ادیب، سابق ڈائریکٹر جنرل آل اِنڈیا ریڈیو اور اُس وقت اَقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سیّد اَحمد شاہ ’پطرس‘ بخاری بھی موجود تھے۔ پطرس بخاری ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۴ء تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے رہے۔

رچرڈ نکسن نے ریڈیو پاکستان سے پاکستانی سامعین کے لیے خطاب کیا اور وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔ اِس دورے کی محفوظ تصویری دستاویز میں بھی نکسن کو ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اِس دورے کی چند تصاویر آج بھی اُس تاریخی لمحے کو محفوظ کیے ہوئے ہیں؛ ایک تصویر میں نکسن ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک پر اپنے تاثرات لکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری میں زیڈ۔ اے۔ بخاری اور پطرس بخاری اُن کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر میں دیوار پر لگی ’ای۔ پی۔ ٹی‘ یعنی ’ایسٹ پاکستان ٹائم‘ کی گھڑی کی سوئیاں ۵ بج کر ۳۵ منٹ پر ٹھہری دکھائی دیتی ہیں۔

۱۹۴۷ء میں کراچی ریڈیو کی جس کہانی کا آغاز ایک جُگاڑ سے ہوا تھا، ۱۹۵۳ء تک اُس کہانی پر ’جلوہ‘ غالب آچکا تھا؛ دنیا کی ایک بڑی طاقت امریکا کا نائب صدر کراچی کے براڈکاسٹنگ ہاؤس میں بیٹھا ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات قلم بند کررہا تھا۔

اور ’جلوے‘ کی بات کچھ ایسی مبالغہ آمیز بھی نہ تھی؛ تقریباً پندرہ برس بعد، جنوری ۱۹۶۹ء میں جب یہی رچرڈ نکسن امریکا کے سینتیسویں صدر بنے تو ۱۹۵۳ء میں ریڈیو پاکستان کراچی میں محفوظ ہونے والا وہ لمحہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی تاریخی بن گیا۔

یوں کراچی ریڈیو کے اِبتدائی چھ برسوں کی یہ داستان واقعی ’جُگاڑ سے جلوے تک‘ کا سفر ثابت ہوتی ہے۔ وسائل کم تھے، مشکلات بہت تھیں، مگر کام کرنے والوں میں ہُنر، حوصلے اور کچھ کر گزرنے کی لگن کی کمی نہ تھی۔ ایک ناکارہ فَوجی ٹرانسمیٹر سے اُبھرنے والی آواز چند ہی برس میں ایک باقاعدہ اور باوقار نَشریاتی اِدارے کا روپ دھار چکی تھی۔

یہی ریڈیو پاکستان کے اُس شاندار ماضی کا اَصل جلوہ تھا—اور بفضلِ خدا، یہ جلوہ آج بھی قائم و دائم ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

15/09/2026

Radio Pakistan




FM101 Karachi
FM93 Radio Pakistan Karachi

13/09/2026

’رُموزِ بے خودی‘ کی ایک نظم بعنوان ’عَرضِ حالِ مُصنِّف بَحُضورِ رَحمۃٌ لِّلعالَمین ﷺ‘ میں علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ بارگاہِ رِسالت ﷺ میں اپنی ایک آرزو اور اِلتجا کچھ یوں پیش کرتے ہیں:

کوکبم را دیدۂ بیدار بخش۔۔
مرقدے در سایۂ دیوار بخش

(ترجمہ: میرے ستارۂ قسمت کو چشمِ بیدار عطا فرما دیں اور مجھے اپنے روضے کی دیوار کے سائے میں ایک قبر عطا فرما دیں۔)

اقبالؒ کی آرزو حِجازِ مُقدّس میں، روضۂ رسول ﷺ کے سایۂ دیوار میں آخری آرام گاہ پانے کی تھی۔ یہ آرزو پوری نہ ہوسکی، کیونکہ تقدیر نے اُن کے لیے لاہور میں بادشاہی مسجد کا سایۂ دیوار چُن رکھا تھا۔

علامہ محمد اقبالؒ ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو وفات پا گئے تو اگلے روز اُنہیں بادشاہی مسجد کے پائین میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے بھی بادشاہی مسجد کے سایۂ دیوار میں اُن کا مدفن بننے کو روحانی اعتبار سے اس آرزو کی تکمیل ہی کی ایک صورت قرار دیا۔

تقریباً آٹھ برس بعد اسی مقام پر موجودہ پختہ مزار کی تعمیر شروع ہوئی۔ عمارت مکمل ہونے لگی تو ایک اہم مرحلہ اس کی دیواروں کو قُرآنی آیات سے آراستہ کرنے کا آیا۔ طے ہوا کہ مشرقی دیوار پر سُورۃُ الاَنبیاء کی ایک سو پانچویں آیت، شمالی دیوار پر سُورۃُ اِبراہیم کی چوبیسویں آیت کا حصہ، جنوبی دیوار پر سُورۃُ اِبراہیم کی ستائیسویں آیت کا حصہ خَطِّ ثُلث میں اور مغربی دیوار پر سُورۃُ التَّوبہ کی چالیسویں آیت کے الفاظ ’کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا‘ خَطِّ کوفی میں رقم کیے جائیں گے۔

اُن دنوں لاہور خطاطی کا ایک بڑا مرکز تھا اور اس شہرِ بے مثال میں خطاطوں کی قریب قریب ساٹھ بیٹھکیں موجود تھیں۔ ان میں ایسے پختہ کار اور کُہنہ مَشق اُستاد بھی بیٹھتے تھے جن کی عمریں اس فن کی مشق میں گزر چکی تھیں۔

ایسے میں مزارِ اقبال کی قُرآنی خطاطی کے لیے انتخاب کسی بڑے اور عمر رسیدہ اُستاد کا ہونا بظاہر زیادہ قرینِ قیاس تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ سعادت ایک ایسے نوجوان کے حصے میں آئی جس کی عمر ابھی بیس برس کے لگ بھگ تھی۔ وہ خود حافظِ قرآن تھا اور چند ہی برس پہلے لاہور آیا تھا۔

اسے قدرت کا فیصلہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ بڑے بڑے کُہنہ مَشق خطاط اُستادوں کی موجودگی میں مزارِ اقبال پر قُرآنی آیات رقم کرنے کی یہ سعادت ایک نوجوان کے حصے میں آئی۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔۔

(ترجمہ: یہ سعادت زورِ بازو سے حاصل نہیں ہوتی، جب تک عطا کرنے والا خدا خود عطا نہ فرمائے۔)

آج ۱۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کے دن اُسی خوش نصیب خطاط، حافظ محمد یوسف سدیدی، کی چالیسویں برسی ہے۔ وہ ۱۹۸۶ء میں آج ہی کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

محمد یوسف کا تعلق ضلع چکوال (سابقہ ضلع جہلم) کے قدیم قصبے بھون سے تھا۔ وہ ایک دینی گھرانے میں ۱۹۲۶ء یا ۱۹۲۷ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھون ہی کے پرائمری سکول میں حاصل کی۔ والدین نے حفظِ قُرآن کے لیے بھون کی ’کمہاراں والی مسجد‘ کے امام حافظ عبدالرحمن کی شاگردی میں دے دیا۔ اُن کی وفات کے بعد بھون ہی کی ’جدھڑاں والی مسجد‘ کے حافظ لال حسین سے حفظ جاری رکھا۔

چودہ پارے حفظ کرنے کے بعد محمد یوسف کھیوڑہ چلے گئے، جہاں حافظ مقصر شاہ کے ادارے میں تقریباً ڈیڑھ سال تک قُرآنِ مجید کے ساتھ عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی۔

محمد یوسف کو بچپن ہی سے خوش نویسی کا شوق بھی پیدا ہوگیا تھا۔ کھیوڑہ میں حافظ مقصر شاہ کے کمرے میں فارسی زبان کا ایک خوب صورت قطعہ آویزاں تھا۔ محمد یوسف اسے پڑھتے اور اُس کی کتابت کو غور سے دیکھا کرتے تھے۔ ایک روز اُس قطعے کے کاتب کرم دین سے ملاقات ہوئی تو اُن سے کتابت سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد چھٹی کے دن کرم دین کی بیٹھک میں جانے لگے اور یوں خوش نویسی کا بچپن کا شوق باقاعدہ فن سیکھنے کی طرف بڑھنے لگا۔

۱۹۳۹ء میں محمد یوسف لاہور آگئے اور مسجد وزیر خاں میں قاری محمد طفیل سے باقی قُرآنِ مجید حفظ کرکے حفظ کی تکمیل کی۔ یوں محمد یوسف اب حافظ محمد یوسف ہوگئے۔

بعدازاں حافظ محمد یوسف کا روحانی تعلق حضرت سدید الدین معظمی سے قائم ہوا اور وہ اُن کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوئے تو اپنے مرشد کی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ’سدیدی‘ بھی لکھنا شروع کردیا اور یوں وہ حافظ محمد یوسف سدیدی کے نام سے معروف ہوئے۔

لاہور اُس زمانے میں برصغیر میں فنِ خطاطی کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں انہیں اپنے عہد کے بڑے خطاطوں کو دیکھنے اور اُن سے سیکھنے کا موقع ملا۔ منشی محمد شریف لدھیانوی سے خَطِّ نَستعلیق میں اِصلاح لینا شروع کی اور عبدالمجید پرویں رقم سے بھی ملاقات اور اِستفادے کا موقع ملا، جنہیں لاہوری طرزِ نَستعلیق کے بڑے اُستادوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

لیکن حافظ محمد یوسف سدیدی صرف نَستعلیق تک محدود رہنا نہیں چاہتے تھے۔ ۱۹۴۴ء میں وہ پشاور چلے گئے، جہاں ایم۔ ایم۔ شریف آرٹسٹ سے تقریباً ایک سال تک ڈرائنگ اور مُصوّری کی تربیت حاصل کی۔ اس تربیت نے حروف کے ساتھ نقش، تناسب اور ساخت کو سمجھنے میں بھی اُن کی مدد کی۔

اس کے بعد اُن کے فنی سفر کا ایک اہم پڑاؤ دہلی تھا۔ وہاں اپنے دوست اور معروف خطاط رضی الدین دہلوی کے ساتھ انہوں نے دہلی کی قدیم عمارتوں پر موجود خطاطی کا گہرا مطالعہ کیا۔ دونوں تاریخی عمارتوں پر کندہ قدیم کُتبات اور رَسمُ الخط کے نمونے بڑی محنت سے نقل کرتے۔ شاید اُس وقت اس نوجوان کو اندازہ بھی نہ تھا کہ پرانی عمارتوں کے حروف کو سمجھنے کی یہی مشق کئی برس بعد اُس کے ایک نہایت مشکل فنی کام میں اُس کے کام آنے والی تھی۔

۱۹۴۶ء میں جمعیت علمائے ہند کے زیرِ اہتمام دہلی میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تو حافظ محمد یوسف سدیدی نے اس موقع پر عربی خطاطی کا نہایت خوب صورت نمونہ پیش کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اُن کا کام دیکھا تو اس نوجوان خطاط کی مہارت سے بہت متاثر ہوئے اور داد دیتے ہوئے کہا:"تم نے عربی رَسمُ الخط کا حق ادا کردیا ہے۔" (بحوالہ: محمد خالد جاوید یوسفی، ’استادِ محترم حافظ محمد یوسف سدیدی‘، سہ ماہی ’ادبیات‘، اسلام آباد، جلد ۴، شمارہ ۱۳، ۱۴، ۱۵، ص ۳۴۷)

تقسیمِ ہند کے وقت حافظ محمد یوسف سدیدی دہلی میں تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور واپس آگئے اور اپنے عہد کے صاحبِ کمال نَستعلیق نگار منشی تاج الدین زریں رقم سے رشتۂ تلمذ قائم کیا۔ یہ تعلق ۱۹۵۵ء میں زریں رقم کی وفات تک قائم رہا۔

۱۹۴۸ء میں اپنے اُستاد کے مشورے پر حافظ محمد یوسف سدیدی روزنامہ ’امروز‘ سے بحیثیت خوش نویس وابستہ ہوگئے۔ ’امروز‘ کی پیشانی پر خَطِّ ثُلث میں لکھی ہوئی خوب صورت لوح بھی انہی کے قلم سے نکلی۔ اُس وقت اخبار کے مدیرِ اعلیٰ معروف ادیب مولانا چراغ حسن حسرت تھے۔ انہوں نے یہ لوح دیکھی تو بہت پسند کی اور حافظ یوسف کو خوب داد دی۔

’امروز‘ سے ۱۹۴۸ء میں قائم ہونے والا یہ تعلق تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ حافظ یوسف اخبار کی سُرخیاں اور دوسری کتابت کرتے رہے۔ اسی عرصے میں ہزاروں کتابوں اور رسائل کے سرورق بھی اُن کے قلم سے نکلے اور اُن کے فن کو مزید نکھرنے اور اپنی ایک الگ شناخت بنانے کا موقع ملا۔ بالآخر ۱۹۸۱ء میں وہ ’امروز‘ سے ریٹائر ہوگئے۔

حافظ محمد یوسف سدیدی کی اصل اِنفرادیت یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے قلم کو کسی ایک خط تک محدود نہیں رکھا۔ خَطِّ نَستعلیق کے علاوہ خَطِّ ثُلث، نَسخ، رِقاع، مُحقَّق، دِیوانی اور کوفی میں بھی انہیں برابر مہارت حاصل تھی۔

حافظ محمد یوسف نے نَستعلیق اور نَسخ کی باقاعدہ تعلیم مقامی اُستادوں سے حاصل کی، لیکن عربی خطوط سیکھنے کے لیے عالمِ اسلام کے بڑے خطاطوں کے کام کا گہرا مطالعہ کیا۔ خصوصاً تُرک اور عرب خطاطوں کے نمونے اُن کے سامنے رہے اور شیخ عبدالعزیز الرِّفاعی کے قطعات کو بھی اُنہوں نے نمونۂ مشق بنایا۔

یہی وجہ تھی کہ حافظ یوسف سدیدی کا قلم کاغذ سے نکل کر عمارتوں کے پتھروں تک پہنچا۔ مزارِ اقبال کے علاوہ مینارِ پاکستان، مسجدِ شُہداء، داتا دربار، مسلم مسجد، جامع مسجد منصورہ، جامعہ اشرفیہ اور متعدد دوسری عمارتوں اور اداروں میں اُن کی خطاطی کے نمونے سامنے آئے۔ ۱۹۷۴ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھی اُنہوں نے سنگِ مرمر کی سِلوں پر خطاطی کی اور کانفرنس کے لیے خطاطی کے خوب صورت نوادر تیار کیے۔

تاہم حافظ سدیدی کی فنی زندگی کا ایک نہایت دلچسپ کام مزارِ قُطب الدین ایبک سے وابستہ ہے۔ ۱۹۷۶ء میں لاہور میں سلطان قُطب الدین ایبک کا مزار تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا تو ماہرین کی خواہش تھی کہ مقبرے پر وہی طرزِ خط استعمال کیا جائے جو دہلی کے قُطب مینار پر موجود ہے۔ مشکل یہ تھی کہ یہ قدیم خط مدت سے متروک تھا اور مُروَّجہ خطوط سے خاصا مختلف تھا۔

یہاں حافظ یوسف کی جوانی کے دہلی والے دن کام آئے۔ برسوں پہلے وہ رضی الدین دہلوی کے ساتھ دہلی کی تاریخی عمارتوں پر موجود قدیم کُتبات کو غور سے دیکھتے اور اُن کی نقلیں اُتارتے رہے تھے۔ اب اسی مطالعے کی بنیاد پر انہیں مزارِ قُطب الدین ایبک کے لیے قدیم طرز کی خطاطی کی مشکل ذمہ داری سونپی گئی اور اُنہوں نے اسے کامیابی سے پورا کیا۔

حافظ یوسف کی جِدّتِ طبع بھی اُن کے فن کا ایک نمایاں وصف تھی۔ اُنہوں نے مختلف خطوط میں صرف پرانے نمونوں کی نقل پر اِکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے قلم کی ایک مخصوص شناخت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اُن کے کام کا دائرہ قومی یادگاروں اور مساجد سے لے کر اخبار کی لوح، کتابوں اور رسائل کے سرورق اور مختلف سرکاری و فنی دستاویزات تک پھیلا ہوا تھا۔

کمالِ فن کے باوجود حافظ سدیدی نوآموز خطاطوں کے ساتھ ہمیشہ شفقت سے پیش آتے رہے۔ کوئی شخص اپنا کام اِصلاح کے لیے لاتا تو پہلے اُس میں کوئی خوبی تلاش کرکے اُس کی حوصلہ افزائی کرتے اور پھر اُس کے کمزور پہلوؤں کی اِصلاح کرتے۔ دینی مدارس، مساجد، مقابر و مزارات، فلاحی کاموں، عُلما اور طلبہ کے لیے خطاطی کرتے ہوئے اُجرت نہ لینے کی روایات بھی اُن سے منسوب ہیں۔

روزنامہ ’امروز‘ کے ساتھ حافظ محمد یوسف سدیدی کا تعلق ۱۹۴۸ء سے ۱۹۸۱ء تک قائم رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے اور جدہ میں ایک اشتہاری ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ سعودی عرب جانے کے پسِ پشت ملازمت کے ساتھ ایک فنی جستجو بھی تھی۔ وہ حرمین کی مُقدّس فضاؤں میں رہنا اور وہاں عرب اور تُرک خطاطوں کے فن کو مزید قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔

اُن کی طویل فنی خدمات کا سرکاری سطح پر بھی اعتراف ہوا اور ۱۹۸۲ء میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی سے نوازا۔ یہ اعزاز اُن کے صاحبزادے بہار مصطفیٰ نے وصول کیا۔

سعودی عرب میں جولائی ۱۹۸۴ء (اور بعض روایات کے مطابق جولائی ۱۹۸۵ء) میں ایک شدید سڑک حادثے میں چوٹ لگنے کے سبب اُن کا ہاتھ کام کرنے کے قابل نہ رہا اور وہ خطاطی کرنے سے محروم ہوگئے۔ انہیں واپس پاکستان لایا گیا، جہاں وہ ۱۳ ستمبر ۱۹۸۶ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انہیں لاہور کے ساندہ کلاں کے قبرستان دھوپ سڑی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

مزارِ اقبال اور ساندہ کلاں میں اس خطاط کی آخری آرام گاہ کے درمیان کوئی بہت زیادہ فاصلہ نہیں۔ ویسے بھی ان دو شخصیات کا باہمی تعلق فاصلے کا محتاج نہیں۔

آج بھی مزارِ اقبال پر ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے وفود میں سے کسی کی نگاہ جب مزار کی دیواروں پر کندہ قُرآنی آیات پر پڑتی ہے تو جہاں انہیں پڑھنے والے کو ثواب ملتا ہے، وہاں انہیں رقم کرنے والا بھی یقیناً اس ثواب سے محروم نہیں رہتا ہوگا۔ یوں مزارِ اقبال سے پھوٹنے والے فیض کی ایک کرن ساندہ کلاں میں حافظ محمد یوسف سدیدی کی قبر تک بھی پہنچتی رہتی ہے۔

اللہ جَلَّ شَانُہٗ ان دونوں شخصیات کی قبروں پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین!

خدا رحمت کُنَد ایں عاشقانِ پاک طینت را
کہ از بہرِ ثوابِ خلق، خود را وقف گردانند

(ترجمہ: خدا اِن پاک طینت عاشقوں پر رحمت فرماتا ہے جو خلق کی بھلائی اور ثواب کی خاطر اپنے آپ کو وقف کردیتے ہیں۔)

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

12/09/2026

میاں انجھا برس کلاونت
فراموش کردہ عظیم گائیک
وہ جسے "تان سین ثانی" کہا گیا۔

مغل بادشاہ احمد شاہ نے اپنی تخت نشینی کی تیسری سالگرہ کی شاہی تقریب میں ایک سفید ریش، عمر رسیدہ شخص کو دیکھا تو اُس سے پوچھا:

"کیا تم وہی اَنجھا بَرس خان ہو جس کا ذکر میرے مرحوم والد محمد شاہ مجھ سے کیا کرتے تھے؟"

اَنجھا بَرس نے بڑی مَتانت سے جواب دیا:

"وہ اَنجھا بَرس گزر چکا؛ یہ اَنجھا بَرس کوئی دوسرا شخص ہے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے۔"

احمد شاہ نے اُسے گانے کا حکم دیا۔ اَنجھا بَرس نے مَعذرت کرتے ہوئے کہا:

"میں تو صرف آپ کے حکم کی تعمیل میں یہاں حاضر ہوا ہوں، گانا تو میں چھوڑ چُکا ہوں۔"

بادشاہ نے کہا:

"جو چاہو مانگو۔"

اَنجھا بَرس نے جواب دیا:

"میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ دوبارہ مجھے آپ کے حُضور آنے کے لیے نہ کہا جائے۔"

احمد شاہ، ظہیرُالدّین محمد بابر سے شروع ہونے والی مغل بادشاہوں کی لڑی کا چودھواں بادشاہ تھا۔ وہ اپنے والد ناصرُالدّین محمد شاہ کے ۲۶ اپریل ۱۷۴۸ء کو انتقال کے تین روز بعد، محض بائیس سال کی عمر میں دہلی کے تخت پر بیٹھا۔

احمد شاہ ایک پُرعزم نوجوان تھا، مگر بدقسمتی سے ہندوستان کا سیاسی بگاڑ اِس قدر پھیل چکا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اپنے محدود مالی اور عسکری وسائل کے ساتھ اِسے کسی طور سمیٹنے کی اِستطاعت نہیں رکھتا تھا۔

تاہم مغل دربار کی عَظمتِ رَفتہ بحال کرنے کے لیے جو کچھ احمد شاہ سے بن پا رہا تھا، وہ اسے تَن دِہی کے ساتھ سرانجام دے رہا تھا۔ چنانچہ اِسی کوشش میں اس نے مئی ۱۷۵۱ء میں اپنی تخت نشینی کی تیسری سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والی شاہی تقریبات میں اپنے والد ناصرُالدّین محمد شاہ کے پرانے درباریوں، دوستوں اور مُتعلّقین کو بھی مدعو کیا۔

اَنجھا بَرس خان بھی انہی مدعوین میں شامل تھا۔ وہ محمد شاہ کے عہد کا نامور موسیقار اور خود بادشاہ کا اُستادِ موسیقی رہ چکا تھا۔ تاہم مارچ ۱۷۳۹ء میں نادر شاہ اَفشار کے حملے کے بعد مغل دربار جس ابتری اور مالی بحران کا شکار ہوا، اس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد اَنجھا بَرس بھی شاہی ملازمت سے الگ ہوگیا۔ بعدازاں مغل منصب دار عُمدَۃُ المُلک امیر خان کے ہاں منعقد ہونے والی ایک موسیقائی مجلس میں پیش آنے والی بدمزگی کے ایک واقعے کے بعد اس نے اُمرا اور اہلِ دولت کی موسیقائی محفلوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی اور دَرویشوں اور فُقرا کی صحبت میں رہنے لگا تھا۔

اَنجھا بَرس خان کا احمد شاہ سے یہ کہنا کہ ’مجھے دوبارہ دربار میں نہ بلایا جائے‘ ایک فنکار کی خودداری کا اظہار بھی سمجھا جاسکتا ہے: اگر بادشاہ میرے فن اور مرتبے سے کَماحَقُّہٗ واقف ہی نہیں تو پھر میں اس سے اِنعام و اِکرام کی تمنا کیوں رکھوں؟

لیکن اَنجھا بَرس کے ان الفاظ میں ہندوستان میں مغل اقتدار کے زوال کا ایک پُردرد اور جِگرسوز نوحہ بھی محسوس کیا جاسکتا ہے؛ جس شاہی دربار میں کبھی اُس کے فن کی قدر و قیمت جاننے والے بیٹھتے تھے، اُس کی شان و شوکت اب بکھر چکی تھی۔ گویا اَنجھا بَرس کا انعام سے انکار یہ خاموش سوال بھی اُٹھا رہا تھا:

"اب آپ کے پاس ایسا بچا ہی کیا ہے جو میں آپ سے منہ مانگے انعام کے طور پر طلب کروں؟"

میاں اَنجھا بَرس خان، اٹھارہویں صدی عیسوی کے مغل عہد اور دربار کے بڑے کَلاوَنتوں اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق براہِ راست مغل بادشاہ جلالُ الدّین محمد اکبر کے نَو رَتَنوں میں شامل ہندوستانی تاریخ کے عظیم گائیک میاں تان سین کے خاندان سے تھا۔

’کَلاوَنت‘ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں ایسے ماہر اور باقاعدہ تربیت یافتہ گائیک کو کہا جاتا تھا جو بالخصوص دُھرپَد گائیکی کی روایت سے وابستہ ہو۔ مغل عہد میں کَلاوَنت محض گانے والے نہیں تھے بلکہ راگ، تال اور موسیقی کے اصولوں میں مہارت رکھنے والے اُستاد موسیقار بھی ہوتے تھے۔

’دُھرپَد‘ کا نام سنسکرت کے دو لفظوں ’دُھرو‘ یعنی قائم یا مستقل، اور ’پَد‘ یعنی منظوم کلام سے نکلا ہے۔ یہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی قدیم ترین گائیکی کی اَصناف میں سے ایک ہے، جس میں راگ کی خالص صورت کو سُروں کی مضبوطی اور سنجیدہ و باوقار اندازِ گائیکی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، میاں اَنجھا بَرس خان ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس میں موسیقی کئی پُشتوں سے فن، علم اور خاندانی روایت کی حیثیت رکھتی تھی۔

ان کا پورا نام مآخذ میں ’میاں اَنجھا بَرس خان‘ ہی درج ملتا ہے۔ ’اَنجھا‘ کے معنی ناغہ، وقفہ یا تعطل کے آتے ہیں۔ اس نام کی کوئی صریح تاریخی وجہ معلوم نہیں، تاہم ان کے بڑے بھائی کا نام ’بڑا بَرس خان‘ درج ملنے سے یہ قیاس پیدا ہوتا ہے کہ شاید دونوں بھائیوں کی پیدائش میں خاصا وقفہ رہا ہو اور اسی نسبت سے ایک کو بڑا بَرس اور دوسرے کو اَنجھا بَرس کہا گیا ہو۔

ایک دوسری قرأت میں اس نام کو ’اَنچھا‘ بھی پڑھا گیا ہے، جو ’اَن‘ اور ’اِچھا‘ کا مرکب قرار دیا جاتا ہے۔ ’اَن‘ کے معنی بغیر اور ’اِچھا‘ کے معنی خواہش کے ہیں؛ یوں اس کا مفہوم خواہش سے بے نیاز یا خواہشات سے آزاد شخص بنتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اَنجھا بَرس خان کی بعد کی زندگی بھی کسی حد تک اسی مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ انہوں نے اہلِ دولت کی محفلوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے دَرویشوں اور فُقرا کی صحبت کو ترجیح دی۔

اَنجھا بَرس کے خاندان میں ’بَرس‘ نام کا مستقل حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے والد رَس بَرس خان، چچا آنند بَرس خان اور بڑے بھائی بڑا بَرس خان کہلاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’بَرس‘ اس موسیقار خاندان کی نام گذاری کی ایک خاص روایت کا حصہ تھا۔

اَنجھا بَرس کے دادا خوشحال خان ’گُن سَمُدر‘ اپنے عہد کے بڑے دُھرپَد گویّوں اور شاہی موسیقاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ’گُن سَمُدر‘ کا مفہوم خوبیوں اور فن کا سمندر ہے۔ خوشحال خان نے شاہ جہاں کے دربار میں غیر معمولی شہرت حاصل کی اور بعد میں اورنگزیب کے ابتدائی عہد میں بھی ان کا موسیقائی مقام برقرار رہا۔ وہ صرف تان سین کے خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ممتاز نہیں تھے بلکہ اپنے فن، دُھرپَد پر عبور اور درباری وقار کی وجہ سے اگلی نسلوں کے لیے بھی معیار بن گئے۔

اَنجھا بَرس کے والد رَس بَرس خان کَلاوَنت بھی بلند پایہ موسیقار تھے۔ ان کی ایک خاص اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے سترھویں صدی کے آخری برسوں، ۱۶۹۷ء یا ۱۶۹۸ء میں، موسیقی پر فارسی زبان میں ’شَمسُ الاَصوات‘ تصنیف کی۔ اس کتاب میں ہندوستانی موسیقی کے علمی مباحث، راگوں، موسیقی کے اصول اور اس فن کی نظری روایت کو فارسی میں پیش کیا گیا۔

میاں تان سین ہندو تھے، تاہم اَنجھا بَرس خان کے دادا خوشحال خان کے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ خاندان کی یہ شاخ ان کے زمانے تک مسلمان ہوچکی تھی۔ خود اَنجھا بَرس خان مسلمان اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے شخص تھے۔ جوانی میں اپنے عہد کے معروف صوفی بزرگ شاہ گُلشن، المعروف شاہ گُلِ وَحدت، ان پر خاص شفقت، نظرِ التفات اور توجہ رکھتے تھے۔ بعد کی زندگی میں اَنجھا بَرس نے اہلِ دولت کی موسیقائی محفلوں سے کنارہ کشی اختیار کی اور دَرویشوں اور فُقرا کی صحبت میں رہنے لگے۔ (بحوالہ: ضیاءُ الدّین ضیاء، ’حَیُّ الاَرواح‘، ص: ۵۴)

چنانچہ یہ اَنجھا بَرس خان کی خاندانی موسیقائی وراثت تھی جو اسے مغل بادشاہ محمد شاہ کے دربار تک لے گئی، جہاں وہ جلد ہی اپنے عہد کے بلند پایہ کَلاوَنتوں میں شمار ہونے لگے۔ نِعمت خان صَدارَنگ اور اس کا بھتیجا فیروز خان اَدارَنگ بھی اسی دربار سے وابستہ تھے اور خیال گائیکی میں اپنی مثال آپ تھے۔

محمد شاہ موسیقی کا شوقین اور خود بھی ایک گائیک بادشاہ تھا۔ اَنجھا بَرس خان کی عِلمُ الموسیقی میں مہارت اور فن پر عبور کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ نے دوسرے گویّوں کے مقابلے میں انہی کو اپنا باقاعدہ اُستاد بنایا۔ محمد شاہ نے اَنجھا بَرس کو ’سَراپارَس‘ اور ’چُون پارَس‘ کے القابات بھی عطا کیے۔

’سَراپارَس‘ کا مفہوم تھا ’سراپا پارَس‘، یعنی ایسا موسیقار جو سر سے پاؤں تک گویا پارَس ہی پارَس ہو اور جس کی پوری ذات فن کو نکھار دینے والی ہو۔

’چُون پارَس‘ کا مفہوم تھا ’پارَس جیسا‘، یعنی ایسا اُستاد جس کی صحبت اور تربیت پارَس کی طرح ایک معمولی فنکار کو بھی باکمال بنا دے۔

’پارَس‘ اُس دیومالائی پتھر کو کہا جاتا ہے جس کے مَس ہونے سے لوہا سونا بن جانے کا تصور کیا جاتا تھا۔ گویا مغل بادشاہ محمد شاہ کے نزدیک اَنجھا بَرس خان ایسا کمال گویا تھا جس کی صحبت میں آکر کوئی خام گویا بھی کامل بن سکتا تھا۔

بعد کے مآخذ میں اَنجھا بَرس خان کو ’تان سین ثانی‘ قرار دیے جانے کی روایت بھی ملتی ہے۔ ۱۸۴۵ء کی فارسی کتاب ’نَغمۂ عَندلیب‘ میں یہ روایت سامنے آتی ہے کہ اَنجھا بَرس خان ’تان سین ثانی‘ کے لقب کے خواہش مند تھے، تاہم اس لقب کو باقاعدہ شاہی منظوری نہ مل سکی۔ اس روایت میں ان کے مقابل نِعمت خان صَدارَنگ کا ذکر آتا ہے۔

ان گویّوں کے درمیان رقابت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اَنجھا بَرس خان ایک طرف تان سین کے قدیم کَلاوَنت خاندان اور دُھرپَد کی مضبوط روایت کی نمائندگی کررہے تھے، جبکہ دوسری طرف نِعمت خان صَدارَنگ اور فیروز خان اَدارَنگ نئی موسیقائی جِدّت، خصوصاً خیال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کررہے تھے۔

موسیقائی رقابت کے باوجود یہ خاندان رشتے داری اور اُستاد شاگرد کے تعلق سے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہوگئے۔ محمد شاہ ہی کے عہد میں نِعمت خان صَدارَنگ نے اپنی بیٹی کی شادی اَنجھا بَرس خان سے کردی۔ اس رشتے کے نتیجے میں تان سین سے چلی آنے والی اَنجھا بَرس کی قدیم کَلاوَنت روایت اور صَدارَنگ کی موسیقائی روایت ایک ہی خاندان میں جمع ہوگئیں۔

اَنجھا بَرس نے صَدارَنگ سے اس کے خاندان کا مخصوص موسیقائی علم بھی حاصل کیا اور اسے اپنے اُستاد کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ دوسری طرف صَدارَنگ کا بھتیجا فیروز خان اَدارَنگ بھی اس کا خاص شاگرد اور داماد تھا۔ یوں اَنجھا بَرس اور اَدارَنگ ایک ہی اُستاد سے وابستہ اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہونے کے باوجود شاہی دربار میں ایک دوسرے کے بڑے فنی حریف رہے۔

اَنجھا بَرس خان کی اصل پہچان اس کی دُھرپَد گائیکی تھی۔ یہ فن اسے اپنے اَجداد سے ورثے میں ملا تھا، مگر اس نے اس روایت کو محض محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اپنے فن سے اسے مزید نکھارا۔ اُس کی خوبی محض خوش آواز ہونا نہیں تھی؛ وہ راگ کی اصل کیفیت کو سمجھتا، اسے درست انداز میں قائم کرتا اور پھر دُھرپَد کو اسی کیفیت کے مطابق آگے بڑھاتا تھا۔ اس کے گائے ہوئے دُھرپَد میں راگ کی خالص صورت، عمدہ شاعری اور تان کی خوب صورتی ایک ساتھ جمع ہوجاتی تھی۔

اَنجھا بَرس گائیکی میں راگ کی اپنی شخصیت اور اس کے ’رَس‘، یعنی کیفیت کو برقرار رکھنے پر زور دیتا تھا۔ ایک مرتبہ اس سے ’رَس چَندی‘، یعنی مختلف رَسوں اور کیفیتوں کو خلط ملط کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ کئی راگوں کو ملا کر فن دکھانے کے بجائے ایک راگ کو اس کے صحیح مزاج اور پوری تاثیر کے ساتھ پیش کرنا بہتر ہے۔

شاید اسی بنا پر اَنجھا بَرس خان کو ’راگ ساگَر‘ بھی پسند نہیں تھا، جس میں مختلف راگوں کو یکے بعد دیگرے ایک ہی دُھرپَد میں پیش کیا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک فن کی عظمت کثرت میں نہیں بلکہ راگ کی خالص اور مکمل ادائیگی میں تھی۔

اَنجھا بَرس خان کی گائیکی کی ایک اور بڑی خوبی تان اور بَدیہہ گائیکی پر قدرت تھی۔ اس کی گائیکی میں راگ، شعر اور تان ایک دوسرے پر غالب آنے کے بجائے ایک دوسرے کو مکمل کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے گانے کی تاثیر کو صرف فنی مہارت تک محدود نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اس کے متعلق یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اس کی موسیقی سننے والے کے ذہن اور طبیعت پر گہرا اثر ڈالتی تھی۔ اس کے فن میں تکنیکی مہارت اور جذباتی تاثیر دونوں جمع تھیں۔

اَنجھا بَرس صرف دوسروں کی بندشیں گانے والا گویّا بھی نہیں تھا بلکہ خود دُھرپَد تخلیق کرتا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے موسیقیاتی مآخذ میں اس کے تخلیق کردہ دُھرپَدوں کی غیر معمولی تعریف ملتی ہے۔ ایک معاصر روایت میں بھی اسے گائیکی کی سلطنت کا فرمانروا، تان سین کے طریقوں کا ماہر اور اپنے زمانے کا تان سین قرار دیا گیا ہے۔

اَنجھا بَرس خان کی فنی مہارت کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ اہلِ دولت کی موسیقائی محفلوں سے کنارہ کش ہوجانے کے بعد بھی موسیقار اس کے پاس سیکھنے آتے رہے اور وہ اُستاد کی حیثیت سے اگلی نسل کو اپنا علم منتقل کرتا رہا۔ یوں اَنجھا بَرس کی اصل عظمت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ وہ محمد شاہ کے دربار کا بڑا گویّا تھا، بلکہ اس میں تھی کہ وہ گانے والا، دُھرپَد تخلیق کرنے والا، راگ کی باریکیوں کو سمجھنے والا اور اپنے فن کے اُصولوں پر واضح رائے رکھنے والا اُستاد تھا۔

اَنجھا بَرس خان کے شاگرد صرف اس کے اپنے خاندان کے کَلاوَنت نہیں تھے بلکہ قَوّال، دوسرے پیشہ ور موسیقار اور شوقیہ موسیقی سیکھنے والے اہلِ علم و اَشراف بھی اس سے تعلیم لیتے تھے۔ جدید تحقیق میں اَنجھا بَرس کے کم از کم آٹھ ایسے نامور شاگردوں کا ذکر ملتا ہے جو اس کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔

اس کے خاص شاگردوں میں مُظفّر خان اور کریم سین نمایاں تھے۔ مُظفّر خان کا تعلق شُجاعُ الدّولہ اور آصفُ الدّولہ کے درباروں سے رہا۔ کریم سین بعد میں نیپال کے دربارِ کَٹھمنڈو سے وابستہ ہوا اور ’ناد بَرس‘ کے نام سے دُھرپَد کی روایت کو آگے بڑھایا۔ یوں اَنجھا بَرس کے ذریعے دہلی کی یہ موسیقائی روایت بعد میں اَوَدھ اور کَٹھمنڈو تک پہنچی۔

اَنجھا بَرس کے شاگردوں میں ایک اہم نام محمد پناہ خان قَوّال کا بھی تھا، جس کے بیٹے غلام رضا نے تقریباً ۱۷۹۰ء میں موسیقی پر فارسی رسالہ ’اُصولُ النَّغمات‘ تصنیف کیا۔ اس طرح اَنجھا بَرس کی شاگردی صرف دُھرپَد کے کَلاوَنتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قَوّالوں کے حلقے تک بھی پہنچی اور اگلی نسل میں موسیقی کی باقاعدہ تصنیف و تحقیق سے جا ملی۔

اَنجھا بَرس خان کے شاگردوں میں فاضل خان بھی تھا، جو اَنجھا بَرس کے حریف نِعمت خان ’صَدارَنگ‘ کا ایک اور بھتیجا تھا۔ وہ پہلے اپنے خاندان کی کھنڈاری کَلاوَنت روایت میں تربیت یافتہ تھا، مگر بعد میں اَنجھا بَرس سے بھی باقاعدہ دُھرپَد کی تعلیم حاصل کی۔ آگے چل کر وہ خود بڑا اُستاد بنا اور بنارس میں شہرت حاصل کی۔

اَنجھا بَرس کا ایک اور نامور شاگرد میاں ضیاءُ الدّین ’ضیاء‘ تھا، جو شاہجہان آباد کا ایک مغل اہلکار، شاعر، صوفی مزاج شخص اور موسیقی کا سنجیدہ طالبِ علم تھا۔ اَنجھا بَرس سے اس کی شناسائی میر غلام حسین اور شیخ عنایت اللہ کے ذریعے ہوئی۔ اَنجھا بَرس نے اس سے مولانا جلالُ الدّین رومی کی ’مَثنویِ مَعنوی‘ پڑھانے کی خواہش ظاہر کی تو ضیاءُ الدّین نے بدلے میں موسیقی سکھانے کی شرط رکھی، جسے اَنجھا بَرس نے قبول کرلیا۔

اسی ضیاءُ الدّین نے تقریباً ۱۷۸۵ء سے ۱۷۸۸ء کے درمیان فارسی میں موسیقاروں کے تذکروں پر مشتمل کتاب ’حَیُّ الاَرواح‘ تصنیف کی، جس کی بدولت پاک و ہند کے کئی دوسرے گویّوں کے ساتھ ساتھ اُس کے اُستاد اَنجھا بَرس کی شخصیت، فن اور زندگی کے کئی اہم واقعات بھی محفوظ ہوئے ہیں۔

اَنجھا بَرس خان نے نادر شاہ کے ۱۷۳۹ء کے ہندوستان پر حملے کے بعد دہلی کی بربادی اور پھر مغل سلطنت کے بتدریج بکھرنے کا زمانہ بھی دیکھا۔ لیکن اہلِ دولت کی محفلوں سے کنارہ کش ہونے کے بعد اس کی اصل دنیا دربار نہیں رہی تھی۔ وہ دَرویشوں کی صحبت میں رہنے لگا اور اس نے اُمرا اور دُنیا داروں سے میل ملاپ ختم کردیا تھا۔

اس کی زندگی کے آخری برسوں کی تفصیلات بہت کم ملتی ہیں۔ اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاہ عالم ثانی کے عہد تک زندہ تھا اور ۱۷۶۰ء کی دہائی میں اس کی وفات ہوئی۔

’حَیُّ الاَرواح‘ میں اَنجھا بَرس خان کی وفات کے عجب اَحوال میں لکھا ہے کہ ایک روز ایک شخص اُس کے عین سامنے آکر بیٹھ گیا اور چند گھڑیوں تک ٹِکٹِکی باندھے اُس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر اچانک وہ شخص زمین پر گرا اور اُس کی رُوح جسم سے پرواز کرگئی۔ اسی وقت اَنجھا بَرس بھی زمین پر گر پڑا اور اُس کی بھی جان نکل گئی۔

لیکن اَنجھا بَرس خان کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز پہلو اس کی وفات نہیں، بلکہ اس کے بعد اس کے نام کا تقریباً فراموش ہوجانا ہے۔ اپنے زمانے میں اسے ’اپنے عہد کا تان سین‘ کہا گیا، وہ محمد شاہ کا اُستاد تھا، تان سین کے خاندان کی قدیم موسیقائی روایت کا وارث تھا اور اس کے شاگرد مختلف موسیقائی حلقوں میں اس کا علم لے کر آگے بڑھے۔

تاہم اس کے باوجود آنے والی صدیوں میں اَنجھا بَرس خان کے حریف نِعمت خان ’صَدارَنگ‘ اور فیروز خان ’اَدارَنگ‘ کے نام ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں کہیں زیادہ نمایاں ہوگئے، جبکہ وہ آہستہ آہستہ تاریخی حافظے سے اوجھل ہوگیا۔ آج بھی جدید تحقیق اسے محمد شاہ کے دربار کے مرکزی موسیقاروں میں شمار کرتی ہے، مگر یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ بعد کی نسلوں نے اسے تقریباً فراموش کردیا۔

ریڈیو پاکستان کے فیس بک صفحے پر شائع ہونے والی یہ تحریر اسی دَرویش مسلم گویّے، اَنجھا بَرس خان، کی یادآوری کی ایک حقیر سی کوشش ہے۔ گو کہ دَرویش تحسین و ستائش کی طلب سے بے نیاز ہوتے ہیں، تاہم ’حَق بہ حَق دار رسیدن‘ بھی تو عین تقاضائے اِنصاف ہے۔

تحریر: سعیداحمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان



fans Radio Pakistan Bahawalpur RadioPakistan Karachi FM101abbottabad Radio Pakistan World Service Radio Pakistan Hyderabad Punjab University Lahore

Address

Pakistan Broadcasting Corporation, Radio Pakistan, Block-14, Gulshan-e-Iqbal, Behind Civic Center
Karachi
75300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FM93 Radio Pakistan Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to FM93 Radio Pakistan Karachi:

Shortcuts

Share