07/03/2021
اُس بچے نے ایک فقیہہ کے گھر آنکھ کھولی، بچپن میں وہ اپنے بابا کی گود میں بیٹھ کربابا کی داڑھی سے کھیلا کرتا تھا، یہ وہ داڑھی تھی جو رات کے آخری پہر کئی بار آنسووں سے ترہوجایا کرتی۔ یہ بچہ اپنے بابا کی جس انگلی کو پکڑ کر چلنا سیکھ رہا تھا، اُس انگلی کے ایک اشارے سے پاکستان کے قومی ایوان میں سکوت چھا جایا کرتا، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بابا کے شانوں پہ جھولنے والا یہ معصوم اس وقت یہ نہیں جانتا تھا کہ بابا کے ان شانوں پراس کے ننھے وجود کے علاوہ امت مسلمہ کی امیدوں کا کتنا بڑا بوجھ پڑا ہے، یہ بچہ اپنے بابا کے سینے پہ سر رکھ کر سوجایا کرتا ، جی ہاں یہ وہی سینہ تھا جو یہودی لابی کے سامنےہمیشہ لوہے کی دیوار ثابت ہوا، فقیہہ العصر کے جن ہاتھوں نے قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی۔
ان ہاتھوں میں پلنے والا یہ بچہ جب اپنے لڑکپن میں پہنچا تواسے کئی فرائض سونپ دئے گئے، تعلیمی سلسلے کےعلاوہ گھر آئے مہمانوں کی خدمت پر مامور اس لڑکے نے عالم اسلام کے کئی نامور علماء کےجوتے سیدھے کئے ، شیخ القرآن ہوں یا بزرگان دین ، یہ بچہ ان کی خدمت میں وہ سب سیکھتا رہا جو شاید کسی اور کے ورثے میں نہ تھا، بابا جب وزیر اعلی کےمنصب پر فائز تھے تو کئی نامور سیاسی شخصیات کو قریب سےدیکھنے والا یہ لڑکا اپنے ذہن کے گوشوں میں ملکی سیاست کے تانے بانے جوڑتا رہتا، لوگ جنھیں اخبارات میں دیکھتے تھے، یہ بچہ ان شخصیات کو گھر کے آنگن میں دیکھتا،بہت قریب سے دیکھتا،ان کی باتوں کا مشاھدہ کرتا اور ہر ایک قابل غور بات کو ذہن نشین کرلیتا، اس کی آںکھوں میں شخصیت شناسی کی صلاحیت اس دور میں پنپنے لگی جس عمر میں بچے پتنگ کےپیچھے بھاگتےہیں،عموماً جس عمر میں بچےاپنے دوستوں کے ہمراہ کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں، اس عمر میں یہ لڑکا اراکین اسمبلی کے سنجیدہ مباحثوں میں بیٹھا معاملات کو سلجھانے اور الجھانے کے اطوار دیکھتا رہا، کسی کی نظر اس لڑکے پر نہ جاتی ، اور اسی کافائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بھرپور ہر ایک کی ذات اور بات کا مشاہدہ کرتا، وہ یہ بھی جانچتارہا کہ کون کب کس بات سے کیا مراد لیتا ہے، ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو قریب سے دیکھنے والا یہ لڑکا ، اسمبلی کے مباحثوں سے لیکر آئینی ترامیم کے تمام مرحلوں سے واقف تھا، اپنی نوجوانی میں اس لڑکے نے سیاسی افق پر کئی نشیب وفراز دیکھے، یوں ہی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں جانچنے کا فن اسے حاصل ہو چکا تھا۔
یہ جانچنا کہ حکومتی اعلامیہ کس طوفان کی نوید سنانے کو ہے،یہ نوجوان اب وضع کردہ پالیسی کو دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ آنے والا طوفان کتنی کشتیاں بہا کر لے جائے گا، پھر بابا کی جدائی کے بعد اسے تمام تر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں .اب وقت تھا اصل امتحان کا، یہ نوجوان سب کے لئے نیا تھا مگر اس کے لئے کوئی نیا نہ تھا، وہ شطرنج کے سارےمہروں کو اپنے لڑکپن میں چلانا سیکھ چکا تھا، اب اس نے ایک ایک قدم پھونک کررکھناشروع کیا، عملی سیاست میں ابھی بہت کچھ سیکھنا تھا، وہ اسمبلی کے فلور سے لے کر ممبر و محراب تک اپنے الفاظ تول کر بولنے لگا، پردے کےپیچھے کیا چل رہا ہے اسے دیکھنے کے لئے اس نے طویل سفر طےکیا، حکومت ، ادارے،عدلیہ، اور پارلیمان کے درمیان کے کھیل میں پیادوں کی حیثِیت جانچنے کےلئے اسے دانتوں پیسنے آگئے مگر اس نےاف تک نہ کی اور چپ چاپ بساط پر اپنے مہرے چلتا رہا،کوئی ایجنٹ کہنے لگا تو کوئی دین فروش لیکن وہ ایک مضبوط اعصاب کا منجھا ہوا سیاست دان تھا، رفتہ رفتہ اس نے گیم میں کلیدی کردار کا تخت سنبھالنا شروع کیا تو کئی طاقتوں نے اسے رستے سے ہٹانے کی بزدلانہ کاروائیاں کیں، وہ ہمت اور جراءت ماں کی کوکھ سے لے کر پیدا ہوا تھا۔
وہ روز اول ہی سے قائدانہ صلاحیتوں کا حامل تھا، اس نے جب مہار کسنا شروع کی تو کئی ایک کی چیخیں نکل گئیں، وہ اب تک دفاعی کھیل میں اپنے جوہر دکھا رہا تھا، لیکن اب اس کی باری تھی، عجیب بات ہے کہ سیاسی افق پر چند نشستیں لئےکھڑا وہ ایک مولوی اپنے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا باالتفاق قائد بن چکا تھا، اب اس نے قادیانی مکر وفریب کو پیسنا شروع کیا تو ربوہ میں صف ماتم بچھ گئی وہ اپنے مقاصد کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو بخوبی استعمال کرنے لگا، تل ابیب میں تیار ہونے والے ایجنڈے کو اسلام آباد آنے سے پہلے ہی پیروں میں مسل کر رکھ دیا، اس نے اپنے چند روزہ دھرنے میں وہ مقاصد حاصل کئے جس کے لئے شاید کئی مہنیوں انتظار کرنا پڑتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
!!!!!!!!!!!!! اختلافات سے بالاتر ہوکر ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ فقیہہ العصر کا بیٹا وہ زہر قاتل ہے جو یہودیت کے سینے میں پیوست ہوچکا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
#تحریرابومحمد

23/01/2020