Tahreek-E-Jamhuriat Pakistan

Tahreek-E-Jamhuriat Pakistan

Share

جمہوریت کی بحالی۔۔ہم سب کی زمہ داری

19/05/2022

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم!
(حصہ دوم)
آج کل سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر بہت زور دے رہے ہیں کہ آج سے پہلے ملکی تاریخ میں کبھی اس سے زیادہ ہمیں آئین کی اتنی ضرورت پیش نہیں ائی،اور اتنا طویل اور متفصل آئین ہونے کے باوجود صورت حال ابہام کا شکار ہے اور عدالت عظمیٰ کو تشریح کرنی پڑرہی ہے۔دیکھا جائے تو اس سے پہلے آئین کی اتنی خلاف ورزی بھی تو کبھی نہیں دیکھی،رمضان المبارک میں مرکز میں جو کچھ ہوا وہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے،اور ملک کے سب سے بڑے صوبے(پنجاب)کی صورت حال بھی آپ کے سامنے ہے۔
اسوقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی ذات و انا سے بڑھ کر ملک کے بارے میں سوچا جائے،اور تاریخ کو بار بار دہرانے سے روکا جائے اور ایک نئی روایت قائم کی جائے۔ سابقہ حکومت جیسی بھی آئی اس کو چھوڑ دیں،یقینن عوام کے ووٹوں ہی سے منتخب ہوکر آئی تھی،اس بات پر مزید بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ بات اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔میری ناقص رائے مطابق اب اگر وہ مینڈیٹ لے کر آئے تھے تو ان کو پورے 5سال ملنے چائیے تھے،بعد میں کارکردگی کی بنیاد پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا!
خیر ایسا نہیں ہوا اور تحریک عدم اعتماد کی بدولت ان ہاؤس تبدیلی ہوگئی۔تحریک عدم اعتماد کیسے اور کن حالات میں آئی اس بات کو بھی چھوڑدیں،جو بھی ہو یہ ایک آئینی عمل تھا۔سوال تو یہ بنتا ہے کہ آخر عدم اعتماد کی نوبت آئی کیسے؟ حزب اختلاف کو کیسے یہ موقع ملا؟ یہ سوالات میں آپ پر چھوڑتا ہوں اور یقینن آپکو جواب بھی معلوم ہے۔
خیر جو بھی ہو اب جو مخلوط حکومت ملک پر محکوم ہے تو ہم سب کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ان کو بھی بقیہ بچا ہوا وقت دیں اور فی الحال سخت تنقید سے پرہیز کیا جائے۔
اگر تو حکومت عام انتخابات تک اپنا وقت پورا کرتی ہے پھر بھی،اور اگر قبل ازوقت انتخابات ہوتے ہیں تو اس صورت میں بھی حکومت کو وقت دیں اور کارکردگی مانیٹر کریں،اور اگر حالات پہلے سے خراب ہوتے ہیں تو پھر جتنی تنقید ابھی آپ اس مخلوط حکومت پر کررہے ہیں تو اس سے کئی گنا زیادہ کریں اور ان حکمرانوں کا محاسبہ کریں!
بس ہمیں اللّٰہ تعالیٰ سے صدق دل سے دعا کرنی چائیے کہ ہمارے ملک پر رحم فرما،اس کی ہر پہلو سے حفاظت فرما،اس کو ترقی کی راہ پر گامزن فرما،اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا!(آمین)
اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین!
پاکستان ذندہ باد 🇵🇰

17/05/2022

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم!
پاکستان 14-08-1947کو معرضِ وجود میں آیا۔یعنی برطانوی راج سے ہندوستان کو آزادی ملی اور برصغیر دو آزاد اور خودمختار حصوں میں تقسیم ہوا۔ایک بھارت🇮🇳اور دوسرا ہمارا وطن پاکستان 🇵🇰۔تقسیم کو چھوڑدیں،،کیونکہ آزادی کے تقریباً 75سال بعد بھی یہ آج تک ایک متنازع موضوع ہے۔رہی سہی کسر "سقوط ڈھاکہ"کی صورت میں پوری ہوچکی ہے۔اور کشمیر کا مسئلہ بھی علیحدہ اپنی جگہ پر ہے
قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہم نے برصغیر کا یہ حصہ حاصل کیا۔یہ کیسے ممکن ہوا؟ہم نے آزادی کیسے حاصل کی؟ یقینن جواب یہی ہوگا کہ اتحادو یکجہتی،بے پناہ قربانیاں اور رہنماؤں کی انتھک محنت ہی سے یہ سب ممکن ہوا!
اب برصغیر کے دونوں آزاد ملکوں کا موازنہ کریں کہ آج ہمارا ہمسایہ ملک کہاں ہے اور ملک کہاں ہے؟انکے معاشی حالات آج کہاں ہیں اور ہم معاشی طور پر کدھر کھڑے ہیں؟پاکستان نے آزادی کے بعد سے بہت سے اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔جنگی حالات سے لیکر دہشت گردی تک،مارشل لاء سے لیکر سیاسی بحران تک،آئینی بحران سے لیکر معاشی بد انتظامی۔۔الا کہ ہر طرح کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا سامنا ہم کر چکے ہیں۔اب سوال یہ بنتا ہے کہ مجھ سے آپ نے سبق کیا سیکھا؟کیا جو کچھ ماضی میں ہوچکا ہے کیا وہ ہمارے لئے چھوٹی چیزیں تھیں؟چلیں صرف اس بات پر غور کریں کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں کتنے مارشل لاء آج تک لگ چکے ہیں؟ اور آج تک ہم کتنے مارشل لاء کا سامنا کر چکے ہیں۔نتیجہ سب کو پتہ ہے،بات پھر گھوم پھر وہیں آتی ہے کہ ہم نے کیا سبق سیکھا؟
ہمارے ملک کا پورا نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان"ہے،اور 1973کے آئین کے مطابق وفاقی پارلیمانی نظام حکومت کا نفاذ ہے۔ترامیم کے بعد ذیادہ اختیارات "صدر" کے بجائے "وزیراعظم"کو منتقل ہوگئے ہیں۔ جمہوری نظام کے تحت منتخب حکومت کو پورے 5سال کا مینڈیٹ دیا جاتا ہے، یعنی سربراہ حکومت (وزیراعظم)5سال کے لئے ملک کی باگ ڈور سنبھالتا ہے۔اب بتائیں آزادی کے کم و بیش 75برس بعد ہمارے کتنے وزرائے اعظم نے اپنی 5سالہ آئینی مدت پوری کی؟
یہی ہماری آج تک بد قسمتی رہی ہے اور ہم دن بہ دن پیچھے جارہے ہیں(جاری ہے)

14/05/2022

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم!
پاکستان کی معاشی حالت دن بہ دن بد ترین اور انتہائی تشویشناک صورتحال سے گزر رہی ہے،معاشی عدم استحکام کا اثر ہر ادارے پر بری طرح سے پڑرہا ہے۔گیس وبجلی کی لوڈ شیڈنگ،اشیائے ضروریہ کی منہگائی اپنے عروج پر ہے۔غرض کہ ہر طرف سے خطرے کی گھنٹیاں سنائی دے رہی ہیں۔معاشی ماہرین کی رائے کے مطابق اگر حالات ایسے ہی رہے تو خدا نخواستہ؛پڑوسی ملک سری لنکا جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔
پچھلی تحریر میں میں نے ان سب حالات کی بڑی وجہ "سود"کو قرار دیا تھا،اور بظاہر دیکھا جائے تو یہ بات درست بھی ہے کیونکہ ملک میں حالیہ شرحِ سود 12.25فیصد ہے،اور آئیندہ چند دنوں میں ممکنہ طور پر یہ شرح 18.25فیصد ہونے کا قوی امکان ہے۔یاد رکھیں!کبھی بھی آپ بڑی وجوہات کا شارٹ کٹ حل نہیں نکال سکتے۔اور اگر ایسا کر بھی لیں تو وقتی سکون کے بعد اس سے بھی بڑی وجوہات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لہذا قطعی طور پر حکومت ایسے اقدامات لینے باز رہنا چاہئے اور ان مسائل کے حل کے موئثر اور جامع حکمتِ عملی سے کام لینا چاہئے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ"مشکل وقت میں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا چاہئے"تو بظاہر موجودہ حالات کچھ ایسے ہی نظر آرہے ہیں۔اس وقت لڑائی،انتقام اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے ایک فورم پر اکٹھے ہونے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ملک سے بڑھ کچھ بھی عزیز نہیں۔
جہاں جہاں یہ تحریر پڑھی جارہی ہے،آپ سب سے میری چھوٹی سی اپیل ہے کہ اپنی عبادات ملک کے پاکستان کو ضرور یاد رکھیں،اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوکر ملک کی ترقّی وخوشحالی کے لئے صدق دل سے دعا کریں!انشا اللہ اس مشکل وقت سے ہم ضرور نکلیں گے!
اللّٰہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین!
پاکستان ذندہ باد 🇵🇰

11/05/2022

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم!
پاکستان کو آزاد ہوئے کم وبیش 75سال ہوچکے ہیں۔اور اس دور سے پہلے کبھی اتنے برے معاشی حالات نہیں تھے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟اکثر کی رائے یہی ہوگی کہ بیرونی قرضہ اور ناقص معاشی پالیسی ہی ان سب وجوہات کی جڑ ہیں۔یاد رکھیں! اللّٰہ تعالیٰ کا کھلا فرمان ہے کہ "جیسی قوم ہوگی ویسے ہی ان پر حکمران مسلط کئے جائیں گے" بات بالکل واضح ہوگئی۔یقینن ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ آج ہم بھگت رہیں ہیں۔اب ان سب کا حل کیا ہے؟میری ناقص رائے کے مطابق اگر ہم کو اس معاشی بحران سے نکلنا ہے تو کم از کم سب سے پہلے اپنے معاشرے سے "سود"جیسی لعنت کو مٹانا ہوگا۔آپ مانیں یا نہ مانیں آج جس معاشی حالات سے ہمارا ملک گزر رہا ہے،ان وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ سود بھی ہے۔اور یہ کیسے ممکن یہ ہےکہ جس چیز سے اللّٰہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہو اور اس گناہ کے مرتکب ہونے والے کیخلاف اعلان جنگ کیاہو۔۔اس سے ہم فائدے کی امید رکھیں؟ لہذا جب تک اس برائی کا خاتمہ نہ ہوگا اسوقت بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی!
اس سے متعلق اور بہت کچھ بھی لکھوں گا انشاء اللہ
بس ہمیں اللّٰہ تعالیٰ سے ہمہ وقت یہ دعا کرنی چائیے کہ اس ملک کے حال پر رحم فرما۔۔اور اس کو ترقی کی راہ پر چلا۔(آمین)
اللّٰہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین
پاکستان ذندہ باد 🇵🇰

10/05/2022

قوم کیلئے یہ ایک فیصلہ کن وقت ہے۔زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنا اور اپنے ملک کا وقار برقرار رکھتی ہیں۔اب ہم کو بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟موجودہ حالات کے پیش نظر آپ کو کیا لگتا ہے کہ ملک کس سمت جارہا ہے؟خدارا!اب مزید ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے بجائے اٹھیں اور مدد آپ جدوجہد کا آغاز کریں!
اگر آپ کو ضمیر اجازت دیتا ہے اس ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے تو آئیے ہمارے اس پلیٹ فارم سے آغاز کیجئے اور اس کاروان جمہوریت میں شامل ہوجا ئیے۔قطرے قطرے ہی سے دریا بنتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہماری یہ جدوجہد انشاء اللہ ضرور کامیاب ہوگی۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین
پاکستان ذندہ باد🇵🇰

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Karachi